قرض کی دھوم دھام اور مفت کی غربت
چوہدری صاحب پتر کی شادی کرنی ہے کچھ پیسے چاہیں تارے نے چوہدری اقبال کے پاؤں دابتے ہوئے درخواست کی۔ چوہدری اقبال نے اپنی ایک ٹانگ جسے تارا داب رہا تھا پیچھے کی اور دوسری ٹانگ آگے کرتے ہوئے بولا، اوئے تجھے کتنے پیسے چاہیں۔ چوہدری صاحب ایک لاکھ روپے چاہیں۔ چوہدری اقبال کا ہاتھ جو مونچھوں کو تاؤ دینے کے لئے اٹھا تھا وہ مونچھوں تک پہنچ کے رک گیا۔ اور غور سے تارے کی طرف دیکھتے ہوئے چوہدری نے پوچھا اور واپس کب کرے گا یہ پیسے۔
طارق کو جب لگا کے چوہدری پیسے دینے پر تیار ہے تو اس نے زیادہ اچھی طرح سے پاؤں دبانا شروع کر دیے۔ اور کہا چودھری صاحب شادی کے بعد واپس کرنے شروع کردوں گا ویسے بھی میں آپ ہی کی نوکری کرتا ہوں تو تنخواہ سے آپ اپنے حساب سے روپے لیتے رہنا۔ چودھری تارے کی بات سن کر ہنسا اور کہا اوئے اتنے پیسے تو مرتے دم تک نہیں چکا سکتا تو کیا تیرے بعد تیرا پتر مجھے میرے پیسے واپس کرے گا۔ تارے نے کہا چودھری صاحب میرے پتر نے بھی تو آپ کی نوکری کرنی ہے وہ آپ کے پیسے واپس کیوں نہیں کرے گا۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے چوہدری اقبال نے اپنے منشی کو کہا کہ تارے کو ایک لاکھ روپے دے دے۔ تارے نے ایک لاکھ روپے لیے اور چوہدری کی نسلوں کو دعا دے کر اور اپنی نسلوں کو قرضے میں ڈبو کر گھر کو چلا گیا۔ تارے نے یقینا کہیں اور سے بھی پیسے لیے ہوں گے کیونکہ جتنا خرچ اس نے اپنے بیٹے کی شادی پر کیا وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھا۔ اور جب لوگ اس کی فضول خرچی کی تعریفیں کرتے تو وہ بہت خوش ہوتا۔ اور جب وہ لوگوں کو یہ کہتے سنتا تھا کہ اوئے تارے نے تو سب علاقے والوں پہ ٹانگ پھیر دی ہے۔
اوئے کیا کنجریاں نچایاں نیں اس نے پتر دی شادی تے۔ کیا دھوم دھام نال کیتی اے اس نے پتر دی شادی۔ اور ادھر چوہدری امجد پتہ نہیں اتنا پیسہ قبر اچ لے کے جانا اے یا کی کرنا اے۔ چپ چاپ منڈے دا نکاح کر دتا نہ کوئی ڈھول نہ باجا نہ بارات۔ ساتھ ہی کوئی اور لقمہ دیتا اوئے چوہدری امجد تاں پیسے دا پتر اے۔ پیسہ انج بچا کے رکھدا جیویں اے انہوں جنت اچ لے کے جاوے گا۔
دراصل چوہدری امجد نے اپنے بیٹے کا نکاح بڑی سادگی سے کیا اور دو دن بعد ولیمے کی دعوت کر دی۔ مگر ”کنجریوں“ کا ناچ دیکھنے والے بھوکے ننگے لوگوں کو اس کی یہ سادگی پسند نہ آئی۔ اور تارے کی اس بیہودہ فضول خرچی پر سب بہت خوش تھے۔ تارا اپنی تعریفیں سنتا اور اپنے کھردرے ہاتھوں سے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا۔ شادی کے ایک سال بعد تارے کے گھر پوتا پیدا ہوا تو تارا بہت خوش ہوا۔ اور چودھری اقبال سے پھر پیسے مانگنے گیا۔
تاکہ پوتے کی پیدائش کی خوشی میں کچھ مٹھائی وغیرہ بانٹی جائے۔ مگر چوہدری اقبال نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ابھی تک تو تونے پہلے والے پیسے نہیں لوٹائے۔ اب پھر آگیا ہے قرض لینے چل نکل کوئی نہیں میرے کول پیسے۔ اور تارا اپنا میلا کچیلا منہ لٹکائے واپس آگیا۔ کچھ عرصے بعد تارے کی بہو بیمار رہنے لگی۔ اس ایک پوتے کے بعد تارے کے بیٹے کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی کیونکہ اس کی بیوی آئے روز بیماری کی وجہ سے موت کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔
تارے یا اس کے بیٹے کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ اپنی بہو بیوی کا ڈھنگ سے علاج کروا سکتے۔ الٹا چودھری اقبال کا قرض اتارنے کی فکر رہتی تھی۔ تارے کا پوتا نعمان جسے سب نومی نومی کہتے تھے جب پانچ سال کا ہوا تو جب وہ اپنے ہم عمر بچوں کو سکول جاتے دیکھتا تو اس کا دل بھی سکول جانے کے لیے مچلتا۔ پھر جب وہ چھ سال کا ہوا تو اس نے اپنے ابو سے سکول جانے کے لیے کہا تو اس کے ابو نے اسے سکول بھیج دیا۔ کچھ دن تو اساتذہ نے اس کے میلے کچیلے کپڑوں کو برداشت کیا۔
مگر پھر انہوں نے کہا کہ اوئے کل توں وردی پا کے آویں نہیں تاں سکول نہ آویں۔ نومی نے جب گھر آکر اپنے والد سے وردی لے کے دینے کا کہا تو وہ بگڑ بیٹھا۔ اوئے کوئی لور نہیں سکول جانے کی۔ تو آرام کر توں کون سا افسر لگ جانا اے پڑھ کے۔ اور نومی روتا ہوں اپنی ماں کے پاس چلا گیا جو چارپائی پہ لیٹے موت کی راہ دیکھ رہی تھی۔ مگر اس وقت بھی ممتا نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہ کیے اور نومی کے آنسو صاف کیے اور اسے گلے لگایا۔ پھر نومی کے ابو کی آواز آئی۔ اگر تیری دوائیوں پہ پیسے خرچ نہ ہوتے ناں تو میں لے دیتا اسے وردی۔ پتہ نہیں کون سا روگ لے کے آئی تھی کیسی منہوس شکل ہے تیری کہ گھر میں ایک بیٹے کے سوا تو نے اور کوئی خوشی نہیں دی اور بیمار ایسے ہوئی رہتی ہے جیسے ثواب کا کام ہو۔
اور نومی کی ماں چپ چاپ سب باتیں سہ جاتی آخر وہ کرتی بھی کیا۔ مگر اس کے ذہن میں ایک بات ضرور رہتی۔ کہ مجھ سے مزید بیٹوں کی خواہش کرنے والا ایک بیٹے کو تو ڈھنگ سے کھلا پلا نہیں سکتا۔ نئے بچوں کے کھانے پانی اور لباس کا انتظام کیسے کرے گا۔ شام کو جب تارا چوہدری اقبال کے ڈیرے سے گھر واپس آ رہا تھا تو راستے میں اسے چوہدری امجد ملا اور اس نے تارے کے گھر کی خیریت دریافت کی۔ جس پر ہمیشہ کی طرح تارے نے اپنی بہو کی بیماری کا رونا رویا۔ تو چوہدری امجد نے جیب سے دو ہزار روپے نکال کر تارے کو دیے۔ تاکہ وہ اپنی بہو کے لیے دوائی خرید سکے۔ اتنے میں نومی نے پاس آ کر دادا ابو سے کہا کہ مجھے وردی لے دیں مگر تارے نے کہا پتر یہ چوہدری صاحب نے کچھ رقم دی ہے
تو یہ تو تیری ماں کی دوائی پہ لگ جائے گی تیری وردی تو میں نہیں لے سکتا۔ تم ایسے کرو سکول چھوڑ دو۔ نومی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تب چوہدری امجد نے کہا نومی پتر تو چل میرے ساتھ میں تجھے وردی لے دوں گا۔
اور پھر اپنی عادت کے برخلاف چوہدری امجد نے تارے کو بات کی کہ اگر توں اپنے بیٹے کی شادی پر فضول خرچی نہ کرتا تو اب تیرے پاس بہو کے علاج اور پوتے کی پڑھائی کے لئے رقم ہوتی۔ اور تارا چپ چاپ سر جھکائے گھر کی طرف چل دیا۔ مگر اس کا ضمیر چپ نہیں تھا وہ چلا چلا کر کہہ رہا تھا تارے تو نے غلط کیا ہے تو نے غلط کیا ہے۔


