محمد وسیم شاہد کی کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج سرزمین بلوچستان کی ایک خوبصورتی، ایک انعام اور فن و حکمت کے چشمے کا ذکر آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے، جس سے تعمیر و اصلاح انسانی کے سوتے پھوٹتے ہیں، ہزاروں سال پرانی زرخیز تہذیب کے وارث بلوچستان کئی طرح کی خوبصورتی اور قسم ہا قسم کے انعامات اپنے دامن مالدار میں سموئے ہوئے ہے۔

یہاں فطری ماحول کی فراوانی ہے، سنگلاخ پہاڑ، ریتلے صحرا، چٹیل میدان، سرسبزوشاداب وادیاں، مکران سے جڑی سات سو کلو میٹر طویل سمندری پٹی، کنڈ ملیر جیسا خوابناک ساحل، پسنی کا قدرتی جزیرہ استولہ، ہنگول کا قومی پارک، نادر جنگلی حیات کا وجود، امید کی جوت جگاتا، شہزادی امید کا قدرتی مجسمہ، وادی ہنہ، اوڑک اور ولی تنگی کی دلفریب ادائیں اور خوش جمال مناظر، پیر غائب کی بزرگی، بی بی نانی کی روحانیت، مست توکلی کی پیار بھری شاعری، سسی پنوں اور شیریں فرہاد کی رومانیت، گیس کے ذخائر، معدنیات کے سمندر، گوادر جیسی بندرگاہ، بانی پاکستان کے لمس اور یادوں کی امین زیارت قیام گاہ، غرضیکہ ہرحوالے سے اتنی نعمتیں اللہ نے اس دھرتی کی جھولی میں ڈالی ہیں کہ ان کا تفصیلی تو کیا اجمالی ذکر بھی مختصر سا کالم سہار نہ سکے گا۔

مجھے آج مگر سرزمین بلوچستان کی جس خوبصورتی کا ذکرکرنا ہے وہ بولان کی دھرتی سے جنم لینے والے کہانی کار محمد وسیم شاہد کے قلم سے نکلنے والی خوبصورت کہانی اور اس میں چھپی اصلاح، تعمیر اور کامیابی کا سبق ہے۔

محمد وسیم شاہد بولان کی تحصیل ڈھاڈر میں پیدا ہوئے، بولان کا موسم بھی بڑا عجیب قسم کا ہے، ایک سرے یعنی ڈھاڈر کی گرمی جھانسی کی لو کی طرح جھلساتی رہتی ہے تو دوسری طرف کول پور جیسی جگہ پر ہمالیہ کی ٹھنڈک سی ٹھنڈک خون رگوں میں منجمند کرتی ہے، وسیم شاہد کی کہانیاں فطرت سے گہری جڑت رکھتی ہیں اور ان کے پلاٹ اور کردار معاشرے کے عام لوگوں سے ترتیب پاتے ہیں، مجھے ان کی کہانیوں کے اسلوب، بنت اور بین السطور پیغامات میں پنڈت بدری ناتھ سدرشن کا رنگ نظر آتا ہے۔ وہی سدرشن جو منشی پریم چند کے عہد اور روایت کے بڑے افسانہ نگار مانے گئے اور جنہیں دنیا فطرت نگار سدرشن کے نام سے جانتی ہے۔

وسیم شاہد کی کہانی کاری کا مقصد ہے کہ نیکی، اعتدال اور انسانی شرافت نمو پائے، زندگی خوبصورت اور پرسکون ہو، انسانی عظمت اور ایثار رقصاں اور درخشاں نظر آئے۔ اس مقصد کے لیے وہ غم ذات کو غم کائنات کی رو سے دیکھتے ہوئے انسانی تصویر کے تاریک گوشے اس طور روشن کیے ہیں کہ انسان کی تضحیک اور تحقیر نہیں ہوتی بلکہ انسان کا اجلا اور نتھرا روپ سامنے آتاہے۔

ان کے موضوعات میں تنوع پایاجاتا ہے، جو ان کے مشاق تخلیق کار ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ ویسے بھی فنی تخلیق کسی خاص موضوع کی اسیر نہیں ہوتی اور فن میں موضوع محض بہانہ سخن کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کامیاب فطرت نگارہیں اور انہوں نے افسانہ نگاری کی ناک کو اونچا کیا ہے

وسیم شاہد کی اب تک کی تین کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں دیپ کی لو پر شبنم (، ناول) ، کافر چڑیاں، (افسانے ) اور ابھی حال ہی میں ان کا ناول ڈھاڈری شائع ہوا ہے۔

دیپ کی لو پر شبنم ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو اپنی رہتل اور وسیب کی خدمت کے لیے یورپ کی آسائشیں تج کردیتا ہے۔ چونکہ میں نے ابھی اس کا مطالعہ نہیں کیا اور نیا ناوال ڈھاڈری کرونا اور لاک ڈاؤن کی نذر ہونے کی وجہ سے پبلشر کے گودام میں ہی پڑا ہے۔ اسی لیے ان کی کتاب کافر چڑیاں کو موضوع سخن بناتے ہوئے بات آگے بڑھاتا ہوں، کافر چڑیاں ان کی دوسری خوبصورت کتاب ہے جس میں 14 شہکار افسانے شامل ہیں، پہلے افسانے کا عنوان تین روپے کا آدمی، انسانی قول و فعل کے تضاد کو خوب واضح کرتا ہے، کیسے ایک بس مسافر، دوران سفر باقی مسافروں پر باتوں کے علمیت اور اخلاقی برتری جتاتا ہے لیکن جب بس کنڈکٹر اسے دو روپیا بقایا دینے کی بجائے غلطی سے پانچ روپے کا سکہ واپس کر دیتا ہے تو محض تین روپے زیادہ پا کر اس بندے کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، گویا قارون کا خزانہ پالیا۔

دوسرے افسانے، جمعہ سیٹی والا، میں آمریت، ابلاغی سنسر شپ اور جبر و ظلم کو ایک مست الست کردار جمعہ سیٹی والا کے ذریعے سے بیان کیا گیا، جو جیب میں کاغذ کی تہیں اور بوتلوں کے ڈھکن ڈال کر ان کی چھنکار سے عوام میں یہ تشخص قائم کرتا ہے کہ وہ بہت مالدار ہے اور وہ ڈنکے کی چوٹ پر کلمہ حق کہتا رہے گا اور یہ کہ کوئی دولتمند اسے خرید نہیں سکتا کیونکہ اس کے پاس بہت دولت ہے، اس کے دوست کا بیٹا ایک بار بزور اس کی تلاشی لیتا ہے وہاں کاغذ کے ٹکڑے اور بوتلوں کے ڈھکنوں کی علاوہ کچھ نہیں نکلتا، یوں جمعہ سیٹی والا کی خوددادی اور بھرم کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ غلام عباس کے اوور کوٹ والے کی طرح اپنی نظریں دوبارہ کبھی نہیں ملا پاتا اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔

تیسرے افسانے تندوری روٹی میں ایک ایسے بلوچ سردار کا ذکر ہے جس کی ماں دوران زچگی طبی سہولت اور ماہر کی عدم موجودگی کی باعث وفات پاجاتی ہے وہ اس دن سے تہیہ کر لیتاہے کہ اپنے بیٹے کی شادی لیڈی ڈاکٹر سے کرے گا، چنانچہ وہ ایک نادار اور کم معاشی وسائل والی لڑکی کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھاتا ہے اور وہ لڑکی ملک کی نامور فزیشن بنتی ہے تو احسان فراموش نکلتی ہے، وہ بڑے شہر میں اپنا ہسپتال بنا کر مال اور نام کماتی ہے، آخر وہی بوڑھا سردار شدید بیماری میں اس کے پاس لایا جاتا ہے تو جب مریض ڈاکٹر کو دیکھتا ہے تو شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے دم توڑ دیتا ہے، جس کے بعد ڈاکٹر کا زوال شروع ہوجاتا ہے، ۔

افسانہ شورنس ایک مضحک صورتحال پر منتج ہوتا ہے، انشورنس ایجنٹ بڑے ارمانوں سے نومولود کی انشورنس کرنے جاتا ہے لیکن نومولود کا سادہ لوح دادا بچے کو گود میں لاکر انشورنس ایجنٹ کے سامنے بیٹھ کربچے کا پاجامہ اتار کرکہتا ہے لو بھئی نکالو اپنے اوزار اور کرو شورنس، افسانہ چادر اور عقاب، سرزمین بلوچستان پر چھائی دہشت گردی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو موضوع بناتا ہے، بے سبب اداسی میں حاصل لاحاصل کا فلسفہ نظر آتا ہے۔

بے جی ایک بڑا شگفتہ اور نشاط آگیں افسانہ ہے، جس میں ماں کی مامتا، لاڈ اور عظمت اجاگر کی گئی ہے۔
افسانے میٹھی سزا میں انسانی جبلت میں موجود جسمانی حرص و ہوس کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رنگ برنگے لوگ میں ایک ایسے نوجوان کی داستان بیان ہوئی ہے، جسے حق و صداقت کی راہ پر چلنے کی وجہ سے قسم ہا قسم کی آزمائشوں اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے انسانوں سے سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جیت آخر اسی کی ہوتی ہے“سپاس گزار“ میں وطن کے لیے قربانی دینے والے ایک چوکیدار کی بیوہ کی کسمپرسی اور سرکاری سرخ فیتہ اور رسمی پھرتی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ، کرونہ منہ میٹھا“ آپسی نا اتفاقی کا وبال اور سرحدی تقسیم کے دکھ بیان ہوئے ہیں۔

وسیم شاہد کا ہرافسانہ اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہے کہ اس پر طویل بات ہوسکتی ہے لیکن بے چارہ کالم تنگی داماں کا شکوہ کرتا نظر آتاہے، ان کے ٹائٹل افسانے“ کافر چڑیاں کی بات کروں تو انہوں تقسیم سے قبل پاکستانی سرحد پر ایک گاؤں رام نگر کے ایک ہندو دکاندار پریتم کمار کو دکھایا ہے کہ وہ آس پاس منڈلانے والی چڑیوں کے لیے چوگے کا ہمیشہ اہتمام کرتا ہے۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا بسنت کمار باقاعدگی سے چوگا ڈالتا ہے۔
آخر ملک تقسیم ہوتا ہے، رام نگر، رحیم نگر میں تبدیل ہوجاتا ہے، بسنت کمار چڑیوں کی وجہ سے ہجرت نہیں کرتا، وقت چلتا رہتا ہے بارے بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ پیش آتا ہے، بستی کے کچھ جہلاء بسنت کمار اور اس کے خاندان کی جان کے درپے ہوتے ہیں، وہ گھبرا کر اپنے بچوں سمیت سرحد پار ہجرت کرجاتا ہے۔ چڑیاں شورکرتی ہیں لیکن بسنت کمار نظر نہیں آتا، آخرکار چڑیاں بھی سرحد کی طرف اڑتی ہیں اور دوبارہ اس بستی میں نظر نہیں آتیں، ایک دن ایک بزرگ بسنت کمار اور چڑیوں کو یادکرکے روہانسا ہوتا ہے تو ایک چھوکرا مجمعے میں سے آوازہ کستا ہے کہ اچھا ہوا کافر بندہ بھی دفع دور ہوا اور کافر چڑیوں سے بھی جان چھوٹی۔

اس افسانے میں افسانہ نگار نے ہم برصغیر کے رہنے والوں کی نفسیات بخوبی بیان کی ہے۔ ہم نے کفر و اسلام کو چڑیوں اور جانوروں تک پہنچا دیا لیکن نہ ایمان ہمارے دلوں تک پہنچا اور نہ کفر دلوں سے دور ہوا۔ آج حالت یہاں تک پہنچی کہ ایک وائرس کو ہم نے شیعہ سنی کا تاج پہنا دیا۔ اس تنگ نظری میں ہم ہی غنی نہیں ہمارے پڑوسی بھی روزاول سے مالامال ہیں تبھی جوش ملیح آبادی جیسے آزاد خیال بندے کو پدم بھوشن جیسے قومی اعزاز کے باوجود وہاں برداشت نہ کیا گیا، معروف دانشور ابصار عبدالعلی نے مجھے وفات سے چند روز پہلے ایک ملاقات میں بتایا کہ میں نے بڑی کوشش کی کہ ہندوستان میں ہی رہ سکوں لیکن مجھے وہاں کے امتیازی سلوک نے ترک وطن پر مجبور کردیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *