کارل مارکس: تاریخ کا دیدہ ور اور سماجی انصاف کا علم بردار

فلسفہ دانوں نے دنیا کے نظاموں کی بہت سی شرحیں کیں ہیں، مگر  کلیدی بات اس دنیا کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ یہ قول کارل مارکس کا ہے (پیدائش 5 مئی 1818۔ وفات 14 مارچ 1883 ) جو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں ان کے لوح مزار پر کندہ ہے۔ یہ الفاظ انسانی تاریخ کے مستقبل کا قطبی ستارہ ہیں۔ اس بنا پہ کارل مارکس کا نام دنیا کے عظیم ترین مصلحوں اور دیدہ وروں میں بلند تر ہے۔

Read more

”سدہارتھ“ ناول کے بارے میں ڈاکٹر خالد یوسف کے ساتھ ایک مکالمہ

یادش بخیر۔ ہمارے یار مہربان ڈاکٹر خالد یوسف سے جب بھی بات ہو ذہن پر پرانی یادوں کے کسی ساون کی پھوار گرنے لگتی ہے۔ دو تین مہینے ہوئے انہوں نے میر پور سے فون پہ بتایا تھا کہ وہ ”ہرمن ہیس“ کے ناول سدہارتھا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد گاہے گاہے فون کر کے ناول کے بارے میں اپنے خیالات اور تاثرات سے بھی آگاہ کرتے رہے۔ ادب کے بارے میں ہماری گفتگو کالج کے زمانے سے

Read more

کیا اکیسویں صدی میں کارل مارکس کو پڑھنا ضروری ہے؟

5 مئی 1818 کارل مارکس کی پیدائش کا دن ہے۔ مارکس نے 64 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اکیسویں صدی میں ڈیڑھ دو سو سال کے بعد کیا آج مارکس کو پڑھنا ضروری ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ اور ساتھ ہی یہ سوال پیدا ہو جائے گا کہ کیوں؟ اس کا جواب بہت آسان ہے کیونکہ مارکس سماجی انصاف کا فلسفی تھا اور داعی تھا مگر اس سے پہلے وہ اس سماجی بیماری کی تشخیص کرتا ہے

Read more

ریڈ انڈین تہذیب کا نفسیاتی زوال اور تقدیر کا عریاں جبر

امریکہ کے سرخ فام باشندے جنہیں عرف عام میں ریڈ انڈین کہا جا تا ہے، وہ آج کے زمانے میں شکست ذات کی تصویر ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب بحرالکاہل اور اوقیانوس کے درمیان چلتی ہوائیں، منہ زور آندھیاں، شہ زور بگولے اور افق تابہ افق پھیلی زمین ان کا گھر تھی۔ اس زمین میں جانوروں، درختوں اور چرند پرند کے ساتھ ان کی برابر کی شراکت تھی۔ ان کا زمین اور تمام مظاہر فطرت کے ساتھ تقدیس کا

Read more

کرونا وبا کے موسم میں شہنشاہ اشوک کی گیارہویں تعلیم

کرونا وائرس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کچھ نا گفتنی سی ہے۔ اللہ اس موذی کرونے کو غارت کرے۔ اس کے باوجود ہمیں اعتراف ہے کہ کچھ فرصت بہم ہوئی ہے۔ آب و دانہ کی سعی ناتمام جو ہمارے روز و شب پر محیط رہی ہے، اس کرونے کی وجہ سے ایک مقام پر آ کے رک سی گئی ہے۔ چلیں اس میں بھی کچھ اچھائی کا پہلو نکلا کہ درون دل گفتنی بہت کچھ ہے۔ آج کل اکثر دل

Read more

امن عالم کی شاعرہ : نزہت صدیقی

برسوں پہلے امرتا پریتم نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا: ”نزہت صدیقی نے جو نظریہ پیش کیا ہے وہ شاعری کو ایک نئی سمت دے رہا ہے“
ڈیلی ہند سماچار۔ جالندھر۔ سنڈے ایڈیشن 7 مئی 1987

قابل صد احترام امرتا پریتم کا کالم پڑہنے کے بعد عہد نامہ قدیم کی ایک آیت یاد آئی:
”حکمت سے گھر تعمیر کیا جاتا ہے
اور فہم سے اُس کو قیام ہو تا ہے ”

میرا خیال ہے بڑی شاعری، ادب اور فن، کلچر کے اندر وہ فہم ہے جس کی موجودگی یا غیر موجودگی انسانوں اور قوموں کے ارتقاء یا زوال کا باعث بنتی ہے۔ شاعری اور ادب معاشرتی طنابیں سنبھالنے میں وہی کام کرتا ہے جس کی طرف با ئبل کے انبیا نے اوپر والی آیات میں اشارہ ہے۔ اس کا مقصدِ اولیں ایک پر امن انسانی معاشرہ ہے اور نزہت کی شاعری کا محور بھی امن ہے۔ امن، اپنے وسیع تر معنوں میں یعنی امنِ عالم جو دور حاضر میں انسانی معاشرہ کے ساتھ ساتھ کرہِ ارض پر ہستی کی تمام صورتوں کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔

Read more

سرخ فام امریکی نسل پر تاریخ کے جبر کا نوحہ

امریکہ میں یورپی قوموں کی آمد کے بعد تمام مقامی سرخ فام قبائل کی طرح چیروکی قبیلے پر بھی قیامتیں ٹوٹیں۔ وہ تفاصیل علیحدہ ہیں۔ باقی قبائل کی طرح چیروکی قبیلے کا اصل سانحہ یہ ہے کہ انہیں اپنی زندگی اور روح کی یکتائی سے ہاتھ دھونے پڑے اور ان کی حاجت روائی کا کوئی طریقہ میسر نہیں۔ اس سانحے کی وضاحت کے لئے چیروکی بزرگ ”کارن ٹیسل“ کا 1785 کا ایک مکالمہ حوالے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ تاریخ کے ظلم نے انہیں خستگی اور شکستگی کے اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں انہیں تقابلی جائزے کے لئے وہ باتیں کہنی پڑیں جو ان کی سوچ کا بنیادی حصہ نہیں تھیں۔ لاچار ان کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے :

”تم کہتے ہو کہ انڈین بھی ہماری طرح زمین کو کاشت کیوں نہیں کرتے اور ہماری طرح سے زندگی کیوں نہیں گزارتے؟ مگر کیا ہمیں یہ پوچھنے کی اجازت ہے کہ سفید فام بھی ہماری طرح سے شکار کیوں نہیں کرتے اور ہمارے جیسا رہن سہن اختیا ر کیوں نہیں کرتے۔ خدائے برتر نے تو ہر ایک کو زمین عطا کر دی تھی۔ جس میں تمیارے لئے سور اور ہمارے لئے ریچھ رکھا۔ تمہارے لئے بھیڑ اور ہمارے لئے ہرن۔ اس نے تمہارے ساتھ بھی مہربانی کی کہ تمہارے جانور سدہائے جانے والے اور گھریلو طرز کے رکھے مگر ہمارے جانور ہماری روح کی طرح آزاد، وحشی اور جنگلی۔ ہمارے جانوروں کی طبعی ضرورت ہے کہ ان کے پاس حد نگاہ تک کھلی زمین ہو۔ زمین کی فراوانی ہمیں اور ہمارے جانوروں کو اس لئے چاہیے تا کہ ان کے شکار میں فن جیسی لطافت ہو“۔

Read more

سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر

سیکولرازم کے باب میں ہمارے یہاں کم شناسی کا یہ عالم ہے کہ شان الحق حقی صاحب نے اپنی انگریزی اردو ڈکشنری میں سیکولرازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کیا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی سیکولرازم لادینیت سے بہت مختلف ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس کے معانی مذہبی لادینیت کے ہی رائج ہیں۔ لغت مرتب کرنے والوں کے نزدیک معانی کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لفظی ترجمے کی ہو سکتا ہے کئی وجوہات ہوں، مگر لادینیت

Read more