وہ بھی کیا زمانہ ہوتا تھا، جب لوگوں میں شرم و حیا ہوتی تھی۔ کیا دن تھے وہ بھی، جب سادہ ماحول اور صحت بخش غذائیں ہوا کرتی تھی۔ اب تو کوئی حال ہی نہیں، بڑوں کا احترام، حیا، سادگی تو جیسے اجزائے ممنوعہ ہوگئے۔ ہم بھی تو جوان ہوئے تھے، نہ کبھی موبائل، ٹیبلٹ جیسی آفت کا سنا نہ دیکھا ہمارے زمانے میں تو اتنی برائیاں نہیں ہوتی تھیں، ہمارے دور میں تو تصور بھی نہیں تھا کہ لڑکی منہ پھاڑ کے اپنے حق کی بات کرے۔
یہ اور اس طرح کے بہت سے طنز میں بھیگے تیر آپ سب کی سماعتوں پر سے ہو کر گزرتے رہتے یا رہے ہوں گے۔ ہمارے معصوم اور قابلِ احترام بزرگوں کے یہ گلوے شکوے ان کے بڑھاپے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتے ہیں۔ مگر یہ عارضہ خاص طور پر ہمارے متوسط و سفید پوش طبقے کو لاحق ہے۔ اور وہ ایسے معصوم سے شکوے کرنے پر حق بجانب بھی ہیں۔ بھلا گھروں کی چھتوں پر ڈش کے تار لٹکائے، گھر کے اندر رکھے وی سی آر پر انجمن، نور جہاں، وحید مراد و دیگر کے رومانوی اندازوں سے لطف لیتے ہوئے انہوں نے بھلا کبھی سوچا ہوگا کہ ان کی آنے والی نسلیں، کیبل، انٹر نیٹ پر کم لاگت میں ہر روز ایسی تفریحات سے مسفید ہوسکیں گی؟
Read more