راکھ۔ مستنصر حسین تارڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مستنصر حسین تارڑ صاحب کو پہلی دفعہ پی ٹی وی کی سکرین پر دیکھا جب وہ صبح کی نشریات کی میزبانی کرتے تھے۔ پھر جب کچھ عرصے بعد طبیعت پڑھنے کی طرف راغب ہوئی تو ابنِ انشا کا سفرنامہ ”چلتے ہو تو چین کو چلیے“ پڑھا اور جس کو پڑھنے کے بعد سفرناموں کی پسندیدگی کی ایک لو بھڑک اٹھی اور یہ لو ہمیں تارڑ صاحب تک لے گئی۔

نوے کی دہائی کے آخر کی بات ہے جب تارڑ صاحب کا پہلا سفرنامہ اصغر مال کالج کی لائیبریری سے لے کر پڑھا اور یوں تارڑ صاحب اور ان کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقوں سے ایک تعارف ہونا شروع ہوا اور پھر ایک لمبے عرصے تک تارڑ صاحب کے ساتھ ان کے سفرناموں کے ذریعے بہت سا سفر کیا، چاہے وہ پہاڑوں کی ایک اور خوبصورت سر زمین نیپال ہو، چین ہو، ماسکو ہو یا اندلس ہو۔ غرض یہ کہ تارڑ صاحب کا شاید ہی کوئی سفرنامہ ہو جو آنکھ کے راڈار سے بچ گیا ہو۔

اب اس سے ہوا یہ کہ میں نے تارڑ صاحب کو ہمیشہ کے لیے ایک سفرنامہ نگار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا اور ان کے کسی دوسرے کام کی طرف دھیان ہی نہ گیا۔ گزشتہ برس جب راقم پاکستان گیا تو تارڑ صاحب کا ناول راکھ بھی خریدا اور اب اس وبا کے ان بدنصیب دنوں میں یہ ناول پڑھا اور اس کا وَن لائنر تبصرہ یہ ہے کہ اپنے سفرناموں کی طرح تارڑ صاحب نے یہاں بھی قطعاً مایوس نہیں کیا۔

راکھ بنیادی طور پر تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھا گیا ایک آٹوبائیوگرافکل ناول ہے کیونکہ اس میں مصنف کی اپنی زندگی جا بجا بکھری پڑی ہے۔ راکھ صرف ایک ناول ہی نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے، ایک ایسی چلتی پھرتی تاریخ جس کے ماتھے پہ آپ کو تقسیمِ ہند کی خونی لکیر نظر آتی ہے اور جس کے چہرے پہ ایک گھاؤ ہے اور وہ گھاؤ ایک بازو کے الگ ہونے کا ہے۔ ایک ایسی تاریخ جس کے وجود پہ بہت سے زخموں کے داغ ہیں اور ان داغوں سے خون رستا ہے۔

راکھ کی کہانی اس کے مرکزی کردار مشاہد کے گرد گھومتی ہے جو کہ تقسیم کے زمانے میں لاہور کے رنگ محل مشن ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرتا ایک بچہ ہے۔ تقسیم کے ہنگام ایک روز جب وہ سکول سے باہر قدم رکھتا ہے تو پورا آسمان کالے دھویں سے بھرا ہوتا ہے اور فضا میں ہر طرف راکھ بکھری ہوتی ہے۔ مشاہد اپنے تئیں واقعات کا اندازہ لگاتا گھر کی طرف دوڑتا جاتا ہے اور جب وہ شاہ عالمی دروازے کے قریب پہنچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ وہاں ہر چیز راکھ کا ڈھیر بن چکی ہوتی ہے اور آگ کے شعلے ابھی پوری طرح سے بجھے نہیں ہوتے۔

مشاہد کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا ہوا ہے؟ شاہ عالمی تو لاہور کا دل تھا۔ شاہ عالمی کا بہت بڑا بازار، اس کی چہل پہل، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہندو ساہوکاروں کی دیدہ زیب دکانیں سب اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ مشاہد اسی بدحواسی میں جب گھر پہنچتا ہے تو اس کا چہرہ راکھ سے اٹا ہوتا ہے اور پھر یہی راکھ ساری زندگی اس کی آنکھوں کے آگے چھائی رہتی ہے اور یوں شاہ عالمی اور اس کی راکھ مصنف یا مشاہد کی یادوں پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو کر رہ جاتی ہے۔

تقسیم کے ہنگاموں اور فسادات میں لاہور کا چہرہ بری طرح زخمی ہوا تھا اور اس کی روح تک میں یہ زخم سرایت کر گئے تھے۔ لاہور کا شاہ عالمی اور اس کے ارد گرد کے علاقے جہاں مصنف کا بچپن گزرا، خاص طور پر ہنگاموں کی زد میں آئے تھے کیونکہ یہ علاقے ہندو ساہوکاروں سے بھرے ہوئے تھے۔ شاہ عالمی کے اندر ہندوؤں کی بہت بڑی کالونی تھی اور وہ سارے متمول خاندان تھے۔ لاہور کی زیادہ تر تجارت پر انہی کی اجارہ داری تھی۔ آگ لگنے سے قبل شاہ عالمی کی ہندو آبادی بہت دنوں تک اپنے دروازوں کو مقفل کر کے گھروں میں بیٹھی رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد کئی دنوں تک مشاہد اور اس کے دوست سکول سے واپسی پر شاہ عالمی کی راکھ کو کریدتے اور کبھی کچھ سکے ان کے ہاتھ لگ جاتے اور کبھی کوئی بہت قیمتی چیز بھی انھیں اس راکھ سے مل جاتی۔

راکھ ایک المیہ ہے۔ ایک ایسا المیہ جس نے ایک ہنستے بستے شہر کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ایک ایسا معاشرہ جو زندگی سے بھرپور تھا آناً فاناً اس المیے کی لپیٹ میں آ گیا اور اس المیے نے اس وقت کی حساس نسل کے ازہان پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ لاہور صرف ایک شہر کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ثقافت کا نام تھا جس کے اجزائے ترکیبی تمام مزاہب کے لوگ تھے، لاہور خوشیاں بانٹنے اور ہنسنے ہنسانے کا نام تھا۔ تقسیم کے المیے نے لاہور کے چہرے پہ ایسے کاری وار کیے کہ اس کا چہرہ ہمیشہ کے لیے داغدار ہو گیا۔ لاہور کا خوبصورت چہرہ ہمیشہ کے لیے راکھ سے اٹ گیا چاہے وہ شاہ عالمی کی راکھ تھی، لکشمی چوک کے مندر کی راکھ تھی، جذبوں کی راکھ تھی، انسانیت کی راکھ تھی یا ایک جلتے ہوئے معاشرے کی راکھ تھی۔ اور اس ناول میں جا بجا یہی راکھ آپ کو بکھری نظر آئے گی۔

اس ناول کی ایک اور خاص بات اس کا اسلوبِ بیان ہے جو کہیں ناول کا رنگ لیے ظاہر ہوتا ہے اور کہیں ایک سفرنامے کی مانند قاری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیے پھرتا ہے۔ مصنف کی بطورِ خاص لاہور سے محبت ہمیں جا بجا بکھری نظر آتی ہے جب وہ قاری کا ہاتھ پکڑے اسے لاہور کے گلی کوچوں میں لیے پھرتا ہے۔ شاعالمی، باغبان پورہ، دلی دروازہ، سنہری مسجد، مسجد وزیر خان، تنگ بازار، ورق والا بازار، لوہاری منڈی بازار، انار کلی، لکشمی چوک، کامران کی بارہ دری، دریائے راوی اور ڈانسنگ گرلز والی گلی یہ سب وہ جگہیں ہیں جہاں آپ کو مصنف لیے پھرتا ہے۔

مینوں دس خاں شہر لاہور اندر
کنّے بوہے تے کنیاں باریاں نیں،
تینوں دساں میں شہر لاہور اَندر
لکھاں بوہے تے لکھاں باریاں نیں۔
اک کھولاں۔ اک کجاں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *