کیریکٹر ایکٹر اور پاکستان ٹیلی وژن کے اداکار کمال ایرانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میرے ہم مکتب اور ہم جماعت سید شبیر نواز صفوی کے چچا مشہور آدمی تھے۔ اکثریت کے چچا اور ماموں ویسے ہی پیارے اور میٹھے ہوتے ہیں اور شبیر کے یہ چچا کمال ایرانی تو واقعی کمال کے چچا تھے۔ 05 اگست 1932 بروز جمعہ، پیدا ہونے والے کمال الدین صفوی المعروف کمال ایرانی، پاکستانی فلمی صنعت کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ پاکستان فلم ڈیٹا بیس کے مطاق انہوں نے 244 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اِن میں 188 اُردو، 43 پنجابی، 08 سندھی اور 05 پشتو ہیں۔

یہ وہ خوش نصیب کیریکٹر ایکٹر ہیں جِن پر کسی مخصوص کردار کی چھاپ نہیں لگی۔ فلم بینوں نے انہیں منفی اور مثبت دونوں طرح کے کرداروں میں یکساں پسند کیا۔ اسکول کے زمانے میں میری اُن سے کوئی بہت زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئیں لیکن جو بھی ہوئیں وہ میرے لئے یادگار تھیں۔ وقت نے چھلانگ لگائی اور شبیر نواز صفوی ڈاؤ میڈیکل کالج اور برطانیہ سے ہوتے ہوئے ڈاکٹر شبیر بن کر واقعی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے لگا اور 02 مرتبہ اپنی جان بھی خطرے میں ڈالی۔ اوریہ خاکسار افریقہ سے ہوتے ہوئے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام سے منسلک ہو گیا۔

1981 میں جب میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں پروڈیوسر حیدر امام رضوی کے ساتھ ڈرامہ سیریل ”سہارے“ کی کاغذی تیاریاں کر رہا تھا۔ اِس میں چچا اور بھتیجے کے بڑے جاندار کردار تھے۔ اُن دنوں اداکار توقیر ناصر لاہور سے کراچی آیا ہوا تھا۔ مشورہ ہوا کہ توقیر بھتیجے کے رول پر صحیح بیٹھے گا اور چچا کے کردار کے لئے کمال ایرانی موزوں ترین ہوں گے۔ یہ ڈرامہ سیریل چچا کمال ایرانی سے میری ملاقاتوں کی تجدید ثابت ہوا۔

ڈرامہ سیریل ”سہارے“ میں چچا بھتیجے کی جوڑی عوام میں بہت مقبول ہوئی۔ پی ٹی وی اسٹوڈیو میں یا آؤٹ ڈور عکس بندی کے لئے جب بھی وقت دیا گیاچچا کمال ایرانی ہمیشہ وقت پر موجود ہوتے۔ اِن کے تذکرہ نگار بھی اُن کی پابندی وقت کی تعریف کرتے ہیں۔ اِس سیریل کی کئی ایک باتیں یادگار ہیں۔ چچا کمال ایرانی سے ٹیلی وژن میں پہلی ریہرسل کے موقع پر میں نے اُن کے بھتیجے ڈاکٹر شبیر نواز صفوی، اُس کے والدین اور بہن بھائیوں کا حوالہ دیا۔ بہت خوش ہوئے۔ پھر پروڈیوسر حیدر امام رضوی سمیت ’‘ سہارے ”کی تمام کاسٹ سے میرا تعارف کرایا“ یہ میرا بھتیجا ہے! ”۔ پھر اُسی دن کسی ضرورت کے تحت مجھ سے مخاطب ہوئے تو خاکسار کے نام کے ساتھ لفظ ’صاحب‘ لگایا۔ جب وقفہ آیا تو میں نے موقع پا کر چچا کمال سے پوچھا :“ ایک طرف تو آپ مجھے بھتیجا کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ’صاحب‘ ! یہ کیا بات ہوئی؟ ”۔ کہنے لگے :“ میاں بھتیجے! ریہرسل، ریکارڈنگ وغیرہ کے دوران میں آرٹسٹ ہوں اور تم پروڈیوسر، اس لئے صاحب کا استعمال کیا۔ نظم و نسق کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے تا کہ دیگر آرٹسٹ جان جائیں کہ چچا کمال ایرانی کو الگ سے کوئی توجہ حاصل نہیں اور بھتیجے تو تم میرے ہو نا! ”۔ یہ کہہ کر وہ بہت زور سے ہنسے۔

میں نے چچا کمال کو تقریباً 14 سال بعد دیکھا تھا۔ خوش لباس تو وہ پہلے بھی تھے اِن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ وہی لال سرخ چہرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وقت نے اُن کے چہرے اور جسامت پر کوئی خاص فرق نہیں ڈالا تھا۔ ما شاء اللہ پہلے سے زیادہ باوقارنظر آئے۔ اِس ڈرامہ سیریل میں اداکار کمال ایرانی اور توقیر ناصر چکر باز اور شاطر چچا بھتیجے کے کردار ادا کر رہے تھے۔ چچا کمال کے پہلے سین کے پہلے شاٹ میں عجیب بات ہو گئی۔ یہ میرے علاوہ اسٹوڈیو میں موجود تمام ہنر مندوں اور آرٹسٹوں نے بھی نوٹ کی۔ وہ یہ تھی کہ جیسے ہی خاکسار نے ’ٹیپ رولنگ‘ کی صدا بلند کی، چچا کمال اپنے چہرے پہ عیاری کے وہ زبردست تاثرات لے آئے جو ریہرسل، حتیٰ کہ ’فائنل ریہرسل‘ تک میں نمایاں نہیں تھے۔

اِس کے ساتھ ساتھ اپنے مکالمے بہت بیساختہ انداز میں ادا کیے ۔ سامنے توقیر ناصر نے بھی جواباً اپنے کردار کا حق ادا کر دیا۔ جیسے ہی شاٹ او کے ہوا۔ چچا کمال پھر سے وہی سادہ چچا کمال ایرانی بن گئے۔ تمام لوگوں نے چچا کے چہرے میں تاثرات کی یہ بیساختہ تبدیلی دیکھی اور مختلف انداز سے تبصرے بھی کیے ۔ شاید اداکارتوقیر ناصر کا فلم ایکٹر کمال ایرانی کے ساتھ یہ پہلا تجربہ تھا وہ بھی حیران رہ گیا۔ اُن کی مسکراہٹ بھی ایک عجیب مسکراہٹ تھی جو سارے زمانے میں منفرد تھی۔ اِن کی مسکراہٹ دو طرح کی ہوا کرتی تھی۔ ایک منفی اور ایک مثبت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوردونوں ہی ممتاز تھیں۔

جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا کہ مذکورہ ڈرامہ سیریل میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے اسٹوڈیو کے ساتھ بیرونی شوٹنگ بھی ہو تی تھی۔ ایسی ریکارڈنگ میں کسی بھی اداکار کا کئی شعبوں سے واسطہ رہتا ہے جیسے : پروڈکشن کا شعبہ جس میں پروڈیوسر، معاون پروڈیوسرپھر اسکرپٹ کا شعبہ، میک اپ کا شعبہ جس میں میک اپ آرٹسٹ شفٹوں میں کام کیا کرتے ہیں، وارڈ روب کا شعبہ اس سے بھی اداکاروں کا بہت واسطہ پڑتا ہے، سیٹ ڈیزائن، ساؤنڈ کا شعبہ جس میں بُوم آپریٹر کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، پھر بیرونی ریکارڈنگ جو اُس زمانے میں ای این جی ENG ریکارڈنگ کہلاتی تھی، کیمرہ کا شعبہ : اس زمانے میں عام طور پر 02 کیمروں سے اسٹوڈیو ریکارڈنگ اور ایک کیمرے سے بیرونی ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔

پوری سیریل میں ایک ہی لائیٹنگ کیمرہ مین ہوتا اور باقی شفٹوں میں جن کیمرہ مین کی ڈیوٹی ہوتی و ہ صرف ریکارڈنگ کرتے۔ پھر ٹرانسپورٹ کا شعبہ جس میں سیریل کی آؤ ٹ ڈور میں 02 ٹویوٹا ہائی ایس ویگنیں استعمال کی جاتیں۔ ایک گاڑی میں کیمرہ، ضرورت کے مطابق لائیٹں، ویڈیو مانیٹر، کیمرہ اور لائٹ کی کیبلیں، ان کے اسٹینڈ اور دیگر ریکارڈنگ کا ضروری سامان، ڈرائیور صاحب، کیمرہ مین اور 02 معاونین، میک اپ آرٹسٹ، آڈیو انجینئیر اور معاونین۔ دوسری گاڑی میں ڈرامے میں کام کرنے والے فنکار / کاسٹ، پروڈیوسر اور معاون پروڈیوسر۔ جب جگہ میسر ہوتی تو میں عام طور پر پہلی والی گاڑی میں بیٹھتا۔

چچا کمال کے ساتھ ”سہارے“ کی پہلی بیرونی ریکارڈنگ کے لئے صبح نکلنا تھا۔ یہ لکھنا اب بیکار ہو گا کہ سب سے پہلے کو ن سا آرٹسٹ آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے چچا کمال! آؤٹ ڈور پر نکلنے کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے اور میں نے پروڈیوسر حیدر امام رضوی کے کمرے میں ’سب او کے‘ کی رپورٹ دی۔ گاڑیاں تیار کھڑی تھیں۔ ڈرامہ کے اداکار دوسری گاڑی میں بیٹھنے لگے۔ چچا کمال اپنی مشہور مسکراہٹ لئے پہلی والی گاڑی کی طرف بڑھے۔ سب ہنرمندوں اور ڈرائیورسے سلام دعا کے ساتھ فرداً فرداً ہاتھ ملایا۔

اُدھر دوسری گاڑی سے اُن کو کہا گیا کہ آ جائیے۔ انہوں نے گردن موڑ کر مسکراتے ہوئے کہا ”بھئی ہم تو ڈرائیور فرزند علی کی گاڑی میں اُس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر جائیں گے“۔ یہی گرم جوشی میک اپ، وارڈروب، کیمرہ اور دیگر شعبوں کے کارکنوں کے ساتھ ہو تی۔ کبھی کبھار اپنی زمین اور باغات سے پپیتے اور ا مرود لا کر ہر اک چھوٹے بڑے کو د یتے۔ چچا کمال ایرانی کا پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے ڈرامہ سیریل ”جنگل“ بھی ایک یادگار ڈرامہ تھا۔

چچا کمال ایرانی کا آبائی پیشہ کھیتی باڑی تھا۔ ڈاکٹر شبیر نواز صفوی تو اب بھی دیہی علاقے ’کُری گوٹھ‘ میں ہی رہتا ہے۔ میٹرک تک شبیر کے گوٹھ میں بجلی نہیں تھی وہ لالٹین کی روشنی میں پڑھا کرتا اور ماشاء اللہ ہمیشہ ہی جماعت میں اوّل آتا رہا۔ یہاں اب بھی کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ چچا کمال ا پنے آبائی پیشے کو چھوڑ کر سندھ مدرسۃالاسلام، کراچی میں داخل ہو گئے تھے۔ یہیں سے ڈرامہ کلب کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر اس کے بعد اسٹیج پر بھی کام کیا۔ کسی کی صلاحیت پرکھنے کا معیار اُس دور میں ریڈیو پاکستان ہوتا تھا۔ اس کا خاصا سخت معیار تھا۔ وہ جو کہاوت ہے کہ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا اور پڑھے لکھے کو فارسی کیا! ویسے اِن کے اور شبیر نواز صفوی کے گھر میں فارسی ہی بولی جاتی تھی کیوں کے اس خاندان کے بڑے ایران سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے۔

چچا کمال بھی اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے لئے ریڈیو پاکستان کراچی آن پہنچے۔ ریڈیو پاکستان میں شہر بھر کے جوہر اور جوہر شناسوں کی ایک کہکشاں موجود تھی۔ چچا کمال ایرانی کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ دوسری طرف کراچی کی فلمی صنعت کو بھی ریڈیو پاکستان سے بھرپور تعاون حاصل تھا۔ اداکار کمال ایرانی کے تذکروں میں ہے کہ فلمساز اور جوہر شناس جناب فضل احمد کریم فضلیؔ نے اپنی فلم ”چراغ جلتا رہا“ کے لئے ریڈیو پاکستان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ریڈیو سے صداکار محمد علی، صفیہ معینی، امیر خاں اور کمال ایرانی کو منتخب کیا۔ دیگر نئے فنکار وں میں دیبا، طلعت حسین، فلم کے ہیرو عارف اور ہیروئن زیبا شامل تھے۔ عید الفطر جمعہ 09 مارچ 1962 کو یہ فلم، دبستانِ محدود نے نمائش کے لئے پیش کی۔ فلمساز، ہدایتکار اور کہانی نگار فضل احمد کریم فضلیؔ بذاتِ خود تھے۔ مذکورہ فلم کے پریمیئر پر خاتونِ پاکستان محترمہ فاطمہ جناح ؒ بنفسِ نفیس تشریف لائی تھیں۔ یہ فلم کامیاب رہی۔

اِس کے بعد فلم ”ہمیں بھی جینے دو“ ( 1963 ) اور فلم۔ ”دل نے تجھے مان لیا“ ( 1963 ) فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ 11 دسمبر 1964 کو ریلیز ہونے والی فلم ”ہیرا اور پتھر“ سے چچا کمال ایرانی کی شہرت دو چند ہو گئی۔ پھر کراچی کی فلموں کے ساتھ ساتھ کمال ایرانی کو لاہور کے فلمسازوں کی جانب سے کئی پیشکشیں ہوئیں۔ یہ بھی عجب ستم تھا کہ ایک طرف لاہور اور ڈھاکہ میں اُردو فلمیں بن رہی تھیں تو دوسری طرف کراچی کی فلمی صنعت آخری سانسیں لے رہی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اِس پر باقاعدہ الگ سے ایک مضمون تحریر ہو سکتا ہے۔ بہرحال کراچی کے نامور ہدایتکار، اداکار، گلوکار، گیت نگار اور نگارخانوں کے مختلف شعبوں کے ہنرمند رفتہ رفتہ لاہور ا ور کچھ ڈھاکہ منتقل ہو گئے۔ مجبوراً کمال ایرانی بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ لاہور آ گئے۔

پچھلے دنوں چچا کمال ایرانی کے بڑے بیٹے آغا جعفر سے ایک نشست رہی۔ چچا کمال سے متعلق بہت سی باتیں ہوئیں۔ آغاجعفر نے ایک دلچسپ واقعہ سُنایا:

” ہم جب لاہور گئے تو میری والدہ کے ایک عزیز دہلی دروازے میں رہا کرتے تھے۔ چونکہ وہ عربی بول سکتے تھے لہٰذا محلہ بھر میں ’عربی صاحب‘ کے نام سے پہچانے جاتے اور خاصے مشہور آدمی تھے۔ ہم بہن بھائی اپنے والد اور والدہ کے ہمراہ اُن کے گھر بہ آسانی پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر دھڑ سے کہہ دیا کہ وہ تو اس تاثر میں تھے کہ پتا نہیں کس فلم ایکٹر سے میری بہن کی شادی کرا دی۔ کیوں کہ یہ فلم والے تو بہت خراب ہوتے ہیں۔ اللے تللے اور ٹھاٹھ باٹھ دوسروں سے کرتے ہیں اور خود اُن کے گھر میں بے برکتی ہوتی ہے اور گھر والوں کے حالات خراب ہی رہتے ہیں۔ وہ تو سب کمائی جوئے میں ہار دیتے ہیں۔ دن رات باہر گزرتے ہیں۔ انہیں اپنے بیوی بچوں کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔ اور تو اوروہ تو اپنے گھربھی برائے نام ہی جاتے ہیں۔ مگر اب جب میں نے کمال کو دیکھا ہے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سُن کے میرے والد اور ہم سب بہت ہنسے ’‘ ۔

ایک سوال کے جواب میں جعفر نے بتایا : ”والد صاحب اپنے قریبی رشتہ داروں اور بھتیجوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ مشترکہ خاندان میں رہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والوں میں سے تھے“۔ فرصت کے لمحات گزارنے سے متعلق جعفر نے کہا: ” فرصت میں ریڈیو بہت شوق سے سنتے تھے۔ اس کے علاوہ لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق تھا“۔
اپنے لاہور کے قیام کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے آغا جعفر نے بتایا : ”لاہور میں اداکار طالش اور علاؤالدین کا ہمارے ہاں کافی آنا جانا تھا۔ ان کے علاوہ دو افراد اور بھی بہت آتے تھے۔ لاہور میں مجھے کوئی زیادہ شعور نہیں تھا۔ میں تو خود 1969 میں پیدا ہوا۔ اب پتا چلا کہ وہ دو افراد جو بہت زیادہ ہمارے ہاں آتے تھے وہ اداکار محمد علی اور ندیم تھے“۔

” 1977 میں جب لاہور کی فلمی صنعت میں بحرانی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوئی اور کام بہت کم رہ گیا تو والد صاحب ہمیں لے کر کراچی آ گئے“۔

” کراچی آئے تو عمر شریف، عالمگیر اور محمد علی شہکی وغیرہ کی ابا سے دوستی ہوئی۔ انگریزی اُردو تو خیر آتی ہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فارسی گھر میں بولی جاتی تھی اس کے علاوہ بلوچی اور پشتو بول اور سمجھ لیتے تھے۔ سندھی تو انہیں پہلے ہی اچھی آتی تھی کیوں کہ جام کنڈے او ر کُر ی گوٹھ جہاں یہ رہتے اور ان کی آبائی کھیتی باڑی تھی وہاں سندھی اور بلوچی بولی جاتی تھی۔ البتہ پشتو یوں آ گئی کہ انہوں نے پشتو فلموں میں بھی کام کیا۔ اور ورائٹی پروگراموں میں بھی پشتو بول لیتے تھے۔ اُس زمانے میں فنکاروں کو زیادہ معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ فنکاروں کی

نا قدری تھی۔ بعض فنکاروں نے کام نہ ہونے پر اپنی جمع پونجی کاروبار میں لگا دی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ میرے والد صاحب کا آخر وقت بھی کچھ اسی قسم کی پریشانی میں گزرا ”۔

” چچا کمال ایرانی جیسے منجھے ہوئے اداکار کے بیٹے کی حیثیت سے تم میں فنکارانہ ’‘ جراثیم“ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہونا چاہییں! ”میں نے سوال کیا۔

” جراثیم تو اُسی وقت مر گئے تھے جب میں نے اپنے والد کا آخری زمانہ دیکھا“، آغا جعفر نے کہنا شروع کیا۔ ”ویسے لاہور کے قیام کے دوران میں نے متعدد فلموں میں اداکاروں کے بچپن کا کردار ادا کیا۔ پھر کراچی میں 2004 سے 2006 کے درمیان ٹیلی وژن اداکار قیصر نظامانی کے پروڈکشن ہاؤس کے لئے میں نے مختلف ڈراموں میں ’سپورٹ‘ کردار ادا کیے“۔

فلم اور ٹیلیوژن فنکاروں کی بہبود کے لئے آغا جعفر نے یہ تجاویز پیش کیں :
” سینیئر فنکاروں کے لئے اُن کی عمر کے مطابق کردار تخلیق کرنا چاہیے۔ پھر جو فنکار صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اُن کے لئے کوئی فاؤنڈیشن ہونا چاہیے۔ حال کے فنکاروں کو بھی باہم مل کر کوئی سوسائٹی یا این جی او بنانا چاہیے کیوں کل اُن کو بھی بعینہٖ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا ہو گا“۔

ایک سوال کے جواب میں آغا جعفر نے بتایا: ”میں نے اپنے والد کے نام پر اپنے بیٹے کا نام کمال رکھا ہے۔ اب ماشاء اللہ میں دادا بننے والا ہوں۔ میری بیٹی سیدہ معصومہ صفوی نے البتہ کچھ اثر اپنے دادا سے ضرور لیا ہے۔ اُس نے کراچی اسکول آف آرٹس ( آزر زوبی والے ) سے تعلیم حاصل کی ہے“۔

انہوں نے اپنے والد سے متعلق ایک اور دل چسپ بات بتا ئی: ”میرے والد نماز روزے کی بہت پابندی کرتے اور ہم سے بھی یہ پابندی کرواتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ رمضان میں پانی اور کھجور سے ہم سب روزہ کھولتے اور نمازپڑھتے۔ ابا کی نمازیں اور دعائیں ا تنی لمبی ہوتیں کہ ہم انتظار کرتے کہ کب ان کی نماز ختم ہو اور ہم کھانا کھائیں“۔

kamal irani – family

دبستان محدود کی جانب سے فلمساز و ہدایتکار فضل احمد کریم فضلیؔ صاحب کی سلور جوبلی فلم ”چراغ جلتا رہا“ ( 1962 ) اداکار کمال ایرانی کی پہلی فلم کہی جاتی ہے۔ ویسے اِن کے ایک تذکرے میں کے پروڈکشنز اور ہدایتکار ایم جے رانا کی فلم ”خان بہاد ر ’‘ ( 1960 ) کو اولین فلم کہا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں کمال ایرانی صاحب کے بڑے بیٹے آغا جعفر سے میری بات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں :

” میرے علم کے مطابق ’چراغ جلتا رہا‘ ہی میرے والد صاحب کی اولین فلم ہے اور فلم خان بہادر کے بارے میں نہیں جانتا“۔ فلم ’‘ چراغ جلتا رہا ’‘ کی کچھ خاص باتیں : اس فلم کے پریمئیر پر مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناح بھی تشریف لائی تھیں۔ کمال ایرانی کے ساتھ اداکارہ زیبا، دیبا، محمد علی، موسیقار نہال عبداللہ اور خود فضل احمد کریم فضلی ؔکی یہ اولین فلم ہے۔ فلم کی کاسٹ میں زیبا، عارف، دیبا، محمد علی، طلعت حسین، محمود علی، کمال ایرانی، نیناں، صفیہ معینی، امیر خان، مغل بشیر، روما، ڈیڈی، پرنسس امینہ اور دوسرے شامل تھے۔

فلم کے گیت فضل احمد کریم فضلی نے لکھے۔ کچھ کلام و غزلیات حضرت ماہر القادری، حضرت جگر ؔمر ادآبادی، مرزا غالبؔ، میر تقی میرؔ اور حضرت امیر خسروؒسے بھی لی گئی تھیں۔ اِس فلم میں دو غزلیات، بھارت سے آئے ہوئے نامور گلوکار طلعت محمود نے بھی صدابند کروائیں۔ ایک مرزا غالب ؔ کا کلام: ’کچھ ہوا حاصل نہ اب تک کوششِ بیکار سے، دیکھ لیں گے سر بھی ٹکرا کر در و دیوار سے‘ اور دوسرا فضلیؔ صاحب کی غزل: ’مشکل نکلا دل کا سنبھلنا ہم نے دیکھا لاکھ سنبھل کے اُن سے ملیں جب آنکھیں اپنی ساغر اپنے آپ ہی چھلکے‘ یہ نہال عبداللہ صاحب نے راگ گونڈ ملہار میں ترتیب دیا۔ حضرت ماہر القادری کا سلام: ’سلام اس پر کہ جس نے بیکسوں کی دستگیری کی، سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی‘ (غالباً ) یہ بھی طلعت محمود کی آواز میں تھا۔

پھر اِن کی ایک اور فلم ہدایت کار بٹ کاشر کی ”ہمیں بھی جینے د و“ ( 1963 ) بظاہر تو کامیاب ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کے کچھ گیت تب بھی اور اب بھی لا زوال ہیں : ’آج کی رات بہاروں میں گزاریں گے صنم، تم پکارو ہمیں ہم تم کو پکاریں گے صنم‘ آواز مسعود رانا، گیت نگار یوسف پردیسی اور موسیقار سی فیض۔ یہ گیت اداکار حنیف پر فلمایا گیا۔ ’الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے، خوشی کے بعد غمِ بیکسی کسی کو نہ دے‘ آواز مہدی حسن، گیت نگار مسرورؔ انور اور دھن سی فیض نے بنائی۔ یہ غزل بھی حنیف پر فلمائی گئی۔ یہ اداکارہ روزینہ اور اداکار حنیف کی پہلی فلم ہے۔

فلمساز ستّار اے شیخانی اور ہدایتکار جاوید ہاشمی کی۔ ”دل نے تجھے مان لیا“ ( 1963 ) کئی اعتبار سے اہم ہے : فلم کی کہانی معروف ادبی شخصیت جناب سلیم احمد نے لکھی۔ ادا کار محمد علی نے اس فلم میں منفی کردار ادا کیا۔ فلم کی تدوین اقبال اختر نے کی جنہوں نے آگے چل کر فلمساز قدیر خان کی سُپر ہِٹ فلم ”نادان“ ( 1973 ) کی کامیاب ہدایتکاری کی۔ یہ اداکار ندیم کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم بھی ہے۔ یہی وہ فلم ہے جس سے وہ سُپر اسٹار بنے۔

فلم آرٹس کے فلمساز وحید مراد اور ہدایتکار پرویز ملک کی سُپر ہِٹ فلم ”ہیرا اور پتھر“ ( 1964 ) وحید مراد اور پرویز ملک کی پہلی گولڈن جوبلی فلم ہے۔ فلم کے ٹائٹل رول ابراھیم نفیس اور وحید مراد نے ادا کیے ۔ مذکورہ فلم کے کئی ایک گانے بہت مقبول ہوئے۔ اس فلم سے اداکار کمال ایرانی کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور فلم نگری کے دروازے کھُل گئے۔

جمال فلمز کے فلمساز تصدق حسین رضوی اور ہدایتکار الحامد کی سلور جوبلی فلم ”ہم دونوں“ ( 1964 ) میں کلیمؔ عثمانی کا گیت ’اُن کی نظروں سے محبت کو جو پیغام ملا، دل یہ سمجھا کہ چھلکتا ہوا اک جام ملا‘ رونا لیلیٰ کا پہلا فلمی گیت ہے۔ اس کے موسیقار ناشاد تھے۔

شباب پروڈکشنز کی سلور جوبلی فلم ”آ ئینہ“ ( 1966 ) کی کچھ باتیں یادگار ہیں : اس فلم کے دو موسیقار تھے۔ تصدق حسین اور موسیقار جوڑی منظور اشرف۔ ایک گیت شبابؔ صاحب نے لکھا باقی خواجہ پرویز نے۔ اس فلم کے کچھ گیت امر ہو گئے : ’دلِ ویراں ہے تیری یاد ہے تنہائی ہے، زندگی درد کی باہوں میں سمٹ آئی ہے‘ آواز مہدی حسن اورگیت خواجہ پرویز نے لکھا، ’تم ہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں، تم ہی تو میری دنیا ہو میں کیوں نہ اقرار کروں میرا پیار یاد رکھنا‘ یہ آئرین پروین اور مسعود رانا نے الگ الگ ریکارڈ کروایا۔ گیت نگار خواجہ پرویز اور موسیقار تصدق حسین تھے۔

حبیب پکچرز کے فلمساز حبیب الرحمن اور ہدایتکار شیخ حسن کی سلور جوبلی فلم ”جاگ اُ ٹھا انسان“ ( 1966 ) میرے اساتذہ لال محمد اور بلند اقبال المعروف موسیقار لال محمد اقبال کی ایک یادگار اور مقبول فلم ہے۔ اس فلم کے کچھ گیت آج تک سنے اور محفلوں میں گائے جاتے ہیں۔ خود چچا کمال کو بھی یہ گیت بہت پسند تھا۔ میں خود بھی محفل میں اس گیت کو سُناتا ہوں : ’دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں، اک دلربا ہے دل میں جو حوروں سے کم نہیں‘ آواز مہدی حسن اور گیت نگار دکھی پریم نگری۔ یہ گیت وحید مراد پر فلمایا گیا، ’ جب ساون گھِر گھِر آئے کوئلیا گائے بلم تم آ جانا‘ آواز مالا اور گیت نگار دکھی پریم نگری تھے۔
دبِستان لمیٹِڈ کے فلمساز فضل احمد کریم فضلیؔ اور ہدایتکار سعید کریم فضلی کی فلم ”وقت کی پکار“ ( 1967 ) ویسے تو کوئی زیادہ کامیاب نہیں رہی لیکن بعض باتوں میں یہ ایک یادگار فلم ہے : اس کی کہانی حضرت رئیس ؔ امروہوی نے لکھی اور فضل احمد کریم فضلیؔ نے منظر نامہ اور مکالمے بھی لکھے۔ فلم کے گیت فضل احمد کریم فضلی اور موجؔ لکھنوی نے لکھے جن کی طرزیں میرے اُستادِ محترم موسیقار نثار بزمی صاحب نے بنائیں۔ مذکورہ فلم کے کچھ گیت اپنے وقت کے مقبول ترین گیت تھے : ’جانِ من جانِ من آج تو جو پاس نہیں، جانِ شیریں میں وہ مٹھاس نہیں‘ ۔ یہ گلوکارہ مالا اور مہدی حسن نے الگ الگ ریکارڈ کروایا۔ مالا کا گیت اداکارہ زیبا پر اور مہدی حسن والا اداکار طاہر پر فلمایا گیا۔ اِس گیت کو فضل احمد کریم فضلیؔ نے لکھا تھا۔

لیاقت فلمز کے فلمساز اور ہدایتکار فیروز کی فلم ”السلام و علیکم“ ( 1969 ) کے دو کورَس: ’الف سے اپنا ب سے بہتر پ سے پاکستان‘ ، گیت نگار مسرور زیدی، نمایاں آواز احمد رشدی اور ’محبت کے دیے جلا لو وفا کے گیت گنگنا لو تقاضا ہے یہ زندگی کا‘ گیت نگار سہیل اقبال، نمایاں آواز سلیم شہزاد کی ہے۔ اِن دونوں کورس میں میری بھی آواز شامل ہے۔ مذکورہ فلم میں گیت نگار شبی فاروقی کا لکھا ہوا رونا لیلیٰ کی آواز میں ایک گیت بے حد مقبول ہوا : ’ہولے ہولے پوّن چلے ڈولے جیا رے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ، اس فلم کی موسیقار جوڑی صابر اور ظفر المعروف صابر ظفر تھے۔

کیریکٹر ایکٹر کمال ایرانی کے کھاتے میں ظفر آرٹ پروڈکشنز، فلمساز شبابؔ کیرانوی اور ہدایتکار ظفر شباب کی گولڈن جوبلی فلم ”سنگدل“ ( 1968 ) بھی ہے۔ یہ فلم بعض باتوں کی وجہ سے یادگار ہے : موسیقار ایم اشرف کی اپنے ساتھی منظور صاحب سے الگ ہو کر یہ پہلی فلم ہے۔ اِس فلم کے تین گیت ہر زمانے میں مقبول رہے : ’دل کو جلائے تیرا پیار او، ڈر موہے لاگے سیّاں کیا ہو گا آگے سیّاں وعدوں کا کیا اعتبار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ آواز مالا اور گیت نگار خواجہ پرویز۔

یہ گیت اداکارہ صاعقہ پر فلمایا گیا۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ میں نے جب آج یہ گیت بغور سُنا تو یوں لگا کہ جیسے موسیقار ایم اشرف صاحب کا آنا اُس دور کی فلمی موسیقی میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا۔ نال، ڈھولک، کانگو اور بونگو کا کیا حسین امتزاج ہے۔ خاص طور پر ردھم کے کٹ۔ پھر تینوں انٹرول پیس جدا جدا۔ تینوں انتروں میں سنچائی سے پہلے وائلن کے بار پیس کا ’سَم‘ پر فیڈ آؤٹ کروانا۔ اکارڈین کے بجوانے کا اسٹائل، ردھم گٹاروں کا استعمال، لیڈ گٹار کے پیس، وائلن کی چھوٹی چھوٹی باریں، ردھم کی چال، سیکسوفون کے استعمال۔

۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب ایم اشرف صاحب نے اپنی پہچان اور شناخت بنا ئیں جو انہوں نے آخر وقت تک قائم رکھیں۔ خواجہ پرویز صاحب کے اس لکھے ہوئے گیت کے پہلے انترے میں سنچائی سے تھوڑا پہلے بیساختہ یوں محسوس ہوا کہ گویا موسیقار نے یہ گیت بعد میں آنے والی ناہید اختر کے لئے کمپوز کیا ہے۔ آپ بھی توجہ کے ساتھ یہ گیت سنیں تو لگے گا کہ ایم اشرف صاحب جس آواز کو سامنے رکھ کر دھن بنا رہے تھے وہ ناہید تھی۔ مذکورہ فلم میں احمد رشدی اور مالا کی آواز میں الگ الگ گیت: ’ہو سُن لے اے جانِ وفا تو ہے دنیا میری اے میری زندگی کبھی ہوں گے نہ ہم تم جدا‘ نہایت ہی مقبول ہوا۔ اس کو بھی خواجہ پرویز صاحب نے لکھا تھا۔

انیق فلمز کی جانب سے فلمساز ( اداکارہ ) ترنم اور ہدایتکار شیخ حسن کی فلم ”جھُک گیا آسمان“ ( 1969 ) کا ایک سہرا ریڈیو پر مقبول ترین تھا: ’چاند کی سیج پہ تاروں سے سجا کر سہرا، پیار لایا ہے بہاروں سے سجا کے سہرا‘ جس کو صہباؔ اختر نے لکھا اور موسیقار دیبو بھٹّا چاریہ تھے۔

کمال ایرانی کی بہترین فلموں میں سے ایک سیمی پروڈکشنز اور ہدایتکار اور فلمساز قمر زیدی کی گولڈن جوبلی فلم ”سالگرہ“ ( 1969 ) ہے۔ یہ ہمارے ملک کی بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس فلم کا منظر نامہ اور مکالمے نامور ادبی شخصیت حضرت سلیم احمد نے لکھے۔ گیت نگاروں میں بھارتی فلمی دنیا میں اپنے نام کا سکہ جما کرہجرت کر کے آنے والے جناب شیونؔ رضوی صاحب تھے۔ اُن کے علاوہ تسلیمؔ فاضلی بھی تھے۔ موسیقار بھی بھارت کی فلمی دنیا میں اپنے نام کا ڈنکا بجا کر آنے والے ناشاد صاحب تھے۔ پھر جان محمد کی بحیثیت کیمرہ مین یہ پہلی فلم ہے۔

اس سے پہلے وہ معاون کیمرہ مین تھے۔ ڈی جے سائنس کالج سے پڑھ کر فلمی دنیا میں داخل ہوئے۔ انہوں نے فلم کے میدان میں فرانس اور بلجیئم سے بھی تربیت حاصل کی۔ جلد ہی پھر کامیاب ڈائرکٹر ہوئے۔ اس فلم کے بعض گیت لازوال ہیں : ’لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے، یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے‘ اور ’میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ، میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ‘ ۔ یہ دونوں گیت شیونؔ رضوی صاحب نے لکھے۔

فلمساز راحیل باری اور ہدایتکار جعفر بخاری کی فلم ”عزت“ ( 1974 ) کے دو گیت نہایت مقبول تھے : مہدی حسن کی آواز میں : ’دل دیا بھول ہوئی دل کی دل ہی میں رہی، ہم نے بھی سوچ لیا تو نہیں اور سہی‘ اور ثمر اقبال کی آواز میں : ’ہزار بار منع کیا میری گلی نہ سیّاں آنا‘ ۔ انہیں تسلیمؔ فاضلی نے لکھا اور اے حمید موسیقار تھے۔

چچا کمال ایرانی نے تین دہایوں پر پھیلی اپنی فلمی زندگی میں زیادہ تر کیریکٹر ایکٹنگ کی۔ البتہ انہوں نے چند فلموں میں با قاعدہ وِلن کے کردار بھی ادا کیے جیسے فلم ”آئینہ“ اور ”جاگ اُٹھا انسان“۔ ایک جہاں سے پیار کرنے والے چچا کمال ایرانی منگل 12 ستمبر 1989 کو اِس جہاں سے رُخصت ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *