خوف کے کالے سمندر سے کتنے فٹ فاصلہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح میری آنکھ کھلی، تو کچھ کسل مندی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے بستر میں لیٹے لیٹے ہی ہاتھ پاؤں پھیلا کر ایک طویل انگڑائی لی اور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کھڑکی کے سامنے موجود پردوں کی وجہ سے کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے ہٹا کر باہر جھانکا تو وہ ایک نہایت خوش گوار دن تھا۔ آسمان پر ہلکے بادل موجود تھے اور ہوا دُلکی چل رہی تھی۔

بے سبب میرا دل چاہا، کہ میں باہر کا ایک چکر لگا آؤں۔ بتدریج یہ خواہش اتنی بڑھی کہ اس پر قابو پانا ناممکن ہو گیا۔ جلدی جلدی ٹریک سوٹ اور جاگرز پہنے اور گیٹ کی چابی اٹھا کے باہر نکل آیا۔ بیرون سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسا روز دکھائی دیتا ہے۔ گیٹ کے سامنے خالی پلاٹ، دائیں جانب مکانوں کی قطار، بائیں جانب ایک گلی اور گلی کے دوسری جانب دور تک پھیلا ہوا بے ہنگم میدانی علاقہ۔ میں جانے پہچانے منظر پر نظر ڈالتا ہوا دائیں جانب مڑا۔ اسی لمحے دُلکی چال چلنے والی ہوا، تیز ہو گئی۔ آسمان کی جانب نظریں اٹھیں کہ کہیں بادل گہرے تو نہیں ہو رہے، مگر ایسا نہیں تھا۔

میری نظر سامنے والی خالی پلاٹ میں پڑی، جہاں خود رو پودے اور جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ سبز پودوں اور جھاڑیوں کے بیچ میں ایک سیاہ رنگ کا مکروہ سا پودا موجود تھا۔ اس سے پہلے یہ پودا یہاں کبھی دکھائی نہیں دیا۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا، تو ایک عجیب احساس ہوا۔ معلوم نہیں یہ میرے تخیل کا قصور تھا یا وہ پودا واقعی مجھے نفرت سے گھور رہا تھا۔ میں نے اس سے نظریں ہٹائیں اور دائیں جانب چل پڑا۔ مگر یہ انسانی فطرت ہے کہ غیر معمولی چیز کی طرف بار بار نظر اٹھتی ہے۔ میں نے مڑ کر اس پودے کو دوبارہ دیکھا۔

یکایک ہوا کا تیز جھونکا آیا اور وہ پودا اپنے ساتھ والی جھاڑی سے ٹکرایا۔ پودے کے ٹکرانے کی دیر تھی کہ جھاڑی کا رنگ بھی سیاہ پڑنا شروع ہو گیا۔ اس جھاڑی کی ایک شاخ ساتھ والے درخت میں الجھی ہوئی تھی۔ جونھی وہ شاخ سیاہ ہوئی، درخت بھی تیزی سے سیاہ ہونے لگا۔ درخت کے پتے ساتھ والے مکان کی چھت سے مَس ہو رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مکان بھی تیزی سے سیاہ ہو گیا۔ میں اس وقت اس مکان کے سامنے سے گزر رہا تھا۔

خوف کی ایک لہر میرے تمام جسم میں دوڑ گئی۔ یہ کیا ماجرا تھا۔ کیا سیاہ پودا اس طریقے سے میرا پیچھا کر رہا تھا۔ میں نے قدم تیز کر دیے۔ مکان کے ساتھ مکانوں کی قطار تھی۔ وہ سب مکان سیاہ ہوتے جا رہے تھے اور میں انھیں خوف زدہ نظروں سے دیکھتا ہوا تیزی سے ان کے سامنے سے گزرتا چلا جا رہا تھا۔ لیکن اس دوران میں ایک لمحے کے لیے بھی میرے دماغ میں واپس گھر جانے کی سوچ نہیں ابھری۔ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ گلی ختم ہو گئی۔

سامنے والی گلی دائیں سے بائیں جا رہی تھی۔ گلی کے کونے والا آخری مکان بھی سیاہ ہو چکا تھا۔ اس مکان کے سامنے گلی اور پچھلی طرف خالی پلاٹ تھے۔ میں نے سکون کا سانس لیا کہ اب یہ سیاہ کاری مزید آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ مگر پھر میری نظر اس مکان کی چھت کی ریلنگ سے بندھی ہوئی سیاہ کیبل پر پڑی، جو گلی کے اوپر سے ہوتی ہوئی دوسری طرف کے مکان کی چھت پر جا رہی تھی۔

میں گلے کے کونے سے بائیں جانب مڑا۔ یہ گلی سیدھی ایک گرین بیلٹ تک جا کر ختم ہوتی تھی۔ میں نے اس گلی میں قدم رکھ دیے۔ اب میرے دائیں جانب مکان اور بائیں جانب خالی پلاٹ تھے۔ دائیں جانب والے مکان سیاہ ہوتے جا رہے تھے اور ان سے متصل درخت، جھاڑیاں اور پودے سب سیاہ ہوتے چلے گئے۔ میں انھیں دیکھتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ تب تک مجھے کوئی انسان دکھائی نہیں دیا تھا۔

ایک مکان کے سامنے سے گزرا، تو ہوا کا ایک اور تیز جھونکا آیا۔ ایک سیاہ پتا درخت سے جدا ہو کر ہوا میں تیرتا ہوا میری طرف آیا اور میرے ماتھے سے ٹکرایا۔ یوں لگا جیسے کوئی جلتا ہوا انگارہ میری پیشانی سے ٹکرایا ہو۔ میری آنکھیں جلنے لگیں۔ سانس دھونکنی کے مانند چلنے لگا اور جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ سیاہ پڑ گئے تھے۔ جوں جوں میرا جسم سیاہ ہوتا جا رہا تھا، جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں میرا پورا جسم سیاہ ہو چکا تھا۔

مارے خوف کے میرا برا حال ہو چکا تھا۔ اور کچھ سمجھ نہ آیا، تو میں نے دوڑ لگا دی۔ تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا، میں گلی کے اختتام تک پہنچ گیا۔ یہاں بائیں جانب ہمارے محلے کی مسجد تھی اور سامنے ایک گرین بیلٹ جو سبزے سے محروم تھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، تو دھیرے دھیرے ہر چیز سیاہ ہوتی چلی جا رہی تھی۔

اسی دوران میں جیسے کسی غیبی طاقت نے مجھے مزید آگے کی طرف دھکیل دیا۔ میری نظر گرین بیلٹ پہ پڑی۔ اس کے بیچوں بیچ ایک ننھا سا پودا لہلہا رہا تھا۔ گلی سے اس کا فاصلہ کم از کم دو سو میٹر ہو گا۔ اس کے آس پاس آگے پیچھے دور دور تک اور کچھ بھی نہیں تھا۔ میں سحر زدہ سا آگے بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس پودے سے قریباً بیس فٹ کے فاصلے پر جا کر رک گیا۔

اب میں نے غور سے دیکھا۔ وہ ایک اچھوتا سا پودا تھا۔ میں نے ایسا خوب صورت اور دل کش پودا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہوا میں ہلکورے لے رہا تھا۔ جھوم رہا تھا۔ بالکل ایسا لگ رہا تھا، جیسے وہ سر خوشی کے عالم میں رقص کر رہا ہو۔ میں نے چاہا کے آگے بڑھ کر اسے چھو لوں، مگر ٹھٹھک گیا۔ پودے نے گویا میرا ذہن پڑھ لیا تھا اور جھومنا ترک کر دیا تھا۔ اب وہ دائیں سے بائیں حرکت کر رہا تھا، جیسے وہ نفی میں سر ہلا کر مجھے قریب آنے سے منع کر رہا ہو۔

میں نے مڑ کر دیکھا۔ پیچھے ایک سیاہ سمندر تھا۔ البتہ وہ سیاہی گرین بیلٹ میں نہیں اتری تھی بلکہ اقامتی علاقے کی حد تک آ کر رک گئی تھی۔ میں نے اپنے قدموں کے نشانوں پر غور کیا۔ سیاہ نشان۔ میرے کانپتے ہوئے جسم میں ایک پھریری مزید دوڑ گئی۔ میں نے مایوسی کے عالم میں پودے کی طرف دیکھا۔ وہ بھی جیسے خاموشی سے بلکہ خوف زدہ ہو کر میری طرف دیکھ رہا تھا۔

میری حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔ میں سمجھ گیا، کہ میرا مقدر وہی سیاہ سمندر تھا۔ مجھے وہیں لوٹنا تھا اور چپ چاپ اس سیاہی کے چھٹنے کا انتظار کرنا تھا۔ مستقبل کے اندیشے سانپ کے مانند پھن پھیلائے دل و دماغ کو ڈس رہے تھے اور اس مشکل سے نکلنے کا کوئی حل بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے آخری بار اس خوب صورت پودے کو دیکھا اور واپس ہو گیا۔

اسی وقت ہوا ایک بار پھر تیز ہو گئی۔ میں نے قدم بڑھانے سے پہلے ایک بار مڑ کر پھر اس پودے کو دیکھا تو چونک گیا۔ وہ پودا پھر خوشی کے عالم میں لہلہا رہا تھا۔ اور پھر اچانک اس پودے کی ایک پتی پود ے سے جدا ہوئی اور سیدھی میری طرف آئی۔ میرے قدم اپنی جگہ گڑے ہوئے تھے۔ پتی میری گردن پر آ کر ٹک گئی۔ اس کا لمس خوش گوار تھا۔ جسم میں ٹھنڈک اترتی چلی گئی۔ آنکھوں کی جلن اور جسم کا درجہ حرارت دیکھتے ہی دیکھتے کم ہونے لگا۔ جسم پر طاری لرزہ بھی ختم ہو گیا۔ میں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے اصل رنگ کی طرف لوٹ رہا تھا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ مکروہ سیاہی میرے جسم سے چھٹ گئی۔

میں نے مسکرا کر پودے کی طرف دیکھا۔ معلوم نہیں یہ میرے تخیل کا دخل تھا یا وہ پودا واقعی مسکرا کر مجھے دیکھ رہا تھا۔

میں واپس گرین بیلٹ کے کونے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ سیاہ سمندر بدستور موجود تھا۔ مگر اب مجھے اس سے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ مجھے اس کا حل مل گیا تھا۔ مجھے اس سے فاصلہ رکھنا تھا۔ میں نے اپنی گردن پر چپکی ہوئی امید کے اس پودے کی پتی اتاری اور سیاہ سمندر میں پھینک دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 115 posts and counting.See all posts by awais-ahmad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *