والدہ مرحومہ کی یاد میں
میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ماں جیسی نعمت سے محروم ہیں اور محرومی کا یہ دور چھ سال پہلے شروع ہوا۔ 15 اور 16 اپریل 2014 کی درمیانی رات جب موبائل فون کی سکرین پر گاؤں سے اپنے کزن افضل شاہ کا نام دیکھا تو دل ڈوب سا گیا۔ یہ فون کی گھنٹی نہیں تھی جو بج رہی تھی، یہ دل کے اندر خطرے اور خدشے کا الارم تھا جوبج رہا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ابّا جی اور امی دونوں کی طبیعت خراب تھی، خیال آیا کہ دونوں میں کسی ایک کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ہوگی۔
پر یہ ایک وہم نکلا، جو سنا وہ نہیں سننا چاہتا تھا۔ ہونی ہو کر رہتی ہے اوروہ ہو چکی تھی۔ امی جان ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جا چکی تھیں۔ برسوں پہلے ایک رات جب ماموں عبد الرؤف شاہ کی وفات کی خبر پہنچی تھی تو امی جان نے ہمارے کمرے کے دروازے پر دستک دے کرکہا تھا : اٹھو! ہم لٹ چکے ہیں۔ آج بہت برسوں بعد ہم ایک بار پھر ”لٹ“ چکے تھے اور اس دفعہ نقصان پہلے سے کہیں زیادہ ہوا تھا۔ اس رات فون پر جو رنگ ٹون لگی تھی، وہ دل پر ایک بوجھ بن گئی۔
اس کے بعد جب بھی فون کی گھنٹی بجتی، ایسا لگتا کانوں میں سیسہ بھرا جا رہا ہے۔ تنگ آ کر دو تین بعد ہی وہ رنگ ٹون بدل دی اور دوبارہ کبھی لگانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد وہ موبائل ہی کوئی ”ضرورت مند“ لے اڑا۔ موبائل اور رنگ ٹون دونوں سے ہی جان چھوٹ گئی۔ رنگ ٹون سے یاد آیا، اگر چہ ہماری والدہ سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتی تھیں، لیکن وہ کہا کرتی تھیں کہ جب بی بی سی ریڈیوکے پروگرام ”سیربین“ کا مخصوص ساز بجتا ہے تو میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے کہ مجھے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی یاد آ جاتی ہے کہ ایک دن ایسے ہی ساز کے بعد ان کی پھانسی کی خبر آئی تھی۔
اگلا مرحلہ بہت مشکل اور تکلیف دہ تھا، باقی تین بھائیوں کو اس قیامت کے بارے میں بتانا جو گزر چکی تھی۔ درد کی اس گھڑی کو کن الفاظ کے ساتھ ان سے بیان کروں؟ زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ یہ مشکل مرحلہ ملتان میں مقیم بھتیجے محسن کے ذمے لگایا۔
ماں سے محروم ہونے کا دکھ بیان نہیں ہو سکتا، یہ صرف محسوس کرنے کی چیز ہے اور صرف وہی اس کا احساس کر سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزر چکا ہوتا ہے۔ الفاظ کا بڑے سے بڑا ذخیرہ بھی ان احساسات کے آگے گونگا ہی رہتاہے۔ امی جان کو گزرے چھ سال ہونے کو آئے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ماں سے بچھڑنے کادرد اور تکلیف کی شدت کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے چھ منٹ گزرے ہوں، چھ دن، چھ ماہ یا چھ سال۔
دنیا کی سب ماؤں کی خصوصیات ایک جیسی ہی ہوتی ہیں، سب مائیں غیر معمولی ہوتی ہیں، باہمت ہوتی ہیں، حساس ہوتی ہیں، ہمدرد ہوتی ہیں، جانثار ہوتی ہیں، مائیں سب کچھ ہی ہوتی ہیں۔ ہماری والدہ بھی ایسی ہی ماؤں میں سے ایک ماں تھیں۔ باہمت اتنی کہ ہم نے ساری عمر ان کو کام، کام اور کام کرتے دیکھا ہے۔ گھر میں ایک آدھ بھینس اور گائے لازمی ہوتی تھی۔ بڑے بھائی کالج چلے گئے، ہم چھوٹے بھی کام کر لیتے تھے، چارے کے لئے ایک نوکر بھی تھا، لیکن بوقتِ ضرورت گھر کے کاموں کے ساتھ ان مال مویشیوں کا کام بھی بھگتا لیتی تھیں۔
یاد رہے کہ مکمل پردہ کرتی تھیں اور وہ جانور ایک چار دیواری کے اندر بندھے ہوئے ہوتے تھے۔ طبعیت میں تیزی کا رجحان غالب تھا اور کام کو فوری نمٹانے کو بہتر تصور کرتی تھیں۔ اباجی طبعاً دھیمے مزاج کے تھے اور ہم چاروں بھائیوں میں بھی ابا جی کے اس مزاج کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ گھر کے کاموں کے سلسلے میں ہم یا اباجی روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے تو ہم لوگوں کو بہت سست کہتیں اور اکثر ”دھمکی“ بھی دیتیں کہ کام کروا دو ورنہ میں نے خود چادر لے کر کرنے چلے جانا ہے۔
کئی بار افسوس کا اظہار کرتیں کہ کاش میں مرد ہوتی تواب تک یہ کام ہو بھی چکا ہوتا۔ یہ بھی کہتیں کہ جلد کام کرنے کے معاملے میں کوئی بیٹا بھی مجھ پر نہیں گیا۔ کاموں کے سلسلے میں جب ہماری سستی اور غفلت انتہا کو پہنچ جاتی تو پھر باز پرس کے علاوہ کبھی گوش مالی بھی ہوتی۔ نظم وضبط کے معاملے میں بھی وہ بہت کم ڈھیل دیتی تھیں۔ ایک واقعہ ہم یاد کر کے بہت ہنستے ہیں اور ان کو یاد کر کے روتے بھی ہیں : ایک دن کسی وجہ سے چھوٹے بھائی کی طارق کی نیّت خراب ہو گئی کہ آج سکول نہیں جانا۔
امی کے کہنے پر نہ چاہتے ہوئے تیاری تو کر لی، لیکن شاید راستے میں چھپنے کا ارادہ کر لیا۔ امی نے آثار سے اندازہ لگا کر اس کو گھر سے روانہ کر کے ایک مناسب فاصلے سے اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ بھائی نے سکول تک نصف کلومیٹر کے سفر میں ہر اس مقام پر جہاں چھپا جا سکتا تھا، ایک موہوم سی امید کے ساتھ پیچھے دیکھا کہ شاید امی واپس چلی گئی ہوں۔ لیکن ہر مقام پر امی موجود تھیں۔ آخری امید سکول کا گیٹ تھا، پر وہاں بھی اس کی امیدیں خاک میں مل گئیں کہ امی بدستور موجود تھیں۔ اب تو پھر سکول جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
عبادات میں بھی وہ کبھی پیچھے نہیں رہیں۔ عام دنوں میں بھی نماز کے ساتھ تلاوت ان کا معمول تھا۔ رمضان کے مہینے میں تو عبادات کا دورانیہ اور بھی بڑھا دیتیں۔ روزے کی حالت میں گھر کے کام بھی اور ساتھ قرآن پاک کی تلاوت معمول سے زیادہ کرتیں۔ ہم اکثر کہتے کہ آپ کی صحت اجازت نہیں دیتی، مہینے میں قرآن پاک کو ایک بار ختم کرنا کافی ہے، لیکن وہ اکثر اس مبارک مہینے میں ایک سے زیادہ بار قرآنِ پاک ختم کرتیں۔ عید پر ہم چاروں بھائی لاؤلشکر کے ساتھ گاؤں جاتے تو رہائش، کھانے پینے کی اشیاء، سامان کہاں رکھنا ہے وغیرہ وغیرہ، تمام انتظامات مکمل ہوتے۔
اکثر دو قسم کی سویاں تیار ہوتیں۔ کبھی کبھار بس مجھے فون کر دیتیں کہ سبز دھنیا نہیں ملا وہ شہر سے لیتے آنا، اس کے علاوہ بہت کم کبھی فرمائش کی۔ قرآنِ پاک کے علاوہ اخبارات، رسائل اور کتب کا مطالعہ بھی کرتیں۔ ہم جب چھوٹے تھے تو جب بھی امی سے ان کی تعلیم پوچھتے تو وہ کہتیں میں میٹرک پاس ہوں۔ جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ امی تو ہمارے ساتھ مذاق کرتی تھیں، وہ تو ایک دن بھی سکول نہیں گئیں۔ اباجی سکول میں پڑھاتے تھے، اخبارات، کتابیں اور رسالے بہت شوق سے منگواتے اور پڑھتے تھے۔
ہم نے اپنے گھر میں ہمیشہ برتنوں اور بستروں سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہی دیکھے۔ اس ماحول نے رسمی تعلیم نہ ہونے کو باوجود امی کو ہر قسم کی کتب کے مطالعہ کے قابل بنا دیا تھا۔ وہ مطالعہ ان کے حافظہ میں محفو ظ بھی ہوتا تھا اور کبھی موڈ ہو تاتو ہمیں اس کا خلاصہ سنا بھی دیتی تھیں۔ ابا جی سے سن سن کر کئی اشعار بھی ان کو یاد تھے۔ علامہ اقبال کا شعر ”پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا، جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں“ میں نے پہلی دفعہ ان سے ہی سنا تھا۔
بلڈ پریشر اور دل کی مریضہ تھیں، لیکن اس حالت میں بھی گھر کے کام بھی کرتیں اوراباجان کی اتنی خدمت کی کہ جاننے والوں کا خیال ہے کہ اپنی بیماری کی پروا کیے بغیر انہوں نے ابا جی کا جتنا خیال رکھا ہے، ان کے جنت میں داخلہ کے لئے یہی کافی ہے، ان شاءاللہ۔ اس خدمت کی وجہ سے اباجی کا ان پر انحصار معمول سے بہت زیادہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امی کی وفات کے بعد اباجی ہمیشہ ان کو اس حوالے سے بہت یاد کرتے رہے۔ حالانکہ امی کی وفات کے بعدملتان میں خالد بھائی، ہماری بھابی، بھتیجے محسن اوراس کی اہلیہ نے ان کا بے حد خیال رکھا، لیکن وہ امی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔
امی جان بھی ابّا جی کے بارے میں بے حد فکر مند رہتی تھیں۔ یاد رہے کہ ابا جی امی کی وفات کے دو سال بعد فوت ہوئے۔ امی کی طبیعت میں خودداری انتہا درجے کی تھی۔ ہمیشہ اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ ایک لمحے کے لئے بھی کسی کا محتاج نہ کرنا۔ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کی، 80 سال کی عمر میں جس رات فوت ہوئیں، اس دن بھی اپنا اور اباجی کا کھانا خود بنایا اور گھر کے دوسرے کام بھی خود کیے۔
امی جان جگاڑ کی بھی بہت ماہر تھیں۔ میں جب پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو ہماری یونیفارم ملیشیا کے کپڑے کی ہوتی تھی، یعنی کالے رنگ کی، جس طرح واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز والے پہنتے ہیں۔ ایک دن یونیفارم کا کوئی مسئلہ ہو گیا تو امی جان نے راتوں رات ایک سوٹ کو کالا رنگ کر کے صبح آگ پر خشک کر کے یونیفارم پہنا کر مجھے سکول بھیجا۔ آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیلون اور حمام بھی بند ہیں اور بال کٹوانا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔
آج مجھے امی بہت یاد آئیں۔ ایک دفعہ سکول کے زمانے میں بال کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے تو امی نے مجھے دو تین بار بال کٹوانے کا کہا۔ میں نے حسبِ معمول سستی کا مظاہرہ کیا تو ایک دن گھر میں ”قابو“ کر کے کپڑے کاٹنے والی قینچی سے میری ”حجامت“ بنا دی اور ساتھ اپنا مخصوص جملہ بھی ”اچھے بھلے کاٹ دیے ہیں، نائی کون سا پھول لگا دیتا ہے“۔ بڑے بھائی نے میرے حوالے سے بتایا کہ چھوٹی عمر میں میں نے ایک بار ضد کی کہ میں نے روٹی کے دو الگ الگ دو ٹکڑے نہیں لینے بلکہ سالم روٹی لینی ہے۔
معاملہ خراب ہوتا دیکھ کر امی نے سوئی دھاگہ لے کر دونوں ٹکڑوں کی سلائی کر کے میری سالم روٹی والی ضد پوری کر دی۔ اس دور کی دوسری خواتین کی طرح وہ بھی ہر فن مولا تھیں۔ علاقے کی زیادہ تربچیوں کو قرآن شریف بھی پڑھایا، پھلوں کا مربّہ اوراچار ڈالنے کی بھی ماہرتھیں، اپنے لئے بھی بناتیں اوردوسرے لوگ بھی ان کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے۔ کپڑوں کی سلائی اور سوئٹرز کی بنائی بھی کر لیتی تھیں، اور دوسروں کو سکھا بھی دیتی تھیں۔
بڑے بھائی جان اکثر کہتے کہ آپ لوگ تو سکول کے زمانے سے ہی درزی کے سلے کپڑے پہننے لگے تھے، جبکہ ہم تو دسویں جماعت تک امی کے ہاتھ کے سلے کپڑے ہی پہنتے تھے۔ اس زمانے کی عورتوں کو کسی نے دستکاری سکولوں میں پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی ہوم اکنامکس کا کوئی کورس کرتی تھیں، لیکن پتہ نہیں کیسے وہ ان تمام فنون کی ماہر بن جاتی تھیں۔
جو دنیا میں آیا اس نے ایک دن ضرور جانا ہے، پر جانے والوں کی یادیں، خاص طور پر والدین کی یادیں ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کہنے کو تو چھ سال کا عرصہ بیت گیا ہے، پر غم اسی طرح تازہ ہے۔ ایسے دکھ سدا بہار ہوتے ہیں۔ باتیں تو کرنے کو ابھی بھی بہت ہیں، اتنی کہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ بس آپ سے یہی کہنا ہے کہ جس کسی کے والدین یا دونوں میں کوئی ایک زندہ ہے اور آپ کسی وجہ سے ان سے دور رہتے ہیں تو کوئی ایسا بندوبست ضرور کریں کہ وہ آپ کے ساتھ ہوں، ورنہ بعد میں تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، سوائے پچھتانے کے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


