ادب میں آمد اور آورد کی بحث


آمد اور آورد خالصتاً شاعری کی اصطلاحات ہیں۔ کچھ حضرات فکشن کو بھی اس کے تناظر میں دیکھنے لگے ہیں۔ لہذا اس منظر نامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔

اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے قبل بہتر ہوگا کہ آمد اور آورد کے تصور پر کچھ بات ہو جائے۔ آمد کے مؤیدین تخلیقِ فن میں نظریہ القاء کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک تخلیقی عمل حالتِ استغراق میں حواس کے زائل ہونے کے لمحے میں پیدا ہوتا ہے۔ یعنی آپ کے اندرونی جذبات و احساسات ( آمد کی محولہ تعریف کے مطابق آپ کو ودیعت کیے گئے جذبات واحساسات) جب بنے بنائے سانچوں میں ڈھلے، بغیر کسی شعوری کوشش کے سطحِ بیروں پر نمودار ہوں تو یہ عمل آمد کہلائے گا۔ اس کے برعکس آورد کے حامیوں کے نزدیک، تخلیقِ فن شعور، ارادے، تحفص، اور صرف و نحو کا نتیجہ ہے لہذا ہر فن بنیادی طور پر ایک شعوری صنعت ہوتا ہے۔ بات چونکہ فکشن کے تناظر میں بھی ہو رہی ہے سو ان تعریفوں کا انطباق اس پر بھی من و عن ہو گا۔

شمس الرحمن فاروقی صاحب کا آمد و آورد کی بابت نقظہ نظر بالکل مختلف ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔ فاروقی صاحب کا نقظہ نظر ایک علاحدہ مضمون کا متقاضی ہے سو اس بات پھر کبھی ہوگی۔

میری خالصتاً ذاتی دانست میں آمد اور آورد کی بحث کا تعلق ان الفاظ کے معانی کے فہم اور اطلاق میں جلدبازی کا نتیجہ ہے۔

اکثر لوگوں کے خیال میں، جو شعر یا جملہ شاعر یا ادیب کی زبان یا قلم سے بے ساختہ ٹپک پڑے، وہ اس شعر یا نثری تحریر سے زیادہ لطیف اور پر اثر ہوتا ہے جو بعد از غور و فکر مرتب کیا گیا ہو۔ پہلی صورت کا نام انہوں نے آمد رکھا ہے اور دوسری کا آورد۔ بعضے اس موقع پر یہ مثال دیتے ہیں کہ جو شیرہ انگور سے خود بخود ٹپکتا ہے وہ اس شیرہ سے زیادہ میٹھا اور پرلطف ہوتا ہے جو انگور سے نچوڑ کر نکالا جائے۔ مگر یہ رائے فی نفسہٖ سطحی ہے۔

یہ مثال ان کی اپنی ہی رائے کے خلاف ثبوت ہے۔ جو شیرہ انگور سے خود بخود اس کے پک جانے کے بعد ٹپکتا ہے وہ یقیناً اس شیرہ کی نسبت بہت دیر میں تیار ہوتا ہے جو کچے یا اَدھ پکے انگور سے نچوڑ کر نکالا جاتا ہے۔ استثنائی حالتوں کے سوا ہمیشہ وہی شعر یا نثری تحریر زیادہ لطیف، تہہ دار، سنجیدہ اور مؤثر ہوتی ہے جنہیں کمال غور و فکر کے بعد مرتب کیا گیا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ شاعر یا ادیب کسی موقع پر ایسے خیالات جو پہلے سے ترتیب وار اس کے تحت الشعور میں محفوظ ہوں، مناسب الفاظ میں فی الفور اس کے ذہن میں آ جائیں اور ادا کر دیے جاہیں۔

لیکن اول تو ایسے اتفاقات شاذ و نادر ظہور میں آتے ہیں۔ والنادر کالمعدوم۔ دوسرے ان خیالات کو جو مدت سے انگور کے شیرے کی طرح اس کے تحت الشعور میں پک رہے تھے، کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ وہ جھٹ پٹ بغیر غور و فکر کے ادا ہو گئے ہیں۔ تحت الشعور کا گنجینہِ خیالات بھی تو کسی اور وقت کے تفکر اور مشاہدے کا وہ میٹیریل تھا جو اس وقت کی تعمیر میں بچ گیا تھا سو اب کام آیا۔

شعر یا نثر میں دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک خیال، دوسرے الفاظ۔ خیال تو گزشتہ مشاہدے کی بچت کی صورت میں فوراً ذہن میں ترتیب پا گیا مگر اس کے اظہار کے لئے لفظوں کا خلعت تیار کرنے کے لیے تو وقت درکار ہو گا نا۔ یہ ممکن ہے کہ ایک عمارت ساز مکان کا نہایت عمدہ اور نرالا نقشہ ذہن میں تجویز کر لے۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ اس نقشہ پر مکان بھی چشم زدن میں تیار ہو۔ وزن، قافیہ پیمائی، لفظ کشائی اور عبارت آرائی کے تفحص کے مراحل مشقت طلب ہیں۔

مشہور ہے کo ورجل Virgil صبح اپنے اشعار لکھواتا تھا اور دن بھر ان پر غور کرتا اور ان کو چھانٹتا تھا اور یہ کہا کرتا تھا کہ ”ریچھنی بھی اسی طرح اپنے بدصورت بچوں کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت بناتی ہے۔

مشہور شاعروں اور ادیبوں کے مسودے چھانٹنے پر معلوم ہوتا ہے ک جو اشعار اور نثر پارے ان کے نہایت صاف اور بے ساختہ معلوم ہوتے ہیں وہ بیس بیس مرتبہ کاٹ چھانٹ کرنے کے بعد لکھے گئے ہیں۔

تخلیقِ فن کاملاً شعوری عمل ہے۔ اس شعوری عمل کی بروقت تفہیم نہ ہونا القاء کا شبہ پیدا کرتا ہے۔ ماحصل یہ کہ آمد گزشتہ مشاہدے اور تفکر کی بچت کے سوا کچھ نہیں کہ علم حواسِ خمسہ کے نتائج ہی کا نام ہے۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.