کیا پیپر کرنسی ایک شیطانی چال ہے؟


اگر آپ جرنلزم کے لیکچرر ہیں تو کئی بار آپ کو دلچسپ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طلباء، رفیق کار اور عام لوگ آپ سے دلچسپ سوالات پوچھتے ہیں، ان میں سے کئی سوالوں کے جوابات تو آپ گوگل سے با آسانی حاصل کر سکتے ہیں، مثلاً نپولین بوناپارٹ کے نام کے ساتھ بونا اس کے چھوٹے قد کی وجہ سے لکھا جاتا ہے؟ ایک چیونٹی کی کتنی آنکھیں ہوتی ہیں؟ ڈینگی کے مچھر کو دیکھ کر کیسے پتہ چلے کہ وہ نر ہے یا مادہ؟ وغیرہ۔ اس کی ایک وجہ تو شایدیہ ہے کہ کون گوگل پہ لکھنے کا تکلف کرے۔

دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی شخص سے معلومات لیتے ہوئے بات مصدقہ محسوس ہوتی ہے۔ دوسری قسم کے سوالوں کے جواب گوگل سے آسانی سے حاصل نہیں کیے جا سکتے مثلاً موجودہ حکومت کب تک چلے گی؟ (آپ تو سیاسی رپورٹر رہے ہیں اتنا تو پتہ ہو گا) پاکستان میں صدارتی نظام کب لاگو ہو گا؟ اور معاشی حالات کب بہتر ہوں گے؟

کچھ عرصہ قبل ایک پروفیسر صاحب نے لاہور میں ایک کانفرنس اٹینڈ کی۔ جس کا موضوع تھا کہ ”پیپر کرنسی ایک شیطانی چال ہے“۔ کانفرنس میں کوئی صاحب ترکی سے تشریف لائے تھے اور ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ دینار اور درہم (سونے اور چاندی کے ) اگر دنیا میں دوبارہ استعمال ہونے لگ جائیں تو دنیا سے یہودی معاشی نظام لپیٹا جا سکتا ہے۔ مو صوف ایک امیر مڈل ایسٹرن ریاست کے ساتھ مل کر ایک پروجیکٹ بھی اسی بابت چلا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب اس بارے میں بہت پرجوش تھے جب انہوں نے یہی بات مجھ سے شیئر کی تو میں حیران و پریشان رہ گیا۔ آج کا مضمون اسی سوال کی کھوج میں کی گئی کوشش ہے۔

انسانی تاریخ کی ابتداء میں لوگ گروہ یا بینڈ کی شکل میں رہا کرتے تھے۔ اس وقت لین دین کا پیمانہ یہ تھا کہ آج اگر ایک شخص نے ایک سیب دوسرے کو دیا ہے تو کل کو یاکچھ دنوں بعد وہی شخص ایک سیب یا کوئی اور اس کے ہم پلہ پھل اسے واپس دے گا۔ اس طرح گروہ میں موجود لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے اور لین دین بھی چلتا رہتا۔ آج سے قریباً بارہ ہزار برس قبل زرعی معاشرے کا قیام عمل میں آیا۔ تو اس کے ساتھ ہی انسان کو باقاعدہ لین دین کی ضرورت پیش آئی۔ اس طرح بارٹر سسٹم وجود میں آیا۔

اگر ہم بارٹر سسٹم کی بات کریں تو اس کے مسائل کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کریں ایک شخص گندم کے بدلے دوسرے سے جوتے لے لیا کرتا تھا مگر یہ تجارت آسان نہ تھی۔ یہ ایسے نہیں تھا کہ آپ گندم لے کر گئے اور جوتے لے کر واپس آ گئے۔ گندم کی ناپ تول کے باقاعدہ پیمانے نہیں تھے۔ اگر ایک شخص گندم لے کر جاتا تو جوتے بنانے والا شخص سوچتا کہ ابھی کل ہی کی بات تو ہے کہ میں نے جو کے بدلے جوتے دیے تھے، وہ جوتے چھوٹے بچے کے تھے جبکہ یہ شخص مجھ سے بڑے آدمی کے جوتے مانگ رہا ہے مگر کیا اتنی مقدار گندم کے بدلے بڑے جوتے دینا مناسب ہو گا؟ اس سے بھی پہلے اہم بات یہ ہے کہ مجھے کپڑے چاہیئں گندم تو پہلے سے ہی میرے پاس موجود ہے اس طرح مجھے اس کی فی الفور ضرورت نہیں۔ اور وہ اس گندم والے شخص کو ان کا ر کر دیتا۔ اب اسس صورتحال میں ان دونوں کو دوسرا شخص ڈھونڈناپڑتا تھا۔

رفتہ رفتہ جب شہری ریاستیں بنی تو حکمرانوں نے چیزوں کے بدل کے پیمانے مقرر کر دیے مگر پھر بھی تجارت آسان نہ تھی۔ ایک بڑا مسئلہ تو چیزوں کی نقل و حمل کا تھا۔ دوسرا مسئلہ حساب کتاب کا تھا۔ اس لئے بڑے پیمانے پر تجارت ناممکن تھی۔ پھر آج سے پانچ ہزار قبل انسان میں جو کو کرنسی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ جو اس لئے بھی کرنسی کا درجہ آسانی سے اختیا ر کر گئی کہ وہ ہر کسی کی ضرورت تھی اور اسے خوراک کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

انسانی تہذیب میں بڑا انقلاب اس وقت پیش آیا جب انسان نے کسی ایسی چیز کو کرنسی کے طور پر ا ستعمال کرنا شروع کیا جس کا اپنا کوئی خاص مصرف نہ تھا مثلاً سیپی کا استعمال۔ یہ انسان کی معاشی حوالے سے بہت بڑی چھلانگ تھی اس کے بغیر دنیا ہر گز ایسی نہ ہوتی جیسی وہ آج ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو حساب کتا ب کرنے اور اسے تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ سب سے قدیم حساب کتاب کے نمونے ہمیں بابل کی تہذیب سے ملے ہیں جہاں مٹی کی تختیوں پر حساب کتاب کر کے انہیں پکایا جاتا اس طرح تجارت نے ترقی کرنا شروع کی۔ پھر سونے چاندی اور دوسری دھاتوں کا ا ستعمال شروع ہوا اور ان کی اشرفیا ں اور سکے بنائے جانے لگے مگر ان کے اپنے مسائل تھے۔ سونے چاندی کے ذخائر محدود تھے، دوسرے ان کی نقل و حمل میں بھی مشکلات کا سا منا کرنا پڑتا تھا۔ تیسرے ان کا حساب کتا ب بڑے پیمانے پر رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ ان سکوں کو بنانے کی کاسٹ بھی کافی زیادہ آتی تھی۔

رفتہ رفتہ چین اور بعد میں یورپی ملکوں نے پیپر کرنسی کا استعمال شروع کیا۔ اس نے ماضی کے تمام مسائل حل کر دیے اور اب تو دنیا کیش لیس ہو چلی ہے جبکہ ہم ابھی درہم اور دیناروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں کل سرمائے کا حجم ساٹھ ٹریلین ڈالر ہے جبکہ کرنسی صرف چھے ٹریلین ڈالر ہے۔ باقی سب کرنسی صرف حساب کتاب میں ہے۔ پیپر کرنسی کے بغیر دنیا کبھی اتنی ترقی نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی اتنی بڑی آبادی کے استعمال کے لئے رقم کی فراہمی ممکن ہو سکتی تھی۔

پھر مسئلہ کیا ہے، ہم ”پیپر کرنسی ایک شیطانی چال ہے“ میں کیوں پھنسے ہوئے ہیں؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ مغالطہ کہ ما ضی بہت شاندار تھا اورآج کا دور اور آنے والا دور بہت خراب ہوں گے، یہ مغالطہ ہزاروں سال سے انسانوں کے لاشعور میں موجودرہا ہے اور ہر تہذیب میں یہ سوچ کسی نہ کسی صورت موجود رہی ہے۔ حالانکہ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ صورتحال اس کے الٹ ہے۔ دوسری وجہ (جون ایلیاء سے معذرت کے ساتھ) یہ ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں آئے نہیں ہیں بلکہ گھسیٹ کے لائے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS