پاکستان میں کرونا سے بھی بڑی مصیبت آنے کو ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت پاکستان کے سر پر دو خطرات منڈلا رہے ہیں …. ایک : کرونا اور دوسرا بگڑتی ہوئی معیشت ….. دوست جانتے ہیں کہ مجھے سنسنی پھیلانے میں دلچسپی نہیں، مگر معیشت کی جو حالت ہونے والی ہے اس سے میرے اپنے دماغ میں سنسنی دوڑ رہی ہے۔

ورلڈ بنک نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستانی معیشت میں پہلے سے موجود بحران، اور حالیہ لاک ڈاؤن کے سبب ، جاری مالی سال میں پاکستان کی معیشت میں انتہائی تنزلی آئے گی اور جی ڈی پی کی شرح منفی میں چلی جائے گی جو کہ منفی ایک اشاریہ تین سے منفی دو اشاریہ دو کے درمیان ہو گی۔ یہ خبر اہل پاکستان کے لئے کرونا بحران سے بھی بڑے بحران کی خبر دے رہی ہے۔

معیشت کی اس منفی شرح گروتھ پر میرا اندازہ ہے کہ صرف اسی سال میں تقریبا بیس لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے۔ اگر اگلے مالی سال میں معیشت بحال ہو کر بہتر پوزیشن میں نہیں آتی تو بے روزگاری اور غربت کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ جاری رہے گا۔

پاکستانی معیشت میں جب بھی بحران آیا ہے یا معاشی سرگرمیاں سست پڑی ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے اپنے اہل خانہ کو بھیجی جانی والی رقوم (remittances ) نے پاکستان کو معاشی طور پر خاطر خواہ مدد دی ہے۔ مگر یہ مدد اب کی بار زیادہ نہیں آنے والی۔ کیونکہ اس وقت گلف کے ممالک (خاص طور پر یو اے ای، قطر اور سعودی عرب)، امریکہ اور یو کے جہاں پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد مقیم ہے، معاشی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔

اس وقت کرونا سے لڑنے والے ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جن کی مونیٹری اور فسکل پالیسیوں کی استطاعت بہتر ہے ان میں خاص طور پر ترقی یافتہ مغربی ممالک آتے ہیں …. دوم وہ جن کی مونیٹری اور فسکل پالیسیوں کی استطاعت بالکل بھی نہیں ….

روایتی معاشیات (conventional Economics ) اور کینزین اکنامکس بار بار ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بحران کے دنوں میں مونیٹری اور فسکل پالیسی ہی حکومت کی سب سے بڑی مددگار ہوتی ہے۔ اس وقت امریکہ اپنی معیشت کو stimulus دینے کے لئے دو اشاریہ دو کھرب ڈالر، جرمنی ایک کھرب یورو اور جاپان ایک کھرب ڈالر کا اعلان کر چکا ہے …. مگر پاکستان نے یہ سبق کبھی نہیں سیکھا۔ اگر پاکستان مونیٹری پالیسی کے سبب کوئی stimulus دینے کی کوشش بھی کرتا ہے تو مہنگائی میں اضافہ ہو گا، اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے فنڈ بھیجنا کم کئے تو جہاں غربت و افلاس میں اضافہ ہو گا وہیں پاکستانی کرنسی مزید کمزور ہو گی جس سے مہنگائی کا عفریت پاکستانی معیشت اور شہریوں کی معاشی حالت ابتر کر دے گا۔

دوسری طرف فسکل پالیسی stimulus کی بھی پاکستان میں گنجائش نہیں … ایک سبب ہے ٹیکسز میں کمی، جو پہلے بھی ہو رہی تھی اور اب معاشی سرگرمیوں میں گراوٹ کے سبب مزید ہو گی… اگر ٹیکس ریوینو کم اکٹھا ہوا تو حکومت کی قوت خرچ انتہائی کم ہو گی …. دوسرا سبب اسٹیٹ بنک سے قرض لینے کی سکت نہ ہونا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہوا ہے اس کی رو سے حکومت سنٹرل بنک یعنی اسٹیٹ بنک سے قرض نہیں لے سکے گی دوسرا اسٹیٹ بنک کو ایک بطور آزاد ادارے کے قائم رکھا جائے گا جس کی پالیسیز میں حکومت مداخلت نہیں کرے گی۔ اس صورت میں رضا باقر حکومت سے تعاون نہیں کرے گا۔ اگر حکومت نے اسے پریشان کیا تو پاکستان آئی ایم ایف کو نہیں بھگت سکے گا۔ بالفرض اگر اسٹیٹ بنک اور آئی ایم ایف حکومت کو رعایت دے بھی دیتے ہیں کہ وہ اسٹیٹ بنک سے قرض لے سکے تو یہ صرف اس صورت میں ہو گا جب اسٹیٹ بنک نئے نوٹ چھاپے۔ اس کا کیا انجام ہو گا ؟ بنیادی اکنامکس کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا، روپے کی قدر مزید گرے گی اور ڈالر مزید مہنگا ہو گا۔

ایسے مواقع پر دو چیزیں پاکستان کی مدد کر سکتی ہیں :

ایک بیرونی امداد: اس کا امکان قدرے کم ہے کیونکہ مغربی ممالک نے یہ امداد صرف پاکستان کو نہیں دینی بلکہ بہت سارے ترقی پزیر ممالک کو بھی ملے گی جس کے سبب پاکستان کے حصے میں کم ہی آئے گا … دوسرا یہ کہ دینے والے کا اپنا ہاتھ بھی اس سال ذرا تنگ ہے کہ ان ممالک میں معاشی سرگرمیاں سست ہی ہیں۔ یوں جتنا بھی حاصل ہو گا پاکستانی معیشت کے پہیہ کو چلانے کے لئے ناکافی ہے۔

دوسرا آئی ایم ایف : آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان ایک ڈیل پہلے سے ہی چلا رہا ہے نئی ڈیل اس لئے بھی ممکن نہیں کہ آئی ایم ایف نے تقریبا سارے ترقی پذیر ممالک کو سپورٹ کرنا ہے۔ دوسرا حل ان قرضوں کی ریسٹرکچرنگ کا ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کرونا بحران کے اولین دن سے ہی بات کر رہے ہیں۔ مگر یہاں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ مدد تقریبا تمام ترقی پزیر ممالک کو مطلوب ہے، دوسرا یہ کہ کیا آئی ایم ایف میں اتنی سکت ہے کہ سب ترقی پزیر ممالک کو خاطر خواہ مدد دے سکے … تقریبا پچاس ارب ڈالر کا اعلان تو آئی ایم ایف پہلے بھی کر چکا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آئی ایم ایف میں اتنی سکت ہے کہ تقریبا ایک سال تک ترقی پزیر ممالک کی خاطر خواہ مدد کر سکتا ہے۔

اب سارا انحصار آئی ایم ایف پر باقی رہ گیا ہے اور شاید موجودہ حکومت اس بات کو جانتی بھی ہے۔ اس لئے بار بار آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹایا جا رہا ہے کہ وہ قرضوں کی واپس ادائیگی کو ری شیڈول کرے …. دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب صرف اپنے لئے نہیں بلکہ باقی ترقی پزیر ممالک کے لئے بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments