کورونا کی آزمائش اور ہمارے متنوع ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پنجاب حکومت نے مارچ اور اپریل، دو ماہ کا مکان اور دکان کا کرایہ مانگنے پر پابندی عائد کر دی ہے، پنجاب حکومت کا یہ فیصہ بظاہر اچھا ہے، کیوں کہ اس میں عوام کے بھلے کی بات کی گئی ہے لیکن بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے کے مصداق، پنجاب حکومت کے فیصلہ سازوں کو شاید معلوم نہیں ہے کہ مہینا شروع ہوتے ہی کرایہ داروں سے کرایہ وصول کر لیا جاتا ہے۔

اس پابندی کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے جن دو ماہ کا کرایہ مانگنے پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ کرائے دار پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اور ان دو ماہ کے کرائے کی واپسی یا اگلے مہینوں میں ایڈجسٹ کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے یہ اعلان محض اس لیے کیا گیا، تا کہ معلوم ہو سکے کہ حکومت عوام کے مسائل سے غافل نہیں۔ رہی بات عمل در آمد کی تو پہلے کتنے احکام پر عمل در آمد ہوا ہے جو اس حکم پر ہو گا۔

پنجاب حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی مالک مکان گھر خالی کرانے یا ان دو ماہ کے کرائے کی ادائی پر مجبور کرے تو حکومت سے رجوع کریں لیکن رجوع کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں بتایا گیا کہ بے چارے عوام مشکل میں کس کا در کھٹکھٹائیں۔ اب عملاً ہو گا یہ کہ کرایہ دار اپنا مقدمہ مالک مکان کے پاس لے کر جائیں گے اور وہ ماننے سے انکاری ہوں گے۔ یوں کرایہ دار اور مالک مکان آپس میں تنازع کر کے خاموش ہو جائیں گے اور چوں کہ کرایہ داروں کی مکان میں رہنے کی مجبوری ہوتی ہے، اسی طرح دکان والوں کی بھی مجبوری ہوتی ہے، تو انھیں بہر صورت کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔

عجیت یہ ہے ان مشکل ایام میں بھی مکان خالی کرائے جا رہے ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیوں کہ دکان اور مکان کے مالکان ایک مافیا کی شکل دھار چکے ہیں۔ اس مسئلے کا خوش گوار پہلو تو یہ تھا کہ مکان اور دکان کے مالک موجودہ حالات میں ازخود ہی کرایہ معاف کر دیتے یا کم ازکم اس ضمن میں حتی المقدور ریلیف دیتے، کہ ہم نے برسوں تک کمائی کی ہے، اب اگر مشکل کے ایک دو ماہ میں کرایہ نہ بھی لیا، تو کیا فرق پڑتا ہے لیکن افسوس ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

گزشتہ دنوں میں مجھے دو مختلف تجربوں سے گزرنا پڑا۔ ایک تو مکان کو خالی کرنے کا نوٹس مل چکا تھا، سو ہم نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر مکان خالی کر دیا اور اللہ نے اپنے فضل سے نئے مکان کا انتظام بھی کر دیا، لیکن ان دنوں مکان خالی کرنے کے نوٹس نے دلی صدمہ دیا کہ یارب ایسے لوگ بھی تیری دھرتی پر آباد ہیں۔

دوسرا خوش گوار تجربہ اسکول کی فیس کے سلسلے میں ہوا۔ میرے دو بچے ایک نجی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ لاک ڈاون کی وجہ سے مارچ کی فیس جمع نہ ہو سکی تو اپریل اور مارچ کی فیس جمع کراتے ہوئے میں نے پرنسپل سر خالد سے کہا کہ پنجاب حکومت نے فیس میں 20 فی صد کمی کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے جو بات کہی تو جیسے میرا دل جیت لیا۔ کہا کہ 20 فی صد فیس میں کمی تو ہو گی ہی اگر آپ اس ماہ کی مکمل فیس بھی ادا نہ کرنا چاہیں، تو اس کی گنجائش بھی ہے۔ کیوں کہ چار سال سے آپ کے بچے ہمارے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ ان سالوں میں آپ نے پوری فیس ادا کی ہے۔ میں نے تہ دل سے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اللہ کے فضل سے ہم فیس ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ یہ سہولت کسی مستحق کو دیں تو مجھے خوشی ہو گی۔ میں پرنسپل سے اجازت لے کر اٹھا توگہری سوچ میں پڑ گیا، کہ ایک طرف مالک مکان کا خود غرضانہ طرز عمل ہے جو چند یوم کی مہلت دینے کو تیار نہیں اور دوسری طرف اسکول کے پرنسپل کا دوستانہ طرز عمل۔

اپنا تجربہ آپ سے شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج پاکستانی قوم جس درد سے گزر رہی ہے، ان دنوں ہمیں یقیناً ایسے ہی دوستانہ طرز عمل کی ضرورت ہے، جو اپنے درد کے ساتھ دوسروں کے درد کو بھی سمجھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *