قرنطینہ کارنر سے ایک خط … بنام نادرہ مہرنواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پیاری نادرہ!

آپ نے میری بیماری کا سن کر جس پریشانی کا اظہار کیا اس پہ مجھے محبت کے معجزوں پہ یقین کچھ اور بڑھ گیا ہے۔ اور یقیناً یہ معجزہ ”ہم سب“ کی ویب سائٹ کی وجہ سے ممکن ہوا جس نے دنیا میں اردو بولنے والے کتنے ہی لوگوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ آج اس بیماری سے دو بدو ہوے تقریباً دو ہفتے ہورہے ہیں۔ گو ہرلمحہ کچھ نہ کچھ صحت مندی کی جانب ہی سرک رہا ہے۔ مگر اب بھی شدید تھکن ہے۔

اس وقت ہمیشہ کی طرح میرے بائیں سرہانے وہ کتابیں پڑی ہیں کہ جن کو میں پڑھنا چاہتی ہوں۔ اس کے علاوہ میرے تین چار رایئٹنگ پیڈز جن میں میرے مستقبل کے موضوعات کے متعلق کچھ معلومات درج ہیں۔ میں ان کو بے بسی سے دیکھ رہی ہوں۔ کیونکہ کورونا انفیکشن کی اٹھا پٹخ نے کچھ نڈھال سا کر دیا ہے۔ گو یہ اتنی شدید نوعیت والی بیماری کی طرح نہیں کہ جس میں موت دستک سی دینے لگتی ہے۔ آخر وہ مریض کس تکلیف سے گزرتے ہوں گے ؟ جن کو سانس کی دشواری ہوتی ہوگی؟

آج تک کی تاریخ میں کورونا انفیکشن میں امریکہ سب پہ بازی لے گیا ہے۔ اور ہماری اسٹیٹ مشی گن کا نمبر سنگینی کے اعتبار سے نیویارک اور نیو جرسی کے بعد تیسرا ہے۔ اس بیماری میں کچھ اپنی ذمہ میں اپنے سر بھی لینا چاہتی ہوں کہ جب باوجود شٹ ڈاؤن کے میں کام پہ جاتی رہی۔ ایک ایسی جگہ جہاں بلا ناغہ کم ازکم سے سے آٹھ سو لوگ آتے ہیں۔

نادرہ میں ایک میتھڈون کلینک میں منشیات کے عادی افراد کی کونسلر کے طور پہ کام کررہی ہوں۔ اس وقت امریکہ میں منشیات کی وبا خاص کر ڈاکٹری نسخہ سے ملنے والی درد کش یعنی اوپیا یڈ (مثلاً مارفین، وائکیڈن، فینٹانل، کوڈین وغیرہ) اور ہیروئن کا استعمال امریکہ کا سب اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ میں محض 2018 میں 67000 افراد اوپیا ایڈ اوور ڈوز over dose کا شکار ہوکے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس لحاظ سے امریکہ کورونا سے پہلے اس وبا سے نبٹ رہا ہے۔

امریکہ میں بچھا میتھڈون کلینکس کے جال کا مقصد ان اموات کی تعداد پہ قابو پانا ہے۔ میتھڈون بھی گو ایک نسبتا ہلکی طاقت کی اوپیا ایڈ ہے اور اتنی جان لیوا نہیں۔ ان میتھڈون کلینکس میں ڈاکٹرز، نرسوں اور سوشل ورکرز کی مدد سے نشہ کے عادی افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ اور میں بطور سوشل ورکر اسی ٹیم کا حصہ ہوں۔

شٹ ڈاون کے بعد ایجنسی نے اپنے اسٹاف کو ایک اجازت کا پروانہ جاری کر دیا کہ اگر روک ٹوک ہو یہ پیش کردیا جائے لہٰذا میں نے بھی صبح پانچ بجے نوکری پہ جانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ چوڑے ہائی وے پہ اکا دکا گاڑیاں اور سنسان رستے جن پہ ہو کا سا عالم اور موت کا بسیرا ہو لیکن ایجنسی میں آنے والے سات آٹھ سو کلائنٹس اور پورے اسٹاف کی موجودگی سے محسوس ہوتا زندگی اسی طرح رواں ہے۔ بس سب چہروں پہ ماسک اور ہاتھو ں پہ دستانے ضرور پہنے ہوے ہوتے۔

ایجنسی کے فیصلہ کے مطابق ساٹھ سال کی عمر سے اوپر، بیمار اور معذور افراد کو میتھڈون کا دو ہفتے کا اسٹاک دے دیا جاے۔ تاکہ وہ روزانہ آنے کے بجاے دو ہفتہ میں ایک ہی دن آئیں۔ اور ہم سب کونسلرز ا ور سارا اسٹاف تندہی سے اسی کام میں مصروف تھے۔

میری اولادیں میرے کام پہ جانے کی وجہ سے مستقل مجھ سے خفا تھیں۔ جب اولادیں بڑی ہو جایئں تو وہ کبھی والدین بھی بن جاتی ہیں۔ ان کے خفگی کے انداز میں روز پیغامات ملتے۔ کبھی فون کبھی میسنجر پہ ”کیا آپ نے جانا چھوڑا؟ “ میرا ارادہ صرف مزید تین دن اور جانے کا تھا۔

ابھی میری ٹارگٹ تاریخ میں تین دن تھے کہ ویک اینڈ پہ عجب سی بات ہوئی۔ میں نے حلیم چڑھایا جو پورا جل گیا۔ گھر کا فائر الارم چیخنے لگا میرے شوہر نے جلدی جلدی کھڑکیاں کھول دیں لیکن مجال ہے جو ہمیں ہلکی سی بھی بدبو آئی ہو۔ یہ عجیب بات تھی خود پہ شک ہوا تو اپنے رکھے ہوے پسندیدہ پرفیومز کو سونگھا معاملہ وہی کہ کوئی مہک کا احساس نہیں۔ پھر جب کھانا کھانے بیٹھے تو لگا کوئی ذائقہ نہیں۔ گو بنائی بریانی تھی لیکن سادہ چاول ہیں یا مصالحہ دار بریانی ذائقہ میں کوئی فرق نہیں۔

اب تو ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ کہیں یہ کورونا تو نہیں؟ آخر روز سات آٹھ سو مریضوں کا سامنا کرتے ہیں۔ کسی کو تو ہو سکتا ہے۔ لیکن فیصلہ پھر بھی نہ کیا کہ کیا کیا جائے۔ آن لائن دیکھا سی ڈی سی نے ایسی کسی علامت کو کم ازکم آن لائن ٹسٹ میں شامل نہیں کیا تھا۔ ہاں البتہ انڈیا کی حکومتی سطح پہ آن لائن فری ٹسٹنگ میں ابتدائی علامت کے طور پہ اسی سونگھنے اور ذائقہ کی اہلیت میں کمی کا سوال تھا۔

لیکن اگلا دن تو واقعی فیصلہ کا تھا دوسرے دن صبح ملازمت پہ جانے کسی طورہمت نہیں پڑرہی تھی جسم میں درد بخار ہلکی خشک کھانسی اور نزلہ اور چھینکیں مجھے نہیں اندازہ ہورہا تھا کی یہ عام فلُو ہے یا کورونا انفیکشن۔ میں نے جب مشی گن کے سب سے بڑے ہسپتال کی ہاٹ لائن کو فون کیا تو انہوں نے علامات پوچھ کر ہسپتال آنے سے منع کیا ان کے مطابق علامات تو کورونا کی ہی ہیں مگر اس کو مزید ٹسٹ کرنے کے لیے نہ آنا بہتر ہے۔ اس وقت ہسپتال میں بہت رش ہے اورسنگین نوعیت کے لوگوں کو ہی دیکھا جا رہا ہے جنہیں تیز بخار اور سانس لینے میں مشکل ہے۔ مشورہ ملا یہاں آنے کے بجائے گھرمیں قرنطینہ اختیار کریں۔

عارف تو جاب پہ چلے جاتے ادھر بیماری کی علامات نے سر اٹھانا شروع کیا تھا ان کی شدت میں آہستہ آہستہ زیادتی ہونے لگی۔ ایسے میں تنہا میں کورونا کی شورشوں سے بدحال۔ ایک ڈاکٹر دوست کا کہنا کہ کوشش کریں کہ سوتی رہیں گرم چیزیں پیئں، کھٹی چیزیں اور وٹامن سی کی کثرت ہو۔ ایک خیر خواہ نے دعاؤں کے ساتھ دیسی نسخوں سے تیار شدہ مشروبوں کی بہت سی ترکیبیں واٹس اپ کیں۔ ساری محبتیں اور تراکیب ایک طرف اور میں نڈھال ایک طرف۔ مجھے لگا کہ جیسے میں اس سارے سوشل میڈیا کے بوجود آج تن تنہا ہوں۔ میری دوست حمیرا رحمن کا ایک شعر بار بار دہرانے کا دل چاہا

دل کے پاس اندھیرا سا اک کمرہ ہے
صدمے اس کے اندر کاٹنے پڑتے ہیں

جانے کیوں اس وقت اپنابچپن کا بیمار ہونا یا د آگیا۔ مجھے لگا جب بھی بیماری میں میری آنکھیں اسی طرح بند ہوتیں تھیں اور آفس سے آنے والے ابا کی آواز آتی ہے ”ہماری مون کیسی ہے؟ “ بخار کچھ تو اترا ہے، اٹھے گی تو کچھ کھلاؤں گی۔ ”امی جو اپنے چار مزید بچوں کے بوجھ کے باوجود اپنی ہر ذمہ داری سے ہوشیار رہتیں، جواب دیتیں۔ ابا خاموشی سے میری پسند کے مختلف قسم کے ڈبوں کا ڈھیر سا میرے سرہانے لگا دیتے۔ جو وہ واپسی پہ خریدتے ہوئے لاتے تھے۔

مجھے پتہ ہوتا کہ بیماری میں تو میں شہزادی کے عہدے پہ فائز ہو جاتی ہوں۔ ویسے تو امی کہانیوں کی ملکہ قرار دی جا سکتی تھیں۔ اب وہ عبادت کی طرح سر دباتے ہوے یا نوالہ بناتے کہانیوں کی تعداد بڑھا دیتیں۔ اس میں کبھی دو کہانیاں گڈمڈ بھی ہو جاتیں۔ میرے دو بڑے بھائی جو خاصے بڑے تھے ان کی ہنسی نکل پڑتی اورمیں غصے سے تڑپ جاتی“ ان کی ہنسی نے میری کہانی خراب کردی اب آپ دوسری سنائیں ”بیمار شہزادی کا حکم بھلا کیسے ٹالا جاتا۔ ایک نئی کہانی سنائی جاتی اور دونوں بھائیوں کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا جاتا مبادا یہ کہ پھر کوئی ہنسی میری کہانی نہ خراب کردے۔ کیونکہ مجھے دوا بھی تو کھانا ہوتی تھی۔

یہ سب سوچتے ہوے خیال آیا عارف نے کہا تھا دوا لینا مت بھولنا۔ میں ہلکے سے موندی آنکھیں کھولتی ہوں۔ دوا قریب ہی میری ڈریسر پہ ہے مگر میری ہمت نہیں کہ میں اٹھ کر اسے لوں۔ بمشکل اٹھتی ہوں پھر کچھ اور ہمت کرکے وٹامن سی ڈرنک گر م پانی میں ڈالتی ہوں۔ یہ سب ضروری ہے میری بہن اور بھابی اور دوسرے خیر خواہ سیل فون پہ یاد دلاتے ہیں۔

آج دس بجے صبح ایک ساتھی کونسلر کا فون آتا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ میری کلائنٹ مارشا کورونا سے مر گئی اور ایک ساتھی ورکرہسپتال میں آکسیجن پہ ہے۔ اس کی علامات شدید، پیٹ میں درد اور سانس میں دشواری ہے۔ اب دو باتیں ہیں۔ کورونا کی علامات محض دنیا کے چند ممالک پہ ہی محدود نہیں۔ یہ نیا وائرس ہے ابھی ہم اس کے انداز سے پورے طور آشنائی حاصل کر رہے ہیں۔ لیجیے جناب دیکھتے ہی دیکھتے پیٹ کے درد، الٹی متلی اور دوسری علامات کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ بہت سوں میں قوتِ مدافعت پیدا ہوگی اور وہ ٹھیک بھی ہوجائیں گے۔ زور ان کے علاج پہ زیادہ ہوگا کہ جن کی سانس میں رکاوٹ ہے۔

یہ سب لکھتے ہوے میں سردی سے کانپ رہی ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اس سردی کی لہر کے بعد میں بخارمیں مبتلا اور پھر پسینے پسینے ہو جاؤں گی۔ بخار اتنا تیز نہ سہی اس کی تھکن بہت ہوگی۔ مگر اپنی تھکن میں مارشا کو کیسے بھول جاؤں جس کے شوہر کے ظالم شکنجہ سے نکالنے کے لیے ہم adult protective services سے رابطہ کررہے تھے۔ مارشا بے بس معذور بوڑھی عورت تھی۔ اس کا شوہربدمزاج اور ظالم اس کی خبر گیری کے ریاست سے پیسے بھی لیتا اور اسے بھوکا بھی رکھتا۔ میں اپنے اختیار کو توڑتے ہوئے اکثر اس کی ضرورت پوری کرتی۔ اس کا کوئی نہیں تھا۔ چلو اچھا ہوا کورونا سے موت نے اس کا بھرم رکھا۔ کورونا نہیں تو بھوک غربت اور تشدد مار دیتا۔

آج 4 اپریل ایک اہم دن ہے۔ جب امریکہ کے شہر میمفس میں مارٹن لوتھر کنگ کو  1967 میں شہید کیا گیا۔ جب پاکستان میں کچی پکی جمہوریت کی کلی کو 1979 میں مسل دیا گیا۔ بھٹو دار پہ چڑھا کر زندہ رکھا گیا گو ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ جمہوریت کو پنپنے دیا جاتا۔ تاکہ کسی ایک شخصیت کے بجائے جمہوری اصولوں کو فروغ ملتا۔ ویسے آج میری پسندیدہ اور سماج کی زیادتیوں کے خلاف لڑنے والی مایا انجیلو کی پیدائش بھی ہے۔ اس کی جرات مندی کو سو سلام

اور ایک بات اور، آج میرے بیٹے اور میری بہن نے کئی تحائف میری سالگرہ پہ مجھے دیے ہیں۔ بہن کے ہاتھ کے کھانے اور چاکلیٹ اور جانے کیا کیا۔ بس ایک تحفہ جو میرے دل میں سما گیا ہے۔ وہ ہے لیونڈر کا پودا۔ میں جو دو ہفتہ سے زندگی کی مہک سے جدا تھی پر آج ایک دم ہی کائنات کی خوبصورتی اور خوشبو سے جڑ گئی۔ مجھے انسانیت پہ بھروسا اور پیار آنے لگا ہے۔ اور آج میں نے ان بے شمار دوستوں کی بے پناہ محبتوں اور دعاؤں کو اپنے اندر سرایت ہوتے محسوس کیا جن کی اپنایت سے خود کو ہمیشہ سرشار پایا۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ درج کر دوں تو لوگ یقین نہیں کر پائیں گے۔ آپ بھی تو ایک ایسی ہی دوست ہیں۔ زندہ رہیں وہ لوگ جو مرنے نہیں دیتے۔۔۔

آپ کی روبہ صحت ہوتی قلمی دوست

گوہر تاج

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *