خواجہ سعد رفیق: وہی کہانی باربار دہرائی جائے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشرف کی آمریت ابھی جوان تھی اور آمریت اگر بوڑھی بھی ہو بلکہ در پردہ بھی ہو تب بھی مخالفانہ آوازیں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ خواجہ سعد رفیق کی طبعیت میں شعلہ بیانی صاف محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت تو آتش جواں بلکہ نوجواں تھا لہذا برداشت کیسے ہوتے دھرے گئے۔ نا صرف کہ دھرے گئے بلکہ تشدد کا بھی نشانہ بن گئے۔ ابھی وہ قید ہی تھے تو ایک دن ان سے ملاقات ہوئی۔ مشرف کے زمانے سے ہی ان سے سلام دعا کا آغاز ہوا تھا مزاج آشنائی ہوچکی تھی۔

سعد رفیق باہر آ کر حشر بپا کرنے کی تیّاریوں میں جتے ہوئے تھے کہ بس رہا ہوا تو دوبارہ کام چل سو چل۔ جب کام چل سو چل کی طرف تھا تو ان کو کہا کہ آپ کی گرفتاری بھی بار بار کی گرفتاریوں میں تبدیل ہو جائے گی۔ اور وہاں سے بھی کام چل سو چل ہی رہے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے اس وقت امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف جدوجہد کرنے والے دو بھائیوں کا تذکرہ کیا تھا کہ وہ کس طرح بار بار امریکہ کی ایٹمی ہتھیاروں کی پالیسی سے ٹکرا رہے تھے اور بار بار جیل یاترا کر رہے تھے اور جب آپ بھی بار بار ٹکرائیں گے تو بار بار آپ کو بھی جیل یاترا کرائی جائے گی۔

ڈینیل اور فلپ بنیادی طور پر مذہبی شخصیات تھیں یہ دونوں بھائی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مزاحمت اور جنگوں کے خلاف نکتہ نظر پیش کرنے والوں کے لیے اپنی جدوجہد کے سبب سے ایک مثال بن گئے ان دونوں بھائیوں کا نام اس وقت اخبارات کی زینت بنا جب انھوں نے اپنے دیگر سات ہم خیال افراد کے ہمراہ ویت نام جنگ کے خلاف 1968 میں غیر معمولی کارروائی کر ڈالی تھی۔ ان افراد نے ویت نام جنگ کے حوالے سے امریکی فوج کی 378 ڈرافٹ فائلیں حاصل کی اور ان تمام ڈرافٹ فائلوں کو دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالا۔ امریکی انتظامیہ اور فوج میں ایک شور مچ گیا۔ اس کارروائی کو کینٹن ولا نائن ایکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تمام افراد گرفتار ہوگئے، سزا ہوگئی، جیل بھیج دیے گئے لیکن ان کی اس کارروائی کو دیکھتے ہوئے ویتنام جنگ کی خلاف ایسی سینکڑوں کارروائیاں دیگر افراد نے کر ڈالی۔

امریکی حکومت پر دباؤ ناقابل برداشت ہوگیا۔ بات ایک واقعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ 9 ستمبر 1980 کو یہ دونوں بھائی اپنے دیگر چھ ساتھیوں کے ہمراہ پینسلوریٹا کے قصبے کنگ آف یوریشیا میں جنرل الیکٹرک ایٹمی پلانٹ میں داخل ہوئے اور وہاں پر پڑے غیرمسلح ایٹم بم کے اگلے حصے پر ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ نتیجتاً قید کی سزا سنا دی گئی۔ 12 فروری 1997 کو فلپ نے باتھ آئرن ورکس کے اندر ایک امریکی نیوی کے ایٹمی اسلحہ بردار جہاز پر کارروائی کر ڈالی اور وہاں پر موجود ایٹمی ہتھیار پرضربیں لگانا شروع کر دیں قید تو ہونا ہی تھا۔

انیس سو ستانوے میں ”مین“ کی جیل سے انہوں نے لکھا تھا کہ ہم اس وقت تک ایٹمی ہتھیاروں کو ختم نہیں کر سکیں گے جب تک حکومت میں اپنی نمائندگی حاصل نہیں کرسکے گے، امیر اور غریب کے درمیان قطبین کا فرق ختم نہیں کر سکے گے اور امریکی حکومت پر فوج اور بڑے سرمایہ داروں کا غلبہ ختم نہیں کر سکیں گے جب تک ”نو“ کہنا نہیں سیکھتے۔

میں نے اس وقت خواجہ سعد رفیق کو کہا تھا کہ آپ رہا ہو بھی گئے تو بہرحال دوبارہ کبھی نہ کبھی جیل پھر ضرور بھیجے جائیں گے کیونکہ آپ نے ”نو“ کہنا سیکھ لیا ہے۔

اور جب انسان ”نو“ کہنا سیکھ لے تو پھر اس کے نتائج بہرحال اس کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہوتے ہے برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ جنگ گروپ کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس نے ”نو“ کہنا سیکھ لیا ہے تو پھر قید میں بھائی کی موت کی خبر بھی قیامت بن کر سامنے آ جاتی ہے ”نو“ کہنے کی بہرحال قیمت چکانا پڑتی ہے۔

بہرحال یہ واقعہ مجھے کچھ دن قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں خواجہ سعد رفیق سے ملاقات کے وقت بار بار یاد آرہا تھا۔ وہ اس وقت تک رہا نہیں ہوئے تھے لیکن پرامید تھے کہ ان کو زبردستی جتنے دن قید رکھا جاسکتا تھا رکھ لیا گیا ہے اور اب بہرحال ان کو رہا کرنا ہی پڑے گا اور جب ان کو رہا کرنا پڑے گا تو وہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے اس بیانیے کے ساتھ مکمل طور پر جڑے ہوئے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ آج جب وہ اس بیانیہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں تو ایسی صورت میں یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی شعلہ بیانی کسی صورت دوبارہ بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ڈینیل اور فلپ دونوں بھائیوں کے سامنے اپنے ملک امریکہ کی یہ پالیسی سامنے تھی کہ امریکہ ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے اور صرف رکھ ہی نہیں سکتا بلکہ جب اس نے ضرورت محسوس کی تو چلا بھی ڈالے اور وہ دونوں اس طریقہ کار کو ناصرف کے عالمی امن کے خلاف تصور کرتے تھے بلکہ امریکہ یعنی اس کے عوام کے متعدد مسائل کا باعث بھی انہیں پالیسیوں کو قرار دیتے تھے۔ جب قرار دیتے تھے تو ان کو قرار کیسے آسکتا تھا جن کو یہ پالیسیاں راس آئی ہوئیں تھی لہذا سو سے زائد بار گرفتار ہوئے۔

وطن عزیز میں آئین کی بالادستی کا معاملہ درپیش ہے پھر جن کی آئین پر بالا دستی ہے وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ آئین کی ان پر بالادستی قائم ہو۔ سعد رفیق کے سامنے یہ مثال رہنی چاہیے کہ شہباز شریف واپس آئے تو نوٹس، شاہد خاقان عباسی کی ضمانت ہوئی مگر پھر وارنٹ اور ہاں حمزہ شہباز کو رہا کر دینا سوہان روح بنا ہوا ہے ایسے میں سعد رفیق رہا ہو بھی گئے مگر شعلہ بیانی برقرار اور نتائج بھی برقرار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *