قبائلی طلبہ کی مشکلات اور قبائلی اضلاع میں حملے



زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے جب سابق قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی آگ بھڑک رہی تھی اور وزیرستان سے لے کر سوات تک ہر طرف لاشیں ہی لاشیں گر رہی تھیں۔ وہ ایسا وقت تھا کہ اب بھی جب یاد کرتے ہیں تو ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔

پھر آپریشنز شروع ہوئے جس میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی نشانہ بنے۔ ان کارروائیوں کی وجہ سے اگر ایک طرف سینکڑوں ہزاروں لوگ اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تو دوسری طرف لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑ کر اپنے علاقوں کو خیر آباد کہنا پڑا۔ یہاں تک کہ علاقوں کے نقشے تک تبدیل ہوئے اور آج وہ علاقے مختلف مناظر پیش کرتے ہیں۔

ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب کچھ قبائلی علاقوں میں حکومتی غلطیوں کی وجہ سے عام قبائلی اپنے گھروں پر ہونے والے حملوں اور ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے شدت پسند تنظیموں کا حصہ بنے جس سے کچھ وقت کے لیے یہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک نئی شکل اختیار کرگئی۔

اب اگرچہ تمام قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوچکا ہے، بیشتر متاثرہ افراد اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں اور بحالی کا کام بھی جاری ہے لیکن دوسری طرف مقامی افراد میں بدستور ناراضگی کی کفیت موجود ہے۔

قبائلی علاقوں میں جو کچھ ہوا، کیوں ہوا، اس کا ذمہ دار کون ہے، کس کو سزا ملنی چاہیے اور کس کو نہیں، ہم اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتے لیکن یہ بات تو مسلمہ ہے کہ جنگ جدھر بھی ہوتی ہے وہاں اپنے ساتھ تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتی اور پھر ایسی جنگ جو اپنے عوام کے خلاف لڑی جائے وہاں تو پھر حکومت اور اس کے اداروں کی ذمہ داری دوگنا ہوجاتی ہے۔ آگرچہ متاثرہ علاقوں میں کافی حد تک کام ہوئے ہیں اور بے گھر افراد بھی واپس اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں لیکن عوام بدستور حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جہاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہے وہاں بیشتر سکول، کالجز اور جامعات نے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ لیکن قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں نہ صرف طلباء و طالبات احتجاج کررہے ہیں بلکہ وہ دنیا سے بھی کٹ کر رہ گئے ہیں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں طلباء کی طرف سے مظاہرے کیے جارہے ہیں جس میں حکومت سے علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت فوری طورپر بحال کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے سات قبائلی اضلاع میں اس وقت ایسا کوئی ایسا علاقہ موجود نہیں جہاں تمام آبادی کو ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہو۔ بیشتر اضلاع میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے جس کی بحالی حسب معمول سست روی کا شکار ہے۔ جن مقامات پر زمینی ٹیلی فون لائینیں موجود ہیں وہاں محدود پیمانے پر انٹرنیٹ کی سہولت صرف سرکاری اداروں، افسران یا مخصوص با اثر افراد تک محدود ہے جبکہ بیشتر آبادی دنیا سے کٹی ہوئی ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ صرف جنوبی وزیرستان کے تقربناً دو ہزار کے لگ بھگ طلباء و طالبات ایسے ہیں جو کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں اور جن میں ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے طلبہ بھی شامل ہیں۔

طلباء کا کہنا ہے کہ انہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ وہ آن لائن کلاسز میں حصہ لیں لیکن انٹر نیٹ نہ کی وجہ سے وہ اس سے قاصر ہیں اور جس انہیں اب تعلیم کا حصول بھی مشکل ہورہا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید سکیورٹی وجوہات کی بناء پر انٹرنیٹ کی سہولت معطل کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تاحال حکومت کی طرف سے کوئئی وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے۔

اتنی لمبی تمہید اس وجہ سے باندھی کہ کم سے کم قبائلی اضلاع میں کبھی بھی ایسے حالات پیدا نہیں کرنا چاہیے جہاں لوگ مجبور ہوکر سڑکوں پر نکل آئے۔ کیوں؟ وہ اس وجہ سے کہ جہاں پر جنگ گزری ہو، لوگوں نے دکھ اور تکلیف دیکھے ہوں اور بدستور محرومیوں کا شکار ہوں وہاں جب احتجاج ہوگا تو پھر سے گزرے ہوئے حالات کا ذکر ہوگا اور جب ایسی صورتحال پیش آئے گی تو اس میں فائدے کی بجائے سارا نقصان حکومت اور سکیورٹی اداروں کا ہی ہوگا۔

دریں اثناء قبائلی اضلاع میں کچھ دنوں سے سکیورٹی اہلکاروں پر پھر سے حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جس سے کچھ مقامات پر خوف کی کفیت پیدا ہورہی ہے۔ گزشتہ تین چار دنوں میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور مہمند کے اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور کالعدم تنظیموں کے حملوں میں دونوں جانب سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تاہم بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور حزب الحرار نامی تنظیموں کی طرف سے قبول کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ حزب الحرار کالعدم تنظیم جماعت الحرار سے نکلا ہوا ایک دھڑا ہے جس کی طرف سے حالیہ دنوں میں پنجاب کے علاقوں میں بھی حملوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments HS