خون آشام کورونا سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مصروف ترین روڈ پر بھی ایک گمبھیر سناٹا تھا میں نے مڑ کر دائیں جانب دیکھا تو وہ وسیع و عریض شاپنگ مال اپنی ویرانی کا نوحہ پڑھ رہا تھا جس میں دُنیا بھر کے برانڈز کی دُکانیں امیر لوگوں کو اپنی امارت اور تکبّر کی نمائش کے مواقع فراہم کرتی تھیں، جہاں جوتوں سے پرس تک کی قیمت ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں روپے میں ہوتی تھی۔ جہاں ایک مخصوص کلاس کی خواتین اور نوجوان اپنے تیسرے درجے کی ذہانت اور مشکوک دولت کی نمائش کو جدید فیشن کا نام دیتے تھے۔

میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور بائیں جانب دیکھا تو ایک چمکتی ہوئی سر بفلک عمارت تیزی کے ساتھ گرد میں گم ہونے لگی تھی۔ اس عمارت میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹرز لیکن ذہنی حوالے سے قصائی بیٹھا کرتے تھے جو غریب اور مجبور مریضوں کو مہنگی لیکن غیر ضروری دوائیاں لکھ کر میڈیسن کمپنیوں کو لوٹ مار کے مواقع فراہم کرتے۔ جس کے بدلے میں یہ کمپنیاں نہ صرف ان کے عالیشاں بنگلوں کی تعمیر کا بیڑا اُٹھاتیں بلکہ ائیرکنڈیشنر سے قالین اور فرنیچر سے گاڑی تک کی ذمہ داری بھی اُٹھاتیں۔ بیرون ملک سیر سپاٹے اور لگژری ہوٹلوں میں قیام الگ سے دان کیے جاتے۔

دائیں جانب مڑا تو ایک بہت بڑا کمپلیکس سامنے تھا اس کمپلیکس کی راہداریوں میں صبح سے شام تک انصاف کی منڈی لگی رہتی تھی جس کے گاھک با اثر اور طاقتور لوگ ہوا کرتے تھے، اور دلالی قانون کے رکھوالوں کے سپرد تھی۔ شاھراہ کے دوسری طرف ایک جدید عمارت کے چمکتے ہوئے شیشوں پر وقت تھوک چکا تھا، اور کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں دھندلائے ہوئے شیشوں کے پیچھے اس غریب دوشیزہ کی مانند کھڑی تھیں جس کے بالوں میں گزرتے وقت کے ساتھ چاندی اور دل میں ناپرسانی کا درد پیہم اترنے لگیں۔

سناٹا خوف برسا رہا تھا لیکن دل درد اور وحشت کی ملی جلی آمیزش کی جانب مائل تھا۔
سو دوسرے روڈ پر گاڑی اُتار دی چوک کے بائیں جانب ایک بہت بڑے مدرسے کی عمارت دکھائی دی جو ہمیشہ سے اور حسب معمول زیر تعمیر تھا، یہاں سے مولوی صاحب قرآن پاک کی اعلٰی ترین اور آفاقی تعلیمات کی بجائے صبح شام جہالت اور جبر پر مبنی اپنی خود ساختہ تشریحات کرتا اور اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھاتا رہا۔

چوک کے دائیں جانب مڑا اور سیدھے روڈ پر آیا یہاں میڈیا یعنی ٹیلی وژن چینلوں اور اخبارات کے دفاتر تھے، انہی عمارتوں میں ہم لوگ (صحافی) سچ بولنے کی بجائے تولنے لگے تھے، بلیک میلنگ اور بہتان طرازی تو گویا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ قلم اور کیمرے ہمارے خوفناک ہتھیار تھے لیکن طاقت کے سامنے ان ہتھیاروں کو ہمیشہ سفید جھنڈا بنائے رکھتے۔

تھوڑا سا آگے گیا تو عالیشان ہوٹلوں اور ریستورانوں کا ایک سلسلہ تھا۔ یہ جگہیں بھوک کا مذاق اُڑانے اور مفادات پر مبنی مصنوعی تعلقات بنانے کے لئے مختص تھیں نیز شادی بیاہ جیسے مقدس فریضے کو دوسروں پر رعب ڈالنے اور کمرشلائز کرنے کے لئے بھی ان دیوہیکل عمارتوں کا استعمال کرتے اور خود کو اور اپنے خاندان کو سماجی زندگی کی سطح پر ایک دیو بنا کر پیش کرنے لگتے۔

تھوڑا سا آگے موڑ مڑا تو ایلیٹ کلاس کے عالیشان گھروں کو نحوست بھرا سناٹا لپیٹ میں لے چکا تھا۔ اس علاقے میں صبح صبح کچرا اُٹھانے اور دودھ دینے والے کے علاوہ سارا دن کسی ”پسماندگی“ کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ اس علاقے میں بڑے باپوں کی بگڑی اولادیں بیش قیمت گاڑیوں کے سائلنسرز نکال کر رات بھر اپنے باپ کی جھوٹی حیثیت اور حرام مال کی نمائش کرتے لیکن آج ان محلات کے مکین فنا کے خوف سے جائے نمازوں تک محدود ہو گئے تھے۔

شام ڈھلنے لگی تھی اور میں نے ان گھروں پر نگاہ ڈالی تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی گھنے قبرستان کے وسط میں کسی گورکن کے پراسرار کٹڑے کے سامنے کھڑا ہوں، جھاں موت لاشیں اور لحد کے علاوہ نہ کوئی دوسرا نظارہ ہے نہ ہی کوئی موضوع سخن۔ اس دہشت انگیز ماحول سے نکلنے کے لئے میں ویران راستوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سرپٹ گاڑی دوڑاتا رہا آخری موڑ مڑتے ہوئے رفتار کم ہوئی تو روڈ سے ذرا فاصلے پر پل کے نیچے ایک خستہ حال لاغر اور نحیف و نزار ہیولے پر نظر پڑی میں نے بادل نخواستہ خوف برساتے شام میں ایک سائیڈ پر گاڑی روک دی اور اس پر اسرار ہیولے کے قریب جا کر پوچھا کہ آپ کون ہو؟

کورونا؟

میں اس غیر متوقع جواب پر چونکا لیکن خوف پر قابو پاکر پوچھا کہ چلو آپ کورونا ہی سہی لیکن یہ بتائیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ آخر انسانوں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے جو انہیں فنا کرنے کے درپے ہو؟

میرا تو کچھ نہیں بگاڑا لیکن ایک دوسرے کا تو بگاڑا ہے نا اور یہ تو تم جانتے ہو کہ جسے اپنے مخلوق سے ستّرماؤں سے بھی زیادہ محبت ہو وہ کب تک اس حوالے سے درگزر کرتا رہے؟

رہی میری بات تو میں صرف حکم کی تعمیل کا ذریعہ ہوں ورنہ سمندروں سے سیاروں تک کو چیرنے والے جدید دور کے انسان کے سامنے ایک بے جان ذرّے کی کیا طاقت اور اہمیت؟

اس جواب پر میں چونکا لیکن خوف اور دہشت سے بھرے شام میں بھی اس آواگون مکالمے کا تجسس تھا اس لئے اگلا سوال کر ڈالا کہ چلو ہم لوگ برے ظالم اور انصاف سے دور ہی سہی لیکن مغرب اور دوسرے ممالک تو ایسے نہیں تھے۔ پھر انہیں کیوں ایک بے رحم عذاب نے جکڑ لیا۔

اس بار اس کا نحیف لیکن پراسرار سا قہقہہ گونجا اور میری طرف دیکھتے ہوئے پتھر یلے لہجے میں کہا کہ وہ آپ سے بھی بدتر تھے لیکن آپ اپنی ذہنی استعداد اور طاقت کے مطابق چھوٹی چھوٹی اور مقامی وارداتیں کرتے رہے اور وہ اپنی ذہنی سطح اور طاقت کے مطابق بڑی بڑی وارداتیں۔

ان میں سے کوئی مادی طاقت کو خُدا کا روپ دینے لگا تو کوئی کمزور ملکوں کو ملیامیٹ کرنے لگا اور یہ جو ان کے انصاف کا بول بالا تھا وہ صرف اپنے لئے تھا کسی اور کے لئے نہیں ورنہ کیا شام سے افغانستان اور عراق سے فلسطین تک ان جیسے انسان نہ تھے؟

تم سارے کے سارے ایک دوسرے کے لئے ظالم بے حس اور حریص اور خدا کے سامنے مجرم ہو کوئی انفرادی سطح پر تو کوئی اجتماعی سطح پر اس لئے اب سارے کے سارے بھگتو گے بھی۔

میرے پاس اب نہ کوئی سوال بچا تھا نہ ہی کوئی جواب۔

اس لئے ایک آہ و زاری کے لہجے میں کہا کہ ہم اللہ تعالی سے اپنے گناھوں کی معافی مانگتے ہیں۔

اس نے ایک سفاک لہجے کے ساتھ کہا کہ اس طرح یعنی صرف سجدوں اور آہ و زاری سے معافی ملتی تو آپ پر خانہ کعبہ سے ویٹیکن تک کے دروازے بند کرتا؟ کیونکہ مسجدوں سے مندروں اور گرجا گھروں سے خانقاہوں تک آپ کی عبادت صرف ہاتھ پاوں یا زبان کے ظاھری عمل تک محدود تھی جبکہ خدا تک رسائی کا راستہ دل اور نیت سے ہو کے جاتا ہے۔

میرے پورے بدن نے خوف اور دہشت سے جھرجھری لی اور میں خشک ہوتے حلق کے ساتھ بمشکل اتنا پوچھ پایا کہ پھر معافی کا کون سا راستہ بچتا ہے؟

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر مجھ پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے اس غلطی کا ازالہ جو آپ سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مسلسل سرزد ہو تا رہا۔

اس نے رکے بغیر کھردرے لہجے کے ساتھ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بس مخلوق کے لئے اذیت کی بجائے راحت اور سکون کی تلاش میں لگ جاؤ اسی سے مالک کی خوشی ہے کیونکہ عبادت کے لئے دوسری مخلوق کی کمی ہے کیا؟ بات سمجھ جاوگے اور راہ راست پر آ جاوگے تو وہ عذاب کو انعام میں تبدیل کرتے دیر نہیں لگائے گا۔

رہی میری ”ڈیوٹی“ تو وہ میں اس وقت تک نبھاتا رہوں گا جب تک اس کی معطلی کا حکم نہیں آجاتا۔ مجھے نہ تو اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی کوئی اختیار کہ انسانوں پر کیا گزر رہی ہے اور کرہ ارض پر انسانی بقا کا مستقبل کیا ہے۔ میں تو حکم تب تک بجا لاتا رہوں گا جب تک فنا بانٹنے کی طاقت کسی موسمی تبدیلی کسی ویکسین یا کسی اور معجزے کے ذریعے مجھ سے واپس نہیں لی جاتی۔

یہ سن کر میں ایک لرزا دینے والی دہشت کے ساتھ گاڑی کی طرف بھاگا دیکھا تو سٹیئرنگ سے سیٹوں اور بونٹ سے ڈگی تک ہزاروں لاغر ہیولے اس سے چمٹ چکے تھے پلٹ کر دیکھا تو شہر خوف اور دہشت سے سمٹا ہوا تھا اور اس لاکھوں پر اسرار لاغر ہیولوں کا رخ شہر کی جانب ہی تھا۔ میں نے بے بسی کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا تو بہت گھنے بادل جھائے ہوئے تھے لیکن اس کی اوٹ سے کہیں نہ کہیں کوئی تارہ بھی روشنی باٹتا دکھائی دینے لگتا اور یہی اس گھپ اندھیرے میں آخری سہارا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *