افغانستان:ایک صدی اور بیس سالوں کی داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ایک صدی اور بیس سالوں کا سبق یہی ہے کہ کابل میں کبھی بھی طویل مدت تک نہ امن قائم رہا اور نہ ہی یہاں کو طویل عر صے تک سیاسی استحکام نصیب ہوا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان جب رواں برس 29 فروری کو افغانستان میں قیام امن کے لئے معاہدہ ہوا تو زیادہ تر لوگوں کو توقع تھی کہ اب یہاں امن کا قیام سالوں کی نہیں، بلکہ مہینوں کی بات ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ 80 کی دہائی سے قبل افغانستان ایک پرامن اور سیاسی طور پر مستحکم ریاست تھی، لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صورت حال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

افغانستان کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے لیکن ہم گزشتہ ایک صدی یعنی بیسویں صدی اور رواں صدی یعنی اکیسویں صدی کے بیس برسوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا گزشتہ ایک سو بیس سالوں میں کبھی افغانستان میں طویل مدت تک امن قائم رہا ہے کہ نہیں؟ یا طویل عرصے تک کابل کو اس ایک صدی اور بیس سالوں میں سیاسی استحکام نصیب ہوا بھی ہے کہ نہیں؟

افغانستان کی تاریخ صدیوں پرانی ہے لیکن معلوم تاریخ سے پتہ لگ رہا ہے کہ موجودہ ریاست کی بنیاد 1747 ء میں احمد شاہ درانی نے رکھی تھی۔ افغانستان کی سرزمین کے سینے میں بڑی بڑی بادشاہتوں کے عروج و زوال کی کہانیاں دفن ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ گزشتہ صدی سے لے آج تک اس سرزمین پر کم و بیش ایک سو دس جنگیں لڑی گئی ہے، جس میں 70 % فیصد سے زیادہ لڑائیاں افغانوں کے درمیان ہوئی ہے۔ باقی تیس فیصد جنگیں افغانوں نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑی ہیں، مگر افسوس کہ تاریخ میں ان تیس فیصد بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ مقابلے اور شکست کی تمام تر تفصیلات تو موجود ہے لیکن آپس میں لڑی گئی جنگوں کا تذکرہ نہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور نہ ہی افغان اس کا زیادہ تذکرہ کرتے ہیں۔

حبیب اللہ خان نے جب اکتوبر 1901 میں اقتدار سنبھالا تو انھوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران افغانستان کو غیر جانبدار رکھا۔ افغانوں کو ان کی یہ پالیسی پسند نہ آئی اور 20 فروری 1919 ء کو حبیب اللہ خان کو قتل کر دیا۔ حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد ان کے تیسرے بیٹے امان اللہ خان نے حکومت سنبھالی۔ انھوں نے ملک میں اصلاحات کا آغاز کیا۔ اس پر اختلافات پیدا ہوئے اور پھر 14 نومبر 1928 ء سے 13 اکتوبر 1929 ء تک افغانستان میں سول وار جاری رہی۔

اس دوران حبیب اللہ کلاکانی حکمران رہے۔ 15 اکتوبر 1929 ء کو امان اللہ خان کے کزن محمد نادر خان نے حبیب اللہ کلاکانی کے حکومت کا خاتمہ کیا اور نومبر 1929 ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔ انھوں نے اپنے ایک وزیر کو قتل کیا۔ ڈرکی وجہ سے ان کے خاندان نے کابل سے ننگرہار ہجرت کی۔ پھر 1933 ء میں اس مقتول وزیر کے طالب علم بیٹے نے انتقام میں بادشاہ محمد نادر خان کو قتل کردیا۔ شاہ محمد نادرخان کے قتل کے بعد ان کے انیس سالہ بیٹے محمد ظاہر شاہ نے اقتدار سنبھالا۔

اپنے باپ کے قتل کے بعد ظاہر شاہ نے اس کم عمر طالب علم کو اپنے محل کے سامنے پنجرے میں بند کیا اور حکم دیا کہ ہر روز ان کا ایک ایک عضو کاٹا جائے۔ ایک ہفتے تک اسی چوک میں تیرہ سالہ طالب کا ایک ایک عضو کاٹا جاتا۔ لوگ نظارہ کرتے، لیکن خوف اور ڈر کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے۔ ظاہر شاہ 1946 ء تک اپنے چچا سردار محمد ہاشم خان کی زیر سرپرستی حکومتی امور انجام دیتے رہے۔ وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ 1946 ء میں ظاہر شاہ نے اپنے دوسرے چچا سردار شاہ محمد خان کو وزیر اعظم نامزد کیا، جبکہ 1953 ء میں انھوں نے ان کی جگہ محمد داود خان کو وزیر اعظم نامزد کیا۔

سردار داود سوویت یونین کے زبر دست حامی جبکہ پاکستان کے شدید مخالف تھے۔ یکم جنوری 1965 ء میں ”پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی آف افغانستان قائم کی گئی“۔ اس جماعت کے سوویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، لیکن یہ پارٹی بھی زیادہ دیر تک متحد نہ رہ سکی اور دوحصوں ”خلق“ اور ”پرچم“ میں تقسیم ہوئی۔ خلق کی قیادت نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پرچم کی قیادت ببرک کارمل کر رہے تھے۔ اس دوران ظاہر شاہ خاندان پر بدعنوانی اور خراب معاشی صورت حال کے سنگین الزامات لگائے گئے اور سابق وزیر اعظم سردار داود نے 17 جولائی 1973 ء کواس وقت اقتدار پر قبضہ کیا جب ظاہر شاہ علاج کے لئے ملک سے باہر تھے۔

سردار داود خود وزیر اعظم اور صدر بن گئے۔ 1978 ء میں حکومت نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنما میر اکبر خیبر کو قتل کیا۔ کئی گرفتار ہوئے۔ اس خوف کی وجہ سے 28 اپریل 1978 ء کو پی ڈی پی اے کے رہنماؤں نور محمد ترکئی، ببرک کارمل اورامین طلحہ نے سردار داود حکومت کو ختم کیا جبکہ سردار داود اور ان کے خاندان کے دیگر افراد خونی فوجی کارروائی میں قتل کر دیے گئے۔ اس خون ریز سانحہ کو تاریخ میں ”سرخ انقلاب“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یکم مئی کو نور محمد ترکئی ملک کے صدر اور وزیر اعظم بن گئے جبکہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی انھوں نے اپنے پاس رکھا۔ مارچ 1979 ء میں حفیظ اللہ امین وزیر اعطم نامزد کیے گئے جبکہ 14 ستمبر کو حفیظ اللہ امین نے نورمحمد ترکئی کو معزول کیا۔ وہ قتل کر دیے گئے اور حفیظ اللہ امین اقتدار پر قابض ہوئے۔

افغانستان میں اقتدار کے لئے جنگ جاری تھی۔ حالات زیادہ خراب تھے۔ خراب سیاسی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوویت یونین نے 24 دسمبر 1979 کو افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کی۔ 27 دسمبر 1979 ء کو حفیظ اللہ امین بھی قتل کر دیے گئے جبکہ سوویت یونین نے اقتدار ببرک کارمل کے حوالے کیا۔ سوویت یونین نے کوشش کی کہ ببرک کارمل کو مضبوظ کریں لیکن بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے انھوں نے 15 مئی 1988 ء کو افغانستان سے فوجیں نکالنا شروع کیے اور 15 فروری 1989 ء تک اپنی فوجیں افغانستان سے نکال دی۔

افغانستان میں ناکامی کا تمام تر ملبہ سوویت یونین نے ببرک کارمل پر ڈال دیا۔ سوویت یونین نے ان کی جگہ ستمبر 1987 ء میں اقتدار ڈاکٹر نجیب اللہ کے حوالے کیا۔ مارچ 1990 ء میں شاہ نواز تنائی نے کوشش کی کہ نجیب حکومت کا تختہ الٹ دے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ سیاسی حالات انتہا ئی خراب تھے۔ اپریل 1992 ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ سے زبردستی استعفی لے لیا گیا۔ عبدالرحیم ہاتف ملک کے نئے عبوری سربراہ نامزد کیے گئے۔ انھوں نے 16 اپریل 1992 کو عبوری صدر کا حلف لیا اور 28 اپریل تک وہ اس عہدے پر رہے۔

26 اپریل 1992 کو معاہدہ پشاور ہوا، جس میں صبغت اللہ مجددی کو عبوری صدر نامزد کیا گیا۔ صبغت اللہ مجددی دو مہینے تک صدر رہے۔ اس کے بعد جون 1992 میں برہان الدین ربانی نے منصب صدارت سنبھال لیا۔ وہ دسمبر 2001 ء تک اس عہدے پر فائز رہے، لیکن جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو انھوں نے ستمبر 1996 ء میں جلاوطنی اختیار کی اور پھر نو مبر 2001 ء میں واپس افغانستان آگئے۔ سوویت یونین کے انخلا ء کے بعد مجاہدین کے درمیان حکومت سازی کے لئے صلا ح و مشورے جاری تھے۔

گلبدین حکمتیار جون 1993 ء میں وزیر اعظم منتخب کیے گئے وہ جون 1994 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ جون 1996 ء میں وہ دوبارہ وزیر اعظم نامزد کیے گئے اس مرتبہ وہ اگست 1997 ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ نو سال تک مجاہدین سوویت یونین کے خلاف لڑتے رہے جس کی ایک طویل داستان ہے۔ اس دوران مختلف ممالک نے کوشش کی کہ افغانوں کے درمیان صلح ہو لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے۔ حکمت یار، احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، صبغت اللہ مجددی، عبدالرب سیاف، رشید دستم سب کی کوشش تھی کہ تخت کابل پر قبضہ کریں۔

مجاہدین کی آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے ملا محمد عمر نے تحریک طالبان کو منظم کیا۔ انھوں نے ستمبر 1996 میں کابل پر قبضہ کیا۔ مجاہدین رہنماؤں کی اکثریت روپوش ہو گئی یا انھوں نے جلا وطنی اختیار کی۔ کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے ”امارات اسلامی“ کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر نجیب کے لاش کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ افغانستان کی تاریخ کا ایک کربناک باب ہے۔ احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم نے ”شمالی اتحاد“ کے نام سے فوجی اتحاد قائم کرکے طالبان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ان کی حکومت کو تسلیم بھی کیا۔ دنیا کو ان کے طرز حکمرانی پر شدید ترین تحفظات تھے۔ 9 ستمبر 2001 کو احمد شاہ مسعود کو قتل کیا گیا اور پھر گیارہ ستمبر 2001 ء کو امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا خون ریزہ سانحہ ہوا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس کی ذمہ داری القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور خالد شیخ محمد پر ڈال دی۔ انھوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کردیں۔ طالبان نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ثبوت ہمیں دی جائے ہم خود ان کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن امریکا نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کردیا اور پھر اکتوبر 2001 ء میں انھوں نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ طالبان نے مزاحمت ضرور کی لیکن آخر کار ان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

امریکا نے دسمبر 2001 ء میں جرمنی میں ایک بین الاقوامی کانفر نس کا انعقاد کیا جس میں حامد کر زئی کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ نامزد کیا گیا۔ وہ 22 دسمبر 2001 ء سے جولائی 2002 تک اس منصب پر فائز رہے۔ 2004 ء اور 2009 کے صدارتی انتخابات میں انھوں نے کامیابی حاصل کی اور 2014 ء تک وہ افغانستان کے حکمران رہے۔ حامد کرزئی کے پورے دورے حکومت میں امریکا اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری رہی۔ پورا ملک شدید ترین بدامنی، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

2014 ء کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ مدمقابل تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن امریکی مداخلت پر نئی حکومت تشکیل دی گئی۔ ڈاکٹر اشرف غنی صدر جبکہ ڈاکٹر عبداللہ چیف ایگزیکٹیو منتخب ہوئے۔ 2018 ء میں امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے حامی بھری، جس کی وجہ سے اپریل 2019 ء میں صدارتی انتخابات کو دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا۔ پھر جب انتخابات ہوئے تو نتائج میں کئی مہینے تاخیر کی گئی لیکن جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو ڈاکٹر عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر نتائج ماننے سے انکار کیا۔

29 فروری 2020 ء کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہو ا لیکن اس کے چند روز بعد 9 مارچ کو ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ دونوں نے الگ الگ صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ طالبان نے بھی اعلان کیا کہ ان کی اسلامی امارات قائم ہے اس لئے ملا ہیبت اللہ اب بھی امیر المومینن ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت افغانستان پر دو صدر اور ایک امیر المومنین حکمران ہے جبکہ حکمت یار، رشید دوستم اور عبدالرب سیاف بھی تیار بیٹھے ہے۔

سابق صدر حامد کرزئی کو بھی یقین ہے کہ اگر افغانستان میں قیام امن کے لئے کوئی عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی تو امریکا اس کی سربراہی ان ہی کے سپرد کرے گا۔ صورت حال اب بھی خراب ہے آپس میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے امریکا نے افغانستان کی امداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ فروری میں معاہدے کے بعد کابل نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے تھے ابھی تک ان کی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی وجہ سے بین الافغان مذاکرت بھی تا خیر کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگر افغان آپس میں متفق نہ ہوئے تو واشنگٹن نے دھمکی دی ہے کہ اگلے برس وہ امداد میں مزید کمی کریں گے۔

گزشتہ ایک سو بیس سالوں کا سبق یہی ہے کہ افغانستان میں طویل مدت کے لئے نہ کبھی امن قائم ہوا ہے اور نہ وہاں سیاسی استحکام کا قیام ممکن ہوسکابلکہ زیادہ تر افغان آپس میں حکمرانی کے لئے لڑتے رہے ہیں جبکہ دومرتبہ بیرونی حملہ آوروں سوویت یونین اور امریکا کے ساتھ بھی وہ لڑتے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply