وبا کے اندیشوں میں سہمے گھر کا نقشہ اور سرکاری تدفین کا خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دن اور آج کا دن، گھر سے باہر نہیں نکلا۔ ہمارا گھر ایسے بنا ہوا ہے کہ جس کمرے میں میں ہوں اس کے سامنے کے دو کمرے میرے کمرے کے دروازے سے بالترتیب تیس اور تنتیس قدم پر ہیں اس لیے کہ ان میں سے ایک کمرے کے سامنے اسی طرح برآمدہ ہے جیسے میرے کمرے کے سامنے۔

انگریزی کے لفظ یو کی طرح بنے اس گھر میں میرے اور سامنے کے کمروں کے بیچ صحن کے ایک طرف تین کمرے اور پڑتے ہیں، دو چھوٹے اور ایک بڑا۔ جن کے دوسری جانب علیحدہ علیحدہ صحن ہیں کیونکہ ان دونوں چھوٹے صحنوں کے بیچ ایک دیوار ہے۔ دو کمروں کے پیچھے والے صحن کے آخر میں ایک کمرہ ہے جسے بیٹھک خیال کر لیجیے، اس کے پہلو میں باتھ روم ہے۔ تیسرے بڑے کمرے کے پیچھے بھی صحن ہے، جس کے ایک طرف ایک کمرہ اور آخر میں دو چھوٹے کمرے ہیں۔ ساتھ میں باتھ روم اور سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں۔ اوپر دو کمرے اور ایک صحن ہے۔

میرے کمرے سے برآمدہ اور ڈیوڑھی چھوڑ کے جو دو کمرے ہیں، ان کے اوپر بھی ایک کمرہ اور صحن ہے۔ اس کمرے اور صحن کے درمیان ایک باتھ روم ہے۔ اوپر جانے کے لیے میرے کمرے کے سامنے والے صحن کے وسط سے سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں۔ سیڑھیوں کے تلے لیکن علیحدہ ایک بڑا باتھ روم ہے۔ سیڑھیوں کے نزدیک ایک اور ڈیوڑھی ہے جس میں دو قدمچے اور ایک چونترا ہے وہاں سے دروازہ عقبی صحن میں کھلتا ہے جو دراصل ایک باغیچہ ہے جس میں یو کی شکل میں ہی اینٹوں کا فرش ہے اور یو کے درمیان اور ایک جانب کی خالی کچی جگہ پہ طرح طرح کے درخت اور پودے ہیں۔ یو شکل کے فرش کے گھر کی دیوار کے ساتھ والے حصے میں دو بیریاں ہیں جو سارے صحن میں اور ساتھ کی چھت پر پھیلی ہوئی ہیں اور خوب پھلتی ہیں۔ اس صحن میں میرے کمرے کے عقب میں ایک اور کمرہ اور باتھ روم ہے۔

بڑی سیڑھیاں چڑھ کے بائیں کو مڑیں تو ایک چھوٹے صحن کے بعد ایک بارہ دری نما برآمدہ ہے جس سے نکلیں تو میرے کمرے سے دور سامنے والے دو کمروں کے اوپر ایک کمرہ ایک صحن اور ایک برساتی ہے۔

نقشہ اس لیے کھینچنا پڑا کہ وبا کے دنوں میں خود کو تنہا کیے جانے کی ترتیب بتائی جا سکے۔ اپنے کمرے میں میں، ڈیوڑھی چھوڑ کے ایک چھوٹے کمرے میں 86 برس کے بڑے بھائی مرزا شعیب صاحب، ساتھ والے چھوٹے کمرے میں ان کا بڑے سے چھوٹا بیٹا ذوالنون مرزا، اگلا بڑا کمرہ خالی اور خالی کمرے کے اس طرف کے صحن اور عمارت میں اوپر نیچے کے سب کمرے بھی خالی۔ یہ بڑے بھائی مرزا شفیق صاحب کا گھر ہے جو دونوں میاں بیوی وفات پا چکے ہیں۔

ان کا چھوٹا بیٹا مرزا جنید فوت ہو چکا ہے جس کی بیوہ اور بچے دوسرے شہر میں رہتے ہیں۔ بڑا بیٹا مرزا صہیب طلحہ بیوی بچوں کے ساتھ کب کا شاہدرہ لاہور منتقل ہو چکا ہے۔ میرے کمرے کے سامنے صحن کے پار واقع کمرے میں میری دونوں بڑی بہنیں جن کی عمریں بالترتیب 82 اور 81 برس ہیں اور ان کی دیکھ ریکھ کو ہماری پیاری بھتیجی کرن، جو بالعموم اپنی سوشل کونسلنگ یعنی فون کو کان پر لگائے ساتھ والے کمرے میں چلی جاتی ہے۔

دو چھوٹے کمروں کے پیچھے صحن کے اس طرف کمرے میں، جسے ہم نے بیٹھک جانا، ملتان میں اپنی ملازمت سے گھر میں بند ہونے کو لوٹا بھائی شعیب کا سب سے چھوٹا بیٹا مرزا خبیب احمد ہوتا ہے، سامنے کی چھت پر برساتی کے سامنے والے کمرے میں بھائی کا سب سے بڑا بیٹا مرزا شہزاد احمد۔ یعنی ہم سب ایک دوسرے سے کتنی کتی دور ہیں۔ جس کمرے میں تین خواتین ہیں وہ بھی ایک دوسرے سے کئی کئی فٹ کے فاصلے پر ہوتی ہیں۔

بھلے دنوں میں شہزاد اپنے کام پر گیا ہوتا تھا اور خبیب ویک اینڈ پہ آیا کرتا مگر اب سب اکٹھے گھر پہ ہیں۔ ہر ایک کے اپنے اپنے معمولات ہیں۔ ہمارے برادر بزرگ صبح سات بجے اٹھتے ہیں، گھر کے کچھ دروازوں کو لگائے گئے، وہ قفل جو وہ رات کو سونے سے پہلے خود لگاتے ہیں، کھولتے ہیں۔ عقبی باغ ان کا لگایا ہوا ہے اور وہ اس میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے، کے فرش کو صاف کرتے ہیں۔ پھر ہاتھ منہ دھو کے، تسبیح پکڑے اس باغیچے میں یا ٹہلتے ہیں یا اوپر دیکھتے رہتے ہیں کہ کسی درخت کی کون سی شاخیں کاٹی جائیں۔ یہ مشکل کام بھی ضرورت پڑنے پر وہ خود ہی کرتے ہیں اور بڑی بڑی شاخوں سے چھوٹی چھوٹی شاخوں کو کاٹنے کے بعد پتوں سے خالی کرکے، انہیں آرٹسٹ کی طرح ایک دوسرے میں ترتیب سے جما کر رکھتے ہیں۔ میں ایسا کام شاید پانچ منٹ بھی نہ کر پاؤں مگر وہ ایسے سبھی کام تن تنہا گھنٹوں سرانجام دیتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ یوں تو گھر میں بیٹھے جم کے رہ جاؤں گا چنانچہ صبح اٹھنے کے بعد جرابیں جوتے پہنتا ہوں کیونکہ کورونا وائرس کے عہد میں جاگر منگوانا نہیں چاہتا اور اپنے کمرے سے سامنے کے برآمدے والے کمرے کے دروازے تک 32 قدم ادھر 32 قدم ادھر چل کے کوئی ساڑھے چار ہزار قدم چلتا ہوں اور پھر باغیچے والے صحن میں جا کر چھ ہزار سے زائد قدم چلنا پورا کر کے لوٹتا ہوں تو تب تک میری 81 سالہ بہن، نماز پڑھ کے فارغ ہوئی رات کے بچے کچھ برتن دھو کر چائے تیار کر چکی ہوتی ہے جو پہلے بڑے بھائی کو اور پھر مجھے دیتی ہے۔

چائے پی کے میں اس باتھ روم میں جاتا ہوں جو دوسرے صحن میں ہے۔ ساتھ گلی لگتی ہے۔ گلی میں لوگ کورونا وائرس کے زمانے سے پہلے ہی کی طرح آ جارہے ہوتے ہیں، بچوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، موٹر سائیکل بھی اسی طرح شور مچاتے گزرتے ہیں۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں کہ دنیا مر رہی ہے۔ مرض پھیلا ہوا ہے۔ کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے۔

میں باتھ روم سے لوٹ کر، صحن میں سیڑھیوں کے ایک طرف والے باتھ روم میں نہاتا ہوں۔ نماز کے کپڑے پہن کے ہمیشہ کی طرح فجر کی قضا نماز پڑھتا ہوں۔ فارغ ہو کر کمرے کے پٹ کھول دیتا ہوں۔ جالی والا دروازہ بند رکھتا ہوں۔ کمپیوٹر کھول کے اخبار، کورونا سے متعلق تازہ معلومات پڑھتا ہوں اور کمپیوٹر پر ہی ٹی وی سے نشر ہونے والی خبریں سنتا ہوں۔ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بڑی بہن باورچی خانے میں چلی جاتی ہے۔ اتنے میں کرن بھی اٹھ جاتی ہے اور یوں ناشتہ مجھ تک پہنچتا ہے، پھر میں اگلی صبح تک کمرے میں ہوتا ہوں۔ رات کو کچھ دیر صحن میں پڑی چارپائی پر لیٹ کے آسمان تکتا ہوں یا کبھی دس پندرہ منٹ کے لیے بہنوں سے بات کر لیتا ہوں۔

شہزاد بھی صبح جلدی اٹھ جاتا ہے۔ ناشتہ کرنے کے لیے اترتا ہے اور پھر اپنے کمرے میں جا کر ٹی وی دیکھتا رہتا ہے۔ کبھی موٹر سائیکل پر جا کے کسی کے لیے کوئی دوا لانی ہو یا گھر کے لیے سودا، لے آتا ہے۔ ذوالنون تین بجے اٹھتا ہے، کچھ شور کرتا ہے اور پھر کمرے میں اپنے ٹیبلٹ اور فون میں مصروف ہو جاتا ہے۔ خبیب کبھی صبح تو کبھی سہ پہر میں اٹھتا ہے۔ وہ چونکہ مخیر کام بھی کرتا ہے اس لیے کبھی کبھار بائیک پہ لوگوں کو امداد پہنچانے نکل جاتا ہے، ویسے عام طور پر وہ بھی اپنے کمرے میں رہتا ہے۔

گرمیاں تو قریب قریب شروع ہو ہی گئیں۔ ماہ رمضان بھی نزدیک لگنے کو ہے، لگتا ہے روزے بھی گھر پہ بند رہ کر ہی رکھنے ہوں گے ۔ مجھے تو کورونا نے کچھ حد تک ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ دنیا میں اتنے لوگوں کا متاثر ہونا اور اتنی زیادہ ہلاکتیں، بہت تکلیف دہ ہے۔

میں حساس شخص ہونے کے علاوہ ڈاکٹر بھی ہوں۔ اینڈیمی، ایپی ڈیمی اور پین ڈیمی میں فرق کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتا ہوں۔ سازشی تھیوریز پر یقین نہیں رکھتا۔ حکومتوں کے اغماض برتنے، حکام کی نا اہلی اور متعلقہ لوگوں کی مجبوریاں پیش نظر رکھتا ہوں۔

بہت زیادہ سوچتا ہوں کہ کہیں ہم سے باتیں چھپائی تو نہیں جا رہیں؟ عام امراض سے مرنے والوں کا کیا قصور ہے کہ ان کی لاشوں پر بھی کورونا سے مرنے کا گمان کرکے اسے سرکاری طور پر دفنایا جائے؟ جو عام مریض ہیں، جنہیں بڑے ہسپتالوں میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ وہاں کیسے جائیں؟ ویسے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ ہسپتال ہی بند کر دیے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں تو رینٹ اے کار تک والے کام نہیں کر رہے۔ مساجد میں اگر پانچ مرد ہی نماز پڑھیں تو انہیں تین تین فٹ کے فاصلے پہ کیوں کھڑا کیا جائے؟ ڈراپ لیٹس تو سامنے والے کو متاثر کر سکتے ہیں، پہلو میں کھڑے ہوئے شخص کو نہیں۔

سوشل میڈیم خاص طور پر فیس بک، کورونا کے ماہرین کی پرشور چوپال بنی ہوئی ہے۔ درست احتیاطیں اور معلومات دینے کے علاوہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس عالمی وبا کو سازش، عذاب، سرمایہ داری کا زوال، سوشلزم کی جیت اور پتہ نہیں کیا کیا ثابت کرتے ہوئے شاید گھروں میں بند رہنے کا غصہ اتار رہے ہیں۔

ایسے ڈاکٹر ہیں جو یہ ثابت کرنے پہ تلے ہوتے ہیں کہ ہلاکتیں عام برسوں جتنی ہی ہیں، بس یہ میڈیا ہائپ ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کے بہترین ہیلتھ کیئر سسٹم والے ملکوں کے سسٹم کیوں بیٹھ گئے؟ اٹلی میں اتنے ڈاکٹر کیوں مر گئے؟ پاکستان میں پہلا نشانہ نوجوان ڈاکٹر کیونکر تھا؟

کچھ کہتے ہیں کہ دوسرے امراض سے مرنے والوں میں اگر کورونا ٹیسٹ مثبت ہو تو ان اموات کو کورونا وائرس سے مرنے والوں میں شامل کرنا غلط ہے جبکہ کورونا یا کوئی بھی مہلک وائرس پہلے سے موجود امراض کو انگیخت دیتا ہے چنانچہ موت کی وجہ چاہے جو بھی مرض بنی ہو لیکن اس کو شدید تو اس وائرس نے ہی کیا نا چنانچہ کورونا وائرس سے ہوئی ہلاکت خیال کرنا غلط نہیں بلکہ درست ہے۔

کبھی یہ سوچ کر جھر جھری آ جاتی ہے کہ چاہے جیسے بھی مر جاؤ، لاش کے ساتھ سلوک تو وبا سے مرنے والوں کی لاش کا سا ہی ہوگا۔ یہ بھی واضح ہے کہ لاش کو کیا معلوم کہ کیا سلوک ہو رہا ہے پھر لاش کو پروا ہو نہیں سکتی مگر لواحقین کے درد اور غم کا احساس کرنا ہی تکلیف دہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *