نیکی کی ٹوکری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ ایک نان بائی کا تندور ہے اوراس کے باہر ایک طرف دیوار پر ایک ٹوکری لٹکی ہوئی ہے جسے نیکی کی ٹوکری کہا جاتا ہے۔ نان بائی کے پاس گاہک آتا ہے جنہیں کھانے کو تو چار نان ضرورت ہوتے ہیں لیکن وہ پیسے آٹھ نان کا ادا کرتا ہے۔ نان بائی گاہک سے مخاطب ہوتا ہے ”بھائی صاحب! کیا آپ سے کوئی چوک ہوگئی کہ چار کی بجائے آٹھ نان کے پیسے آپ نے میرے ہاتھ میں تھما دیے؟ گاہک جواب دیتا ہے : نہیں جناب، مجھ سے غلطی نہیں ہوئی۔ چار نان تو میں نے اپنے بچوں کے لئے خریدلئے اورباقی چارنان کو آپ نے نیکی کی ٹوکری میں ڈالنے ہیں۔ یہ جواب سن کرنان بائی تندور سے مزید چار نان نکال کرنیکی کی ٹوکری میں ڈال دیتاہے اورگاہک وہاں سے چلا جاتا ہے۔

کچھ دیر بعد ایک اور گاہک تندور پر آتا ہے جو پہلے گاہک کی طرح دو نان یاچار نان اپنے لئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں نان خرید کرکے نیکی کے ٹوکرے میں ڈال دیتاہے۔ یوں یہ سلسلہ شام تک اسی طرح چلتا ہے لیکن نیکی کی ٹوکری اس کے باوجود بھی بھرنے کا نام نہیں لیتی۔ کیوں؟ کیونکہ اس ٹوکرے کے پاس بے شمارایسے لوگ بھی آتے ہیں جو پیسے ادا کیے بغیر اس سے حسبِ ضرورت نان نکال کر چلے جاتے ہیں۔ لینے والے اصل میں وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنے معاشرے میں غربا، مساکین اور محتاجوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

قارئین کرام! یہ تحریری خاکہ ایک خیالی اورمن گھڑت کہانی کا خلاصہ نہیں ہے بلکہ یہ محتاجوں کو کھانے کھلانے کی ترکی کے عثمانی دور میں محتاجوں کوکھانے فراہم کرنے کی ایک قابل رشک روایت رہی تھی۔ عثمانی دور کے لوگ، اسی زمانے کے خلفاء، اور نان بائی بے شک اب نہیں رہے لیکن ان لوگوں کی یہ اچھی روایت رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جس پر عمل درآمد کرنے کا قدرت ایک معمولی آمدن رکھنے والے بندہ بھی رکھتا ہے۔

یعنی ایک بندے کی انتہائی قلیل قربانی کی بدولت معاشرے کے بے شمار محتاجوں اور مساکین کا گزر بسر ہوسکتا ہے۔ ہم اگر نیکی کی اس ٹوکری کی روایت کو پروموٹ کرکے اس کے بے شمار فائدے ہم دیکھ سکیں گے۔ مثال کے طور پر نیکی کی ٹوکری کی روایت چل پڑنے سے معاشرے میں آپ کو کبھی کوئی ایسا گداگر نہیں ملیں گے جو دو وقت کی روٹی کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتا ہو۔ نیکی کی ٹوکری کا اہتمام کرنے کادوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم بڑی آسانی کے ساتھ پیغمبر اسلام ۖ کی اس حدیث مبارک کی وعیدسے بھی بچ پائیں گے جس میں آپۖ نے فرمایا ہے کہ ”وہ بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا ہے جو خود تو پیٹ بھر کر سوجاتا ہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہتاہے“۔

تیسرا فائدہ نیکی کی ٹوکری کا یہ ہوگا کہ ایسا کرنے سے معاشرے میں بخل کا خاتمہ ہوگا اور دوسروں کو نیکی کی ٹوکری میں روٹی ڈالتے دیکھ کر ہر کسی کے دل میں اس نیک کام میں حصہ لینے کی ہمت پیدا ہوجائے گی۔ نیکی کے ٹوکرے کو بازاروں میں لٹکا کر اس کاچوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم اس میں تھوڑا سا کنٹری بیوشن کرکے بھی دل سکون محسوس کریں گے۔ پانچواں فائدہ یہ ہوگا کہ تھوڑا تھوڑا قربانی کر کرکے ہم مستقبل میں بڑی قربانی دینے کے لئے بھی مستعد ہوپائیں گے، علیٰ ہٰذا القیاس۔

نیکی کی ٹوکری کا مطلق یہ مطلب نہیں کہ خوامخواہ نان بائی کے تندور پر آپ نے اس نوع کے ٹوکرے کو تلاش کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں محتاجوں کی اعانت نہیں کرنی چاہیے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ کسی بھی صورت میں معاشرے کے مجبور اور بے کس لوگوں کو ہمیں کچھ نہ کچھ ریلیف پہنچانا چاہیے۔ کوئی مجھ سے اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ پہلے بھی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم تھی، اس وقت بھی یہی بے انصافی ام المسائل ہے اور آئندہ بھی اس ملک کا بنیادی مسئلہ ملکی دولت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہی ہوگی۔

جہاں ایک طرف چند ہزار لوگ پورے ملک کی نصف سے زیادہ دولت پرقابض اور مزید امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہوں اور دوسری طرف ملک کی نصف آبادی غربت کی دلدل میں پھنستی جارہی ہو تو لازمی بات ہے کہ وہاں بحران ہی بحران ہوں گے ۔ وہاں جرائم اور شورشوں کی شرح کو نیچے لانا ممکن ہوگا نہ ہی اپنے حقوق کے لئے روزاحتجاج کرنے والوں کو قابو میں لایاجاسکے گا۔ یہاں تک کہ انصاف کی عدم دستیابی بالآخر علیحدگی پسند سوچ کے حامل لوگوں کو بھی سنہری مواقع فراہم کریں گے۔

اللہ کے پیغمبر نے ایک مرتبہ غربت اور مفلسی کے بارے میں فرمایا کہ ”کاد الفقرآن یکون کفراً، یعنی قریب ہے کہ محتاجی بندے کو کفر تک لے جائیں۔ اس سے پہلے کہ ہم ماضی کی بحرانوں کے مقابلے میں کہیں سخت بحرانوں کاسامنا کرسکیں، ہمیں ایک ریاست کے طور پر بھی اور انفرادی طور بھی غربت مٹاؤ مہم میں تابہ مقدور اور مخلصانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ وماعلینا الا البلاغ المبین،

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *