پرانی البم میں رکھی پروین کی کہانی


آج دوپہر میں نے کوئی بیس سال کے بعد امی سے فرمائش کی کہ میرا دل پرانے البمز کو دیکھنا چاہ رہا ہے۔ امی نے میری فرمائش سن لی اور خلاف توقع تھوڑی دیر کے بعد اپنے کمرے سے بہت پرانے تین عدد البمز لے کر برآمد ہوئیں۔ اپنی ماں کو یوں بھاری بھرکم البم اٹھائے ہوئے اور اپنے قدموں کو سنبھال سنبھال کر فرش پر رکھتے ہوئے آتے دیکھ کر میں تڑپ کرلیونگ روم میں صوفے پر بیٹھا اپنی جگہ سے تیزی سے اٹھ کر ان کی طرف لپکا اور ان کے ہاتھوں سے قریباً گرتے ہوئے البم تھام کر کہا کہ انہوں نے یہ تکلیف کیوں کی، مجھے آواز دی ہوتی۔

شکریہ ادا کرتے ہوئے میں البمز لے کر وآپس اپنی نشست پر آ بیٹھا۔ ایک ایک پیج پر چپکی ہوئی بلیک اینڈ وائیٹ تصویریں میرے والدین کی زندگی کے مختلف ادوار کی ڈاکیومنٹڈ کہانیاں جن کے ذیلی کرداروں میں ان کے باپ، بھائی بہن، دیگرعزیز رشتے دار اور دوست احباب شامل تھے، کسی کسی تصویر کے پس منظر میں کوئی پرانا نوکر و خدمتگار بھی کھڑا نظرآتا۔ کہیں کسی تصویر میں ہم بہن بھائی بھی اپنے بچپن اور لڑکپن کے عہد میں موجود ہوتے۔

جیسے جیسے ان تصویروں پر میری نظریں گزرتیں جن میں موجود ہوتا وہیں پر میری نظروں کے سامنے وہ ایپیسوڈذ چلنا شروع ہو جاتیں جن موقعوں پر ان لمحوں کو کیمرے کی آنکھ نے فریز کر لیا تھا۔ دیگر تصاویر جو ہماری پیدائش سے پہلے کی تھیں ان کی بابت جو واقعات امی نے بیان کیے تھے وہ کسی پڑھی ہوئی کہانیوں اور داستانوں کی مانند میرے دل ودماغ میں محفوظ تھے اور یوں بالواسطہ طور پر میں جیسے ان ایونٹس کا چشم دید گواہ تھا۔

بیس سالوں کے بعد ان تصویروں کو پھر سے دیکھنا حیرت انگیز طور پر مجھے مایوس اور اداس کیے دے رہا تھا۔ بیس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ بیس سال پہلے بہت سے خواب زندہ تھے، زندگی سے بہت امیدیں قائم تھیں۔ ان دو دھائیوں میں ان البموں میں بسے ہوئے بیشتر لوگ اپنے گھروں اور پرانی حویلیوں کو چھوڑ قبرستانوں کو جا آباد کیے ہیں، اور جو لوگ ابھی زندہ ہیں ان کو بھی وقت نے اگر بہت کچھ دیا تو کافی کچھ چھین بھی لیا۔

ایسے ہی کرتے کرتے جب میں نے البم کا ایک صحفہ پلٹا تو ایک تصویر کافی دیر تک میری توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس تصویر کے تمام چہرے بڑے مانوس تھے۔ ان چہروں میں میرے بچپن کے ساتھی نانا کی حویلی کے ملازموں کے تین بچے تھے، دو لڑکے آپا بشیرن کے نواسے گلو اور پاپا تھے، ان کا گھر رائل پارک کی کسی گلی میں واقع تھا اور ان کا باپ سرکس میں کام کرتا تھا، سرکس میں کیا کرتا تھا اب سوچتا ہوں تو یاد نہیں پڑتا، تب میرے اپنے خیال میں وہ سرکس کا ایک بازیگر ہو گا، پاپا نے بس اتنا بتایا تھا کہ ان کا باپ سرکس میں کام کرتا ہے، بازیگری میری اپنے ذہن کی اختراع تھی۔

پاپا، گلو اور میرے ہمراہ چوتھا بچہ ایک لڑکی تھی اس تصویر میں، نوکرانی جمیلہ کی بیٹی پروین۔ مجھے بہت واضح یاد ہے کہ یہ تصویر ماموں ظفر کی بارات والی رات کی میو گارڈن میں لی گئی تھی، دسمبر کی یخ رات تھی اور میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ پروین تو اپنی ماں جمیلہ کے ساتھ حویلی کی نچلی منزل میں برابر آتی رہتی تھی امی کی تائی کے گھراپنی ماں کا کام کاج میں ہاتھ بٹانے، ایسا کرتے ہوئے غریب نوکر چاکر ایک طرح سے اپنے بچوں کی ”ان جاب ٹریننگ“ بھی کرتے تھے۔

البتہ گلو اور پاپا کو آپا اپنے ہمراہ ان دنوں لاتی تھی جب حویلی میں کوئی شادی بیاہ یا محرم کی بڑی مجلس ہوتی کہ اس بہانے لڑکوں کو مرغن غذا کھانے کو نصیب ہووے۔ ان دنوں شادی بیاہ کی تصاویر اتارنے کے لئے پروفیشنل فوٹوگرافر کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اس لئے یہ تصویر جس میں میں نوکروں کے بچوں ہمراہ خوش وخرم دکھائی دیتا ہوں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلی ورنہ اگر یہی کیمرا حویلی کے کسی جوان کے پاس ہوتا تو لمحے کا اس تصویر میں منجمد ہونے کا سوال ہی نہ تھا بلکہ ان بچوں کو کیمرے کی طرف دیکھنے پرایک عدد ریپٹا یا کم سے کم ایک موٹی گالی سننے کو ملتی۔

اس تصویر کو دیکھتے ہوئے مجھے میری پوری شخصیت کی سمجھ آنی شروع ہوگئی۔ ایک بچے کے طور پر بھی مجھے نوکروں کے بچوں کے ساتھ کھیلنا، اٹھنا، بیٹھنا اور موقع ملنے پر کھانا پینا بہت اچھا لگتا تھا۔ ایسا کرنے کی سہولت شادی بیاہ اور مرگ و ماتم کے دنوں اور راتوں میں بڑی آسانی سے میسر ہوتی تھی اور میں ان بچوں کے ساتھ آسانی سے مخلوط ہو جاتا تھا۔ ایسے وقتوں میں امی کی دلچسپی کا محوربھی عزیز رشتے دار عورتیں ہوتیں تھیں نہ کہ مجھ پر بٹھائی ہوئی پہریدار نظریں۔

دیگر ایام میں نوکروں کے بچے الگ تھلگ رکھے جاتے تھے۔ اب میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے آپ کو ان کے قریب آنے میں جو دلچسپی نظر آتی تھی وہ ان بچوں کی بہت سے امور میں فارغ البالی تھی۔ سب سے اول نمبر پرجو ایک بات میرے لئے اپنے ان ہمجولیوں کے لئے قابل رشک تھی وہ یہ تھی کہ انہیں اسکول کی تعلیم سے کوئی یارا نہ تھا۔ انہوں نے پڑھا پڑھا نا پڑھا تو نہ پڑھا۔ زیادہ سے زیادہ بھی تیر مار لیا تو چوتھی یا پانچویں تک پڑھ گئے۔

مجھے ابھی سے ہی اپنی جان سولی پہ ٹنگی ہوئی نظر آتی تھی، میں پڑھائی میں کند ذہن تو نہیں تھا مگر کوئی خاص ذہین بھی نہیں تھا۔ ستم بالائے ستم پڑھنا اس لئے بھی مجبوری بن گیا تھا کہ ایک طرف تو جس طرح تمام لوئر مڈل کلاس ماں باپ اپنے ناحاصل کردہ عزائم کو حاصل کرنے کے لئے اپنی اولاد کو مشق ستم بناتے ہیں اسی طرح میرے والدین کی بھی بلند و بالا امیدیں اور خواب ہم سے وابستہ تھے جو ہمیں شرمندۂ تعبیر کرنے تھے دوسری طرف ہم عمر خالہ زاد کافی ذہین وفطین تھے، میری والدہ چونکہ کوئین میری اسکول میں پڑھاتی تھیں اس لیے ان کی کولیگز کے لائق بچوں کی قابلیت سے مقابلے کے لئے ہم بھی اپنی مرضی کے خلاف اس گھڑ دوڑ میں دھکیلے جا چکے تھے۔

حد نگاہ تک ایک مقابلے کی ایک تھکا دینے والی دوڑ تھی۔ ایسے خوفناک ریس کورس گراؤئنڈ سے باہرآرام سے بیٹھے ہوئے تام چینی کے پیالوں میں چائے میں ڈبو ڈبو کے باقرخانی کھانے والے گلو، پاپا اور پروین کی بے فکر بچپن پر میں کیونکر رشک نہ کرتا۔ میرے لئے نوکر فیملی کے تمام بچے قاب رشک تھے۔ بازار سے سودا سلف لا دینا، ماں کی مدد کے لئے قالین پر بوکر مار دینا اور فرش پر گیلی ٹاکی مار کر اسے چمکا دینا دنیا کے کریایٹو ترین کام تھے، لیکن مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ میرے نصیب میں ایسے کام نہیں ہیں۔ مجھے تو ایک بہت بڑا ڈاکٹر بن کر خاندان کے پہلے ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کرنا ہے۔

اس تصویر کی طرف واپس آتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ یہ ماموں ظفر کی بارات کی یہ رات میرے لئے بڑی ایکساٹیڈ رات تھی۔ میو گاڈننز کے وسیع وعریض لانز میں اپنے ہمجولیوں کے ساتھ خوب اتھل پتھل کر رہا تھا کہ کہیں سے اچانک میری بہن عزرائیل کی طرح سے موت کا پروانہ لئے ہوئے جیسے تیزی سے وارد ہوئی کے میں چلوں کہ امی مجھے بلا رہی ہیں۔ میرے بازو کو کہنی کے اوپر سے تھامے ہوئے وہ ایک رنگے ہاتھوں پکڑے گئے مجرم کی طرح مجھے اس گروپ سے باہر لے گئی۔

مجھے اپنی بہت بے عزتی محسوس ہوئی۔ امی کو دیر تک میری غیرموجودگی نے اب تک چوکنا کر دیا تھا۔ امی کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے آس پاس کی عورتوں سے نظر بچا کر ایک دھول میری گدی پر رسید کر دی۔ مجھے حکم سنایا گیا کہ کھیلنا چاہوں تو جو خالہ زاد اور دیگر خاندان والوں کے بچے ہیں ان کے ساتھ کھیلوں۔ خوف خدا رکھنے والی ماں نے یہ نہیں کہا تھا کہ غریب بچوں میں کھیلنے سے میری ذہنی نشونما ایولو نہیں کرے گی۔ میری امی کو شاید ایک حقیقت کا درک نہیں تھا کہ ان کی بہن اور خاندان کے دیگر بچوں کے پاس کھیلنے کو جو ان کے امیر ماں باپ نے برقی کھلونے خرید کر دیے ہیں میں ایسے کھلونوں سے کبھی نہیں کھیلا تھا، وہ ہارڈی بوائز چلڈرن سٹوریز پڑھتے اور ان کی کہانیاں سنایا کرتے تھے جبکہ میں بچوں کی دنیا اور تعلیم و تربیت پڑھتا تھا۔

وہ گرائمر سکول اور سیکرڈ ہارٹ میں جاتے تھے اور میں کینٹ پبلک کے سیمی انگلش میڈیم سکول میں لگائی گئی پنیری تھا۔ میں اپنے آپ کو اس کزنز گروپ میں مس فٹ محسوس کرتا تھا۔ مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑے کزنز جب بے باکی سے کوئی جنسی چٹکلہ چھوڑتے تو میرے کان دہکنے لگتے تھے۔ میں ان کے درمیان میں کھڑے ہوئے اپنے اندر کے خوف وہراس کو ایک مسلسل شرمندہ مسکراہٹ سے چھپائے رہتا تھا۔ اگر پاپا، گلو اور پروین میری کلاس کے بچے نہیں تھے تو میری خالہ زاد اور خاندان کے دیگر بچوں کی کلاس کا میں بھی نہیں تھا۔ میری شخصیت نمو نہیں بلکہ ساکت ہو رہی تھی۔ اسی کارن میرا بچپن بہت تنہا گزرنا شروع ہوگیا۔ یہ تنہائی امر بیل کی طرح سے میری پوری زندگی پر سوار ہو گئی۔

جب آپا بشیرن مر گئی تو گلو اور پاپا کا بھی حویلی سے رابطہ منقطع ہو گیا، جمیلہ نے البتہ پروین کی جو آن جاب ٹرینگ کی تھی وہ اس کے کام آئی، قبل از وقت بڑھاپے نے جمیلہ کی ڈرائیونگ سیٹ پر پروین کو لا بٹھائیا۔ پروین شکل وصورت سے رونا لیلے کی کاپی تھی۔ گرمیوں کی ایک رات جب اسکول میں چھٹیاں ہو چکیں تھیں اور ہم کچھ دنوں کے لئے نانا کی طرف آئے ہوئے تھے، ایک رات میں سڑھیاں اتر کر نچلی منزل پر واقع امی کی تائی کی طرف گیا صحن میں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں، ان پر سلیقے سے گدے اور چادریں بچھا کر گاؤتکیے لگائے گئے تھے۔

بیچ صحن کے ایک پیڈسٹل فین پورے زور و شور سے اپنی گردن دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھما گھما کر سامنے بیٹھے ہوؤں پر ہوا پھینک رہا تھا۔ پروین صحن اور اس سے ملحق باورچی خانے میں کسی نہ کسی کام کی غرض سے آس پاس منڈلا رہی تھی۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مسلم ٹاؤن سے ملنے کو آئے ہوئے انکل اکبر ا اور آنٹی تارو صحن میں داخل ہوئے۔ انکل اکبر سرخ و سفید رنگت اور بلند قامت ایک انتہائی ہینڈسم مرد تھے ان کی بیوی تارو ایک اسٹائلش خاتون جن کے لمبے اور گھنے سیاہ بال ہمیشہ کھلے اور ان کی کمر کو چھوتے ہوئے تھے۔

یہ جوڑا اپنے حسن و جمال کی وجہ سے انتہائی پاپولر تھا۔ میں انکل اکبر کی مردانہ وجاہت اور گہری اور بھاری آواز کی وجہ سے ان سے بہت زیادہ خائف رہتا تھا۔ جیسے ہی یہ وی آئی پی جوڑا وارد ہوا تائی کے سارے بچے خوشی خوشی اپنے کمروں اور برآمدے سے صحن میں ان کا استقبال کرنے کو بڑھ کر آئے۔ تائی نے جہاں بیٹھی تھیں وہیں سے پروین کو ”اوہ، ذرا ٹھنڈی ٹھار شکنجبین بنا کر فوراً لا ”کا حکم صادر کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹرے میں سلیقے سے شکنجبین سے بھرے گلاس لگائے ہوئے پروین مہمانوں کے سامنے آئی۔

انکل اکبر نے ٹرے سے گلاس اٹھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر اپنی بھاری آواز میں پوچھا کہ یہ چمپنزی کی شکل والی کو کہاں سے پکڑ کر لائے ہیں۔ جس پر صحن میں موجود سب لوگوں نے قہقہہ لگایا۔ میں نے ایک نظر قہقہے لگاتے چہروں پر ڈالی اور ایک نظر چمپنزی کے چہرے پہ۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ پروین کے چہرے کا تاثر کیا ہے، مجھے اپنے سینے میں ایک درد کی ٹیس سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں نے دل میں دعا کی کہ اللہ کرے کہ اس کو چمپنزی کا مطلب نہ آتا ہو۔ پروین کے چہرے پر شرمندگی کا کوئی رنگ نہ ابھرا، مجھے لگا کہ جیسا اس کا اسکول نہ جانا اسے بچا گیا اور جو اسکول گئے تھے انہیں لے بیٹھا۔

چھوٹی عمر سے ہی مجھ میں یہ احساس اجاگر ہونا شروع ہو گیا تھا کہ جس معاشرے میں میں رہ رہا ہوں یہ سماجی تفریق کی بنا پر ایک انتہائی زہریلی دنیا ہے۔ اس میں سانس لینے والا ہر انسان جیسے زہر کو اپنے اندر کھینچ رہا ہے اور باہر بھی زہر اگل رہا ہے۔ جو انسان لوگوں کو اینٹرٹین کر رہا ہے لوگوں کی نفرین بھی سب سے زیادہ اس کے حصے میں آ رہی ہے۔

ایک دن تائی کی لڑکیال جب دن کے وقت گھر میں اکیلی تھیں اور بیٹے کام پر گئے ہوئے تھے تو ننی، ناھید اور نسرین خالہ نے پروین اور اس کے ساتھ آئی ہوئی اس کی بڑی بہن کو قابو کر لیا کہ آج وہ انہیں ڈانس کرکے دکھائے۔ انہوں نے سن رکھا تھا کہ بڑی بہن بہت اچھا ناچتی ہے۔ پہلے تو اس نے بہت تامل کیا لیکن اتنا مجبور کی گئی کہ بالاخر پروین کے کہنے پر کھڑی ہو گئی۔ گھر میں کوئی ٹیپ ریکاڈر اور ریکارڈ پلئیرنہیں تھا تو ناچنے کے ساتھ ساتھ ایکٹرسوں کی طرح اس نے خود سے یہ گانا شروع کردیا ”شریفوں کا زمانے میں اجی بس حال وہ دیکھا کہ شرافت چھوڑ دی میں نے“۔

میرے خیال میں یہ بہت مشکل کام تھا ناچنے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز میں گانا گانا۔ اور پروین کی بہن یہ دونوں کام بہت خوش اسلوبی سے کر رہی تھی۔ میں اپنی رشتے کی خالاؤں کے ساتھ مبہوت کھڑا اپنی زندگی کی یہ پہلی لایو پرفارمنس دیکھ رہا تھا ناچ ختم ہوا تو سب نے ہوٹنگ اور کلیپنگ کی اور اختتامیہ تعریفی کلمہ یہ ادا کیا کہ ’ناشدنی بالکل نوچیوں کی طرح ناچتی گاتی ہے‘ ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ پروین اور اس کی بڑی بہن دونوں کو قدرت نے مدھر آواز دی تھی، اور ان دونوں کو گانے سے عشق تھا۔

حویلی کے بک جانے کے بعد اس کے باسی گلبرگ، گارڈن ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن میں شفٹ ہوگئے۔ پروین کی ماں جمیلہ چونکہ دل محمد روڈ کے آس پاس کہیں رہتے تھے اس لئے یہ تائی جان کے نئے مکان میں ان کے ساتھ نہ جا سکے۔ ان کی جگہ اصغر نے لے لی۔ اصغر آغا شاہ محمود کے گھر چاکری کرتا تھا۔ اس کا گھر اور بیوی بچے بورے والا میں رہتے تھے اور یہ حویلی میں کام کر کے ہر ماہ کے ماہ سو روپے اپنے خاندان کو بھیجتا جن سے ان کی گزر بسر ہوتی۔

اصغر کانا تھا ایک دن مودی آنٹی نے پوچھا کہ ”اوہ، تیرے کتنے بچے ہیں؟ “ تو بولا ”پانچ“۔ مودی آنٹی نے ایک چیخ ماری اور قہقہہ لگا کر بولیں ”اوئی، پانچ بچے؟ ازبسکہ ابھی تیری ایک آنکھ ہے، جو تیرے دونوں دیدے ہوویں تو کتنے کرتا؟ “۔ اصغر جھینپ گیا، حویلی کی عورتوں کی طرف سے ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا۔ یوں بیساختہ جو منہ میں آئے بک دینا حویلی والوں کا مزاج تھا۔ حویلی بکنے کے بعد آغا شاہ محمود کے بچے بھی جدا جدا ہوگئے تو اصغر کے مقدرکا کیا فیصلہ کیا جائے یہ سوال آکھڑا ہوا۔ تو فیصلہ یہ ہوا کہ اصغر اب سے تائی جان کے گھر ملازمت کرے گا کیونکہ جمیلہ اور پروین کے لئے روزانہ کی بنیاد پر دل محمد روڈ سے گلبرگ جانا آسان نہیں ہے۔

میں اب نویں جماعت میں تھا۔ چھٹی کا دن تھا، گرمیوں کی ایک سہ پہر میں امی کی تائی جان کے گھر گیا ہوا تھا۔ وہاں پروین بھی آئی ہوئی تھی، وہ کبھی کبھار ان کی طرف ڈے سپینڈ کرنے آجاتی اور پرانے معمول کے مطابق کچن کے کام کاج میں ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے انجانی سی خوشی ہوئی جیسا کہ کوئی کسی شناسا کی صحبت میں محسوس کرتا ہے۔ ہمارے بیچ میں علیک سلیک ہوئی۔ پروین نے اچھا قد کاٹھ نکالا ہوا تھا۔ اب اس میں جوان ہوئی لڑکیوں کی طرح تھوڑی سی ڈریس سینس بھی آچکی تھی۔

اس نے انگلیوں اور پیروں کے ناخنوں کو لمبا کر کے ان پر بینگنی رنگ کی کیوٹکس لگائی ہوئی تھی۔ گلے میں پلاسٹک کے موتیوں کی مالا اور آبنوسی کلائیوں میں رنگ برنگی چوڑھیاں چڑھی ہوئی تھیں۔ بولتی تو وہ پہلے بھی برجستہ تھی مگر جوانی نے اسے مزید کونفڈنس دے دیا تھا۔ میرے کانوں میں اس کے جملے برابر گر رہے تھے۔ ابھی تھوڑی دیر میں ناہید خالہ جن کی عمر سینتیس سال ہو چکی تھی ان کے بردکھاوے کے لئے لڑکے والے آرہے تھے۔ ڈرائینگ روم کی ہر چیز کو چمکایا جا چکا تھا۔ پروین نہایت مشاق ہاتھوں سے ناہید خالہ سر کے بالوں پر خضاب لگا رہی تھی۔ کبھی گھنٹی بجتی تو اصغر کو دروازے پر بھگاتی۔

لڑکے والوں کے آنے سے ذرا پہلے جب ناہید خالہ تیار ہو کہ بیٹھی تھیں کہ میں نے دیکھا پروین برآمدے میں لگے سنک اور آئینے کے سامنے کھڑی اپنا بناؤ سنگھار درست کر رہی ہے۔ تائی جان نے جو منظر دیکھا تو قہر آلود نظروں سے دیکھ کر تلملا اٹھیں ”حرامزادی، کیا تیرا بر آرہا ہے جو شیشے میں کھڑی اپنا منہ سنوار رہی ہے؟ دفعہ ہو جا شیشے کے سامنے سے“، مگراس حرامزادی نے بھی سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنا سولہ سنگھار مکمل کر کے دم لیا۔

لڑکے والے آئے تو اصغر کے ہاتھوں سے ٹرے لے کر ہر ایک کی بڑے آرام سے خاطرداری کرتی رہی۔ تائی نے نظروں سے اشارہ کیا تو سمجھ گئی۔ اندر بیڈ روم میں آ کر خالہ سے کہا ”چلو“۔ پروین میری خالاؤں سے بہت چھوٹی تھی مگر وہ انہیں باجی، بی بی جی کہہ کر نہیں بلاتی تھی بلکہ انداز تکلم میں ”تم“ کا صیغہ استعمال کرتی تھی۔ جیسے ان کے حکم کی بجا آوری کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ”شٹ اپ کال“ بھی دے رہی ہو۔

ایسے ہی گرمیوں کی ایک جھلسا دینے والی سہ پہر میں ایک دفعہ پھر اتفاق سے میری اس سے تائی کے گھر مدبھیڑ ہوگئی۔ ڈرائینگ روم میں دوپہر کے کھانے کے بعد قالین پر سفید چادریں بچھا، تکئیے لگا کر دو گھنٹے کے لئے ائیرکنڈیشن آن کر کے قیلولہ کرنے کا رواج تھا۔ میں نے قیلولہ کرنے کے بجائے فلمی رسالہ پڑھنا پسند کیا۔ تائی بمع اپنی لڑکیوں، بہو اور پوتوں کے ایک سیدھی لائن میں فرش پر دراز تھے۔ پروین کو اس دروازے کے پاس جو باورجی خانے میں کھلتا ہے ڈور میٹ پر جگہ دی گئی تھی۔

سب اپنی اپنی کروٹ میں آنکھیں بند کیے پڑے تھے۔ میں صوفے پر ذرا اونچائی پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ نسرین خالہ جو اس لائن میں سب سے پیچھے تھیں اور پروین سے قدرے قریب تھیں ہلکی آواز میں کہ باقی جاگ نہ جائیں بولیں ”ذرا پانی تو پلا دے۔ “ میں نے رسالے سے آنکھیں ہٹائیں تو دیکھا خالہ پروین کی طرف منہ کیے ہیں اور پروین کچن کے دروازے کی طرف منہ دیے پڑی ہے۔ میں اٹھنے لگا کہ پانی لا کر دوں کہ خالہ نے ہاتھ سے منع کرنے کا اشارہ کیا۔

”اوہ، تجھے کہہ رہی ہوں“۔ پروین جو پہلے سے جاگی ہوئی تھی لیکن آنکھیں بند کیے مکر سے پڑی تھی آنکھیں کھولے لیٹی رہی۔ ”گردن ٹوٹی“، خالہ نے کچوکا لگایا۔ ”سن لیا ہے“ گردن ٹوٹی نے سپاٹ سا جواب دیا۔ گردن ٹوٹی اٹھی اور تھوڑی دیر جل پری کے انداز میں گردن ڈھلکائے بیٹھی رہی جیسے اپنے ذہن کو ائیر کنڈیشنڈ کمرے سے حبس شدہ باورچی خانے میں جانے کو تیار کر رہی ہے۔ وہ اٹھ کر دروازے سے باہر گئی اور کافی دیر کے بعد اپنے ہاتھ میں پانی بھرا گلاس لائی، اسی اثناء میں خالہ کی آنکھ واپس لگ چکی تھی۔ پروین خالہ کے قریب آئی اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کو ان کے بازو میں ٹھونک کر جگایا۔ خالہ نے اس گستاخی پر غصے سے آنکھیں کھولیں۔ ”لو“ گلاس بڑھاتے ہوئے وہ بولی۔ ”کہاں دفعان ہو گئی تھی اتنی دیر کو؟ “ پروین نے کوئی جواب نہ دیا اور گلاس تھما کر واپس اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گئی۔

اس ملاقات کے دس سال بعد میں ویگن میں ریلوے اسٹیشن سے لبرٹی مارکیٹ جا رہا تھا۔ جب ویگن فاطمہ جناح میڈیکل کالج اسٹاپ پر رکی تو وہ ویگن میں داخل ہوئی۔ کنڈیکٹر نے باوجودیکہ فرنٹ پر ڈرائیور کے ساتھ والی لیڈی پسنجر سیٹ خالی تھی بٹھانا مناسب نہ سمجھا۔ وہ میرے مقابل بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں سواریوں کے سروں کے اوپر سے ہوتی ہوئی گزر رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر عمر کی تھکاوٹ تھی، جیسے بہت جی لینے والے لوگوں کے چہروں پر آ جاتی ہے۔

اس کے بدن پر کوئی فالتو گوشت نہیں تھا۔ اس کا سر دوپٹے سے ڈھکا ہوا نہیں تھا جیسا کہ عمر کے اس حصے میں آ کر لوئر کلاس عورتوں کا سر گھر سے باہر نکلتے کسی اوڑھنی سے ڈھکا چھپا ہوتا ہے۔ اس کے بال کھلے ہوئے اور بیچ مانگ سے پاٹ دار تھے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ میری طرف ایک نظر دیکھے تو میں اس سے ایک بار پھر علیک سلیک کروں۔ اس کی زندگی کے بارے میں پوچھوں۔ میرا دل اسے دیکھ کر اداس ہو گیا تھا۔ پتہ نہیں کہ وہ زندگی سے خوش تھی کہ نہیں۔

ڈرائیور نے کرایہ مانگا تو میں نے دیکھا کہ سینے پر پھیلائے دوپٹے کے پیچھے سے اس کے مرنڈہ مرجھائے ہوئے ہاتھ نکلے، انگلیوں کے ناخنوں پر سے اترتی ہوئی بینگنی رنگ کی کیوٹکس تھی۔ ہاتھوں میں پکڑی تین عدد فلمی گانوں کی کیسیٹں تھیں پروین نے ان میں سے ایک کیسٹ کا پٹ کھولا اور اس میں سے دو روپے نکال کر کنڈکٹر کو اپنا کرایہ ادا کیا۔ ریس کورس پارک کے سامنے ویگن رکی تو وہ وہاں اتر گئی۔ ویگن آگے بڑھی اور مجھے اس بات سے اطمینان ہو گیا کہ پروین کی زندگی سخت ضرور ہوگی مگر وہ آج بھی فلمی گانے سنتی ہے اور وہ آج بھی بے دھڑک گھر سے سر پر بنا دوپٹہ ڈالے ویگن میں مردوں کے بیچ بیٹھے، ان پر نظر ڈالے بنا جہاں تک ہو سکتا ہے دنیا کو اگنور کیے جی جا رہی ہے۔ اور شاید یہی زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ ہے۔

Facebook Comments HS