محمد سلیم الرحمان اور شیخ صلاح الدین میں دوستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمان صاحب نے بہت سے لوگوں کے علمی و ادبی سفر میں معاونت کی۔ انھیں آگے بڑھنے کا رستہ دکھایا۔ ان سے تعلق استوار ہونے کے بعد مجھے اس بات کا تجسس رہا کہ 1952میں علی گڑھ سے لاہور آنے کے بعد، میدانِ ادب میں کوئی ایسی ہستی ضرور رہی ہوگی، جس نے ان کا بھی ہاتھ تھاما ہو گا۔ ادبی دنیا میں قدم جمانے میں مدد کی ہوگی۔ آخر ایک دن مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔

” شیخ صلاح الدین کو میں اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اگر وہ نہ ملے ہوتے تو شاید میری زندگی کی کہانی کچھ اور ہوتی۔ “

 شیخ صاحب سے متعارف ہونے کا قصہ یوں ہے کہ سلیم صاحب نے مشہور رسالے ’انکاﺅنٹر ‘ میں انگریزی کی چند نظمیں اشاعت کے واسطے بھیجیں،جس کے جواب میں سٹیفن سپنڈر نے نظموں کو ہلکا کہا لیکن انگریزی کی تعریف کی۔ یہ بات امریکن سینٹر لائبریری کے انچارج پیر زادہ احمد شجاع کے علم میں تھی، اس کا ذکر شیخ صاحب سے ہوا تو انھوں نے سلیم صاحب سے ’سویرا ‘کے لیے مضامین اور افسانوں کا ترجمہ کرنے کا تقاضا کیا۔

 سلیم صاحب کے بقول:” شیخ صاحب مکتبہ جدید اور نیا ادارہ (جس کے مالک حنیف رامے کے بڑے بھائی چودھری نذیر احمد تھے) کے ادبی معاملات میں دخیل تھے اور حنیف رامے، ناصر کاظمی اور انتظار حسین ان کے وسیع مطالعے اور ادب فہمی سے خاصے متاثر تھے۔ “

’سویرا‘سے سلیم صاحب کے تعلق کا آغاز شمارہ نمبر 26 سے ہوا، جس میں ان کے یہ تراجم شائع ہوئے۔

 عوام کی بغاوت (مضمون) اورتیگا ای گاسیت

آزادی کا خوف (مضمون) ایرخ فروم

جوانی (ناولٹ) جوزف کانریڈ

 اسی پرچے میں ان کا پہلا افسانہ ’ساگر اور سیڑھیاں ‘ چھپا۔

محمد سلیم الرحمن

 سلیم صاحب اس زمانے میں ہومر کی ’اودیسی ‘کا ’جہاں گرد کی واپسی ‘کے عنوان سے ترجمہ کرچکے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر 22 برس تھی۔ اس ترجمے کی خبر شیخ صلاح الدین کے ذریعے حنیف رامے تک پہنچی اور وہ اسے مکتبہ جدیدکی طرف سے شائع کرنے پر تیار ہوگئے۔ معاملات طے کرنے لیے حنیف رامے نے مترجم کے نام خط میں لکھا:

مکرمی، السلام علیکم

 آپ کا ترجمہ میرے دوست شیخ صلاح الدین کی وساطت سے مجھ تک پہنچاتھا۔ مکتبہ جدید اس کی اشاعت کے لیے تیار ہے۔ معاوضے کی صورت میں آپ کو فی صفحہ دو روپے کے حساب سے سات سو چالیس روپے پیش کیے جائیں گے۔ (اس میں دیباچہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ فی الحال مجھ تک نہیں پہنچا۔ )

یہ رقم آپ کو اپریل 1957کے دوسرے ہفتے میں ادا کی جائے گی۔

امید ہے آپ کو یہ شرائط پسند ہوں گی۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو کبھی مکتبہ جدید پر تشریف لائیں اور معاہدہ کرلیں۔

 آپ کا صادق، محمد حنیف چودھری

***    ***

 ’جہاں گرد کی واپسی ‘کی اشاعت سے سلیم صاحب ادبی حلقوں میں صحیح معنوں میں متعارف ہوئے۔ ممتاز ادیب انتظار حسین نے لکھا کہ محمد سلیم الرحمان، ہومر کی کمک پر ادب میں داخل ہوئے، باقی سارے کام انھوں نے بعد میں کیے۔

 ”اودیسی کے ترجمے کا خیال کیسے آیا؟“

 ” اُردو داستانیں پڑھنے کا شوق مجھے لڑکپن سے تھا۔ اِس لیے ”اودیسی“ اپنے مطلب کی چیز معلوم ہوئی۔ یہ ترجمہ جو 1956ءمیں مکمل ہوا، میں نے کسی کے کہنے پر نہیں کیا تھا اور یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے کون شائع کرے گا یا کوئی اسے شائع کرنے پر آمادہ بھی ہو گا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد اس کا مسودہ شیخ صاحب کے توسط سے حنیف رامے کے پاس پہنچ گیا اور انھیں پسند آیا۔ “

سلیم صاحب نے بتایا کہ ترجمے کے لیے مضامین اور افسانے شیخ صاحب منتخب کرتے، جن کا نقطہ نظر تھا ’ اگر انگریزی پر مناسب حد تک عبور حاصل ہو اور اصل کے قریب رہا جائے تو ترجمے میں اصل کی جھلک نظر آسکتی ہے۔ ‘

 ” ادبی کرئیر کے اس تشکیلی زمانے میں شیخ صاحب آپ کا کام کس طرح پرکھتے تھے؟“

 ” شیخ صاحب رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔ انھوں نے کبھی میری جھوٹی تعریف نہیں کی اور جہاں مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوتی تھی اس کی بلا لحاظ نشان دہی کرتے تھے۔ “

سلیم صاحب کے ہمدم ِ دیرینہ ریاض احمد نے ہمیں بتایا کہ ایک دن’سویرا ‘ کے دفتر میں انھوں نے سلیم صاحب کا مضمون دیکھا، نک سک سے درست زبان، رموز اوقاف کی پابندی، پاکیزہ خط۔ حیران ہوکر شیخ صاحب سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ’ اردو بھی اس کی بہت اچھی ہے لیکن اصل میں یہ انگریزی کا بندہ ہے۔ ‘

شیخ صلاح الدین

حنیف رامے مکتبہ جدید کی طرف سے ”نصرت“ کے نام سے ایک سیاسی، ادبی اور معاشرتی ہفت روزہ شائع کرتے تھے۔ 1961ءمیں انھوں نے سلیم صاحب کو اپنا معاون مقرر کیا۔ اس حیثیت میں انھوں نے ڈیڑھ برس کام کیا۔ یہ ان کی پہلی اور آخری ملازمت تھی۔

 شیخ صاحب نے سلیم صاحب کے لیے ممتاز ادبی رسالے او ر اس دور کے معروف ناشر تک رسائی ہی یقینی نہیں بنائی، ’پاکستان ٹائمز‘ کا دربھی وا کیا۔ اس اخبار کے ادارتی عملے میں شامل خواجہ آصف سے شیخ صاحب کی عزیز داری تھی۔ شیخ صاحب کی تحریک پر ژاک ماری تاں کی کتاب پر سلیم صاحب نے تبصرہ کیاتو اس کی ‘پاکستان ٹائمز میں اشاعت شیخ صاحب کی وجہ سے ممکن ہوئی، وہ تحریر خواجہ آصف کو ایسی پسند آئی کہ انھوں نے مبصر کو اپنے اخبارمیں لکھنے کی دعوت دے ڈالی۔

 اس وقت ’ پاکستان ٹائمز ‘میں تبصرے باقاعدگی سے نہیں چھپتے تھے، اس لیے سلیم صاحب کا خیال تھا، سال بھر میں چار پانچ تبصرے ہی کرنے پڑیں گے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ صفدر میر ‘پاکستان ٹائمز‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ انھوں نے ہر ہفتے کتابوں پر تبصرے شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ سلیم صاحب کے بقول ” میر صاحب کو کتابوں سے جو لگائو تھا اس کے پیش نظر ان کا یہ فیصلہ نہایت مناسب تھا۔ میر صاحب کی وجہ سے مجھے اخبار میں لکھنے کا بہت موقع ملا اور جس طرح وہ میری مسلسل حوصلہ افزائی کرتے رہے اسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ “

میرصاحب کے ‘پاکستان ٹائمز’ چھوڑنے کے بعد بھی اس اخبار سے ان کا تعلق قائم رہا اور وہ تبصروں کے بجائے ہفتہ وار ادبی کالم لکھنے لگے۔ جس صفحے پر یہ کالم شائع ہوتا، اس کے نگران اقبال جعفری بھی صفدر میر کی طرح ان پر بہت مہربان تھے۔ سلیم صاحب نے بتایا:

 ” انگریزی زبان اور انگریزی اخبار کے معاملات کی انھیں جتنی سمجھ بوجھ تھی میں نے کم لوگوں میں دیکھی ہے۔ “

 شیخ صاحب اور سلیم صاحب بھی ایک قدرِمشترک یہ بھی ہے کہ انھوں نے عبداللہ حسین کا ناول ’اداس نسلیں ‘ شائع ہونے سے پہلا پڑھا۔ ایسے تیسرے قاری حنیف رامے تھے۔

’اداس نسلیں‘ کی اشاعت کے پچاس برس ہونے کی مناسبت سے ہم نے ’ایکسپریس ‘ اخبار میں فیچر کے لیے سلیم صاحب سے اس ناول کی اشاعت سے پہلے کی کہانی جاننا چاہی تو انھوں نے بتایا:

 ”نصرت“ کے دفترمیں ایک دن حنیف رامے نے آکر مجھے بتایاکہ ادب کے میدان میں ایک نووارد نے ایسا ناول لکھا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور اس ناول کو چودھری نذیراحمد اپنے اشاعتی ادارے ” نیاادارہ “ سے شائع کریں گے۔ حنیف رامے کسی کی تعریف یا کسی پرتنقیدکرتے ہوئے احتیاط کا دامن نہ چھوڑتے تھے۔ ان کی والہانہ دادسے مجھے بھی اشتیاق ہوا کہ ناول کا مسودہ ایک نظر دیکھوں۔ چند روز بعد شیخ صلاح الدین سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی ’ اداس نسلیں‘ پڑھ چکے تھے اور اس کی خوبیوں کے حنیف رامے سے بھی زیادہ معترف نظرآئے ۔ آخر میں ”نیا ادارہ“ گیا اور چودھری نذیرصاحب سے کہا کہ مجھے بھی ناول کا مسودہ پڑھنے کا موقع دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اسے پڑھو اور اس کے بارے میں تعارفی کلمات لکھو۔ اس تعارف کو ”سویرا“ میں شائع کیا جائے گا۔

ناول کے اندازاور نثر دونوں نے مجھے خاصا حیران کیا۔ اردو میں اس طرح کی تحریر کم دیکھنے کو ملتی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ مصنف نے معاصر انگریزی ادب نہ صرف غور سے پڑھا ہے بلکہ اس سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ اس کے بعد پتا چلا کہ چودھری نذیر صاحب نے عبداللہ حسین سے فرمائش کی کہ ” تم بالکل نوواردہو۔ اگرناول کی اشاعت سے پہلے دوتین افسانے لکھ دو توخوب ہو پڑھنے والے تمھارے ناول کا زیادہ شوق سے انتظارکریں گے۔ “چنانچہ پہلا افسانہ ‘ندی’کے نام سے ‘سویرا’ میں شائع ہوا اور اسے بالعموم پسند کیا گیا۔ ادیبوں نے کہا کہ ‘اداس نسلیں’ کی نثر میں نے درست کی تھی۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ ناول حرف بحرف اسی طرح چھپا جیسے عبداللہ حسین نے اسے تحریر کیا تھا۔ “

‘اداس نسلیں’ کی اشاعت کے بعد ’سویرا ‘کے لیے شیخ صاحب، سلیم صاحب اور صلاح الدین محمود نے عبداللہ حسین کا انٹرویو بھی کیا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ ’سویرا ‘کے اس پرچے میں’جہاں گرد کی واپسی ‘پر اعجاز احمد کا تبصرہ بھی شامل ہے۔

حنیف رامے

 آخر میں حنیف رامے کی شیخ صلاح الدین کے بارے میں نظم ملاحظہ ہو:

 شیخ صلاح الدین کی یاد میں

 یہ سوجھی ہے کیا آپ کو شیخ صاحب!

جو چپ سادھ لی آپ نے شیخ صاحب!

لپیٹا تھا ناصر نے جب منہ تو سوچا تھا میں نے

محبت ہی کمزور تھی آپ کی جو نہیں روک پائی اسے شیخ صاحب!

سجیلا تھا گل آپ کے باغ کا سب سے وہ شیخ صاحب!

گیا وہ، گئی بزم یاراں کی رونق، گئی اس کی خوشبو

ترنم سے خالی ہوئی شاعری، گفتگو میں مزہ نہ رہا شیخ صاحب!

مجھے علم تھا کہ چھپاتے ہیں غم آپ اپنا

مگر آپ کو میں بہت سخت جاں جانتا تھا

بھئی عقل کُل مانتا تھا

(کہاں آپ کا گو نہیں مانتا تھا)

کہاں تو یہ دعویٰ کہ ”سو سال کی عمر ہو گی ہماری“

کہاں اب یکایک بتائے بنا، چل دیے آپ ناصر سے ملنے

اکیلے میں دل آپ کا بھی کہاں لگتا ہو گا

کتابیں…. خواہ قرآن ہی کیوں نہ ہو…. دوستی کا بدل تو نہیں شیخ صاحب!

وفا کے تقاضے کیے آپ نے سارے پورے

میری واپسی کے رہے منتظر آخری سانس تک آپ تو شیخ صاحب!

نہ توڑا کبھی یاد کا مجھ سے رشتہ

ادھر میں، جسے مل نہ پایا کبھی راستہ واپسی کا

بہت زور مارا کہ لوٹ آئوں

کروں آکے آباد وہ باغِ حکمت

چمکتے تھے جس میں مثال مہر آپ ہی شیخ صاحب!

مسائل کے جنگل میں گم ہو گیا میں

سیاست کے کمبل کو جتنا بھی میں چھوڑتا، وہ نہیں چھوڑتا تھا مجھے شیخ صاحب!

مجھے اب چلا ہے پتا کہ محبت نہ کمزور تھی آپ کی شیخ صاحب!

بلاوے پہ ناصر کے یوں چل دیے آپ اٹھ کر

محبت تھی کمزور میری

بلاتے رہے آپ برسوں مجھے، میں نہ آیا

بہت دیر کر دی ہے آنے میں بے شک

مگر اب میں آیا کہ آیا

ذرا دو گھڑی انتظار اور غالب سے مل لوں

بہت کچھ ہے کہنے کا انھیں آپ سے شیخ صاحب!

میں پیغام لے لوں

سکینہ سے، مریم سے، انور سے رخصت میں ہولوں

گلے سے براہیم کو میں لگا لوں

میں آیا کہ آیا، خدا کی قسم، شیخ صاحب!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply