پریوں جیسی ثنا یوسف: جو نہ جھکی، نہ ٹوٹی

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے بچپن میں پریوں کی کہانیاں سنی تھیں۔ نازک، ہنستی مسکراتی، روشن چہرے والی، جہاں جاتیں خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیرتی۔ ثنا یوسف کو دیکھ کر بھی کسی پری کا گمان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس معصوم سے واقفیت اس کی موت کے بعد ہوئی لیکن جتنا اسے دیکھا اس کی خوبصورتی، اس کا بچپنا سب نگاہوں میں گھوم رہا ہے۔ اس کی عمر محض 17 برس وہ

Read more

بچپن کی جگہ ذمہ داریاں، کم عمری میں شادی کے خلاف بل پر مذہبی اعتراضات کیوں؟

شانزے جو ابھی کالج سے گھر آئی تھی، ماں کے کہنے پر ڈرائینگ روم میں آ گئی۔ سامنے بیٹھے انجان چہروں نے لڑکی پسند آنے کی نوید سنائی تو مارے خوشی کے ماں نے بیٹی کا ماتھا چوم لیا۔ شانزے کی عمر ابھی 17 برس ہے اور ابھی جو وہ راستے بھر مزے سے سونے اور شام کو دوستوں سے ملنے کے پلانز بناتی آ رہی تھی ان کی جگہ اب شادی شدہ زندگی کی بھاری بھرکم ذمہ داریوں نے

Read more

خلیل کے پیروکاروں سے چند سوال

خلیل میاں کی ننگ دھڑنگ ویڈیو کیا سامنے آئی خواتین کے خلاف خلیل کی فوج میں شامل لوگ دم کٹی چھپکلی کی طرح بلبلا اٹھے۔ کوئی اس کی میز پر سیرت کی کتاب رکھا ہونے پر اس کے گناہ عظیم کو دھو رہا ہے تو کوئی یہ کہہ کر خلیل کو بینیفٹ آف ڈاؤٹ دے رہا ہے کہ کیا پتا وہ ٹھیک کہہ رہا ہو۔ خلیل کے پیروکار ابھی بھی اس کے کارناموں پر بات کرنے کے بجائے ساتھ موجود

Read more

مبارک ہو جی، ایک بار پھر بیٹا ہوا ہے

نصیر جو پانچویں بار باپ اور تیسری بار بیٹے کا باپ بنا تھا، مبارکباد کو سرسری انداز میں سن کر خیر مبارک کہنے لگا۔ کہیں سے مٹھائی کی فرمائش بھی آ گئی، لیکن پانچویں بچے میں کون سی مٹھائی؟ کون سا نصیر کے ابے نے اس کے نام جائیدادیں چھوڑیں تھیں جو وہ ”ذرا ذرا“ سی بات پر مٹھائیاں بانٹتا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں اسے صرف ایک کمرہ ہی تو ملا تھا جہاں بیوی کے ساتھ آئے جہیز کے بستر

Read more

ڈگری والے نکمے بمقابلہ میرا دل یہ پکارے آ جا

میرا دل یہ پکارے آجا میرے غم کے سہارے آجا رقص کرتی لڑکی کے کھلے بال، اور نازک سراپے نے کئی مضبوط دلوں کو ایسے گھائل کیا کہ راتوں رات ہرا لباس پہنے عائشہ وائرل ہو گئی اور وائرل بھی ایسی ہوئی کہ کتنے ہی ہفتے گزر گئے جب بھی سوشل میڈیا کھولو کوئی نہ کوئی عائشہ کے انداز میں رقص کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ ایک لڑکی خوش باش ناچتی گاتی اس

Read more

کراچی بین الاقوامی کتب میلے میں دکانداروں کا رویہ اور مایوسی

”بھائی صاحب ان کتابوں پر تو قیمت نہیں لکھی“ (صارف کا سوال) ”جی یہ کتابیں بہت مہنگی ہیں“ (دکان دار کا جواب) ”آپ شاید سمجھے نہیں میں ان کی قیمت جاننا چاہتا ہوں“ (صارف مسکراتے ہوئے ) ”میں بھی بتا رہا ہوں ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ابھی اصل قیمت بتاؤں گا تو۔۔۔“ اب اس سے پہلے کہ کتاب کی قیمت پوچھنے والے صارف اور ہمارے دوست کو غصہ آتا ہم نے انھیں یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع

Read more

عامر لیاقت ہیرو نہیں تھا

روایت چلی آ رہی ہے کہ مرجانے والے کو زبردستی اچھا کہا جائے۔ اس کی برائیوں پر پردہ ڈالا جائے تا کہ ہماری بھی پردہ پوشی ہو۔ بھئی ایسے کام ہی کیوں کرو کے اپنے عیب چھپانے کے لئے مہا پاپیوں کو بھی اچھا کہنا پڑے؟ کیا یہ جھوٹ نہیں؟ منافقت نہیں؟ انسانی ہمدردی یا ترس کے تحت کسی عام انسان کی معمولی زیادتیاں تو شاید درگزر کی جا سکتی ہیں لیکن ایسے انسان کے لیے بلاوجہ کے نیک کلمات

Read more

کیا ہمارے معاشرے کی مائیں لالچی ہیں

علیشبہ کو اپنے ابا کے وجود سے بہت چڑ تھی۔ اس کی وجہ ابا کا عجیب و غریب رویہ تھا۔ پاکستانی معاشرے میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے باوجود علیشبہ ابھی تک رشتوں کی منافقت سے نہ تو سمجھوتا کر پائی تھی اور نہ ہی غیر فطری انداز کو قبول کر پائی تھی۔ اسے ابا کا اپنی سگی اولاد سے غصے سے بات کرنا ہر وقت بڑبڑانا غیر فطری لگتا تھا۔ اور اپنی بیوی سے رویے کا تو پوچھو

Read more

نیرو اور بانسری

ملکی صورتحال یہ ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم سے حکومت مذاکرات کرنے کو اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ اب یا تو کالعدم قرار دے دیں یا پھر مذاکرات کرلیں۔ کم سے کم عوام کی یہ غلط فہمی دور ہو کہ کالعدم تنظیم حکومت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دراصل کالعدم ٹی ایل پی کا اعتراض درست تھا کہ فرانس کے معاملے کو چھ مہینوں سے نہیں

Read more

مردانگی کی بیماری کا علاج انسانیت سے کریں

پچھلے چند دنوں سے خواتین کے ساتھ پیش آنے والے بیہودہ واقعات نے غیرت مند مردوں اور مشرقی اقدار کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے لیکن ظاہر ہے جس جرم کو ملک میں نظریاتی تحفظ حاصل ہو معاشرے میں اس سے بھڑنا آسان تو نہیں۔ افسوس تب ہوتا ہے جب نرد کی بورڈ جہادیوں کے علاوہ کچھ مراعات یافتہ خواتین بھی اپنی پاکدامنی جھاڑنے کے لئے مردوں کی شان میں قصیدے پڑھتی نظر آتی ہیں اور باپ، بھائی، بیٹوں کے کردار یاد دلا کر اپنی ہی جنس کو مورد الزام قرار دیتی ہیں۔

Read more

آخر بچے اور مُردے منی اسکرٹ پہننا کب بند کریں گے؟

اب میں بار بار کیا دہراؤں کہ ہمارے ذہین و فطین وزیراعظم اور قابل ترین حکومت ہر بار کچھ ایسا بیان دیتی ہے کہ ہم جو پچھلے بیان یا پالیسی کے صدمے سے باہر نہیں نکلے ہوتے دوبارہ دل پکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ ابھی ہم والدین کو ان کی ظالم اولاد کے ساتھ زبردستی نتھی کرنے والے بل اور سائنس اور صوفی ازم کے درمیان غائبانہ تعلق کی تک بندی سوچ ہی رہے تھے کہ حاکم وقت نے ایک اور بم پھوڑ دیا۔

Read more

کیا اولاد نے والدین کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟

غالباً اپنے پچھلے کسی کالم میں میں نے کہا تھا کہ یہ حکومت ہر بار کچھ ایسی پالیسی سامنے لاتی ہے کہ مجھے لگتا ہے بس یہی حد ہے لیکن اگلی بار پھر یہ حد توڑی جاتی ہے اور میں حیران سوچتی رہ جاتی ہوں کہ کیا اس سے آگے پاتال اور بھی ہیں؟ والدین پروٹیکشن بل؟ پروٹیکشن کس سے؟ بچوں سے؟ اگر والدین پروٹیکشن بل ہے تو بے ڈھنگے اور عاقبت نااندیش والدین سے نمٹنے والی اولاد کے لئے

Read more

یعنی اب محبت بھی بھاشن دے کر سکھائی جائے گی؟

محبت کے اظہار پر دو پریمیوں کو یونیورسٹی بدر کر دیا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ لڑکی کی پسند لاجواب تھی کیونکہ لڑکے نے یونیورسٹی سے نکالے جانے کا الزام لڑکی پر تھوپنے کے بجائے نہ صرف اس کا دفاع کیا بلکہ فوراً ہی شادی کر کے اپنی محبت کا حق بھی ادا کیا اور ایک انوکھی مثال قائم کی۔ انوکھی اس لئے کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جتنے نیکو کار سوشل میڈیا پر بڑے بڑے بھاشن دے رہے ہوتے

Read more

سوڈو شریف بیبیو، آپ کو عورت مارچ سے کیا مسئلہ ہے؟

چلیں عورت آزادی مارچ سے مردوں کا بدکنا تو سمجھ آتا ہے۔ جب ازل سے ملی حاکمیت ہاتھ سے جانے لگے تو مردوں کا رونا جائز بھی ہے اور فطری کمزوری کے باعث ان کا حق بھی، جسے ہم تسلیم کیے لیتے ہیں لیکن ان بیبیوں کا کیا مسئلہ ہے جو عورت ہو کر مردوں کی چاپلوسی میں عورت مارچ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بولتی ہیں؟ بیبیو! یہ واقعی علمی کمزوری ہے یا مجبوری اتنی بڑھ گئی ہے؟

Read more

غنڈے کی دھمکی: اکاؤنٹ فیک تھا یا گرفت؟

ایک غنڈہ جو ملک کے بچوں کو بے دردی سے شہید کردیتا ہے۔ جسے دنیا کی نمبر ون ایجنسی گرفت میں لیتی ہے، وہ اچانک غائب ہو جاتا ہے۔ حکومت جواب دینے کے بجائے آئیں بائیں شائیں کرتی رہ جاتی ہے۔ کچھ دن بعد وہی غنڈہ ٹویٹر پر کھلے عام ملک کی ایک ایسی بچی کو دھمکاتا ہے جو پہلے ہی گولیاں کھا کر ملک سے دور رہنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ جب ایک بار پھر سرپرستوں سے

Read more

لڑکیاں اظہارِ محبت میں پہل کیوں نہیں کرتیں؟

شیریں بھی نہیں، لیلیٰ بھی نہیں میں ہیر نہیں، عذرا بھی نہیں وہ قصہ ہیں، افسانہ ہیں وہ گیت ہیں، پریم ترانہ ہیں میں زندہ ایک حقیقت ہوں میں جذبہ عشق کی شدت ہوں میں جذبہ عشق کی شدت ہوں۔ کتنی خوبصورت سچائی ہے اس جملے میں۔ اس جملے کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے جذبات کی لہریں سچ مچ ساحل سے ٹکرا کر سب کچھ ساتھ بہا لے جانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ محبت ایسا ہی جذبہ ہے

Read more

آخر حکومت اسکول ڈھا کر مدرسے ہی کیوں نہیں بنا دیتی؟

کہیں جامعات میں حجاب کو لازمی کیا جا رہا ہے تو کہیں طالبات کو زبردستی برقعہ پہنایا جا رہا ہے۔ اور جب ان تمام بے تکے فیصلوں سے بھی دل کو سکون نہیں مل رہا تو اس کا بدلہ معصوم بچوں پر عربی زبان کا بوجھ ڈال کر لیا جا رہا ہے۔ جب بھی موجودہ حکومت کے کسی احمقانہ فیصلے پر نظر جاتی ہے تو یہی خیال آتا ہے کہ اب بس۔ یہی آخری حد ہے۔ آخر کوئی حکومت اس

Read more

سانحۂ مچھ: گلے پر چلتی چھری کی آواز کس نے سنی؟

سوچیں انسانی گلے پر چھری چلنے سے کیسی آوازیں آئی ہوں گی ، اگر کپڑا منہ میں ڈالا تھا تو بھی گھٹی گھٹی درد ناک آوازیں تو نکلی ہوں گی۔ ذبح ہونے والوں کو خوف کے علاوہ شاید اپنے خاندان والوں کا خیال بھی آیا ہو۔ کسی کو اپنی نو بیاہتا بیوی اور کسی کو اپنی بے سہارا بہنیں یاد آئی ہوں گی ، کسی کو اپنے بوڑھے باپ کا خیال بھی آیا ہو گا۔ مرنے والوں نے مرنے سے پہلے کیا سوچا ہو گا کہ آخر کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہا ہوں؟

Read more

مسٹر حسن نثار! آپ چاہتے کیا ہیں؟

حضرت! پہلی بات تو یہ اپنی بے عقل کھوپڑی میں ڈال لیں کہ کسی بھی عورت کا آدمی سے برابری کرنا شوق یا پھر ضرورت نہیں بلکہ حق ہے جو اسے کسی مرد سے لیے کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ چونکہ آپ براہ راست ریما عمر صاحبہ کی ذات پر نکتہ چیں تھے تو یہ یاد رکھیں مقابلہ ہمیشہ برابر یا خود سے اونچے لوگوں سے کیا جاتا ہے اور جو اس وقت آپ کی اخلاقی حالت ہے کوئی بھی مہذب انسان مقابلہ تو دور آپ سے کلام تک کرنا گوارا نہیں کرے گا۔  یہ تو آپ کا ہی خواب ہو سکتا ہے کہ ریما عمر یا کوئی اور قابل شخص آپ کو اتنی اہمیت دے کہ آپ ان سے مقابلے کے قابل بن سکیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ا، شاید یہی وجہ ہے کہ دلیلوں کے فقدان اور کمتری کے احساس نے آپ کی فرعونیت کو اتنا بھڑکا دیا کہ براہ راست ٹی وی شو میں بدتہذیبی کے بعد بھی آپ نے خاتون کے بارے میں دوبارہ برے انداز میں بات کی۔

Read more

سوال غدار ہے!

ہم نے تو بچپن سے گریجویشن تک مطالعہ پاکستان کی کسی بھی کتاب میں یہ ’خرافاتی نظریہ‘ نہیں پڑھا کہ ریاست کا بنیادی فرض عوام کے جان، مال، عزت اور حقوق کا تحفظ ہے کیونکہ ہمیں تو یہی بتایا، رٹایا جاتا رہا ہے کہ ہم ہمیشہ سے ہی کتنی انوکھی مخلوق ہیں لہٰذا خصوصی طور پر ہمارے لیے یہ مقدس زمین حاصل کر کے ہم پہ جو عظیم احسان کیا گیا ہے اس کا حق یہی ہے کہ بجائے ہم ریاست سے اپنے حقوق کا سوال کر کے غداری کے مرتکب ہوں، اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون کی بلی چڑھا کر ریاست کی لمبی عمر کی دعائیں کرنا ہی ہمارا دھرم ہونا چاہیے ۔

Read more

مرد عورت کا ساتھی ہے, ناخدا نہیں

عمارہ ایک واجبی شکل صورت کی لڑکی تھی۔ جس کی ماں اس کے بچپن میں ہی مر گئی اور تین بچوں کو پال کر جوان کرنے کے بعد باپ بھی چل بسا۔ عمارہ کے بڑے بھائی نے ایک کے بعد ایک اپنی دونوں بہنوں کہ شادیاں مناسب انداز میں کر کے کسی طرح اپنی ذمے داری پوری کی اور اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد ہی اپنا گھر بھی بسا لیا۔ بڑی بہن کو تو خوش قسمتی سے

Read more

شیریں مزاری اور پاکستان کے احمدی

ایک 82 سالہ سیدھے سادے بزرگ بس اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کر رہے ہیں اسی اثنا میں ان کو باقاعدہ نشانہ بنا کر گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ جمعے کی عبادت کر کے واپس آنے والے باپ اور اس کے 31 سالہ ڈاکٹر بیٹے کو بھی فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیٹا باپ کی آنکھوں کے سامنے ہی دم توڑ دیتا ہے۔ ان دونوں واقعات میں مرنے والوں کا

Read more

عوام کو نگلتے مسائل اور چور سپاہی کا کھیل

پی ٹی آئی کی حکومت کو دو سال سے اوپر ہو گئے ہیں۔ عوام سے جو دعوے اور چاند ستارے توڑ کر لانے کے وعدے کیے گئے تھے، وہ تو پورے نہ ہو سکے، البتہ چور سپاہی والا کھیل جو کہ الیکشن جیتنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اس کا خاتمہ ہوتا نظر ہی نہیں آ رہا۔ الیکشن سے کچھ دن قبل تو یہی لگتا تھا کہ ادھر موجودہ وزیر اعظم نے کرسی سنبھالی نہیں اور ادھر وطن عزیز نے ورلڈ پاور کا عہدہ حاصل کر لینا ہے، کیوں کہ دعوے اور بیان بازیاں ہی کچھ اس طرح کی گئی تھیں کہ کوئی پاکستانی کتنا ہی حقیقت شناس کیوں نہ ہو، کسی نہ کسی حد تک امید کی ڈوری تھام چکا تھا (جس جس کو یقین نہیں وہ 2018ء کے الیکشن سے قبل خان صاحب یا مراد سعید کی کوئی بھی تقریر اٹھا کر سن لے)۔ اب صورت احوال کچھ یوں ہے کہ حکومت کو شاید ابھی تک اپنے عہدے کا ادراک ہوا ہی نہیں، یا پھر جانے کیا بات ہے کہ دو سال سے اوپر ہو جانے کے بعد بھی، حکومت اپنی درست سمت متعین کرنے سے قاصر ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے حزب اختلاف کا اتحاد اور مختلف شہروں میں جلسے سے موجودہ حکومت کو کافی شکایت ہے۔ وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ اپوزیشن کے اس طرز عمل سے ملکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، جب کہ یہ وہی جماعت ہے، جو خود سابق حکومت میں 126 دنوں کا دھرنا دے چکی ہے۔ اس وقت بھی پی ٹی آئی کی روش پر تنقید کا جواب ”پٹواری“ یا ”جیالے“ یا پھر ”چور کا ساتھی چور“ کے القابات سے ملتا تھا۔ وہی صورت احوال آج بھی ہے، یعنی ہر تک اور جواز کو ختم کرنے کے لئے بیان بازی، طعنہ زنی اور گڑے مردے اکھاڑنے کی تحریک انصاف کی پرانی روایت برقرار ہے۔

Read more

درندگی کی سزا مزید درندگی؟

جب بھی جنسی زیادتی کا واقعہ کسی عورت کے ساتھ پیش آتا ہے اعتراض متاثرہ عورت کے لباس یا اکیلے باہر آنے پر کیا جاتا ہے اور عورت پر ہی ذمے داری تھوپ دی جاتی ہے۔ اور جب جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بچی یا کمسن بچے کے ساتھ پیش آتا ہے تو سر عام پھانسی کا مطالبہ کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاثر کچھ ایسا دیا جاتا ہے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے بغیر معاشرہ تبدیل کیا جا ہی نہیں سکتا جب کے ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر جرم پر ذاتی غصہ نکالنے کی روایت عام ہے یہ سوچے بغیر کے سزائیں ذاتی غصے اور بدلے لینے کہ بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ ریاست قانون اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مجرموں کو سزا دیتی ہے اور سزا کا مقصد بدلے کی آگ بجھانا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور افراد کو مجرم بنانے سے روک کر سماج کا فعال شہری بنانا ہونا چاہیے۔ ایک مجرم کو اس کی درندگی کی سزا دینے کے لیے انسانی حقوق کے قوانین توڑ کر مجرم سے بڑھ کر درندگی کرنے کی اجازت نہ اخلاقیات دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت۔

Read more

مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی رہا یا نہیں؟

موٹر وے روڈ پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر سی سی پی او لاہور کے بیہودہ بیان کو سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ان کا یہ غلیظ بیان ہی تو دراصل ہمارے نام نہاد مشرقی اقدار کی دین ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص آپ کو خواتین کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات دیتا دکھائی دے گا کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی روایت ہے۔ صرف سی سی

Read more

اپنے بچوں کی خود حفاظت کریں

پچھلے چند ہفتوں سے متواتر مدارس اور مساجد میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آرہے ہیں جن میں کوئی کافر، قادیانی یا یہودی سازش نہیں بلکہ خود مولوی حضرات ملوث پائے جاتے ہیں۔ کچھ دن پہلے پشاور کے رشید گڑھی گاؤں میں ایک بارہ سالہ بچے کی لاش عمر فاروق مسجد سے برآمد کی گئی جس کو خودکشی کا رنگ دینے کے لئے برآمدے میں گلے میں رسی ڈال کر لٹکا یا گیا اور بقول

Read more

عورت کا بیوپار اور معاشی خود انحصاری

اگر پیدائش سے موت تک کسی ذی روح کا وجود بوجھ سمجھا جاتا ہے تو وہ عورت ہے۔ رشتوں کے نام نہاد سنہرے لفافوں میں لپیٹ کر کتنا ہی اس حقیقت کو جھٹلایا جائے اس سے معاشرے میں عورت کے کم حیثیت وجود پر کوئی فرق بہرحال نہیں پڑتا۔ کتنا ہی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کا دھوکا دے عورت کے ہاتھ پاؤں باندھے جائیں اس کی حیثیت گھر میں بندھے جانور سے کچھ زیادہ نہیں ہوتی جو نہ

Read more

جمہوری حکومت کے آمرانہ اطوار

عجیب جمہوریت ہے جس میں صرف آمریت کے رنگ نمایاں ہیں۔ ملکی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا شخص میری اس بات سے کسی نہ کسی حد تک ضرور اتفاق کرے گا کہ موجودہ حکومت میں ضیاء دور حکومت کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ اگر معاشی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ حکومت گزشتہ آمرانہ حکومتوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے، قرضے تو بہر حال پاکستان کی ہر حکومت نے لیے

Read more

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی: عصر حاضر کے سقراط

جیسا کہ اس ملک کا رواج ہے کوئی بھی شعور رکھنے والا شخص یہاں سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا اگر حکومت آپ پر غداری کا فتویٰ نہ بھی عائد کرے تو بھی یہ فرض عوام پوری تندہی سے انجام دے دیتی ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ علمی اور ادبی حوالے سے ان کا تعارف لکھنا سورج کے آگے دیا رکھنے کے مترادف ہے لیکن پھر مختصراً بیان کرتی چلوں کہ ڈاکٹر صاحب دنیا

Read more

مندر کی بے حرمتی

کچھ دن پہلے فیس بک پر سکرولنگ کرتے ہوئے بچوں کی ایک کتاب پر نظر پڑی جس کا نام تو مجھے یاد نہیں البتہ سرورق پر شیو لنگ کا بت تھا جسے ایک داڑھی والا شخص کلہاڑا مار کر توڑ رہا تھا۔ بچپن سے کتب بینی کہ عادت ہے ایسے سرورق، عنوانات یا مضامین میرے لئے نئے نہیں ہیں پھر بھی مندر کے حوالے سے چلتے ملک میں حالیہ تنازع کے باعث وہ سروق کئی دنوں میرے دماغ سے چپکا

Read more

کراچی: کچھ الفاظ بارانِ زحمت کے نام

سنا تو ہمیشہ باران رحمت ہی ہے لیکن افسوس کے ساتھ تجربہ ہمیشہ زحمت کا ہی رہا ہے۔ جی ہاں پاکستان بالخصوص کراچی میں آج سے مون سون کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ شہر کے اکا دکا علاقوں کے علاوہ زیادہ تر جگہوں پر تو بس بوندیں ہی گریں مگر سڑک پر پانی کچھ ایسے کھڑا ہے جیسے اسے بس بارش کا انتظار تھا اور بوندیں گرتے ہی جانے کہاں کہاں سے نمودار ہو کر سڑک پر آ کھڑا ہو گیا ہے۔ بجلی جانا تو خیر ویسے ہی سالوں سے روز کا معمول ہے البتہ بارش کے قطرے گرنے سے اس میں جو تیزی آتی ہے وہ بھی آ چکی ہے اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ محض پہلے ہی دن شہر میں بارش کی وجہ سے ہونے والے واقعات کے سبب پانچ افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

دیکھا جائے تو یہ مسئلہ بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ سب سڑکوں کی مرمت، نالوں اور گٹر کی بروقت صفائی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پانی سڑکوں پر نہ کھڑا رہے، ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کی مرمت، بجلی کے لٹکتے خطرناک تاروں اور بجلی کے ارد گرد قائم گھروں اور دکانوں کا خاتمہ کرنا ہر لحاظ سے سب سے پہلے مقامی حکومتوں کی ہی ذمے داری ہے مگر وہاں سے تو موسم کے آغاز سے قبل ہی کراچی کے میئر جناب وسیم اختر صاحب کی جانب سے وسائل کی کمی کا رونا رو کر عذر تراشا جا چکا ہے۔

Read more

منافقت نہیں، انسانیت چاہیے

گزشتہ دنوں ایک وائرل وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک تین سالہ کشمیری بچہ ایک لاش کے اوپر بیٹھا رو رہا تھا۔ دوسری کلپ میں دیکھا کہ بچہ ہچکیوں سے روتا ہوا بمشکل بتاتا ہے کہ وہ لاش اس کے نانا کی تھی جنھیں بھارتی فوجیوں نے اس کی آنکھ کے سامنے گولیوں سے قتل کر دیا۔ بچے کے ننھے منے ہاتھوں میں چپس، بسکٹ کی تھیلیاں دیکھ کر اس پر مزید پیار آنے لگتا ہے۔ معصوم بچے کے

Read more

عوام "جاہل” نہیں "مجبور” ہیں

گزشتہ دنوں پنجاب کی صوبائی ہیلتھ منسٹر محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا جس میں وہ لاہور کے عوام کو کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاط نہ کرنے پر جارحانہ انداز میں جاہل اور بیوقوف قرار دے گئیں۔ ایک منتخب وزیر اگر اپنی ہی قوم کو ”جاہل“ کے خطاب سے نوازے تو پھر اس قوم کے لیے باقی کیا بچتا ہے؟ کیا واقعی یہ قوم جاہل ہے جو ایسے حکمرانوں

Read more

سنا مکی اور کلونجی علاج نہیں ہیں

رفع حاجت کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا ضروری ہے ورنہ اسلام میں تو کسی صابن کا ذکر نہیں تین بار پانی سے ہاتھ دھو لینے سے انسان پاک ہو جاتا ہے البتہ سائنس کہتی ہے کہ جراثیم صرف پانی سے نہیں مارا جاسکتا صابن کا استعمال ضروری ہے اسی طرح کسی عالمی وبا کے خاتمے کے لیے سنا مکی نامی پتوں پر انحصار ممکن نہیں جو کہ درحقیقت قبض کشا دوا کے طور پر حکمت کے شعبے میں استعمال

Read more

ایس او پیز کی ہوتے ہیں؟

وبا سے متاثر ہونے کے بعد دنیا رک سی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن نے جہاں بہت سی جانوں کی حفاظت کی ہے وہیں کاروبار اور روزمرہ کے معمولات زندگی ادا کرنے میں قدرے دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یوں تو حالات کا تقاضا یہی ہے کہ لاک ڈاؤن کو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ اس میں مزید سختی برتی جائے کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان اس وقت عالمی وبا کے ”پیک ٹائم“ میں داخل ہوچکا ہے اس وقت عوام کا متحرک ہونا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن فی الوقت حکومت معاشی مسائل کا بوجھ عوام پر ڈالتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر خیر یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔

Read more

اردو ادب پر مذہبی چھاپ: روحانیت یا کمرشل ازم؟

دنیا بھر کے ادب میں اولیت ان لکھاریوں کو دی جاتی ہے جن کا قلم تحقیق، تجربے اور تجسس کو دعوت دیتا ہو جس سے انسان کی ذہنی نشو و نما اور فکری بالیدگی کو جلا مل سکے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے اردو ادب کی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو چند ایک شعراء کے علاوہ تمام لکھنے والے بالخصوص نثر لکھنے والے ایک محدود نظریے پر لکھتے نظر آتے ہیں جن کی تمام تر سوچ صرف مذہب کے گرد طواف کرتی محسوس ہوتی ہے اردو نثری مضامین لکھنے والوں پر مذہب کی چھاپ نمایاں ہے۔

Read more

ارتھ ڈے- ایک عزم اور ہم سب کی ذمے داری

22 اپریل کو دنیا بھر میں ”ارتھ ڈے“ منایا جاتا ہے۔ ارتھ ڈے باضابطہ طور پر پہلی بار 1970 میں تقریباً 193 سے زائد ممالک میں ایک عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا، قدرتی ماحول کی حفاظت، موسمی تبدیلی اور قدرتی آفات سے زمین اور جانداروں پر ہونے والے اثرات کو کم سے کم کرنا نیز عوام اور آنے والی نسلوں کو بھی ان تمام مسائل

Read more

عالمی وبا میں پاکستانی علما کا کردار

ایک جانب دنیاوی تعلیم سے آراستہ وہ مسیحا ہیں جو اپنے خاندان، اپنی صحت اور اپنی ذاتی زندگی پس پشت ڈال کر عوام کی جانوں کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن کسی حکومتی فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو اہم نہیں گردانا جاتا، دوسری جانب مذہب کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار ہیں جن کا اس ساری صورتحال سے اگر کوئی تعلق ہے تو صرف یہ کہ کس طرح وہ اس وبائی صورتحال کو بھی اپنے مفاد میں استعمال کر

Read more