خوف اور نصیر احمد ناصر کی نظم
خوف ہر زندہ شے کا جبلی وصف ہے۔ خوف سے خوف زدہ ہونا کم زوری، جب کہ اس کو مینیج کرنا بہادری کی علامت ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی خوف کا سامنا کرتا ہے۔ خوف ایک پردہ ہے جو آپ اُس فعل، تصور، نظریے یا خیال پر تان دیتے ہیں جو آپ کو پریشان کرتا ہے۔ جب کہ خوف ایک انتہائی طاقت ور چیز ہے۔ یہ آپ کو آگے بڑھنے پر مائل کرتا ہے۔ خوف کو مینیج کرنے کی ایک بہترین مثال طارق بن زیاد کا کشتیاں جلا دینے کا حکم تھا۔
در اصل کشتیاں جلوا کر طارق نے اپنی سپاہ کے خوف کو طاقت میں بدل دیا تھا۔ جب تک آپ کے پاس فرار کا ایک ممکنہ راستہ موجود رہتاہے، آپ اپنی تمام طاقت کے ساتھ مقابلہ نہیں کرتے۔ جب طارق بن زیادہ نے کشتیوں کو آگ لگوا دی تو ا س کے گرد کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایسا عمل انتہائی غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔ ہم اپنے وطن کی سرزمین سے بہت دُور ہیں تو طارق بن زیاد نے ایک تاریخی جملہ کہا: ”ہر ملک ہماری مِلک ہے کیوں کہ وہ ہمارے خدا کا ملک ہے“۔
تخلیق کار بھی ایسے ہی مختلف اظہاریوں میں خوف پر تنے ہوئے پردے کو ہٹا تے ہیں اور قارئین کو اُ س کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر صدی میں انسان جہاں اپنے اختراع کردہ مسائل سے مقابلہ کرتے کرتے زمیں برد ہوا، وہیں قدتی آفات سے بھی مقابلہ کرتے کرتے نسلوں کی نسلیں تباہ کر بیٹھا۔ ان میں سے ایک تصور وائرس یا وائرسوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بھی ہے، جس پر بہت سی فلمیں بھی بنیں جن کو لکھنے اور بنانے والوں نے اپنے تخیل اور تاریخی مطالعے کی بنا پر بعینہِ وہی منظر متشکل کیا جس کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں۔
ان فلموں میں 1995ء میں بننے والی فلم Outbreak، ایسے ہی 2004ء میں بننے والی فلم Dawn of the Dead، دو ہزار آٹھ میں بننے والی فلم Quarantine، دو ہزار نو میں بننے والی فلم Carriers، دو ہزار تیرہ میں بننے والی فلم Flu، اور سب سے اہم فلم Contagion جو 2011ء میں بنی تھی شامل ہیں۔ ان فلموں میں انسان پر وائرس کے براہِ راست یا کسی دیگر شکل میں حملے اور انسان کی اس کے خلاف مزاحمت کو فلمایا گیا ہے۔ یہ فلمیں بہت حد تک ہمارے موجودہ منظر نامے کو متشکل کرتی ہیں۔
بطورِ خاص کووڈ19 پر تو کوئی فلم سامنے نہیں آئی، جس کو ہم یہ کہہ سکیں کہ فل لینتھ فلم ہے۔ البتہ دو فلموں کا چرچا ان دنوں بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے ایک کرونا وائرس کے نام سے ہے، جسے نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق کینڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈائریکٹر مصطفیٰ کشوری نے بنایا اور جسے جلد ہی ریلیز کرنے کا ارادہ ہے۔ اب ایسا ہوا تو یہ کرونا وائرس پر پہلی باقاعدہ فلم ہو گی۔ تاہم اس کا ٹریلر گردش میں رہا۔ ایسے ہی ایک اور فلم Corona Zombies کا بھی چرچا ہے، جس میں دو پرانی فلموں 1980 میں بننے والی فلمHell of the Living Dead اور 2012 میں بننے والی فلم Zombies vs Strippers کا تڑکا لگا کر بنایا گیا ہے۔ ساتھ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کلپ بھی شامل کیا گیا ہے، تا کہ معاصر شکل دی جا سکے۔ تاہم اسے آپ فلم نہیں کہہ سکتے کچھ لوگ تو اس ”حرکت“ کو مزاحیہ فلم کا نام دے رہے ہیں۔
ایسے ہی سنجیدہ ادب میں بھی Pandemic Literature کے نام سے بہت سا مواد موجود ہے۔ بہت سی زبانوں میں وباؤں سے متعلق ادب تخلیق ہوا۔ کرونا وائرس سے متعلق مغرب سے Slavoj Žižek کی تازہ کتابPandemic COVID۔ 19 Shakes the World! کا ان دنوں بہت چرچا ہے۔ تاہم اردو ادب میں بھی اس ضمن میں ہمیں بہت کچھ ملتا ہے۔ تفصیل میں جانے کی بجائے میں بطورِ خاص نصیر احمد ناصر کا ذکر کروں گا، جو اردو نظم کے اُن چنیدہ شاعروں میں سے ہیں، جن کی نظم کا خمیر مقامیت سے اٹھ کر عالمی سیاسی، سماجی اور جمالیاتی منظر نامے میں تبدیل ہوتا ہے۔
اُردو شاعری کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ عمومی طور پر تخلیق کاروں کے یہاں ایک آئیڈیل آدرش یا سماج ہی متشکل ہوتا رہا، جس کی وجہ سے عصریت کی غیر موجودی نے ادبی اظہاریوں کو انسان دوست نہیں رہنے دیا۔ فنونِ لطیفہ کے بہت سے اظہاریے، بظاہر انسان دوست یا سماج سدھار کے لیے نہیں بھی ہوتے۔ تاہم جلد یا بدیر وہ محض انفرادی حظ یا پھر فراریت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ دنیا کا بڑا ادب بڑے دُکھ کی شرح یا کسی نظریے سے متعلق بڑا سوال ہوتا ہے۔
ایسے ہی تخلیق کار اپنے تخیل یا مطالعے کے زور پر اپنی تخلیقات میں مستقبل کا منظر نامہ بھی پیش کر جاتا ہے۔ حالیہ کرونا وائرس کی وبا نے جس پیمانے پر تخلیق کاروں کے ادبی جوہر کو متاثر کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ بہت سے نئے الفاظ اور لسانی تجربے ادب کا حصہ بنتے جا رہے ہیں کہ یہی زندہ زبانوں کا شعار ہے، وہ دیگر زبانوں کی اصطلاحات یا لسانی تجربے کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔ اُردو اس معاملے میں بہت زیادہ زندہ شمار ہوتی ہے کہ اس کو برتنے والوں نے جوں جوں اس کی شکل مسخ کی، اِس نے اُس کو بھی گلے لگایا اور آپ بصری بیانیوں کی اہم ترین صورت ٹی وی ڈراموں میں اس کا مسخ شدہ چہرہ نا صرف دیکھتے ہیں، بلکہ اب تو وہ ادب میں بھی برتا جانے لگا ہے۔ بات ہو رہی تھی نصیر احمد ناصر کی شاعری کی۔ ان کی ایک نظم ”پس پائی اور محبت کی آخری نظم“ نظر سے گزری۔ یہ نظم حیران کر دینے والی ہے۔ نظم میں متشکل ہونے والا منظر کس قدر حقیقی ہے، اس سے آپ شاعر کے تخیل کی جست پر داد نہ دیں، تو یہ ادبی منافقت ہو گی۔ نظم پیشِ خدمت ہے:
پسپائی اور محبت کی آخری نظم:
جب کشتیاں دریاؤں سے
اور کنارے پانیوں سے اوب جائیں
اور راستے بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
اچانک کسی ہائی وے کی زد میں آ کر کچلے جائیں
تو سمجھ لینا
زمین پر میرے اور محبت کے دن پورے ہو چکے ہیں
اور میں آخری معرکا بھی ہار چکا ہوں
اور تمہاری بھیجی ہوئی دعاؤں کی کمک
اور محافظ تعویذوں سمیت مارے جانے سے پہلے
کسی تنگ نشیبی راستے میں
زخموں کی تاب لانے
اور تاب کار شعاعوں سے آکسیجن کشید کرنے کی
بے سود کوشش کر رہا ہوں
اور عین جنگاہ میں
تمہارے لیے لکھی ہوئی نظمیں
اور امن خوابوں سے بھری ہوئی ڈائریاں
ان درختوں کے ساتھ ہی کوئلہ بن چکی ہیں
جو شعاعی حملے سے پہلے
پھولوں سے لدے ہوئے تھے
اور جن کے نیچے میں آخری بار بیٹھا تھا
اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بمشکل حلق سے اتارے تھے
اور پانی کے بچے کھچے چند قطروں سے ہونٹ تر کیے تھے
اور جب تم دیکھو
کہ وقت اچانک رک گیا ہے
اور شام کی اذانیں بلند ہونے سے پہلے دن طویل ہو گیا ہے
اور کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے
تمہیں ہر چیز بدلی ہوئی لگے
تو بے چین ہو کر مجھے یاد نہ کرنا
ورنہ وہ آسانی سے
تمہارے دل کے راستے سے مجھ تک پہنچ جائیں گے
اور میری موت کو
فتح کی نشانی کے طور پر حنوط کر لیں گے
اور جب میرے بجائے
قنطور یا جانور نما کوئی مخلوق
تمہارے فارم ہاؤس پر پہنچے
تو حیران مت ہونا
اور چپکے سے دروازہ کھول دینا
اور وہ استقبالی بوسے
جو تم نے میرے لیے پس انداز کر رکھے ہیں
کسی خلائی بھیڑیے کے برقی ہونٹوں سے مَس کرتے ہوئے
رو مت پڑنا
ورنہ زمین پر ہمیشہ کے لیے دھوئیں کے بادل چھا جائیں گے
اور جب ہوا کا آخری جھونکا
پورٹیکو میں سے گزرتے ہوئے
سرگوشیوں میں میرا پیغام ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرے
تو اُس طرف مڑ کر مت دیکھنا
ورنہ وہ تمہاری روح کے کم زور ترین حصے سے واقف ہو جائیں گے
اور وہیں اپنے مشینی دانت گاڑ دیں گے
اور سنو!
مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے!
یاد رہے کہ نظم دو ہزار سولہ میں لکھی گئی تھی۔ یہ نظم ایک بھر پور تجزیہ مانگتی ہے۔ فی الوقت آپ اس کا مطالعہ کیجیے اور اسے عصری منظر نامے سے جوڑ کر دیکھیے، کیسے ایک سچا تخلیق کار مستقبل کو وقت سے پہلے حنوط کر لیتا ہے۔



