آئیے! آپ کو کامیاب ہونا سکھائیں

آئیے بغیر وقت برباد کیے کامیابی کے سفر پر نکلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے کامیاب ہونا بچوں کا کھیل ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کامیاب ہوسکتا ہے اور یاد رکھیں کہ انسان خود ہی اپنے آپ کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ انسان کو ہر کام چاہے دنیا اسے بڑا کام کہتی ہے یا چھوٹا، دماغ سے نہیں دل سے کرنا چاہیے۔
دل سے کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر سے آواز آنی چاہیے کہ ہاں میں نے یہی کام کرنا ہے اور اسی میں کامیاب ہونا ہے۔ یاد رکھیں ہم میں سے ہر انسان کامیاب انسان ہے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ کامیابی کی تعریف بدلتی رہتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے لیکن ہم اندر سے تسلیم نہیں کرتے کہ ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ کو کوئی دوسرا انسان کامیاب نہیں بناسکتا، آپ خود ہی وہ انسان ہیں جو خود کو کامیابی کی بلندیوں تک لے جاسکتے ہیں۔
کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے انسان کا متعصبانہ دماغ۔ یاد رکھیں جب انسان اپنا دماغ کھلا رکھتا ہے اور ہر خیال اور سوچ کو اہنے دماغ میں جانے دیتا ہے تو ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ وہ کامیاب بھی ہوجاتا ہے اور خوشی بھی اس کی زندگی کے ہر لمحے میں جھلکتی ہے۔ اس لئے کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دماغ کو ہر لمحے کھلا رکھیں۔ جو انسان کامیاب ہیں اور پرمسرت زندگی انجوائے کررہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا دماغ اوپن رکھتے ہیں اس لئے وہ سیکھتے چلے جاتے ہیں اور کامیابیاں سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔
کامیاب ہونا بچوں کا کھیل اس لئے ہے کہ بچوں کا دماغ اوپن ہوتا ہے اور وہ سب کچھ سیکھ جاتے ہیں صرف سوچیں مت، بڑی بڑی باتیں مت کریں بچے بن جائیں، بچوں کی طرح زندگی گزاریں۔ ایسا کرنے سے ہر انسان کی زندگی آسان ہوجائے گی۔ بچے مشکل اور ناممکن جیسے الفاظ سے ناواقف ہوتے ہیں ان کے لئے ہر کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ کامیاب ہونے کے لئے ہر انسان کا اندر کی دنیا میں بچہ ہونا بہت ضروری ہے۔ کامیاب ہونا ہے تو ادھر ادھر مت دیکھو کے وہ کیا سوچے گا وہ کیا کہے گا، بچے کامیاب انسان ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتے کہ وہ کیا کیا سوچے گا۔
بچے وہ کرتے ہیں جو ان کا من کرتا ہے اس لئے والدین بچوں کو پاگل کہتے ہیں، یاد رکھیں ہر حقیقی کامیاب انسان پاگل ہوتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا روگ کہ کیا کہیں گے لوگ۔ یاد رکھیں جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔ لک کچھ نہیں ہے، گڈ لک اور بیڈ لک ہی سب کچھ ہے۔ برا بھی اگر ہورہا ہے تو وہ بھی انسان کی بہتری کے لئے ہورہا ہوتا ہے۔ اہم یہ نہیں ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں کیا سنتے ہیں اہم یہ ہے کہ جو آپ مانتے ہیں وہی بن جاتے ہیں۔
ایک انسان اگر یہ مان لے کہ وہ تو کچھ نہیں کرسکتا، اس کے لئے تو مشکلات اور مسائل ہیں تو وہ کچھ نہیں کرپاتا۔ اور اگر کسی انسان کے اندر سے دل سے یہ آواز آئے کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے، اس کے لئے سب آسان ہے تو وہ سب کچھ حاصل کرے گا اور کامبابی کی بلندیوں تک پہنچے گا۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔
جو بھی عظیم کامیابی چاہتا ہے وہ کبھی اپنے اندر چھوٹئے بچے کو مرنے مت دے۔ کیونکہ کامیاب ہونا بڑوں کا نہیں بچون کا کھیل ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذہن میں مشکل اور ناممکن جیسے الفاظ کو باندھ کر رکھا ہوا ہے ہم کبھی کہتے ہی نہیں کہ یہ تو آسان ہے۔ ہمارے بہت سارے belief کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ یہ جھوٹ صدیوں سے ہمارے ساتھ چپکے ہوئے ہیں، ان کو بننے اور پنپنے میں صدیاں لگیں ہیں لیکن لمحوں میں یہ جھوٹ ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں جب انسان بچوں کی طرح کہہ دیتا ہے کہ یہ کام تو بہت آسان ہے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آج کے ٹائم میں بزنس کرنا بہت مشکل ہے تو کیا کبھی ہم نے سوچا کہ آج کا ٹائم کیا ہوتا ہے؟ ہم کیوں نہیں کہتے سب آسان ہے۔ اگر کسی انسان نے کامیاب ہونا ہے تو وہ اپنے آپ کو ان لوگوں سے علیحدہ کر لے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کام کرنا تو مشکل ہیں نہیں ناممکن ہے۔ انسان کو اپنے اندر سے مشکل اور ناممکن جیسے الٖفاظ کو نکالنا دینا چاہیے اوراپنے اندر صرف ایک لفظ ڈال دے کہ سب آسان ہے۔ جب آپ کہ اندر کی دنیا سے یہ آواز آئے گی کہ سب آسان ہے تو کامیابی، نیم، فیم، صحت اور خوشی آپ کے ساتھ چمٹ جائیں گے۔
یاد رکھیں ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ یہ جو میں کام کررہاہوں یہ آسان ہے۔ ہمارا ایک ہی ایشو ہے کہ ہم مشکلات کو بڑا بناتے چلے جاتے ہیں اسی وجہ سے کامیابی خوشی اور مسکراہٹ ہماری زندگی سے نکل جاتی ہیں۔ وہ جو مشکلات کو بچوں کی طرح آسان بنادیتے ہیں وہی کامیاب ہیں اور ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہتے ہیں۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ہنستے رہنا چاہتا ہے یا روتے رہنا چاہتا ہے۔ کل تک جو تھا وہ تھا لیکن آج اسی لمحے اپنے آپ سے کمٹمنٹ کریں کہ آپ اپنے آپ کو بدلیں گے اور یہ آسان ہے۔
جس نے دل سے کمٹمنٹ کر لی وہ بدل گیا اس کی زندگی آسان ہو گئی۔ یہ جو لفظ ہے کہ سب آسان ہے اس میں بہت طاقت ہے۔ نوے فیصد انسان اس لئے ناکام ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن خوف کا شکار رہے کچھ نہیں کیا۔ رسک اور خوف کچھ نہیں۔ انسان رسک اور خوف خود پیدا کرتے ہیں۔ رسک، خوف، مشکل، ناممکن یہ سب جھوٹ ہے سچ صرف ایک ہے اور وہ ہے کہ سب آسان ہے۔
انسان کی دلچسپی پر ہی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہوتا ہے۔ کوئی کام دلچسپ یا بورنگ نہیں ہوتا۔ ہر وہ کام جو انسان خوشی سے بغیر پیسوں کی لالچ کے پیشن کے ساتھ بیس گھنٹے کرسکتا ہے اور تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا، اسی کام میں انسان کمال کرسکتا ہے اور معجزے دیکھا سکتا ہے لیکن باہر کی آواز سننے کے بعد انسان دلچسپی والا کام چھوڑ کر کوئی اور کام کرتا ہے جو اس کے لئے بورنگ ہوتا ہے اس لئے وہ ناکام ہوجاتا ہے۔ ایسا وہ اس لئے کرتا ہے کہ دنیا کیا سوچے گی۔
سب سے بڑا روگ کیا کہیں گے روگ یہ وہ فقرہ ہے جس کی وجہ سے انسان کی زندگی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ انسان راتوں رات دولت مند بننا چاہتا ہے ایسا نہیں ہوتا بیچ سے راتوں رات درخت نہیں اگتا اس کے لئے کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ نہ بھاگنا ہے اور نہ ہی رکنا ہے بس چلتے جانا ہے اور اپنی دلچسپی والا کام کرتے جانا ہے۔ پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ آپ جیسے کوئی نہیں ہوگا۔ نیم فیم اور خوشی آپ کی زندگی کا حصہ ہوگی اور آپ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بدلنے کا سبب بن جائیں گے۔
انسان جب کامیاب ہوجائے، اس کے پاس بے تحاشا پیسہ آجائے تو اسے اس کیفیت میں پاگل نہیں ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ انسان کامیابی کے بعد پاگل ہوجاتے ہیں اپنے اندر کا بچہ مار دیتے ہیں۔ مسکراہٹ اور خوشی ان کی زندگی سے نکل جاتی ہے، اب پیسہ سمیٹنا اور لوگوں کو تکلیف دینا ان کی زندگی بن جاتی ہے۔ کامیابی کے بعد جو پیسہ آپ کے پاس آیا ہے وہ صرف خود پر خرچ نہ کریں بلکہ لاکھوں انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ان کی مدد کریں۔
پیسہ آرہا ہے تو پیسہ شئیر بھی کریں۔ خوشی آرہی ہے تو اس خوشی کو دوسروں میں بھی تقسیم کرو۔ دنیا کا سب سے بڑا فراڈ فقرہ یہ ہے کہ باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ۔ پیسہ اہم ہے بلکہ بہت اہم ہے لیکن پیسے کی اہمیت پٹرول جیسی ہے۔ صرف پیسہ ہو خوشی، صحت اور مسکراہٹ نہ ہو تو ایسے پیسے کا کیا فائدہ؟ تھوڑا سا کم پیسہ بھی ہے لیکن آپ خوشیاں تقسیم کررہے ہیں اور لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیر رہے تو آپ ہی حقیقی کامیاب انسان ہیں۔
کامیاب انسان وہ ہیں جو شئیرنگ پر یقین رکھتے ہیں اور پھر انہی کی زندگی میں ہی معجزے آتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ experience سے نصیب ہوتی ہے اور expereince ہمیشہ bad experence سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے لفاظ میں کامیابی ہمیشہ ناکامی سے پھوٹتی ہے۔ دنیا میں جتنے بھی کامیاب انسان جس مقام پر ہیں وہ اپنی ناکامی کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ کامیاب بھی ہو، خوش بھی ہو، صحت مند بھی ہو، اپنے اندر کا بچہ بھی زندہ رکھے ہوئے ہو تو یہی حقیقی اور مزیدار زندگی ہے۔

