کووڈ-19 بحران : لبرل ورلڈ آرڈر کے خاتمے کی گھنٹی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج، جیسا کہ ہم اپنے ارد گرد کی دنیا کو دیکھتے ہیں کہ کچھ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی یا جس کا تصور کیا جا رہا تھا۔ ایک پوشیدہ وائرس نے کرہ ارض پر کاروبار روک دیا ہے۔ بنی نوع انسان ایک ایسے بحران سے گزر رہی جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ کووڈ۔ 19 یا نول کورونا وائرس کے وسیع پیمانے پر علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بنی نوع انسان لاک ڈاؤن کی حالت میں ہے۔ معیشتیں کساد بازاری کا شکار ہیں۔ مذہبی، سماجی اور کھیلوں کے پروگرام ملتوی کردیے گئے ہیں۔ لاکھوں افراد وائرس اور اس کے نتیجہ میں بھوک سے مرنے سے خوفزدہ ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات نیا موڑ مڑ رہے ہیں۔ اقوام عالم میں ایک نیا احساس اجاگر ہوا ہے کہ صحت کی سلامتی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ملک کی جغرافیائی سلامتی۔ مزید برآں، گلوبلائزیشن بھی اس سے کئی طریقے سے متاثر ہوئی ہے۔ لبرل ورلڈ آرڈر کو شاید فیصلہ کن دھچکا لگ چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک نیا ملٹی پولر یا کثیر ال قطبی ورلڈ آرڈر دم توڑتے یونی پولر یا یک قطبی لبرل ورلڈ آرڈر کی راکھ سے جنم لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا کا خطہ چین سے قربت کی وجہ سے اہم ہے۔ مزید برآں، قدرتی ایندھن کی کھپت میں کمی کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اچانک کمی دیکھی گuی ہے۔ ذیل میں COVID۔ 19 کے علاقائی اور عالمی اثرات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

اموات کا خدشہ:

کووڈ۔ 19 ایک مہلک وبائی مرض ہے جو چین کے صوبہ ووہان میں پہلی بار سامنے آنے کے بعد تمام کرہ ارض پر پھیل چکا ہے۔ اب تک اس سے قریباً دو ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں سوا لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ، اٹلی، اسپین اور چین سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ممالک ہیں۔ صحت کی ناقص سہولیات کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ خدشہ ہے کہ کرونا کا پھیلاؤ دنیا پر تباہی مچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ اس وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج ابھی تک تیار یا دریافت نہیں ہوا ہے۔ لہذا، اس ضمن میں بنی نوع انسان کے مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے۔

معاشی کساد بازاری:

اگرچہ بنیادی طور پر یہ صحت کا مسئلہ ہے لیکن کرونا کے اثرات شعبہ جاتی اور قومی سرحدوں سے متجاوز ہیں۔ اگر لاکھوں افراد وائرس کے ہاتھوں موت سے ڈرتے ہیں تو اتنی ہی تعداد میں لوگ وائرس کے نتیجہ میں پیدا ہوئی بھوک سے خوفزدہ ہیں۔ پوری دنیا معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صنعتی اور ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں۔ مزید برآں، کھپت میں تیزی سے کمی کی وجہ سے پٹرولیم کی قیمتیں ایک نئی نچلی سطح کو چھو رہی ہیں۔ غربت اور بیروزگاری عروج پر ہیں۔ لہذا، یہ ایک عظیم معاشی تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

لبرل ورلڈ آرڈر کا خاتمہ:

رچرڈ ہاس کے مطابق عالمی نظم یا ورلڈ آرڈر ایک دھماکے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ اپنے انجام کی جانب بڑھتے ہیں۔ مزید برآں، ایک بین الاقوامی آرڈر کے خاتمے اور دوسرے کے آغاز کو نشان زد کرنے کے لئے ہمیشہ کسی بڑے واقعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کووڈ۔ 19 ایسا ہی تباہ کن واقعہ معلوم ہوتا ہے جو لبرل عالمی نظم کے خاتمے کا پیغام لے کر آیا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اس انسانی تباہی کے مقابلے میں فیصلہ کن جواب دینے سے قاصر رہی ہے۔

طاقت کو خلا سے نفرت ہے۔ لہذا چین نے یہ خلا پر کیا ہے۔ چین نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لئے قدم بڑھایا ہے۔ اس نے یورپ، ایشیا اور افریقہ میں عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا رتبہ بلند کیا ہے۔ چین کی چارم اوفینسو سفارت کاری نئے بین الاقوامی آرڈر کی تشکیل کر رہی ہے۔ اس آرڈر میں امریکہ، چین اور یوروپی یونین کو قطبوں کی حیثیت حاصل ہو گی۔

قومی سلامتی کا نیا تصور :

کووڈ۔ 19 بحران قومی سلامتی کے روایتی تصور میں ایک انتہائی اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ اس نے دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ صحت کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا جغرافیائی تحفظ۔ پچھلی سات دہائیوں میں امریکہ نے فوجی سیکیورٹی پر کھربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ تاہم، جب کوویڈ 19 کی ایمرجنسی آئی تو اس نے اس مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی تیاری کو ناکافی پایا۔ کافی لوگوں کا ٹیسٹ نہیں ہو پا رہا۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں وینٹیلیٹرز اور ذاتی حفاظتی آلات کی شدید کمی ہے۔ باقی بڑی معیشتیں بھی اس سے مختلف نہیں۔ صحت کی حفاظت کی اہمیت کے بارے میں یہ نیا احساس پالیسیوں میں بھی وسیع تر تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔

کرہ ارض کی ضروری مرمت:

جب کہ انسانوں کو گھروں میں بند کردیا گیا ہے، کرہ ارض نے راحت کی سانس لی ہے۔ فضائی آلودگی کی سطح میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی میں ٹھہراؤ آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قدرتی ایندھن کی کھپت ہے۔ وسعت اللہ خان کے بقول کرہ ارض کو ”مرمت کے لئے بند“ کر دیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ انسانی مداخلت کی عدم موجودگی میں کرہ ارض خود کو جلد ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کے خطے کے لئے بھی ایک مثبت پیشرفت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے یہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ بہر حال، یہ ماحولیاتی بہتری پائیدار نہیں ہے کیونکہ یہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کی قیمت پر آئی ہے۔ علاوہ ازیں، بحران ختم ہونے کے بعد معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے آلودگی اپنی ابتدائی سطح پر واپس آجائے گی۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کاربن کے اخراج کو پائیدار طریقے سے کم کیا جایے۔

کورونا اور گلوبلائزیشن:

مزید برآں، کووڈ 19 اور گلوبلائزیشن کے مابین ایک رشتہ دکھائی دیتا ہے۔ کرونا کے نتیجے میں ویزا کی شرائط سخت کردی گئی ہیں۔ قرنطینہ کی وجہ سے افراد اور سامان کی سرحد پار نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، یہ ایک عالمی مسئلہ ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عالمی مسائل کے عالمی حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ نو قوم پرستی یا نیو نیشنل ازم اس بحران کے مقابلہ میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لہذا، اقوام عالم اس صورتحال سے نکلنے کے لئے طبی شعبے میں تعاون کر رہی ہیں۔

چین اس سلسلے میں سب سے زیادہ سرگرم نظر آرہا ہے۔ اس لعنت پر قابو پانے والا پہلا ملک ہونے کے ناتے، چین اپنی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربے کے ساتھ کچھ متاثرہ ممالک جیسے اٹلی اور امریکہ کی مدد کر رہا ہے۔ مزید برآں، اس نے ضرورت کے وقت پاکستان جیسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے علاقائی قد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ علاوہ ازیں، جب بالآخر وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج سامنے آ جایے تو، اسے دنیا کے ہرکونے تک پھیلانے کے لئے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب گلوبلائزیشن کے مستقبل کے لئے اچھی نوید ہے۔

نیا کرونا نئی دنیا:

پوسٹ کورونا ورلڈ انسانیت کے لئے ایک نیا مستقبل لے کر آئے گی۔ یوول نوح ہراری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبائی مرض کے دوران وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومتوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے نگرانی کے آلات کا استعمال بعد میں بھی جاری رہے گا۔ اس سے عام لوگوں کی ذاتی زندگی اور رازداری میں مداخلت ہو گی۔ علاوہ ازیں، لاک ڈاؤن کے دوران، دنیا جسمانی موجودگی کے بجائے مواصلات کے ڈیجیٹل طریقہ پر تیزی سے انحصار کررہی ہے۔ یہ رجحان کرونا کے بعد کی دنیا میں بھی بڑی حد تک جاری رہ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، آن لائن شاپنگ میں اضافہ ہوگا۔ ویڈیو کانفرنسیں زیادہ کثرت سے ہوں گی۔ اس سے ڈیجیٹل مواصلات کے ڈھانچے کو بھی تقویت ملے گی۔

مذکورہ بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ نوول کرونا وائرس کا بحران جدید انسانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کا اثر طب کے شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرتی، سیاسی، معاشی اور مذہبی شعبے پر بھی محیط ہے۔ اس نے عملی طور پر ہر ریاست کو متاثر کیا ہے۔ اس وبائی مرض کے اختتام پر دنیا کی طور اطوار میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply