سونی کلائیاں اور شوہر کی بیماری کا بوجھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے گھر کے لان کے دائیں جانب ایک بڑا سا کمرا ہوتا تھا۔ جہاں میراں خالہ اپنے 9 بچوں اور شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ ہم اکثر کہتے ان کے ہاں ہر سائز کا بچہ موجود ہے بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو ماں بیٹی دونوں کی طرف بیٹے ہوئے۔ بڑے بہن بھائی اپنے بھائی اور بھانجے کو سارا دن اٹھائے گھومتے اور جھولے میں ڈال کر لوری سناتے۔ میراں خالہ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے ایک طرح سے پھینک دیتی۔

یہ والا بھی سننے میں آ رہا تھا کہ بڑی نند کو دینے کا ارادہ ہے وہ بے اولاد تھی اس سے پہلے ایک بچی جو گلی میں کوئی کچرے میں پھینک کر چلا گیا تھا اس کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اب میراں خالہ کے منے پر نظر تھی۔ خالہ نے پہلے کچھ دن نخرے دکھائے پھر احسان کرتے ہوئے منا نند کے حوالے کر دیا۔ اور پھر سے اپنا گھومنے پھرنے کا شوق پورا کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ کبھی مڑ کر بھی منے کی خیریت دریافت نہ کی۔ بلکہ سب کے سامنے اپنی اعلیٰ ظرفی کا قصہ بیان کرتیں کہ

”کون اپنا جگر کا ٹکڑا خود سے جدا کرتا ہے۔ بیچاری بے اولاد تھی منا یہ سوچ کر دے دیا کہ دل لگا رہے گا“۔

اماں کہنے لگیں۔ ”دل لگانے کے لیے پہلے بیٹی کافی نہیں تھی تم لوگوں کا بچوں سے دل نہیں بھرتا کھانے کو ملتا نہیں اور بچوں کے ڈھیر لگائے جاتے ہو“۔

اماں دادی کا غصہ میراں خالہ پر نکالنے لگیں۔ کیونکہ منے کی پیدائش کے وقت دادی ماں کی مزید پوتوں کی فرمائش پھر سے جاگ اٹھی تھی۔ اماں کہتیں یہ تین سنبھال لوں بڑی بات ہے چوتھے کی گنجائش نہیں نہ ہی ضرورت ہے لیکن دادی ماں میراں خالہ کی بچے پیدا کرنے کی ہمت پر بہت خوش تھیں۔ کبھی کبھار اماں اس مطالبے سے اتنی تنگ ہوتیں کہ ابا سے کہتیں میراں سے شادی کر لینی تھی اگر بچوں کا اتنا شوق تھا۔ ابا کبھی مسکرا کر بات ٹال دیتے اور کبھی غصہ ضبط کرتے کہتے۔

”سارے شوق ہم نے پورے کرنے ہیں بڑے بھائیوں کا ایک ایک بچہ ہے۔ ہمارے تو پھر بھی تین ہیں شکر ہے ان کی اچھی تربیت اور ضروریات پوری کر لیں یہی بہت ہے بچوں کی لائنیں لگا کر خود بھی تنگ ہوں گے اور وہ معصوم بھی“۔

یہ بات دادی ماں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی یہ بات چھوٹی بہن پر بھی اثرانداز ہوئی جو اب ہر آتے جاتے کو کہتی دعا کریں۔”اللّہ ہمیں پیارا سا بھائی دے ساتھ ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیتی“۔

ہم اس وقت آٹھویں جماعت میں پہنچ چکے تھے۔ چھوٹی بہن کی فرمائشی دعا سن کر خوب تپ چڑھتی۔ پیار سے، ڈانٹ سے ہر طرح سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ

”بہن تم ہی ہماری منی ہو اور منا آ گیا تو تمہیں کوئی پیار نہیں کرے گا۔ لیکن وہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھی بس جھوم جھوم کر دعا کرتی اور کرواتی۔

” یا اللہ ہمیں چھوٹا سا منا دے دے“۔
اماں بھی کہتیں ”تم ہماری منی ہو اور تم ہی رہو گی“۔

شام ہوتے ہی سب بچے لان میں جمع ہو جاتے تو میراں خالہ کی منجھلی بیٹی اپنے کمرے کے سامنے بنے کچن میں روٹیاں پکانا شروع ہو جاتی۔ اس وقت گیس کی سہولت نہیں تھی۔ ہر گھر میں لکڑیاں اور مٹی کے چولہے ضرور ہوتے۔ ہم امرود اور شہتوت کے درختوں میں پھل ڈھونڈتے ڈھونڈتے نازی باجی کے پاس پہنچ جاتے۔ جہاں وہ روٹی پہ روٹی اتار کر لپیٹتی جاتیں۔ ہم پاس بیٹھ کر روٹیوں کی گنتی کرنے لگتے۔ اس حرکت وہ مسکراتیں ایک دن پوچھنے لگیں۔

” تم روز ہماری روٹیاں کیوں گنتی ہو، کسی کو حساب دینا ہوتا ہے“۔
آپ کی روٹیاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ کبھی تھرٹی اور کبھی تھرٹی فور، ہماری تو بس چار روٹیاں ہوتی ہیں ان میں سے بھی ایک بچ جاتی ہے۔ وہ مسکرا کر کہتیں۔

” تم لوگوں کے پاس کھانے پینے کو زیادہ چیزیں ہوتی ہیں اور ہمارے گھر کے افراد بھی زیادہ ہیں دوسرا ہمارے گھر سب کام سے تھکے آتے ہیں تو دو تین روٹی ضرور کھاتے ہیں“۔

ہم نازی باجی کی کلائیوں سے بھری چوڑیاں دیکھ کر سوچتے۔
”کیا ہمارے ابا کام نہیں کرتے“۔

نازی باجی کو رنگ برنگی چوڑیاں پہننے کا بہت شوق تھا۔ ہری، پیلی، نیلی اور لعل رنگ کی جن میں ایک آدھ کالی چوڑی بھی ہوتی۔ ہم کبھی کبھار ان کا بازو پکڑ کر چوڑیاں گننے لگتے۔ ہمارا دل کرتا یوں ہی اپنی کلائیوں میں چوڑیاں سجائیں لیکن اسکول میں اجازت نہیں تھی نہ ہی ہمارے پاس اتنی زیادہ چوڑیاں تھیں۔ عید پر سہیلیاں تحفے میں چوڑیاں دیتیں وہ بھی یوں ہی پڑی رہتیں تو اماں کچھ دن بعد میراں خالہ کی چھوٹی بیٹی کو دے دیتیں۔

مجھے نازی باجی پر بہت ترس آتا جو ہمارے گھر بھی چھوٹے چھوٹے کام کرتیں اور اپنے گھر کے بھی سب کام کرتیں۔ دوسرے بہن بھائی سارا دن باہر پھرتے یا پھر گھر میں شور شرابہ کرتے۔

”آپ تھکتی نہیں ہیں، اسکول کیوں نہیں جاتیں، یوں اتنے کام نہیں کرنے پڑیں گے“۔ وہ ہمارے سوال اور مشورے پر بس مسکرا دیتیں۔

آج کل گھر میں نازی باجی کے رشتے کی باتیں چل رہی تھیں۔ دو رشتے تھے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ میراں خالہ اپنی بہن کی طرف بیٹی بیاہنا چاہتی تھیں جب کہ ان کے میاں اپنے بھائی کی طرف۔ اب روز شام کو لڑائی ہوتی۔ دونوں میاں بیوی اپنے پیاروں کی خوبیاں گنوانے لگتے۔

ہار ماننے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ اس سارے معاملے میں نازی باجی کی مسکراہٹ کہیں کھو گئی وہ اب اداس رہنے لگیں۔ سر جھکا کر کام کرتی رہتیں اور چپ چاپ روٹیاں پکاتیں۔ ماں باپ کو بیٹی کی افسردگی دکھائی نہ دیتی۔

آخرکار جیت میراں خالہ کی ہوئی وہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ فوراً بہن کو سمدھن بننے کی خوشخبری سنائی۔ وہ بھی دو دن بعد دوڑی چلی اور ایک کلو مٹھائی کا ڈبہ ساتھ دو سو شگن کے ہاتھ پر رکھ کر بات پکی کر کے چل دیں۔

منگنی کے بعد نازی باجی گم صم رہنے لگیں۔ پہلے سے زیادہ کام کرتیں، دھلے ہوئے برتن پھر سے دھو کر چمکاتیں۔

ایک دن اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھیں ہماری نظر پڑی گئی۔
”آپ رو کیوں رہی ہیں“۔
”نہیں آنکھ میں شاید کچھ پڑ گیا ہے“۔ وہ صاف جھوٹ بولنے لگیں۔

شام کو ابا گھر آئے تو اماں کہنے لگیں۔
”نازی کی شادی ہے ہم کیا دیں، بچی بچپن سے ہمارے ساتھ ہے اپنی بیٹیوں کی طرح ہے آپ کیا کہتے ہیں“۔

ہمارے لیے نازی باجی کی شادی کی خبر اچانک اور حیران کن تھی۔ اب نازی باجی اور رویا کریں گی جب منگنی پر اب تک روتی ہیں تو شادی پر زیادہ روئیں گی۔

آج ہماری نظر نازی باجی کی کلائیوں پر پڑی جو خالی تھیں۔ ایک بھی چوڑی کلائی میں نہیں تھی۔
”آپ کی چوڑیاں کہاں ہیں؟ “۔
”ٹوٹ گئی ہیں“ وہ نجانے کن خیالوں میں گم تھیں ٹھیک سے جواب نہیں دیا۔

موسم بدل رہا تھا ہوا میں خنکی بڑھنے لگی۔ ان ہی دنوں نازی باجی کی شادی تاریخ طے پائی تھی۔ مہندی والے دن پیلے جوڑے سے زیادہ نازی باجی کی رنگت پیلی تھی۔ کلائیوں میں چوڑیاں بھی تھوڑی تھیں۔ ڈھولک کی اور گیتوں کی آواز سے شادی کا احساس ہو رہا تھا ورنہ دلہن کو دیکھ کر لگتا وہ کسی سوگ میں ہے۔ جس کے غم میں وہ جی بھر کر روئی بھی نہیں۔

سر جھکائے اپنے مہندی سجے ہاتھ دیکھتے وہ خالہ کے گھر رخصت ہو گئیں۔ رخصتی کے بعد نازی باجی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا بھول کر کبھی یہاں نہ آئیں۔ شادی کے دوسرے روز ماں ناشتے کے لوازمات لے کر گئی بیٹی کو رسم کے مطابق گھر چلنے کا کہا تو اس نے ساتھ آنے سے انکار کر دیا۔

ماں کو بیٹی کے انکار سے دکھ تو ہوا لیکن مجبوراً اس کی بات ماننا پڑی کیونکہ خالہ نے بھی بھانجی کے صدقے واری جاتی اس کی ہمنوا بن گئی تھی۔ ماں کو بہن کی محبت میں بیٹی کے چہرے کی اداسی بھی نظر نہ آئی اور ہنستی مسکراتی گھر لوٹ آئی۔

ان دنوں ہمارے میڑک کے امتحان ہو رہے تھے۔ امتحان کی فکر اور مصروفیت کی وجہ سے آس پاس کیا ہو رہا ہے بالکل بے خبر تھے۔ آج صبح وین والے نے ہارن دیا تو اندر آواز نہ آئی۔ ہم کب سے وین کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ اچانک لاؤنج کا دروازہ کھلا تو سامنے نازی باجی کھڑی بلا رہی تھیں کہ وین والا کب سے کھڑا ہارن دے رہا ہے۔ ہم نازی باجی کو دیکھ کر حیران رہ گئے وہ پیغام دے کر فوراً چلی گئیں۔ ہم بھی جلدی جلدی چیزیں سنبھالتے گیٹ کی طرف بھاگے۔ واپسی پر نازی باجی سے ملنا یاد نہ رہا ہم اگلے پیپر کی تیاری میں مگن ہو گئے۔

رات کا پچھلا تھا باہر سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں ہم ڈر کر باہر نکلے اماں بھی لاؤنج کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply