امن عالم کی شاعرہ : نزہت صدیقی

برسوں پہلے امرتا پریتم نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا: ”نزہت صدیقی نے جو نظریہ پیش کیا ہے وہ شاعری کو ایک نئی سمت دے رہا ہے“
ڈیلی ہند سماچار۔ جالندھر۔ سنڈے ایڈیشن 7 مئی 1987

قابل صد احترام امرتا پریتم کا کالم پڑہنے کے بعد عہد نامہ قدیم کی ایک آیت یاد آئی:
”حکمت سے گھر تعمیر کیا جاتا ہے
اور فہم سے اُس کو قیام ہو تا ہے ”

میرا خیال ہے بڑی شاعری، ادب اور فن، کلچر کے اندر وہ فہم ہے جس کی موجودگی یا غیر موجودگی انسانوں اور قوموں کے ارتقاء یا زوال کا باعث بنتی ہے۔ شاعری اور ادب معاشرتی طنابیں سنبھالنے میں وہی کام کرتا ہے جس کی طرف با ئبل کے انبیا نے اوپر والی آیات میں اشارہ ہے۔ اس کا مقصدِ اولیں ایک پر امن انسانی معاشرہ ہے اور نزہت کی شاعری کا محور بھی امن ہے۔ امن، اپنے وسیع تر معنوں میں یعنی امنِ عالم جو دور حاضر میں انسانی معاشرہ کے ساتھ ساتھ کرہِ ارض پر ہستی کی تمام صورتوں کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔

Read more

سرخ فام امریکی نسل پر تاریخ کے جبر کا نوحہ

امریکہ میں یورپی قوموں کی آمد کے بعد تمام مقامی سرخ فام قبائل کی طرح چیروکی قبیلے پر بھی قیامتیں ٹوٹیں۔ وہ تفاصیل علیحدہ ہیں۔ باقی قبائل کی طرح چیروکی قبیلے کا اصل سانحہ یہ ہے کہ انہیں اپنی زندگی اور روح کی یکتائی سے ہاتھ دھونے پڑے اور ان کی حاجت روائی کا کوئی طریقہ میسر نہیں۔ اس سانحے کی وضاحت کے لئے چیروکی بزرگ ”کارن ٹیسل“ کا 1785 کا ایک مکالمہ حوالے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ تاریخ کے ظلم نے انہیں خستگی اور شکستگی کے اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں انہیں تقابلی جائزے کے لئے وہ باتیں کہنی پڑیں جو ان کی سوچ کا بنیادی حصہ نہیں تھیں۔ لاچار ان کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے :

”تم کہتے ہو کہ انڈین بھی ہماری طرح زمین کو کاشت کیوں نہیں کرتے اور ہماری طرح سے زندگی کیوں نہیں گزارتے؟ مگر کیا ہمیں یہ پوچھنے کی اجازت ہے کہ سفید فام بھی ہماری طرح سے شکار کیوں نہیں کرتے اور ہمارے جیسا رہن سہن اختیا ر کیوں نہیں کرتے۔ خدائے برتر نے تو ہر ایک کو زمین عطا کر دی تھی۔ جس میں تمیارے لئے سور اور ہمارے لئے ریچھ رکھا۔ تمہارے لئے بھیڑ اور ہمارے لئے ہرن۔ اس نے تمہارے ساتھ بھی مہربانی کی کہ تمہارے جانور سدہائے جانے والے اور گھریلو طرز کے رکھے مگر ہمارے جانور ہماری روح کی طرح آزاد، وحشی اور جنگلی۔ ہمارے جانوروں کی طبعی ضرورت ہے کہ ان کے پاس حد نگاہ تک کھلی زمین ہو۔ زمین کی فراوانی ہمیں اور ہمارے جانوروں کو اس لئے چاہیے تا کہ ان کے شکار میں فن جیسی لطافت ہو“۔

Read more

سیکولرازم: مذہبی اساطیر سے روشن خیالی کی جانب تاریخ کا سفر

سیکولرازم کے باب میں ہمارے یہاں کم شناسی کا یہ عالم ہے کہ شان الحق حقی صاحب نے اپنی انگریزی اردو ڈکشنری میں سیکولرازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کیا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی سیکولرازم لادینیت سے بہت مختلف ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس کے معانی مذہبی لادینیت کے ہی رائج ہیں۔…

Read more