کیا ساری قوم کو تحریک انصاف کے ٹائیگرز سمجھ رکھا ہے!
ملک میں ایک ڈرامہ پچھلے کچھ دنوں سے جاری ہے، جس میں تحریک انصاف کے ٹائیگرز وزیراعظم کی جانب سے چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق کمیٹی کی رپورٹس جاری کرنے اور اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے ڈرامے کو خان صاحب کا تاریخی کارنامہ قرار دیتے بھنگڑے ڈالتے پورے ملک کی عوام کو یوتھیئے سمجھ کر ہینڈسم وزیراعظم کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ چینی اور آٹا بحران کی اس رپورٹ جس کے مندرجات کی بازگشت کورونا وائرس پھیلنے سے پہلے ملکی ایوانوں میں گونجتی رہی تھی اور اپوزیشن ان مندرجات کو جاری کرنے کے لئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایف آئی اے رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتی رہی تھی، آج ایک ایسے وقت میں آخر کیوں جاری کرنے کی ضرورت پیش آ گئی، اس وقت یہ رپورٹ جاری کیوں نہیں کی گئی جب اپوزیشن شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے جاری کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی، آج جب پوری دنیا کی توجہ اور ترجیح صرف اور صرف اس مہلک وائرس سے نمٹنا اور اسے شکست دینا ہے، خان صاحب کی حکومت نے یہ رپورٹ شایع کرکے دراصل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے اپنے کرپشن کے خلاف سخت اور بلا امتیاز بیانیے کو تقویت دینے اور اس کے انتقامی احتساب کے تاثر کو کم کرنے، کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں اپنی حکومت کی نا اہلی نالائقی سے عوام کی توجہ ہٹانے، مہنگائی، بیروزگاری، بھوک و بدحالی کی وجہ سے اپنی انتہائی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کو بچانے، اور اپنے اوپر بوجھ بنتے جہانگیر ترین کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس رپورٹ کو ایسے وقت شائع کرنا ضروری سمجھا جب پوری قوم کا فوکس صرف اور صرف کورونا ہے۔
یہ رپورٹ جیسے ہی ٹی وی چینلز پہ چلنا شروع ہوئی تو جیسے بھونچال آ گیا، کورونا پسِ منظر میں چلا گیا اور خان صاحب کی مردانگی کے ڈنکے بجنے لگے، مگر پھر جیسے جیسے معاملات سے دھول چھٹنا شروع ہوئی تو یہ واضح ہوتا گیا کہ یہ ڈرامہ اور صرف ڈرامہ ہے، کیونکہ نہ تو کسی کو ہٹایا گیا ہے نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی ہوئی۔ کہا گیا کہ جہانگیر ترین کو ایگریکلچر کی ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا، جہانگیر ترین نے خود فرمایا کہ وہ کبھی اس ٹاسک فورس کے چیئرمین تھے ہی نہیں اگر کسی کے پاس نوٹیفکیشن ہے تو دکھائے، خسرو بختیار صاحب سے ایک وزارت واپس لے کر ایسا تاثر دیا گیا کہ انہیں وزارت سے برطرف کر دیا گیا، پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری کی قربانی یہ کہہ کر دی گئی کہ انہیں وزارت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سمیع اللہ چودھری کے بقول انہوں نے استعفیٰ دیا، جبکہ بقول شیخ رشید کے کپتان نے صرف اپنی فیلڈنگ تبدیل کی ہے کسی کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہیں لیا میڈیا نے ایسے ہی معاملے کو ہوا بنایا ہوا ہے۔
شیخ صاحب نے ایک اور بڑی معنی خیز بات کی ہے کہ جب فارنسک رپورٹ آئے گی تب اصل مدعے سے پردہ ہٹے گا کہ آیا چینی درآمد کی بھی گئی یا صرف کاغذات کی حد تک ہی یہ واردات ڈالی گئی۔ اب جیسے جیسے اس رپورٹ کے اندرونی معاملات افشاء ہو رہے ہیں اس سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اس ساری واردات کے پیچھے وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر وہ دباؤ ہے جو ان پر وزیراعظم صاحب کی طرف سے ڈالا گیا۔ اس سارے واقعے میں خان صاحب اپنے سب سے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کو اقتدار دلانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، ترین صاحب کا ندیم ملک کو دیا گیا انٹرویو اس گہری ہوتی خلیج کو واضح کرتا ہے اور جیسے جیسے یہ معاملات صاف ہو رہے ہیں یہ دراڑ مزید گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
وزیراعظم اور جہانگیر ترین کے راستے الگ ہونے کے اشارے زلفی بخآری کے اس بیان سے بھی ملتے ہیں کہ جو بھی شخص کپتان کے بیانیے سے اختلاف کرے گا وہ نہیں رہے گا۔ اب ماضی میں بھی کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جب بلا امتیاز احتساب، خالص جمہوری اصولوں کی بنیاد پہ بننے والی تحریک انصاف کے چیئرمین سے جب بھی کسی نے اختلاف کیا وہ بے عزت کرکے جماعت سے نکالا گیا۔ اکبر ایس بابر، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین، حامد خان، تسنیم نورانی کی مثالیں خان صاحب کی آمرانہ طرزِ قیادت اور تکبر کی زندہ مثال ہیں۔
جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے تاحیات نا اہل قرار پانے کے بعد بھی خان صاحب کے گڈ بکس میں تھے، انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت بنانے میں کچھ مقتدر اداروں کی کاوشوں کے ساتھ جہانگیر ترین کا بہت بڑا کردار رہا ہے، آج وہی جہانگیر ترین خان صاحب کے لئے بوجھ بن چکے ہیں جسے اس رپورٹ کو بنیاد بناکر اتارنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے لئے آٹا چینی رپورٹ بھی آہستہ آہستہ پاناما کی طرح خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، خان صاحب ابھی تک تو وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، خسرو بختیار، ہمایوں اختر، مونس الٰہی، ہاشم جواں بخت اور سابقہ وزیر فوڈ سیکیورٹی محبوب سلطان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر آٹا چینی بحران کی فارنسک رپورٹ کے بعد خان صاحب کے لئے معاملات سنبھالنے مشکل ہوجائیں گے۔
جہانگیر ترین ابھی تک اپنے اختلاف کو دھیما رکھے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے نا اہلی کے بعد وہ اس بات سے خاصے نالاں تھے کہ خان صاحب نے ان کے سیاسی کیرئر کو بچانے میں ان کی خاطر خواہ مدد نہیں کی یہاں تک کہ ان کی جگہ ان کے بیٹے کو بھی کہیں ایڈجسٹ نہیں کیا گیا جبکہ اپنے دیگر قریبی لوگوں اور کونسلر کا انتخاب جیتنے کی حیثیت بھی نہ رکھنے والوں کو بھی ان پر ترجیح دی گئی۔ جہانگیر ترین نے ایک انتہائی قریبی نجی دوست سے کہا کہ خان صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ جب میری زبان کھلے گی تو لوگ ریحام خان کے الزامات بھی بھول جائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے اختلافات کیا گل کھلاتے ہیں اور اس ساجھے کی یہ ہنڈیا کس چوراہے پھوٹتی ہے یہ تو مستقبل قریب میں واضح ہونا ہے گا مگر ابھی تک پی ٹی آئی حکومت جس غیر سنجیدگی اور انتہائی لا ابالی پن سے کورونا وائرس جیسی مہلک آفت سے نمٹنے میں مصروف ہے اس سے عوام کی صحت و زندگیوں کو شدید ترین خطرات سے دوچار کردیا ہے، اور اسی حکومتی نا اہلی نالائقی سے توجہ ہٹانے کے لئے خان صاحب اور ان کے قریبی اکابرین ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا قدرتی آفت سے نمٹنے اور اسے شکست دینے کہ جنگ لڑ رہی ہے نیب کو استعمال کرکے اپنے تکبر، نفرت، ذاتی عناد اور انتقام کی آگ کو تسکین پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ خان صاحب اور ان کی حکومت کی ترجیحات کا اندازہ ان کے اس بدترین طرزِ حکمرانی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔



