لاک ڈاؤن اور ہیروئن کی پڑیا

دو دن سے اسے پڑیا نہیں ملی تھی، کام نا ہونے کی وجہ سے ہفتہ بھر کما نہ سکا تھا، ورنہ اپنی پڑیا کے پیسے نکال لیتا تھا، نصیباں سے کم ہی مانگتا تھا۔ ہاں جب کبھی کام نا ملتا تو کوئی گھر کا چھوٹا موٹا سامان بیچ آتا تھا۔ جب نصیباں کو پتا چلتا تو وہ خوب ذلیل کرتی تھی، چپ چاپ سن لیتا تھا۔ کئی بار پڑوسی چوری کا الزام بھی لگا چکے تھے، لیکن قسم کھاتا تھا کہ پڑوسیوں کی چوری کبھی نہیں کی۔ بد سے بدنام برا۔ نصیباں بھی کبھی پیار سے کبھی لڑ کر معاملہ سنبھال لیتی تھی۔
ہفتے بھر سے نصیباں بھی کام پر نا جاسکی تھی، چار گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی تھی۔ ایک گھر ڈاکٹر کا تھا، اس کی بیوی نے لاک ڈاؤن سے ایک دن پہلے ہی جتنے دن کام کیا تھا ان کا حساب چکتا کرکے اسے فارغ کر دیا تھا۔
دوسرا گھر یونیورسٹی کے پروفیسر کا تھا، اس کی بیوی بھی پروفیسر تھی۔ لاک ڈاؤن سے دو دن پہلے انہوں نے نپے تلے الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ پندرہ بیس دن کام پر نہ آئے۔ وہ کئی دنوں سے خاصی احتیاط برت رہے تھے، نصیباں کے داخل ہوتے ہی اس سے اپنی نگرانی میں کلائیوں سمیت ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھلواتے، کچن میں داخلہ ممنوع تھا، اور نصیباں کے آنے کے بعد بچے کسی ایک کمرے میں محدود ریتے، مبادا وہ اس فضا میں سانس لیں جس میں نصیباں لے رہی ہے۔
تیسرا گھر ایک ریٹائرڈ اسکول ماسٹر کا تھا، دو میاں بیوی اکیلے رہتے تھے، تین بیٹیاں بیاہ دی تھیں۔ انہوں نے بھی لاک ڈاؤن سے دو دن پہلے تنخواہ سے دگنی رقم نصیباں کے ہاتھ میں تھما کے، جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے نہ آنے کی تلقین کی تھی، ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس دوران پیسوں کی ضرورت ہو تو پھر بے شک آ جانا۔
چوتھا گھر شہر کی معروف بیکری کے مالک کا تھا۔ جس دن لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، نصیباں نے اس دن گھر کی مالکن سے کہا ’باجی! سبھی نے مجھے چھٹی دے دی ہے، دوسری ماسیاں بھی کام پے نہیں آئیں گی، کہہ رہے ہیں بہت سخت پہرہ ہو گا، پولیس اور رینجرز کا، پھر میں کیسے آ سکوں گی؟ ‘
’ایک تو تم لوگوں کے بہانے ختم نہیں ہوتے۔ لگتا ہے یہ بیماری سیدھا تم ماسیوں ہی کو لگے گی۔ اب ہم کہاں سے انتظام کریں دوسری ماسی کا؟ جوڑوں کے درد کے باعث کام مجھ سے ہوتا نہیں ہے۔ کوئی پہرہ وہرہ نہیں ہو گا، ایسے ہی ڈرا رہٖے ہیں۔ اور مجھے نہیں سننا تمہارا کوئی عذر‘ اس نے نخوت سے جواب دیا۔
دوسری صبح نصیباں گھر سے نکلی اور جیسے ہی چوراہے تک پہنچی، پولیس نے اسے آگے جانے ہی نہ دیا، نصیباں نے خاصی منتیں کیں، لیکن انہوں نے اپنی فرض شناسی کا حوالہ دے کہ اسے اپنا فرض نبھانے سے روک دیا۔
واپس گھر آئی تو وہ رقم موجود نہ تھی جو ماسٹر صاحب نے دی تھی۔ پورا دن روتی رہی۔ رات میں بیٹا واپس آیا تو اس پر برس پڑی، مارتی رہی اور روتی رہی۔ کام تو اسے تین دن سے نہیں ملا تھا اس لیے ڈوڈو سے پڑیا ادھار پر لے رہا تھا، ادھار چکا کر اور آج کے لیے لے کے، اب وہ خالی ہاتھ تھا۔ اتنی بڑی رقم یوں دو چٹکی سفید سفوف کی نذر ہو گئی تھی۔ ایسی عیاشی امیر زادے بھی کیا کرتے ہوں گے، جو ان مفلسوں کے ایسے لعل کرتے ہیں۔
تھوڑے سے چاول اور دال رکھے تھے، تیں دن بمشکل گزارا کیا۔ چوتھے روز شہر کے ایک سیاستدان کو غریبوں بھوک کا احساس ہوا تو دو دن دیگ بنا کے بانٹی۔ لیکن کل سے روٹی کا نوالہ تک ان کے حلق میں نہیں گیا تھا۔ اب تو اسے چکر آرہے تھے اور متلی بھی ہو رہی تھی۔ لیکن اس سے زیادہ نا قابل برداشت بیٹے کی تکلیف تھی، جو بن پانی مچھلی کے مانند تڑپ رہا تھا، اتنی تکلیف تو اسے تب بھی نہیں ہوتی تھی جب وہ دودھ کے لیے گھنٹوں گھنٹوں روتا تھا اور ساس کے ساتھ رلّیوں میں ڈورے ڈالتے ڈالتے اس کے کپڑے تر ہو جاتے تھے۔ کئی سالوں سے ساس نے بستر پکڑ لیا تھا، اس کی دوائی بھی بڑی مہنگی آتی تھیں۔
مزید دو دن ڈوڈو نے اس کے بیٹے کو پڑیا ادھار دی، تیسرے روز جوتا مار کے بھگا دیا۔ بیٹے کی تڑپ ماں کی بھوک سے جیت رہی تھی۔ نصیباں کا پیٹ تو پلیٹ بھر چاول یا دو روٹیوں سے بھرنا تھٓا، بیٹے کے قرار کے لیے تو بس اک پڑیا کی ضرورت تھی۔ لیکن پیسے کہاں سے آتے؟ اسے جانا ہو گا۔ سنا تھا اب زیادہ سختی نہٖیں ہے، اس لیے وہ لرزتے قدموں سے چلتی، چکراتی، لڑکھڑاتی، بیکری والے کے گھر پہنچ گئی۔
’یہ لو! آگئی شہزادی، واپس جاؤ بہن! ہم نے دوسری ماسی رکھ لی ہے، تم جا کے آرام کرو‘ مالکن نے بے اعتنائی سے منہ پھیر کے کہا۔ نصیباں نے وضاحت دینے کے لیے منہ کھولا تو آگ بگولا ہو گئی۔ حقارت کے تیر طنز کے زہر مٖیں ڈبو کے چلاتی رہی، جب پل بھر کو رکی تو نصیباں نے ڈر ڈر کے پیسوں کی درخواست کی۔
’ کاہے کے پیسے؟ کام ادھورا چھوڑ کے عیاشیاں کرنے گئیں تم، میری بہو کو پورا دن بچوں کو روتا چھوڑ کے کام کرنا پڑا اور اب تمہیں پیسے بھی دیں؟ حرام کے پیسے ہیں کیا ہمارے پاس؟‘
وہاں سے ناکام ہوکے پروفیسر کے گھر پہنچی۔ ’ارے آپ کیوں آئیں؟ آپ کو منع کیا تھا نا؟‘ پروفیسر صاحبہ نے اپنے لہجے کو نہایت نرم رکھتے ہوئے کہا۔ نصیباں نے اپنی مجبوری بتائی اور کام جاری رکھنے کی درخواست کی۔ دیکھو ماسی! آپ سمجھتی نہیں، یہ بیماری بہت خطرناک ہے۔ ایسے پھیلتی ہے جیسے آگ۔ ۔ ۔ ’وہ نصیباں کو اس بیماری کی سنگینی کے بارے میں سمجھانے لگی، جو کہ پہلے بھی کئی بار سمجھا چکی تھی۔
پروفیسر بیوی سے انگریزی میں کچھ کہتا جا رہا تھا تاکہ نصیباں نہ سمجھ پائے اور اس کا دل نہ دکھے۔ پروفیسر ہاتھ میں بوتل لیے اس میں موجود مادے سے دروازے کے ہینڈل پر چھڑکاؤ کیے جا رہا تھا، جس کو چھو کے نصیباں اندر آئی تھی۔ ’اس کو ہر گز اجازت نہ دینا، یہ لوگ پتا نہیں کہاں کہاں جاتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، ترس کھا کے رسک مت لینا‘۔ ایسا ہی کچھ کہتا ہو گا، وہ مہذب پروفیسر۔ اس دوران میں پروفیسر صاحبہ بار بار بچے کو اندر جانے کی تلقین کر رہی تھیں، جو قریب ہی کھیل رہا تھا۔
’ ویسے ابھی مہینا مکمل نہیں ہوا، پھر بھی میں آپ کو بیس دن کی تنخواہ دے دیتی ہوں، لیکن مہربانی فرما کے اب آنا مت‘۔ وہ اندر گئی، پیسے اور بچا کھچا کھانا لا کے نصیباں کو دیا۔ اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی، پروفیسر نے دروازہ کھولا تو ایک باوقار خاتون، قیمتی لباس اور زیور پہنے اندر داخل ہوئی۔ پروفیسر صاحبہ نے نہایت گرم جوشی سے اس سے مصافحہ کر کے گلے لگایا، وہ با وقار خاتون بچے کی طرف بڑھی، ’آنٹی سے ہینڈ شیک کرو بیٹا!‘ پروفیسر نے بیٹے کو ہدایت دی۔ بچے نے خاتون سے ہاتھ ملایا، خاتون نے بچے کے گال کو چھو کے بوسہ دیا۔ ’اوہ مما! اب مجھے ہاتھ اور منہ دونوں دھونے پڑیں گے‘ ، بچہ واش روم کی طرف بھاگا۔ ’سارا دن ٹی وی پر دکھاتے رہتے ہیں ناں، اس لیے بچے سٹرکٹلی فالو کرتے ہیں!‘ پروفیسر صاحبہ نے بوکھلا کے وضاحت پیش کی۔
’ہاں اچھی بات ہے ناں‘ اس باوقار خاتون نے کھسیا تے ہوئے تائید کی۔ ’اصل میں مجھے غریبوں کو کچھ پیسے دینے تھے، لیکن کوئی غریب ملتا ہی نہیں جو واقعی مستحق ہو، سوچا تم سے پوچھ لوں‘۔
’میری ایک فرینڈ کی اپنی این جی او ہے اور وہ آج کل غریب بستیوں میں راشن تقسیم کر رہی ہے، میں آپ کی اس سے بات کرواتی ہوں۔ چلیں اندر چلتے ہیں۔ ماسی آپ جائیں، اپنا اور اپنے بیٹے کا خیال رکھیں۔ یہ بیماری ختم ہو جائے پھر آ جانا، میں کوئی دوسری ماسی نہیں رکھوں گی، وعدہ کرتی ہوں‘ نصیباں کو وہیں چھوڑ کے پروفیسر صاحبہ اس باوقار خاتون کے ساتھ اندر چلی گئی اور نصیباں باہر۔
باہر نکل کر قریب ہی بیٹھ کے اس نے کھانا کھایا، کیونکہ اب چلنا دوبھر ہوگیا تھا۔ کھانا کھاکے جسم میں ذرا جان آ گئی، اس لیے ہمت کر کے ماسٹر صاحب کے گھر چل دی۔ ماسٹر صاحب نے تو کہا ہی تھا کہ جب ضرورت ہو آ جانا، لیکن انہوں نے پہلے ہی دگنے پیسے دے دیے تھے، ذرا ہچکچا رہی تھی۔ پھر سوچا تھوڑا کام بھی کر لے گی، بعد میں اگر وہ بھلے لوگ خود ہی پیسے دیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ مانگے گی نہیں۔ لیکن ان کے دروازے پر لگا تالا نصیباں کا منہ چڑا رہا تھا۔
شاید وہ لوگ کسی بیٹی کے گھر چلے گئے ہوں گے ، اس نے دل میں سوچا۔ تھوڑی دیر کھڑی سانسیں بحال کر رہی تھی، کہ ان کا پڑوسی ہاتھ میں خور و نوش کا سامان لیے آیا اور اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے نصیباں کو مخاطب کیا ’ماسی! سب لوگ بیماری کے ڈر سے گھر میں چھپے بیٹھے ہیں اور تم گھوم رہی ہو، ماسٹر صاحب کا بھی کل کرونا کی وجہ سے انتقال ہو گیا، بے چارے کو نہ کفن نصیب ہوا نہ بیٹیوں نے باپ کا منہ دیکھا، ان کی بیوی بھی اسپتال میں داخل ہے۔ تم بھی جا کے گھر بیٹھو ماسی! بہت خطرناک بیماری ہے، اللہ رحم کرے‘ وہ اپنی انگلی سے ناک کو چھوتا اپنے گھر چلا گیا۔
ماسٹر صاحب اور اس کی بیوی کا سن کے نصیباں کو بہت صدمہ پہنچا، آنسو بہنے لگے۔ پھر ایک دم سے اپنے تڑپتے ہوئے بیٹے کا خیال آیا اور گھر کی طرف چل دی۔ ابھی اسے ڈوڈو سے پڑیا بھی لینی تھی۔

