عالمی وبا میں پاکستانی علما کا کردار


ایک جانب دنیاوی تعلیم سے آراستہ وہ مسیحا ہیں جو اپنے خاندان، اپنی صحت اور اپنی ذاتی زندگی پس پشت ڈال کر عوام کی جانوں کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن کسی حکومتی فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو اہم نہیں گردانا جاتا، دوسری جانب مذہب کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار ہیں جن کا اس ساری صورتحال سے اگر کوئی تعلق ہے تو صرف یہ کہ کس طرح وہ اس وبائی صورتحال کو بھی اپنے مفاد میں استعمال کر سکیں۔ کبھی ایک حضرت کی وڈیو کلپ نظر سے گزرتی ہے کہ کورونا کا علاج کبوتر کے پوٹے کی اوپر والی جھلی میں پوشیدہ ہے۔ کبھی معروف اسکالر لڈن جعفری فرماتے ہیں کہ وہ اپنی کرامات سے پاکستان پر کورونا کے اثرات کو زائل کر رہے ہیں لیکن یہ کیسی کرامات ہیں جس میں اتنے لمبے عرصے کے لاک ڈاؤن کے باوجود اب تک 137 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور سات ہزار سے زائد افراد اس وقت کووڈ 19 سے متاثر ہو کر بیمار ہیں۔

کل رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن صاحب نے ملک کے دیگر علماء کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں علماء کا متفقہ فیصلہ سنایا کہ اب سے مساجد اور مدارس میں لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا اور پانچوں وقت بشمول جمعہ اور آنے والے رمضان میں تراویح کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ پریس کانفرنس کرنے والے علماء میں مولانا تقی عثمانی صاحب بھی مفتی منیب الرحمن کے ساتھ موجود تھے انہوں نے بھی فرمایا کہ مدارس اور مساجد اپنی استطاعت کے مطابق ہینڈ سینیٹائزرز دروازے پر رکھ رہے ہیں، قالین ہٹا دیے گئے ہیں اور صفائی ستھرائی کا پرزور اہتمام کیا جارہا ہے لہذا مساجد اور مدارس میں اب سے کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہوگا اور باجماعت نماز کی ادائیگی کی جانے گی۔

یہ تمام اہتمام ایک طرف لیکن کوئی ان علماء سے سوال کرے کہ پوری دنیا میں کووڈ 19سے بچنے کا اب تک ایک ہی طریقہ موثر ثابت ہوا ہے جس میں دو افراد کو کم از کم 6 فیٹ کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے ( جدید تحقیق کے مطابق یہ فاصلہ 13 فیٹ رکھنا ضروری ہے) کیا باجماعت نماز میں نمازیوں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھنا ممکن ہے؟ جبکہ باجماعت نماز کا تو حکم ہی نمازیوں کا کندھے سے کندھا جوڑ کر فرض کی ادائیگی کرنا ہے۔ اس صورتحال میں اگر کوئی پہلے سے متاثر شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور دیگر افراد بھی اس کے ذریعے اس وائرس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں تو اس کا ذمے دار کون ہو گا؟

یا نمازی آمدورفت کے دوران اگر کورونا وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں تو کیا یہ علماء ان کی بیماری کی ذمے داری قبول کریں گے؟ کیا یہ نا انصافی اور ظلم کی انتہا نہیں ہے ان ڈاکٹرز کے ساتھ جو عوام کی جانوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگاتے ہوئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں؟ بجائے اس مشکل وقت میں عوام کو گھروں میں رہنے کی ترغیب دینے کے، عوام کو باہر نکلنے کے لئے اکسانا آپ کے علما ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر عوام کی جان خطرے میں ڈالنے کی ضد کرنا ایک انتہا درجے کی خود غرضی ہے۔ پچھلے دنوں رائے ونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کی صورت میں ہم اس ضد کا نتیجہ دیکھ اور بھگت چکے ہیں جس میں اب تک پانچ سو سے زائد افراد اس موذی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ دین میں بہت آسانی دی گئی ہے اور نماز تو ایک ایسا فریضہ ہے جو بیماری کہ حالت میں لیٹ کر بھی ادا ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا وبا کی لپیٹ میں ہے۔ تمام مذہبی عمارتیں بند کردی گئی ہیں حتیٰ کہ اس سال حج کا ہونا بھی مشکل ہے۔ یہ تمام احتیاط انسانی جانوں کو بچانے کے لئے ہی کی جارہی ہیں۔ آپ کی جان کی حفاظت کرنا سب سے پہلے آپ کی اپنی ذمے داری ہے اس لیے ہر طرح کے اجتماع سے پرہیز کریں، سوشل ڈسٹنسگ کا خیال رکھیں، بار بار ہاتھ دھوئیں۔ یاد رکھیں اگر آپ یا آپ کے ذریعے آپ کا کوئی پیارا اس وائرس کا شکار بنتا ہے تو یہ علما ہر گز آپ کی مدد نہیں کریں گے باقی فیصلہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “عالمی وبا میں پاکستانی علما کا کردار

Comments are closed.