کرونا وائرس : سیمنٹ سیکٹر کودرپیش مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کرونا وائرس سے معیشت اور روزگار کو درپیش مسائل کے سبب وزیراعظم پاکستان نے تعمیراتی صنعت کے لئے ایک پیکچ کا اعلان کیا ہے۔ جیسا کہ روایت رہی ہے کہ پس ماندہ اور ترقء پذیر ممالک میں جب بھی کوئی معاشی اسکیم یا منصوبہ متعارف کروایا جاتا ہے وہ زمینی حقائق سے کم اور شخصی اور گروہی مفادات سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ ہی صورت اس پیکج کی بھی ہے جسے سامنے تو تعمیراتی شعبے کے نام پر لایا گیا ہے لیکن درحقیقت یہ پیکج تعمیراتی شعبے کے لیے کم اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور کالا دھن سفید کرنے والوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ابتداء سے ہی تحریکِ انصاف کی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل رہا ہے اور اس لئے حکومت نے ”نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم“ کا منصوبہ پیش بھی کیا تھا، جس کے تحت ملک بھر میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیرہونی تھی۔ لیکن معیشت کی زبوں حالی اس راہ میں روکاوٹ بنی رہی اور اب جب کہ ایک طرف انسانی زندگیوں کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہے اور دوسری جانب گرتی معیشت اور بھوک اور بے روزگاری کے طوفان کا سامنا ہے، ایسے نازک موقع پر بھی حکومت نے صنعتوں کو سہولت دینے کی بجائے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر توجہ مرکوز کی ہے۔ جس کے لیے انیل مسرت اور عبدالعلیم خان ایک عرصہ سے سرگرم تھے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سرگرمیوں میں سیمنٹ، اسٹیل اور ان سے منسلک دیگر شعبے اپنا کردار تو ادا کریں گے لیکن ان صنعتوں کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

قومی معیشت میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے سیمنٹ سیکٹر کے ساتھ معاملہ یہ رہا ہے کہ سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان کا براہ راست سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ شوگر اور ٹیکسٹائل سیکٹرز کی طرح حکومت سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سیمنٹ سیکٹر وہ واحد سیکٹر ہے جس کے ساتھ معیشت کے تقریبا چالیس سے زائد شعبے براہ راست منسلک ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر حکومت نے اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا ہے، اور موجودہ حکومت تو سابقہ تمام حکومتوں سے بڑھ کر رہی ہے۔

عام صارف اس بات سے شاید واقف نہ ہو کہ سیمنٹ کی ایک بوری کی قیمت میں تقریباً 35 % سے 40 % تو حکومتی ٹیکس ہیں جب کہ فی بوری اوسط کرایہ بھی تقریباً 60 روپے ہے۔ یعنی پانچ سو روپے میں فروخت ہونے والی بوری پر سیمنٹ فیکٹری کو تقریباً 255 روپے حاصل ہوتے ہیں۔ جس میں سے خام مال کی خریداری، کوئلہ، فرنس آئل، بجلی، رائلٹی، پیداواری لاگت اور دیگر اخراجات اگر منہا کردیں تو جواب منافع کی بجائے نقصان میں آتا ہے، جس کے سبب سیمنٹ انڈسٹری اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہو ا کہ سیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی رائلٹی میں رواں مالی سال کے بجٹ میں دو سے پانچ گنا اضافہ بھی کردیا گیا جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوا۔

اسی طرح جن سیمنٹ فیکٹریوں نے اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کی تھی انھیں ٹیکس میں ملنے والی رعایت بھی موجودہ حکومت نے واپس لے لی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ سیمنٹ اور اسٹیل پر ود ہولڈنگ ٹیکس اسی طرح لاگو رہے گا، جب کہ مکان بنانے اور بیچنے والوں سے رقم کا ذریعہ پوچھا جائے گا اور نہ ہی سیلز ٹیکس اور کیپٹل گین ٹیکس لاگو ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ سیمنٹ اور اسٹیل کے شعبے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جائے، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی جائے تاکہ یہ اہم شعبہ حالتِ نزاع سے نکل کر تقویت حاصل کرے اور قومی معیشت میں اپنا فعال کردار ادا کرسکے۔

اس پیکج میں یہ اعلان بھی شامل تھا کہ تعمیراتی سرگرمیاں 14 اپریل سے شروع کر دی جائیں گی۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے یومیہ مزدوری کمانے والوں کو ریلیف ملے گا! بجا، لیکن اس اعلان کی تاریخ سے 14 اپریل میں ابھی گیارہ روز باقی ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور جن کی اکثریت تعمیرات کے شعبے سے منسلک ہے، تقریبا پندرہ روز پہلے سے ہی بے روزگار بیٹھے ہیں۔ اس پیکج کے اعلان سے تقریبا چار روز قبل حکومت نے سیمنٹ فیکٹریوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پیداوار کی اجازت دے دی تھی، لیکن سیمنٹ کے ڈپو اور دکانیں تاحال بند ہیں جس کی وجہ سے سیمنٹ کی کھپت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیمنٹ فیکٹریوں کو پیداوار کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ 14 اپریل سے پہلے مندرجہ ذیل اقدامات بھی فوری طور پر اُٹھائے تاکہ معیشت کا پہیہ رواں ہوسکے :

1۔ سیمنٹ انڈسڑی کو پیداوار کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ اسٹیل ملز، بلاک فیکٹریز، ٹف ٹائل فیکٹریز اور بلاک فیکٹریوں کو بھی کرونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے پیداوار کی اجازت ی جائے۔

2۔ سیمنٹ، اسٹیل، ٹف ٹائلز اور بلاک فیکٹریز کو پیداوار کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ سیمنٹ اور اسیٹیل کی دکانیں اور ڈپو کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جاتی تاکہ سیمنٹ اور اسٹیل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کی کھپت بھی ہوسکے۔ اس کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کی دکانوں کے لیے اوقات متعین کیے جاسکتے جو صبح سات بجے سے دوپہر ایک بجے تک مناسب ہوں گے۔ سیمنٹ اور اسٹیل کی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم اُس طرح سے نہیں ہوتا جس طرح

اشیاء خورد و نوش کی دکانوں پر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سیمنٹ اور اسٹیل کی دکانوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا پابند کرکے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

3۔ اس حوالے سے ایک اور اہم اقدام تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدوروں کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا تھا جو لاک ڈاؤن کی وہ سے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جاچکے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے اپنے روزگار پر واپس نہیں آسکتے ہیں۔ اس اقدام کے بغیر مذکورہ بالا اقدامات کی افادیت نہیں ہوسکے گی۔

4۔ سیمنٹ، اسٹیل، ٹف ٹائلز اور بلاک فیکٹریز کے لیے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی فیکٹریوں تک اور تیار مال کی مارکیٹوں تک کی، ٹرانسپورٹ کا بھی مؤثڑ انتظام کیا جائے۔

یہ وہ گزارشات ہیں جو ابتدائی درجے کی مشکلات اور حالات کو سامنے رکھ کر بیان کی گئیں ہیں امید ہے کہ اربابِ اقتدار و اختیار غور فرمائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply