نیلسن منڈیلا ۔۔۔ اور ہمارے منڈیلا



رچرڈ سٹینجل ایک امریکی صحافی ہے۔ یہ صحافی امریکہ میں ہفت روزہ جریدے ٹائم کا ایڈیٹر بھی رہ چکا۔ بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے بھی کام کر چکا مگر اس کی شہرت ایک کتاب بنی۔ جی ہاں ایک کتاب۔ اور وہ کتاب تھی ”نیلسن منڈیلا“ کی بائیو گرافی۔ نیلسن منڈیلا کی بائیوگرافی لکھنے کے بعد اس شخص نے شہرت کی وہ بلندیاں حاصل کیں کہ شاید یہ اپنی ساری عمر جریدوں اور اخباروں کے لئے وقف کر دیتا تو حاصل نا کر پاتا۔

نیلسن منڈیلا بیسویں اور اکیسویں صدی کی آخری دہائیوں کا ہیرو کہلواتا ہے۔ اس نے تاریخ کو جرات بہادری اور لیڈر شپ کی وہ مثال دی کہ شاید صدیاں بھی دوبارہ ایسی مثال قائم نا کر سکیں۔ مگر ہم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کیا وجہ تھی وہ کیا خوبی تھی جس نے منڈیلا کو یہ شہرت یہ دوام عطا کیا۔ یوں تو ان کی ذات کئی خوبیوں کی ہمہ وقت مالک تھی مگر سب سے خاص چیز جو قدرت نے ان کو ودیعت کی تھی وہ تھی لیڈر شپ۔

نیلسن منڈیلا نے نا صرف اپنی ذات کی حد تک ان خوبیوں کو نبھایا بلکہ اس نے آنے والی نسلوں کو لیڈر شپ کے اصولوں سے واقف کیا۔ انہوں نے اپنی قوم کو لیڈر شپ کے آٹھ اصول سمجھائے جن اصولوں کو جنوبی افریقہ کے نصاب تعلیم کا حصہ بنایا گیا۔ جنوبی افریقہ کے محققین اور پالیسی میکرز کا کہنا ہے کہ ہم اگر اپنے بچوں کو ان راہنما اصولوں پر کاربند ہونے پر آمادہ کر سکے تو ہماری اگلی نسلیں دنیا پر حکمرانی کرنے کی قابلیت اور فن سے آشنائی حاصل کر لیں گے۔

ان آٹھ اصولوں میں پہلا اور دائمی اصول ہے ”بہادری“۔ نیلسن منڈیلا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بہادر نہیں تو وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر لیڈر، راہنما نہیں ہو سکتا۔

اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی صحافی بیان کرتے ہیں۔

یہ 1994 کے صدارتی الیکشن کا دور تھا میں اور چند دوست ایک چھوٹے جہاز پر الیکشن کی کمپئین کے سلسلے میں نٹال میں زولو قبیلے سے ایک ملاقات جو کہ خالصتا ان سے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے تھی وہاں جا رہے تھے کہ اچانک اس جہاز کے پائلٹ نے اعلان کر دیا کہ ہمارے جہاز کا ایک انجن خراب ہو چکا ہے۔ ممکن ہے کہ ہم محفوظ لینڈنگ نا کر پائیں اس دنیا سے کوچ کر جائیں۔ جہاز ہچکولے کھا رہا تھا اس کی پرواز کی ترتیب بگڑ چکی تھی۔ اس جہاز میں ہمارے علاوہ چورانوے مسافر تھے۔ سب کے چہرے فق ہو چکے تھے۔ اس جہاز میں سوار تمام مسافر مجھ سمیت گھبراہٹ میں چیخ و پکار کررہے تھے۔ مگر ان تمام میں نیلسن انتہائی سکون سے اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔ میری نظر ان کے چہرے پر پڑی میری انتہائی کوشش کے باوجود ان کے چہرے پر خوف اور ڈر کا ایک شائبہ بھی نظر نا آسکا۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر تمام مسافر بھی آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگے مسافروں اور بلخصوص میرے دل نے اطمینان اور سکون محسوس کیا۔ اس دوران تقریبا بیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد یہ جہاز قریب ترین ائیرپورٹ پر حفاظت سے لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہم سب جہاز سے اترے اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہو گئے۔

صحافی نے سوال کیا کہ نیلسن مجھے یہ بتائیے کہ کیا آپ کو خوف نہیں آیا؟ کیا آپ کو نہیں لگا کہ آج زندگی ختم ہو جانے کا دن ہے؟

منڈیلا نے جواب دیا کہ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی شخص اس دنیا میں موجود نہیں جو خوف اور ڈر سے نابلد ہو۔ کوئی ایسا نہیں جس کے جسم میں خوف سرایت نا کرسکتا ہو۔ عام آدمی اور ایک لیڈر میں یہی فرق ہے کہ وہ اندر موجود خوف کو اپنے چہرے پہ ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ وہ دنیا کے سامنے اپنے اندر پلتے خوف کو ظاہر نہیں کرتا۔ اسی طرح میں نے بھی خوف کو محسوس کیا۔ ان بیس منٹ کے دوران میری دھڑکنیں بھی بے ربط ہوں گئیں۔ میں نے بھی خوف سے اپنی سانسوں کو پھولتے محسوس کیا مگر لمحہ بھر توقف کے بعد کے بعد میں نے اس پر قابو پا لیا اور تمام راستے مطمئن نظر آنے کی ایکٹنگ کی۔ منڈیلا نے چند ثانیے خاموشی اختیار کی اور پھر بولے سوچو رچرڈ اگر میں بھی گھبرا جاتا میں بھی آپ سب لوگوں کی طرح پریشان نظر آتا تو پھر اس جہاز میں سوار کتنے لوگ ہارٹ اٹیک کروا بیٹھتے۔

قارئین نیلسن منڈیلا کی اس خوبی نے اسے لیڈر کے خطاب سے نوازا اس میں یہ خوبی موجود تھی جس نے دشمن کو جھکنے پہ مجبور کیا اور یہی وہ خوبی تھی جس نے اس سے امید باندھی عوام کو مضبوط کیے رکھا۔

کاش عمران خان نے رچرڈ سٹینجل کی لکھی اس بائیوگرافی کو پڑھا ہوتا۔ کاش کہ اسے اس بات سے آشنائی ہوتی کہ لیڈر مشکلات میں نوحے نہیں بہایا کرتے بلکہ اپنی قوم کے سامنے بہادر نظر آیا کرتے ہیں کہ اس کی رعایا مضبوط اعصاب سے متاثر ہو کر خود بھی بہادری کی راستے پر ڈٹی رہے۔ مگر نہیں ایسا ممکن نہیں ہوا ہمارے نام نہاد لیڈر نے اس مشکل دور میں نا صرف کمزوری دکھائی بلکہ خود سے بندھی امیدوں پر پانی پھیر کر پوری قوم کو مایوسی کے اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ یہاں صرف لیڈر کی کمزوری نہیں ہماری عوام کی کم عقلی بھی کھل کر سامنے آئی کہ اس نے لیڈر کے رونے کو محبت سے تشبیہ دے کر محبت کی بھی توہین کی ہے۔

اگر آپ نے محبت ہی دیکھنی ہے تو ذرا اٹھاؤ سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ ایک بار غزوات کے دوران تلوار اٹھائے میرے اور اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار پر نظر ڈالئے ۔ قوم سے محبت کی مثال ہی دیکھنی ہے تو پھر طائف کی گلیوں میں خون سے لت پت آقائے دوجہاں کی زبان سے بیان ہوتے ان الفاظ کو ذرا سنئیے جو انہوں جبرائیل کے ذریعے اللہ کی طرف سے پوچھی گئی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مرضی کے بعد بیان کئیے گئے۔

میری آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے جو اس رونے کو محبت سے تشبیہ دے رہے ہیں خدارا اس کمزوری کو محبت کو تشبیہ دے کر اپنے جذبات اور محبت کے اوصاف کی توہین کرنے سے گریز کریں۔

Facebook Comments HS