گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی

”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “
اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی
”اتنی جلدی کیا ہے جس کام سے آئی ہو وہ تو پورا کرلیں۔ “
”اسلم مجھے تم سے کوئی کام نہیں تھا تمہیں ہی کوئی بات کرنی تھی جو کرنے کی بجائے تم بدتمیزی کر رہے ہو۔ “

بسمہ کا لہجہ سخت ہوگیا۔
بسمہ کو دکھ، ڈر اور گھبراہٹ سب ایک ساتھ محسوس ہورہا تھا۔ دکھ اسلم کے سطحی رویے کا، ڈر کہ پتا نہیں اسلم کیا کرنے والا ہے اور گھبراہٹ کہ کوئی اور انہیں ساتھ نا دیکھ لے۔ وہ ایک دم جیسے کسی نیند سے جاگی تھی اب اسے خود پہ حیرت ہورہی تھی کہ وہ جو بھری کلاس میں لڑکوں سے بات کرتے میں گھبراتی تھی وہ خالی کلاس میں اسلم سے ملنے اکیلی آگئی تھی۔ اس کی کلائی ابھی تک اسلم کی سخت گرفت میں تھی پہلی والی نرمی مفقود تھی۔

”محترمہ جتنی معصوم تم خود کو ثابت کرنا چاہ رہی ہو اگر اتنی ہی ہوتیں تو میرے پیچھے پیچھے اکیلے کمرے میں نا آتیں۔ بچی تو نہیں ہو کہ یہ نا پتا ہو کہ جوان لڑکا، جوان لڑکی کو اکیلے کمرے میں کیوں بلاتا ہے“

۔ جوان لڑکی۔ وہ جو ابھی تک اسکول کی بچی کہلاتی تھی اسلم اسے جوان لڑکی کہہ رہا تھا۔ ابھی تک بسمہ کی محبت میں، تصور میں، لڑکپن کی معصومیت تھی اُس نے اِس پہلو پہ کبھی کہاں سوچا تھا۔ وہ اور گھبرا گئی

”اسلم چھوڑو ہاتھ ورنہ میں چیخنا شروع کردوں گی۔ “
”واہ بھئی! آئیں بھی خود اپنی مرضی سے، میں پکڑ کے تو نہیں لایا تھا اب نخرے دکھائے جارہے ہیں۔ ویسے چیخنے سے تمہارا ہی نقصان ہوگا سارے اسکول کو پتا چل جائے گا کہ تم مجھ سے ملنے آئی تھیں۔ کیا پتا کوئی اخبار تک بھی خبر پہنچا دے۔ واہ کیا مصالحے دار خبر لگے گی میٹرک کی طالبہ اپنے عاشق کے ساتھ۔ “ وہ بات کو آدھا چھوڑ کر ہنسنے لگا۔

”بدنامی بھی تمہاری ہی ہوگی اور شادی کے چانسز تو ختم ہی سمجھو پھر اس سے بہتر ہے خاموشی سے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں پھر ویسے بھی تم دوسرے کالج چلی جاؤ گی میں کسی دوسرے کالج ہاں تم رابطہ رکھنا چاہو گی تو موسٹ ویلکم ورنہ آج کی بات آج ختم۔ “

اسکی باتوں سے لگ رہا تھا کہ اسے لگ رہا کہ وہ جس جسمانی ضرورت سے آیا ہے بسمہ بھی اسی وجہ سے آئی ہے مگر ڈر رہی ہے۔ اور اس بات کا احساس ہوتے ہی شرمندگی سے بسمہ کے آنسو بہنے لگے۔

”اسلم مجھے کسی موقعے کا کوئی فائدہ نہیں اٹھانا ہاں اکیلے میں ملنے آنا میری غلطی تھی کیونکہ میں سمجھی تھی کہ تم شریف لڑکے ہو“

”اؤ میڈم جسے تم شرافت کہہ رہی ہو آج کل وہ صرف ان لڑکوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی اور صلاحیت نہیں ہوتی“

اس نے ”کوئی اور“ اتنے معنی خیز انداز میں کہا کہ بسمہ کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
اسی وقت بسمہ کو لگا کہ فائزہ نے اسے پکارا ہے اور شاید اسلم نے بھی وہی آواز سنی اس کے چہرے پہ آنے والے چند لمحوں کی گھبراہٹ نے بسمہ کا فیصلہ آسان کردیا

”اسلم ہاتھ چھوڑو“
وہ تھوڑا زور سے بولی۔ خالی کمرے میں اس کی آواز گونج گئی۔ اسلم کی گرفت کچھ ڈھیلی ہوئی بسمہ نے اور زور سے آواز دی ”فائزہ“ باہر قدموں کی آواز بالکل قریب آ گئی۔ اسلم کے چہرے کی گھبراہٹ واضح ہوگئی وہ بسمہ کی کلائی چھوڑ کے کلاس کی کھڑکی سے پیچھے تنگ راہداری میں کود گیا۔ بسمہ چند لمحے سن کھڑی رہی پھر ایک دم باہر بھاگی۔ فائزہ اور ارمغان تیز قدموں سے ادھر ہی آرہے تھے فائزہ کا چہرہ دیکھ کر بسمہ کا دل رکنے لگا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور چہرہ آنسووں سے تر تھا۔

لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے خیال آیا ”کیا ارمغان بھی“
اتنے میں ارمغان بولا ”بسمہ کہاں تھیں تم ہم تمہیں سارے اسکول میں ڈھونڈ کے آئے ہیں۔ “
”کیا کیا ہے تم نے فائزہ کے ساتھ“ بسمہ کا لہجہ بہت تیز تھا۔ فائزہ نے بسمہ کا ہاتھ پکڑ لیا اس سے بولا نہیں جارہا تھا۔ پہلے صرف نفی میں سر ہلایا پھر بہت مشکل سے بولی ”یہ میری مدد کر رہا ہے“ یہ کہہ کر دوبارہ خاموش ہوگئی اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ”بسمہ۔ گل بانو“

”کیا ہوا فائزہ۔ جلدی بتا مجھے ڈر لگ رہا ہے“
فائزہ رو پڑی
بسمہ! بانو کی ڈیتھ ہو گئی ”
٭٭٭         ٭٭٭
میں گل بانو ہوں۔ مجھ سے آپ کا تعارف یا تھوڑی سے شناسائی بسمہ کی بدولت ہوئی۔ اب تو میں مر بھی گئی مگر جاننا چاہیں گے کہ میرے ساتھ کیا ہوا جو مجھے اتنی کم عمری میں موت کی آغوش میں لے گیا۔

اتنا تو آپ کو اندازہ ہو ہی گیا ہوگا میرا تعلق ایک دیہی علاقے کے درمیانے درجے کے زمیندار گھرانے سے ہے۔ ہمارا آبائی گاؤں 2 ہزار سے بھی کم نفوس پہ مشتمل ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ دو سگے بھائیوں کی نسل ہے جو دو برادریوں کی صورت میں ایک ہی گاؤں میں رہتی ہے۔ میں نہ اپنی ذات بتاوں گی نہ صوبہ کیوں کہ آپ مسئلہ سمجھنے کی بجائے یہ فیصلہ کرنے میں لگ جائیں گے کہ یہ قوم اور یہ صوبہ تو ہے ہی ایسا۔

اب صوبہ یا قوم جیسی بھی ہو میں تو مر گئی نا۔ خیر آگے سنیں تو مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے گاؤں میں باقاعدہ شادیاں عموماً پیدائش سے پہلے ہی طے ہوجاتی ہیں اور لڑکی کے بالغ ہوتے ہی باقاعدہ رخصتی۔ میں سمجھتی تھی کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر میں رہ رہی ہوں تو شاید میرے پڑھے لکھے بھائی ان رسوم کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اور میں بہت پر امید تھی کیونکہ وہ فلاحی کاموں میں کافی آگے آگے ہوتے تھے۔ میرے والد اور بڑے بھائی درمیانے درجے کے سیاسی کارکن تھے ہر اہم موقعے پہ ملک سدھارنے کے عزم کا اعلان کیا جاتا عورتوں پہ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی۔

میرے بھائی کا کہنا تھا کہ تبدیلی گھر سے شروع ہوتی ہے اور ہر جگہ میرا حوالہ دیتے کہ کس طرح وہ سب خاندان سے لڑ کر مجھے تعلیم دلوا رہے ہیں۔ اس کا حوالہ وہ کئی بار مجھے بھی دے چکے تھے ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت مشکل سے تمہیں اسکول میں پڑھانے کے لیے سب سے مخالفت مول لی ہے، کبھی بھی کچھ ایسا نہ کرنا کہ مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔ میں نے ہمیشہ یہ بات اپنے لیے اوّلین اصول بنا کے رکھی۔ بسمہ اور فائزہ کے علاوہ کسی اور سے دوستی نا کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کیونکہ باقی لڑکیوں کی لڑکوں سے بھی دوستی تھی اور اگر بڑے بھائی کو پتا چل جاتا تو ان کے مطابق وہ میرا اسکول جانا بند کرا دیتے۔

اس خوف سے میں خود تو محدود ہی رہتی بلکہ بسمہ اور فائزہ کو بھی نصیحت کرتی رہتی مجھے صرف یہ خوف تھا کہ کسی وجہ سے میری تعلیم نہ چھوٹ جائے۔ مجھے یہ تو پتا تھا کہ میری شادی گاؤں میں ہی ایک چچا زاد کزن سے ہوگی مگر مجھے یہ بھی پتا تھا کہ اس میں کافی وقت ہے کیونکہ جب میں پانچویں میں تھی تب وہ پیدا ہوا تھا۔ اسی لیے میرا ارادہ تھا کہ میں اتنا پڑھ لوں کہ گاؤں جاکر وہاں کی لڑکیوں کے لیے اسکول بنا سکوں۔ یہ وہ خواب تھا جو کبھی کسی سے نہیں کہہ سکی۔

اس سیریز کے دیگر حصےمحبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہےجہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 95 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *