بے رحم کورونا اور سرپھرے لوگ


جانے کیا وبا آئی ہے کہ کوئی پتہ نہیں چلتا کس کا وجود اپنے ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دے۔ کسی وقت لگتا ہے کہ جیسے یہ وبا انسانوں کو ان کی اوقات بتانے آئی ہے کہ وہ جو بڑے بڑے ہتھیار بنا کر اتراتے تھے کہ ہم سپر پاور ہیں ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن ایک چھوٹے سے وائرس نے سب دعوے جھوٹے کر دیے۔ ٹی وی پر کرونا سے جنگ کے لئے اکسایا جا رہا ہے، ارے بابا کس سے کرو گے جنگ، وہ جو نظر نہیں آتا اس سے، ہوا میں تیر چلاؤ گے، چلا کر دیکھ لو۔ لیکن مسئلہ یہ کہ وہ ہوا میں نہیں سانسوں پہ حملہ کرتا ہے۔ سو جنگی خیالات کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھو کہ ہار جاؤ گے للکارنا چھوڑ کے پناہ مانگو۔ کہ اگر جنگ کرنا ہے تو پھر دشمن پکڑنے کے بجائے خود کیوں بند ہو رہے ہو، کھولو لاک ڈاؤن اور کرو مقابلہ۔

لاک ڈاؤن نے کسی حد تک زندگیاں منجمد کر دی ہیں، عام حالات ہوتے تو اس رکی رکی سی زندگی پر خوش ہوتی کہ ایک شدید دیرینہ خواہش، کہ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں سب کچھ رک جائے، وقت تھم جائے اور میں ان ساکت لمحوں میں چیزیں چھو کردیکھوں۔ لیکن کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک چھوٹا سا وائرس اتنی بڑی دنیا کا چلتا نظام روک دے گا۔

پوری دنیا میں کرونا نے دہشت پھیلا رکھی ہے کورونا سے بچاؤ کا واحد حل ”باہر نہ آؤ نا“، لیکن ہم ایسی ڈھیٹ قوم ہمیں وہی کرنا ہوتا ہے جس کام سے منع کیا جاے ٔ۔ کورونا پہ لگا تار یہ میرا چوتھا کالم ہے۔ میرے جیسے کئی کم علم اس کا سہارا لے کر دو چار کالم لکھ کے مشہور ہونے کی کوشش میں ہیں۔ اخبارات اور ویب سائٹس پہ تو سینکڑوں کے حساب سے اس پہ کالم لکھے جا چکے ہیں۔ روز اس کے ذکر سے اخبارات کے صفحے کالے اور سوشل میڈیا کے پیج روشن ہوتے ہیں۔

ٹی وی چینلز پر ہر دس منٹ بعد بیس سیکنڈ ہاتھ دھونے اور سینیٹائز کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے، ماسک پہننے اور فاصلہ رکھنے کا ہدایت نامہ جاری ہوتا ہے۔ ان ساری ہدایات پہ عمل تو ہو رہا ہے لیکن الٹا لوگ سینی ٹائزر کو خریدنا نہیں بھولے، لیکن بس لگانے میں سستی آڑے آجاتی ہے، ماسک سبھی نے خریدے ہیں، اور گھر سے باہر نکلتے وقت انھیں جیب میں ڈالنا بھی نہیں بھولتے۔ فاصلہ بھی رکھا ہے بس انچ کی جگہ سینٹی میٹر نے لی ہے۔

ہم زندہ دلوں کا من پسند مشغلہ اور سخت اصول سرکاری اصول توڑنا اور اس پہ سختی سے عمل کرنا ہے۔ خود ہی دیکھ لیں ان دنوں وبا سے بچاؤ کی احتیاط میں نماز جمعہ کے اجتماع پہ پابندی لگائی گئی تو وہ لوگ بھی جمعہ پڑھنے کے لئے مساجد میں نظر آئے جنھوں نے زندگی میں کبھی عید کی نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔ کچھ مومنین کی سمجھ میں تو بات آگئی کہ چند ہفتے جمعہ کی نماز گھر پر پڑھنے سے وہ مسلمان ہی رہیں گے، لیکن زیادہ تر کو اس سے ایمان خطرے میں نظر آیا چنانچہ ریاست کو چیلنج کرتے سیکورٹی والوں کو مار کر ایمان بچاتے نظر آئے۔

کچھ سر پھرے بار بار بازار یہ دیکھنے آتے ہیں کہ آیا ہمارے پیچھے سڑکیں ویسی ہی ہیں نا یا راتوں رات کوئی نئی عمارات تو نہیں بن گئیں لیکن کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ پا کر واپسی پہ دوسروں کو کوستے جاتے ہیں کہ لوگوں کو چین نہیں کہ چار دن گھر بیٹھ جائیں۔ لوگوں کو تو سچ میں چین نہیں، لیکن سچی بات ہے بے چینی مجھے بھی بہت ہے، کہ ان دنوں میں بھی ایسے کام کے لئے گھر سے باہر جا رہی ہوں جس کو کرنا کبھی میں نے ضروری نہیں سمجھا، جیسا کہ صبح کی واک۔

دوبار تو صرف یہ دیکھنے جانا پڑا کہ بھلا کرونا شہری حدود میں داخل تو نہیں ہوا، ایک بار تو اس کام کے لئے بھی چلی گئی جس کے لئے آج تک نہیں گئی اور نہ آئندہ کبھی جانا ہے۔ خود راشن خریدنے کے لئے یوٹیلیٹی سٹور پہ جانے کا شوق انھی دنوں سر چڑھا، یوں کہہ لیں یوٹیلیٹی سٹور کے درشن کرنے کا نادر موقع یہی سمجھا۔ کہ ان دنوں ماسک اور سینی ٹائزر کے بعد یوٹیلیٹی سٹور کا چرچا بہت ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز خود تو ہر جگہ خبروں میں ہیں لیکن خود ان کے اندر کچھ نہیں۔

خدا مشہوری دے تو چیزیں غائب ہو ہی جاتی ہیں۔ اور ایک جگہ پہ دو چیزیں بھلا کیسے رہیں، لہذا سٹورز کو پبلسٹی دے کر اشیا سے بے نیاز کر دیا گیا ہے، ادھر سب کچھ (خالی ریک، سامان رکھنے والی ٹرالی، سٹور کا عملہ ) تھا سوائے اشیاء خور و نوش کے۔ البتہ اس افسردہ ماحول میں دو چیزیں دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ایک آٹا خریدنے والوں کا ٹرکوں کے پاس با امر مجبوری سہی لیکن قطار بنانا کہ بنا قطار کے آٹا نہیں ملتا، یہ روح پرور منظر دیکھ کے دل خوش ہو گیا۔

کرونا کے دنوں کی یہ قطار بندی بعد میں کہاں دیکھنی نصیب ہوگی، سو اچھی طرح سے دل خوش کیا۔ دوسرا پولیس والوں کی ناقابل یقین نرمی۔ کورونا کیا آیا پولیس کے تو انداز ہی بدل گئے۔ خدا جانے کورونا کا خوف ہے یاخوف خدا جو یہ کسی کو کچھ نہیں کہتے۔ سچی بات ہے پولیس والوں کا ان دنوں وہ حال ہے جو چڑیا کا ہوتا ہے۔ لگتا ہے ان پولیس والوں نے تو پانی کے ساتھ دھنیا بھی پی لیا ہے جو یہ ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں اور ہاتھوں کے ساتھ زبان کی کرواہٹ بھی باندھ لی ہے۔

آپ کو شہر میں جگہ جگہ پولیس والے کھڑے نظر آئیں گے اور عام شہری بھی بلا وجہ ادھر ادھر گھومتے۔ لیکن مجال ہے کہ وہ سخت لہجہ اپنائیں بلکہ باہر آنے والوں کی گھر میں رہنے کی منتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ کورونا نے پولیس کو بھلا ہی دیا ہے کہ یہ لوگ لاتوں کے بھوت ہیں۔ لیکن عوام کو یاد ہے کہ کون سی زبان سمجھنی ہے، تبھی تو نرمی کو وہ خاطر میں نہیں لا رہے۔ ائیر پورٹس بند، سرحدیں بند، بازار بند، کاروبار بند، اور اللہ کے فضل سے ہمارے لوگوں کے دماغ تو سدا کے بند ہیں، جو انشاءاللہ سب کچھ کھل جانے کے بعد بھی بند ہی رہیں گے۔

دنیا مررہی ہے اس وبا سے اور اپنے لوگوں کی الگ منطق، کہتے ہیں سب ڈرامہ ہے، پیسے اکٹھے کرنے کے بہانے ہیں۔ اکثریت کا خیال ہے کہ اگر موت آنی ہے تو گھر بیٹھے بھی آ ہی جانی ہے عزرائیل کون سا گھر سے باہر انتظار کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھی تو موت زندگی کے ساتھ ہی چلتی تھی، تب کون سا گارنٹی تھی کسی کے پاس زندگی کی، تو پھر اب کیوں موت سے پہلے ہی مر جائیں، جب تک زندگی ہے تب تک تو کھل کر جیئں۔ یہ کیا ہر بندے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھیں کہ کہیں کرونا وار نہ کر دے۔

جو اتنی احتیاط اتنی پابندی کریں کہ زندگی عذاب ہو جائے۔ نہ بابا نہ آزاد لوگ نہیں سہہ سکتے یہ جبر۔ کوئی جتنی مرضی پابندی لگا لے کریں گے تو اپنی مرضی۔ گھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا ایک بہانہ تو باہر جانے کے سو بہانے۔ لوگ پہلے گھر میں رہنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے تو اب باہر جانے کو بے چین دکھتے ہیں اس سارے ماحول میں اگر کوئی کورونا سے مخفوظ رہنے کی ہدایت پرعمل کر رہے ہیں تو وہ مجسٹڑیٹ ہیں۔ جب سے آن لائن کام کرنے کا آرڈر آیا ہے وہ آف لائن ہو گئے ہیں۔

یہاں تک کہ اگر ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی ان سے شکایت کی جائے کہ سرکار اک پھیرا بازار کا بھی لگائیں، قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیں، تو وہ آن لائن شکائیت درج کروانے کا طریقہ سمجھا کر بتاتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی وہ خود بھی جا کر قیمتیں چیک کریں گے۔ ان کی بات سن کر مجھے ان پر رشک آیا، جو بے رحم کورونا کو ہرانے کے لئے سختی سے کورنٹین میں ہیں۔ چلو کوئی تو ہے ان دیوانوں میں ذی ہوش۔ ان کی اس احتیاط پہ سوچا کاش سرکار عام لوگوں کو بھی ایسے عہدوں سے نواز دے کہ یہ لوگ اسی طرح گھروں میں رہیں گے۔ ورنہ یہ سر پھرے لوگ اور بے رحم کرونا ایک دوسرے کی تلاش میں رہیں گے۔

Facebook Comments HS