الطاف گوہر کی کتاب ”گوہر گز شت“ سے!


بقو ل ہمایوں گوہر: میرے والد الطاف گوہر مرحوم خود نوشت سوانحی انداز میں اپنی رودادِ حیات بزبان اردو لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ خود نوشت سوانح عمری خاصی دلچسپ اور معلومات افزا ہوتی کیونکہ انہوں نے بڑی بھرپور اور متنوع زندگی بسر کی تھی۔ بد قسمتی سے وہ خرابی صحت کے باعث ایسا نہ کر پائے۔ انہوں نے اپنے ایامِ علالت میں صرف چند ابواب قلمبند کیے، جن میں وہ صرف ان اصحاب کے بارے میں اپنے تاثرات اور یادداشتو ں کو حیطۂ تحریر میں لا سکے، جن کے ساتھ وہ اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔

انہی تحریروں کے مجموعہ کو ”گوہر گزشت“ کے نام سے کتابی شکل میں ہمایوں گوہر نے شائع کروایا، اس کتاب کے چند دلچسپ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

ایوب خان کو ڈھاکہ میں سزا کے طور پر متعین کیا گیا تھا تو اُن دنوں وہ سگریٹ بہت پیتے تھے، ان کا بیٹ مین صبح سویرے چائے کے ساتھ سگرٹوں کا ایک ڈبہ بھی پیش کیا کرتا تھا، ایک روز اس نے چائے کی پیالی تو حاضر کی مگر یہ خبر بھی دی کہ آج سگریٹ نہیں ملا، ایوب بہت برہم ہوئے اور بیٹ مین کو دو چار گالیاں دے دیں۔ بیٹ مین ایک خود دار پٹھان تھا اور عمر میں بھی ایوب خان سے بہت بڑا تھا، اس نے کہا:جناب آپ میرے ا فسر ہیں مگر میں آپ کو بد کلامی کی اجازت نہیں دے سکتا، آپ پوری ڈویژن کو کمانڈ کر رہے ہیں اور آپ میں اتنا بھی صبر نہیں کہ آپ ایک دن سگریٹ نہ پینے کا دکھ برداشت کر سکیں۔ ایوب خان پر اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ اس دن سے انہوں نے سگریٹ پینا بند کر دیا۔ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد ایک بات تو واضح ہے کہ آج کے زمینی خداؤں کی نسبت تب کے حکمرانوں میں ماتحتوں کی طرف سے حق گوئی پر، قوتِ برداشت زیادہ تھی۔

الطاف گوہر صاحب جسٹس منیر کے حوالے سے کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں :
مجھے معلوم ہوا کہ جسٹس منیر بیمار ہیں اور ان کے صحت یاب ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ میں عیادت کے لیے ان کے گھر گیا۔ انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا اور چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھایا، باتیں کرتے کرتے انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: الطاف گوہر تمہیں معلوم ہے کہ خدا کے وجود کے بارے میں میرے دل میں کئی سوال ہیں۔ موت کے بعد اگر میرا خدا سے سامنا ہوا تو میں کیا کروں گا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ تمام عمر توہینِ عدالت کے مقدمات سنتے رہے ہیں، ایسے مقدمات کی سماعت اس وقت ہوتی ہے جب مدعی اپنے جرم کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر ڈال دے۔ آپ بھی یہی کیجئے۔ پیش ہوتے ہی اپنے آپ جرم کا اعتراف کر لیجیے اور فیصلہ خدا وند کریم پر چھوڑیئے، جو ربّ الرّحیم ہے۔ منیر صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ چند روز بعد آپ وفات پا گئے۔

الطاف گوہرصاحب وزیرِ اعظم ملک فیروز خان نون کے ساتھ بطور ڈپٹی سیکرٹری فرائض سر انجام دیتے رہے، اس حوالے سے لکھتے ہیں :

ریل گاڑی میں سفر کے دوران بھی سرکاری کام نبٹانے کا عمل جاری رہتا تھا، مجھے وہ دن یاد ہے جب میں فائلوں کا پلندہ لیے ہوئے ملک صاحب کے سیلون پہنچ گیا، ملک صاحب حقہ لیے بیٹھے تھے اور صوفے پر لیڈی نون براجمان تھیں۔ میں ایک فائل کا خلاصہ بیان کر رہا تھا کہ لیڈی نون بولیں، ڈارلنگ تم کو محکمہ کی یہ تجویز ہر گز منظور نہیں کرنی چاہیے۔ لیڈی نون انگریزی میں وزیرِ اعظم کو سرکاری تجویز کے بارے میں اپنی رائے بتا رہی تھیں، بڑے جذبات کے ساتھ، اور ملک صاحب حقے کا سوٹا لگاتے ہوئے پنجابی میں مجھ سے کہہ رہے تھے، ”بکن دے سو“ (بکنے دو اسے ) ، میں نے وزیرِ اعظم کی طرف سے محکمے کی تجویز کو منظور کر دیا۔

اس زمانے میں مظفر علی قزلباش مغربی پاکستان کے چیف منسٹر تھے اور وہ ہر دس پندرہ دن بعد وزیرِ اعظم سے بعض معاملات میں احکامات حاصل کرنے کراچی تشریف لاتے۔ شام کے وقت وہ وزیرِ اعظم کے ساتھ مے نوشی کی محفل سجاتے اور ہر جام کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ گلے سے اتار دیتے، جب محفل شباب پر ہوتی تو مجھے طلب کیا جاتا، میں ایک نوٹ بک لے کر حاضر ہو جاتا۔ ملک صاحب فرماتے ”بجلی“ (ملک صاحب کے احکام پر فوری عمل کرنے کی وجہ سے انہوں نے الطاف گوہر کا نام بجلی رکھا ہوا تھا) لاہور کے کمشنر کو فوراً مرکزی سیکرٹریٹ میں بلا لو، وہ شخص تو ایک مصیبت بن گیا ہے۔

میں وزیرِاعظم کا حکم ابھی نوٹ بک میں لکھ نہیں چکتا تھا کہ دوسرا حکم دیا جاتا، او ہاں، ہمارے ہاں وہ ”گونگا“ جو وزارتِ داخلہ میں جوائنٹ سیکرٹری ہے اسے مغربی پاکستان بھجوا دے۔ اس پر ابھی فوری طور پر عمل ہونا چاہیے۔ میں تمام احکامات لکھ کر گھر چلا جاتا۔ دوسرے روز صبح کو جب میں وزیرِ اعظم کے ساتھ گھر سے دفتر کی طرف چلتا تو ملک صاحب فرماتے :بجلی تم ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش مت کرو اور ہاں کل شام جو احکام دیے تھے ان کا کیا ہوا؟ میں بڑے ادب سے عرض کرتا کہ جس نوٹ بک میں، میں نے وہ احکام لکھے تھے وہ گم ہو گئی ہے۔ ملک صاحب کہتے ”شاباش“ اور اس کے بعد نواب مظفر مجھے ہر روز فون پر یاد دلاتے کہ وزیرِ اعظم کے احکامات کی تعمیل نہیں ہوئی۔

فیروز خان نون

مسٹر بھٹو سے ”پہلا ٹاکرا“ کے بارے میں الطاف گوہر صا حب لکھتے ہیں :

جب وہ کراچی میں بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کام کر رہے تھے، ایک روز صاحبزادہ حسین محمود ایک نوجوان کو ساتھ لیے میرے دفتر میں آئے، انھوں نے کہا یہ ذوالفقار علی بھٹو ہیں، میں ان سے نا واقف تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں پستول کا لائسنس چاہیے۔ میں نے پوچھا آپ کے پاس پہلے کوئی لائسنس ہے، بھٹو صاحب نے کہا ”لائسنس تو میرے پاس چالیس ہیں“۔ میں نے کہا چالیس لائسنس کافی ہیں اور مزید لائسنس دینے سے انکار کر دیا۔ میں یہ واقعہ بھول چکا تھا، مسٹر بھٹو نے وزیرِ تجارت کی حیثیت سے مجھے یہ واقعہ یاد دلایا اور کہا کہ میں نے اپنے دفتر میں ان کی بڑی بے ادبی کی تھی۔ میں نے کہا کہ لائسنس نہ دینے کی وجہ تو معقول تھی، کہنے لگے تمہیں معلوم نہیں کہ بھٹو کے خاندان کے کسی فرد کو لائسنس نہ دینا سارے خاندان کی توہین تھی، پھر ہنس کر کہنے لگے : ”میں نے تمہیں معاف کیا، آج سے تمہاری ہماری دوستی ہوئی“۔ مصنف مسٹر بھٹو سے دوستی کے زمانے کا ایک واقعہ لکھتے ہیں۔

ایک روز بھٹو نے مجھ سے کہا کہ وہ آرٹس کونسل میں مصوری کی ایک تقریب کا افتتاح کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے لیے تقریر لکھ دوں۔ وزیروں کے لیے تقریریں لکھنا میرا مشغلہ تھا، بھٹو صاحب نے یہ کہہ کر اپنی تقریر شروع کی کہ ہمارے ہاں گورنر اور وزیر سرکاری افسروں سے تقریریں لکھوا کر پڑھ دیتے ہیں حالانکہ جس موضوع پر وہ اپنی علمیت بگھار رہے ہوتے ہیں اس کے بارے میں انہیں کچھ پتا نہیں ہوتا، میں بھی اسی رسم کی پیروی کر سکتا تھا مگر اس محفل میں ایسے صاحبِ فکر لوگ موجود ہیں کہ میں ان سے براہ راست بات کرنا چاہتا ہوں، یہ کہ کر بھٹو صاحب نے حرف بہ حرف میری لکھی ہوئی تقریر بڑے جوش سے دہرا دی، معلوم نہیں تقریر کو حفظ کرنے میں انہیں کتنا وقت لگا ہو گا۔

مصنف نواب آف کالا باغ کے بارے میں لکھتے ہیں :
ایک دفعہ کہنے لگے میں تو کالا باغ میں کھیتی باڑی کیا کرتا تھامگر علاقے میں دشمنوں نے میرے ظلم و ستم کے قصے بنانے شروع کر دیے۔ نوبت با ایں جارسیدکہ لوگ کالا باغ کے علاقے میں داخل ہونے سے گھبرانے لگے، ایک روز خبر آئی کہ عطا اللہ شاہ بخاری صاحب نے میانوالی میں ایک بڑے جلسے میں میرے خلاف بڑی دھواں دھار تقریر کی اور حاضرین سے یہ حلف لیا کہ اگلے روز سب لوگ سر پر کفن باندھ کر کالا باغ جائیں گے اور ظالم نواب کی خبر لیں گے۔

علاقے میں خوف پھیل گیا۔ بخاری صاحب کا ایک ساتھی میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ ہزاروں لوگ سر پر کفن باندھے کل یہاں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ آپ ان کے سامنے حاضر ہو کر معافی مانگئے اور خدا وند کریم سے توبہ کی التجا کیجئے، میں نے اس پیغام بر سے کہا کہ بخاری صاحب کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے انہیں یہ بتا دینا کہ اگر وہ سر پر کفن پہنے ہوئے آئیں گے تو میں انشا اللہ انہیں وہی کفن پہنا کر یہاں سے روانہ کروں گا۔ بخاری صاحب کو میرا پیغام مل گیا ہو گا، اس لیے دوسرے دن میانوالی کی طرف سے کوئی جلوس کالا باغ کی طرف نہ آیا۔

1954 میں مولوی فضل الحق مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلی بنے تو چند ہفتے بعد ڈھاکہ سیلاب کی زد میں آ گیا۔ ان ہی دنوں خبر آئی کہ سعودی عرب کے فرماں روا سرکاری دورے پر ڈھاکہ تشریف لا رہے ہیں۔ انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے انتظامیہ سڑکوں پر جھنڈے لگا رہی تھی اور سیلاب کے مارے عوام پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ ڈھاکہ کے سارے محلہ سردار احتجاج کرنے کے لیے وزیرِ اعلی کے گھر پہنچ گئے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ مجھے بھی طلب کر لیا گیا۔

مولوی فضل الحق بنیان اور دھوتی پہنے ایک چارپائی پر بیٹھے تھے اور محلہ سردار یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ سعودی فرما روا کی تشریف آوری ملتوی کی جائے تاکہ انتظامیہ اپنی ساری توجہ سیلاب زدگان کی مشکلات دور کرنے پر مرکوز کر سکے۔ وزیرِ اعلی نے محلہ سرداروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سعودی عرب کے فرما رو ا کا دورہ ملتوی کروانا نا مناسب ہو گا۔ جب محلہ سرداروں نے مولوی صاحب کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو یک لخت وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور محلہ سرداروں پر برسے :

”کافرو! تم سب جہنم میں جاؤ گے، تم مکہ اور مدینے کے رکھوالے کو اپنے شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے، اللہ تم کو کبھی نہیں بخشے گا، ہائے ہمارا کیا ہو گا؟ “ مولوی صاحب ایسے درد اور خلوص سے رو رہے تھے کہ محلہ سردار بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ مولوی صاحب نے بڑی درشتی سے کہا: ”نکل جاؤ، اس گھر سے نکل جاؤ“، جب کمرہ خالی ہو گیا تو میں نے مولوی فضل الحق صاحب کی طرف دیکھا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ رہی تھی، کہنے لگے ”لو یہ معاملہ میں نے صاف کر دیا، اب تم وفاقی حکومت سے کہہ دو کہ سعودی عرب کے شاہ کے دورے میں تاخیر کی کوئی ضرورت نہیں“۔

الطاف گوہر صاحب کی ”گوہر گزشت“ زیادہ تر اسکندر مرزا، فیروز خان نون، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواب آف کالا باغ، ایوب خان اور منظور قادر جیسی شخصیات کے بارے میں واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ کتاب میں اس وقت کے علما سے لے کر صحافت تک کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

کتاب ان سوالوں کا جواب بھی دیتی ہے کہ ایوب خان کے 1962 والے آئین کا خالق کون تھا؟ (منظور قادر  – مدیر)
کس شخصیت کے مرہونِ منت آئین سازی کے متعلق کسی بھی اجلاس میں وزیرِ قانون جسٹس محمد ابراہیم کو مدعو نہیں کیا جاتا تھا؟

سندھ کی کس مشہورسیاسی شخصیت نے ایک خط میں ایوب خان کو ملک میں بادشاہت کا نظام قائم کرنے کا مشورہ دیا؟ (علی محمد راشدی – مدیر)

مشرقی اور مغربی پاکستان میں ”نفرت“ کا بیج کب بویا گیا اور اس کارنامے سے کس کس نے فائدہ اٹھایا؟ (تمام شہر ہے، دو چار دس کی بات نہیں – مدیر)
نواب آف کالا باغ مشرقی پاکستان گئے تو کھانے کا سارا سامان، حتی کہ پانی بھی لاہور سے ساتھ کیوں لے کر گئے؟

جب امریکہ نے برطانوی اور فرانسیسی پالیسی کی پر زور مخالفت کی اور صدر جمال عبد الناصر (مصر کے ) فاتح کی صورت میں ابھرے تو اسی تناظر میں دیے گئے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی کے کون سے بیان پر ملک بھر میں ہنگامے ہوئے اور ”سہروردی مردہ باد“ کا نعرہ کیوں لگا؟

پہلے مارشل لاء کی ”جائز“ وجوہات کیا تھیں؟ (جرم کی کوئی جائز وجہ نہیں ہوتی – مدیر)
کتاب کا بغور مطالعہ ان تمام سوالات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے جڑے اور بہت سے سوالوں کا بھی جواب دیتا ہے اور کتاب میں درج تاریخی واقعات اس کتاب کی خوبصورتی میں اضافے کا سامان بنتے دکھائی دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS