عثمانی ترکوں کی نیکی کی ٹوکری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیکی کی اس ٹوکری کی کہانی ایک تنور والے سے شروع ہوتی ہے جو عثمانیوں کی خوبصورت روایتوں میں سے ایک روایت تھی۔ یہاں میں ترکوں کا تھوڑا سا ذکر کروں گا جنھوں نے خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ سلطنت عثمانیہ ایک چھوٹے سے قبیلے سے شروع ہوئی جن کے ساتھ صرف تین سو خاندان تھے۔ ارطغرل غازی اور ان کے جانباز سپاہی بہترین جنگجو تھے۔ ارطغرل غازی نے ان جانباز جنگجو کے ساتھ مل کر کئی چھوٹے چھوٹے علاقے فتح کیے۔ ارطغرل غازی کے بعد اس کے بیٹے عثمان غازی نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور سلجوقیوں کے زوال پر اپنے چھوٹے سے مفتوحہ علاقے پر اپنی خودمختار ریاست کی بنیاد رکھی۔ سلطنت عثمانیہ تین براعظموں اور ساتھ سمندروں پر محیط ہو گئی تھی۔ عثمانی ترکوں کی یہ سلطنت 1288 ء میں شروع ہوئی اور 1924 ء تک خلافت کی حیثیت سے قائم رہی۔

عثمانیوں کی خوبصورت روایتوں میں سے ایک روایت غریب محتاج اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا بھی تھا۔ جو بھی آدمی تنور پر روٹیاں لینے آتا اپنی روٹیوں سے کچھ زاید رقم تنور والے کو دیتا کہ باقی کی روٹیاں اس نیکی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔ اس طرح کسی حاجت مند کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی اور کسی بھی قسم کی شرمندگی کا سامنا بھی نہ کرنا پڑھتا۔

ایک بات بہت قابل غور تھی اس کہانی میں جس کی مثال ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ جو بھی ضرورت مند اس نیکی کی ٹوکری سے روٹیاں لینے آتا تنور والا اس کو زیادہ روٹیاں دیتا مگر ضرورت مند اپنی ضرورت کے مطابق ہی روٹیاں لیتا اور باقی روٹیاں واپس اس ٹوکری میں ڈال دیتا تاکہ باقی روٹیاں کسی اور ضرورت مند کے کام آسکیں۔ یوں رکھنے والا بھی اجروثواب کا باعث بنتا اورحاجت مند کی ضرورت بھی بنا کسی تذلیل کے پوری ہوتی رہتی۔

لیکن ہمارے ہاں روایات اس کے برعکس دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جس کو جتنا ملتا ہے وہ اُسی پر صبر وشکر نہیں کرتا بلکہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والی لائنوں میں لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے ضرورت مند افراد تک امداد نہیں پہنچ پاتی۔ حکومتی ریلیف بس اپنے لوگوں کو نوازنے تک ہی محدود ہوتا ہے۔ ضرورت مند تک اس کی رسائی ممکن نہیں اگر چند افراد تک پہنچ بھی جائے تو وہ بھی اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے۔

اگر آپ ریلیف کے مستحق نہیں ہیں تو آپ کو چاہیے کہ جو اس کا حقدار ہے اس تک یہ ریلیف پہنچ پائے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ کی ضرورت اگر ایک روٹی کی ہے تو کوشش کریں کہ ایک ہی لیں تاکہ اور بھی ضرورت مند افراد اس نیکی سے مستفید ہو سکیں اور ان کے گھر کا چولہا بھی چلتا رہے۔ ذراسوچیے! کہی ہم اپنے ہی ضرورت مند بھائیوں کا حق تو نہیں مار رہے ہیں۔ کہی ایسا نہ ہو کہ ذخیرہ اندوزی ہماری ادھر ہی رہ جائے اور ہم اس دنیا فانی سے کوچ کر جائیں۔ اس دنیا فانی سے آپ کے ساتھ جانے والی واحد چیز آپ کے اعمال ہوں گے ۔ باقی سب کچھ اس دنیا فانی میں ہی رہ جائے گا۔ اچھے اعمال ہوں گے تو اس کا نتیجہ بھی اللہ کے حضور آپ کواچھا ملے گا۔ اس لیے ہمیشہ اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply