جہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسمہ نے تصویر پلٹ کر دیکھی ایک کونے میں شاید اس کا نام لکھا تھا۔ ”رانا عبدالباسط“ بسمہ کو ہنسی آگئی ایک اور نام جو افسانے کے ہیرو جیسا بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں دہرایا بسمہ باسط، اور ہلکے سے مسکرا دی۔

صورت حال تو افسانوں جیسی ہی تھی اس کا نام ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی مگر اس کی نکھری گندمی رنگت چمکیلے سیاہ بال اور سیاہ آنکھیں اس کا دل دھڑکا رہے تھے۔ اسٹوڈیو کی سوفٹ لائٹ میں وہ بالکل کسی افسانوی ہیرو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ اس نے تصویر الماری میں رکھی کتاب میں چھپا دی۔

منگنی کی رسم دومہینے بعد رکھنے کا فیصلہ ہوا اس کے بعد سے گھر میں بحث جاری تھی کہ لڑکا آیا تو دونوں کو ساتھ بٹھانا ہے یا الگ الگ۔ دادی کا کہنا تھا کہ منگنی کوئی شرعی رشتہ نہیں ہوتی لڑکا بہرحال نامحرم ہے اور اسے الگ بٹھانا چاہیے جبکہ امی اور بہنوں کا موقف تھا کہ اب یہ سب کون دیکھتا ہے اب تو لڑکا لڑکی ساتھ ہی بیٹھتے ہیں۔ ابو کی حیثیت فی الحال ٹینس میچ کے تماشائی جیسی تھی۔ گھر میں چند دن سے کنھچاؤ کی سی کیفیت تھی۔

روز دونوں بہنیں بچوں کو ٹیوشن بھیج کر ادھر ہی آجاتیں اور رات گئے تک ادھر ہی رہتیں۔ آج پھر یہی بحث جاری تھی۔ بسمہ خود فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے کیا اسے ساتھ بیٹھنا اچھا لگے گا یا شرم آئے گی۔ وہ اسے قریب سے دیکھنا چاہتی تھی مگر وہ برابر بیٹھ بھی جاتا تو کون سا بسمہ نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھ لینا تھا۔

امی دادی کی بحث جاری تھی۔ ایک پوائنٹ پہ آکر امی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ غصے میں آگئیں۔
”بس اماں اب میرا منہ نہ کھلوائیں، اخلاق بھائی اور منور بھائی کے گھر کے شادیوں میں کیا طوفان بدتمیزی ہوتا ہے وہ آپ نے نہیں دیکھا کیا۔ وہ بھی تو آپ کی اولاد ہیں مگر یہ سیدھے ہیں آپ کا احترام کرتے ہیں تو آپ ناحق کی نکتہ چینی کر رہی ہیں۔ اماں زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ایک دن کی بلکہ چند گھنٹوں کی بات ہوگی اور ساری زندگی کے لیے رہ جائے گی۔ مشتاق صاحب آپ ہی سمجھائیں اماں کو“

”ہاں اماں زبیدہ ٹھیک کہہ رہی ہے ہے تقریبوں میں تو یہ سب چلتا ہی ہے۔ اخلاق بھائی اور منور بھائی کے گھر کی شادیوں کی سب مثالیں دیتے ہیں آپ کیا چاہتی ہیں کہ میری آخری بیٹی کی شادی میں لوگ باتیں بنائیں“

ابو کے دو ٹوک انداز سے ہی ظاہر ہوگیا کہ وہ شروع سے ہی اسی سائیڈ تھے بس مناسب موقعے کی تلاش میں تھے۔
منگنی کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگئیں لگتا تھا منگنی نہ ہو بارات ہو۔ طے یہ ہوا کہ لڑکی کا سوٹ لڑکے والے بھیجیں گے اور لڑکے کا سوٹ لڑکا اور بڑے بھیا ساتھ جا کر لے آئیں گے۔ بڑے بھیا دو دفعہ گئے اور دونوں دفعہ بھنائے ہوئے واپس آئے۔

”لاٹ صاحب کو کچھ پسند ہی نہیں آتا اور جو پسند آتا ہے اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ “
”ارے عادت ہو گی نا ایسے کپڑے پہننے کی“ امی فی الحال داماد کی ہر کمی کو بھی خوبی میں شمار کر رہی تھیں۔

”کوئی عادت وادت نہیں ہے گھسی ہوئی جینز پہن کے گھومتا رہتا ہے ایسے ہی اٹھ کے میرے ساتھ چل پڑتا ہے یہ تک خیال نہیں کہ نیا نیا سسرال ہے تو بندہ کچھ ڈھنگ سے پہن لے۔ اصل میں امی مفت کا مال ہے نا تبھی رال ٹپک رہی ہے۔ “

بسمہ کو باسط کا اتنا مہنگے کپڑوں کی فرمائش کرنا بھی عجیب لگا مگر بڑے بھیا کا انداز بھی بہت تضحیک آمیز تھا۔ ہونے والے بہنوئی کے لیے ابھی سے یہ خیالات ہیں تو بعد میں کیا ہوگا۔

حسب عادت وہ بس سوچ کے رہ گئی۔
”تم فکر نا کرو بڑے بھیا، بسمہ کے کپڑے آنے دو اگر ٹکر کا سوٹ نا آیا تو ہم بھی واپس کروا دیں گے کہ بسمہ کو پسند نہیں آیا۔ ساتھ ہی کچھ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ بسمہ تو رورو کر آدھی ہوگئی ہے کہ دوستوں کو دکھاؤں گی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔ “

اسماء آپی اپنے بے تکے مشورے سے خود ہی محظوظ ہوئیں۔
”ائیے نہیں واپس بھجوانے کی ضرورت نہیں سسرال کا معاملہ ہے اس کی۔ بس ڈھکی چھپی دو ایک کہہ لینا“ دادی نے اپنے حساب سے کافی مناسب مشورہ دیا۔

بسمہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے ایک نیا رشتہ بننے جا رہا ہے اور وہ بھی بدگمانی اور دروغ گوئی سے؟ اسے یونہی خیال آیا کہ یہی وجہ تو نہیں کہ امی ابو کی جب کوئی لڑائی یا نوک جھونک ہوتی ہے تو دونوں کو شادی کے موقعے پہ دیے گئے تحائف اور جہیز کا سامان یاد آجاتا ہے جس سے وہ آج تک مطمئن نہیں ہوپائے۔ ابو کے بقول امی والوں کی طرف سے جو نکاح کی شیروانی آئی تھی وہ اتنے سستے معیارکی تھی کہ ایک دفعہ ہی پہننے میں سلائی خراب ہوگئی۔

جبکہ امی کا جوابی طعنہ یہ ہوتاکہ آپ کے گھر سے آنے والا زیور بھی ایک مہینے میں کالا پڑ گیا سونے کا کہہ کر لوہے کا زیور بھیج دیا تھا۔ اور اس کے بعد وقتِ نامعلوم تک جو بحث شروع ہوتی تو انگوٹھی، چپل، پاندان، دیگچی، بیڈ، پہناونی کے جوڑے، سرمہ دانی، لوٹا، آرسی مصحف کا آئینہ غرض دونوں طرف سے دی گئی ایک ایک چیز کی مدح سرائی ہوتی۔ جب تک کوئی اولاد کچھ ایسا نا کردیتی کہ دونوں کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجائے۔ بسمہ کو لگ رہا تھا یہی سب کچھ اس کی زندگی میں بھی ہونے والا ہے نازک سا رشتہ حقیر چیزوں کی نظر ہوجائے گا۔ اس سے تو بہتر یہ لین دین ہو ہی نا۔

عجیب سی کیفیت تھی اس کی کبھی بہت خوشگوار احساس ہوتا کہ شاید اب وہ تمام رومانوی خیالات حقیقت ہونے والے ہیں اور کبھی یہ مسائل دیکھ کے پریشان ہوجاتی۔ وہ سوچتی کپڑوں کے لیے اتنا سطحی رویہ دکھانے والا اچھا ہوسکتا ہے؟ پھر سوچتی اگر بہنوں نے یہ سب کچھ کہہ دیا جس کا وہ پلان بنا کر بیٹھی ہیں تو اس کا بھی توایسا ہی تاثر جائے گا۔ کیا پتا باسط کے بارے میں بھی یہ سب کچھ غلط فہمی کا نتیجہ ہو۔ آخر بڑے بھیا بھی تو پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں کنجوسی کی حد تک احتیاط پسند ہیں۔

البتہ اسد کافی متاثر تھا باسط بھائی کی بائیک زبردست ہے، باسط بھائی کی پرفیوم کی چوائس کیا اعلٰی ہے، باسط بھائی کلاسی کلر چوز کرتے ہیں۔

منگنی کا سامان آیا تو بسمہ کو تو سب کچھ ٹھیک ہی لگا مگر اسماء آپی اور بشریٰ آپی نے ہر ہر چیز کا خوب تنقیدی جائزہ لیا۔ اسماء آپی کا کہنا تھا کہ اوّل تو منگنی پہ شرارے پہننا آؤٹ دیٹڈ ہوگیا ہے اور ٹی پنک کلر بہت زیادہ پٹ گیا ہے ہر منگنی پہ دلہن یہی پہنے ہوتی ہے۔ بشریٰ آپی کو جیولری پسند نہیں آئی ان کا کہنا تھا کہ جیولری کافی ہلکی ہے۔ اور یہ سب باتیں بعد میں آپس میں نہیں ہوئی بلکہ باسط کی بڑی بہن اور بڑی بھابھی جو سامان لے کر آئیں تھیں ان کے سامنے یہ سب بیان کیا گیا۔ بھابھی تو خاموشی سے سنتی رہیں جبکہ بہن کے چہرے پہ واضح ناگواری تھی۔ آخر جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو انہوں نے جتا دیا۔ کہنے کو ان کی چہرے پہ مسکراہٹ تھی مگر اس کے باوجود لہجے کا طنز واضح تھا

”چلیں شادی پہ ہم محلے کے درزی کو یہ سب تفصیل بتا کے اسی سے سلوا لیں گے۔ برانڈڈ برائیڈل سوٹ کا کیا فائدہ جب پسند ہی نا آئے۔ خیر ہر ایک کو برانڈز اور کلاسی کپڑوں کا اتنا سینس ہوتا نہیں بس جو مڈل کلاس شادیوں میں نظر آئے اسی کو فیشن سمجھتے ہیں۔

”اسماء دیکھو کچن میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسد کو بھیج کے منگوا لو اتنی دور سے آئے ہیں یہ لوگ کوئی کمی نہ ہو“

اسماء آپی نے نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا مگر اس وقت دادی نے بروقت بات بدل دی۔ شاید ان کے خیال میں اتنا کہنا سننا کافی تھا۔

امی کو بھی شاید اندازہ ہوا کہ بات اس سے زیادہ سنجیدہ لے لی گئی ہے جتنا سوچا تھا۔
”بس بیٹا بچیاں تو انہی سب میں خوش ہوتی ہیں آپ کو تو پتا ہے منگنی شادی پہ ہی بچیاں ارمان پورے کرتی ہیں اپنے پھر کہاں موقع ملتا ہے۔ “

”جی آنٹی صحیح کہا مگر اسی موقع پر تو اچھی تربیت کا پتا چلتا ہے میری شادی پہ میری سسرال سے اتنا سستا سا سوٹ آگیا تھا کہ بس کیا بتاؤں، میں پورا ایک ہفتہ روئی مگر مجال ہے جو ہماری امی نے ایک بھی بات میرے سسرال والوں سے کہنے دی ہو۔ اب جس گھر میں جاکر رہنا ہے اس کے بارے میں بولتے ہوئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے نا۔ سسرال میں ایسے ہی تو نہیں میری سمجھداری کی مثالیں دی جاتیں آپ خود بتائیں میں نے پہلے ہی اپنا امیج خراب کر لیا ہوتا تو یہ مقام مل سکتا تھا؟ “

بسمہ بچاری ہکا بکا بیٹھی تھی کہ کچھ نہ بول کر بھی اتنی تعریفیں ہوگئیں کچھ بول دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔
اگلے دن بسمہ نے فون کر کے فائزہ کو بلوا لیا۔ ایک تو منگنی کا سامان دکھانا تھا اور دوسرا مسئلہ یہ بھی تھا کہ دماغ میں جو کچھ چل رہا تھا وہ یہاں گھر پہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی۔ ایسے موقعے پہ صرف فائزہ ہی اس کی بات سمجھ سکتی تھی۔

فائزہ آئی تو اسے سامان نکال کے دیا اور خود کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کچن میں آگئی۔ کچن میں جاتے ہوئے دادی پہ نظر پڑی تو دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ ان کا موڈ خراب ہے پاندان کی چھوٹی چھوٹی کٹوریاں زور زور سے پٹخ رہی تھیں۔ بسمہ چیزیں ٹرے میں رکھ کر نکلی ہی تھی کہ دادی نے آواز دے لی۔

”بی بی یہ ڈشیں بھر بھر کے کہاں لے جائی جارہی ہیں“
بسمہ کو کبھی کبھی دادی کا طرز تخاطب عجیب اور ہتک آمیز لگتا تھا وہ سیدھے سادھے کام کی پوچھ تاچھ ایسے کرتی تھیں جیسے کوئی خطرناک سازش کا کھوج لگا رہی ہوں۔ اور سازش بھی صرف خطرناک نا ہو بلکہ غیر اخلاقی بھی ہو۔

”دادی فائزہ آئی ہے میری چیزیں دیکھنے“ اس نے حتی الامکان حد تک اپنے لہجے کو نارمل رکھا۔ اوّل تو ویسے بھی وہ منہ در منہ بحث کی عادی نہیں تھی۔ اور پھر فائزہ کی موجودگی میں وہ کوئی ذرا سی بھی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ یہ پتا ہونے کے باوجود کہ فائزہ اس کے سب گھر والوں کو اچھی طرح جانتی ہے کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ فائزہ کے سامنے اس کے گھر کا امیج بھی اتنا ہی شائستہ لگے جتنا فائزہ کے اپنے گھر کا ماحول ہے۔ مگر اس کی کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا دادی کی آواز مزید تیز ہوگئی۔

”دیکھو بی بی یہ دوستیاں وغیرہ یہیں تک رکھنا سسرال والے یہ چونچلے نہیں برداشت کرتے۔ اور اس لڑکی سے اپنے دوستانے کا تو بالکل ذکر نہ کرنا۔ صحبت سے ہی انسان کے کردار کا پتا چلتا ہے اور یہ لڑکی۔ توبہ توبہ لڑکیوں والے کوئی لچھن ہی نہیں ہیں۔ اپنی سسرال میں تو جاکر جو گل کھلائے گی سو کھلائے گی تمہاری سسرال والوں کو یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ تم بھی اسی کی طرح دیدہ ہوائی ہو۔ “

”دادی ایسی بات نہیں ہے فائزہ بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہے اور پلیز آپ آہستہ تو بولیں وہ مہمان ہے اس وقت“
”ہونہہ اب ان کل کی چوہیوں کی بھی مہمان کے نام پہ عزت کرنی ہوگی۔ دیکھو بسمہ ہر ایک چلتے پھرتے کو یہ چیزیں نہیں دکھاتے۔ نظرِ بد تو سلطنتیں اجاڑ دیتی ہے تم کیا جانو۔ “

اب کے بسمہ کو خاموشی سے آگے بڑھ جانے میں عافیت لگی اسے پتہ تھا بحث کا فائدہ نہیں، مزید بدمزگی ہی ہوگی۔

”ارے دیکھو ذرا آج کل کی نسل کو عقل کی بات کرو تو بھاگ جاتے ہیں“
بسمہ کمرے میں آئی تو فائزہ ہنس رہی تھی۔
”کیا ہوا جن چڑھ گیا کیا اکیلی بیٹھی ہنس رہی ہو“ بسمہ کو اندازہ تو ہوگیا کہ فائزہ نے سب سن لیا ہے مگر مذاق میں بات ٹالنے کی کوشش کی۔

”یار تیری دادی بڑا زبردست کریکٹر ہیں“
” تجھے برا نہیں لگا“
” برا ماننے کی کیا بات ہے جب مجھے ان کی عادت کا پتا ہے۔ اور میری دوست تو ہے تیری دادی تھوڑی ہیں جو ان کی بات پہ ناراض ہوجاؤں۔ ہاں اگر تیرے میرے بارے میں یہی خیالات ہیں تو آئندہ نہیں آوں گی تجھ سے ملنے“

”اف نہیں یار یہ بات نہیں ہے مگر یار کبھی کبھی مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے وہ تیرے سامنے تجھے کچھ بھی بول دیتی ہیں“

”یہ تو نے دادی پہ تھیسس لکھنا ہے کیا؟ چھوڑ بس جس وجہ سے بلایا ہے وہ بات کر“
بسمہ نے سر ہلایا اور پہلے اٹھ کر جلدی سے کمرے دروازہ بند کر کے آئی۔
”یار مجھے دونوں طرف کے لوگوں کے رویے سمجھ نہیں آرہے“
بسمہ کے لہجے میں بیچارگی تھی۔
”کیا مطلب کس قسم کے رویئے؟ “

”دیکھ کوئی نیا بندہ ملنا جلنا شروع کرتا ہے جیسے نئے پڑوسی آئیں یا کوئی اور تو ہم اس سے بہت تکلف سے ملتے ہیں کوئی بات بری لگے تو بھی خاموش رہتے ہیں کوئی کم قیمت تحفہ بھی لیا دیا جاتا ہے تو بہت زیادہ شکرگزاری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یار یہاں یہ حال ہے جہاں کوئی کمی نہیں بھی ہے وہاں بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک دوسرے کی خامیاں نکالی جارہی ہیں ایک دوسرے کو سنایا جا رہا ہے۔ تحفے حق سمجھ کے وصول کیے جارہے ہیں اور ان میں بھی سو سو خرابیاں۔

اب دیکھ یہ جو سامان ہے اس میں کیا برائی ہے؟ آپی والوں نے اتنی برائی کی باسط کے گھر والوں کے سامنے جواب میں وہ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر مجھے سنا کے گئیں۔ جب دونوں طرف لوگوں کو ایک دوسرے پسند نہیں آئے تو رشتہ کیوں جوڑ رہے ہیں۔ میں نے کل رات ان لوگوں کے جانے کے بعد اسماء آپی سے کہا بھی کہ آپی سب چیزیں ٹھیک تھیں تو برائی کرنے کی کیا ضرورت تھی تو کہنے لگیں تم ابھی نہیں سمجھو گی یہی وقت ہوتا ہے دوسروں پہ یہ ثابت کرنے کا کہ ہم کوئی گرے پڑے نہیں ابھی سے سب خاموشی سے سہتی رہو گی تو بعد میں بھگتو گی۔

یار اتنی کامن سینس تو مجھ میں ہے کہ یہ سب جوکچھ ہورہا ہے یہی بعد میں زیادہ پرابلم پیدا کرے گا۔ یار قسم سے ان لوگوں کی تو اسٹریٹجی ہی بدل گئی ہے کہاں تو کیا دادی کیا امی ہر ہر بات پہ سسرال کی ماننے کے سبق دیتی تھیں کہ یہ سیکھ لو ورنہ سسرال میں جوتے پڑیں گے وہ مت کرو سسرال میں جوتے پڑیں گے ابھی سنا نا کہ دوستی تک چھوڑ دو۔ یعنی روز کے کام جو عموماً گھر کی عورتوں کے آپس میں مل جل کر کرنے سے آرام سے ہوجاتے ہیں وہ تو میں گدھے کی طرح کرنا سیکھوں مگر ان کے منہ پہ ان کی برائیاں بھی کروں۔ بھائی الگ ناراض ہیں کہ باسط کی شاپنگ پہ بہت خرچا ہوگیا۔ جو بندہ ابھی دوسرے کی دلائی چیزوں پہ اس طرح اترا رہا ہے بعد میں کیا کرے گا۔ ”

”بس بس بس محترمہ بریک لے لے تھوڑا۔ ایک ایک کر کے ڈسکس کرتے ہیں آج کیا اگلے پچھلے سارے رکارڈ توڑنے ہیں باتوں کے“

”بھول جاؤں گی نا کوئی نہ کوئی بات، یہ سب باتیں مجھے اتنا ٹینس کر رہی ہیں رات رات بھر جاگ رہی ہوں۔ اور تیرے سوا کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اور بار بار تجھ سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا۔ “

” ہمم دیا کچھ تو گڑبڑ ہے۔ “
”ابے ڈائیلاگ نا مار حل بتا“
”دیکھ یار پہلی بات تو یہ پتا چلے کے تمہارے یہ جو باسط صاحب ہیں یہ موصوف کس ڈیزائن کے بندے ہیں۔ کیونکہ رہنا تمہیں بھلے سسرال کے ساتھ ہے مگرشوہر کا رویہ اہم ہوتا ہے۔ “

”لو جی یہ کیا نئی بات بتا دی یہی تو آپی اور امی والے اتنے دن سے سمجھا رہے ہیں کہ بس باسط کو قابو میں کرلو تو سمجھ لو سب مٹھی میں“

”عقل کی اندھی شوہر کو قابو کرنا اور شوہر کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنا دو الگ باتیں ہیں“
”مجھے نہیں سمجھ آرہا اتنا گنجلک سا ہے سب کچھ“
بسمہ بیچارگی سے جھنجھلا گئی۔
”بیٹا جی اوّل تو یہ وہ دریا ہے جس میں تیرے گھر والے تیراکی سکھائے بغیردھکا دے رہے ہیں تیرنا تجھے خود سیکھنا ہے اور کچھ چیزیں عمر اور تجربے کے ساتھ ہی سمجھ آتی ہیں جس کا تجھے موقع نہیں مل رہا 16 سال شادی کی عمر ہوتی ہے کوئی۔ “

” تو کیا کروں گھر سے بھاگ جاؤں کیا؟ کرنی تو ہے نا شادی“
”دیکھ ایسے میں امی زیادہ صحیح مشورہ دے سکتی ہیں اگر تو کسی بہانے ہمارے گھر آ سکے، کیوں کہ یہاں تو امی کی تجھ سے اکیلے بات ہو نہیں سکتی۔ “

”ہونہہ، اس کا سوچنا پڑے گا اب تو پرسوں منگنی ہے ہی۔ اس کے بعد ہی کسی دن آنے کی کوشش کرسکتی ہوں وہ بھی موقع ملا تو۔ فائزہ یار پتا نہیں کیا ہوگا میرا“
۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا بسمہ کی ٹینشن تو بڑھ ہی رہی تھی مگر ساتھ ہی وہ بہت خوابناک اور رومانوی سا محسوس کر رہی تھی تھی۔ پہلی بار باسط کو قریب سے دیکھے گی۔ منگنی سے ایک رات پہلے دادی کے سونے کے بعد خاموشی سے الماری میں سے باسط کی تصویر نکالی۔ آج وہ کسی ٹینشن کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ وہ دوبارہ اپنے انہی رومانوی خیالات میں کھو جانا چاہتی تھی جو پچھلے دو سال سے اس کی رات کی مصروفیت تھے۔

وہ شکر ادا کر رہی تھی کہ باسط دیکھنے میں کافی پرکشش تھا۔ اور رنگ بھی گندمی مگر نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ وہ پوری رات خیالوں میں باسط سے ہی باتیں کرتی رہی۔ منگنی کی ایکسائٹمنٹ میں نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ ان چند اہم دنوں میں سے ایک دن جو لڑکی کی زندگی کے اہم ترین دن کہے جاتے ہیں۔ منگنی شادی اور۔ اس سے آگے کا سوچنے سے پہلے ہی شرم سے اس کے کان کی لوئیں تک اسے گرم محسوس ہونے لگیں۔ بالکل نا چاہتے ہوئے اسے خیال آیا کیا گل بانو کو بھی یہی سب محسوس ہوا ہوگا جب اسے پتا چلا ہوگا کہ اس کی شادی اس سے تین گنا بڑے شخص سے کی جارہی ہے۔ اس کی جذبات اتنی تیزی سے بدلے اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوا۔ ایک آنسو چپ چاپ آنکھ سے نکل کر تکیے میں چھپ گیا۔ رات اتنی گزر گئی تھی اسے پتا ہی نہیں چلا دماغ پہ غنودگی محسوس ہورہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ برابر کے بیڈ پہ سے دادی نماز پڑھنے اٹھی ہیں اور پھر ایک دم ہی کسی نے زور سے ہلایا۔

”بسمہ اٹھو گھر پہ کام پڑا ہے اور یہ محترمہ آدھا دن گزرنے کے باوجود سوئے جارہی ہیں۔ “
یہ امی تھیں۔ وہ ہڑبڑا کے اٹھی۔ کچھ دیر تک تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہوا کیا ابھی تو فجر ہوئی ہوگی۔ مگر کمرے سے باہر چہل پہل اور روشنی دیکھ کے اندازہ ہوا کہ دن نکل آیا ہے اور سب جاگ گئے ہیں۔ تب اسے اندازہ ہوا کہ دادی کے اٹھتے وقت ہی وہ شاید سو گئی تھی۔

اس پہ ایک دم عجیب سے گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ آج شام اس کی منگنی ہے اس کا نام جزوی طور پہ ایک ایسے شخص کے ساتھ جڑ جائے گا جسے اس نے ابھی تک اصل میں دیکھا تک نہیں۔

پورا دن عجیب ہلچل سی رہی۔ ایسا لگتا تھا سب عجلت میں ہیں ہر کوئی اپنی اپنی اور الگ الگ بات کہہ رہا تھا۔ ہر ایک کا کام الگ تھا اور ہر ایک کو لگ رہا تھا کہ بس اسی کا کام سب سے اہم ہے۔ گھر کی چھت پہ ہی تقریب کا انتظام کروایا جا رہا تھا۔ قناتیں، کرسیاں، میز، قالین صبح سے ہی نیچے چھوٹے سے صحن میں لا کر جمع کردیئے گئے تھے۔ بڑے بھیا کو لگ رہا تھا صرف وہی کام کر رہے ہیں باقی سب بس وقت ضائع کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف شور مچارہے تھے کام سب ڈیکوریشن والے کر رہے تھے۔

اسد کو بار بار باہر کے کاموں کے لئے دوڑایا جا رہا تھا کبھی ہار اور پتیاں منگوانے کبھی مٹھائی منگوانے کبھی پیکو کے لئے دیا ہوا دوپٹہ منگوانے۔ وہ جب کوئی کام کر کے آتا بھیا اسے ڈانٹتے کہ وہ اکیلے لگے ہوئے ہیں اور وہ گھومنے پھرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی 5 بجے کے قریب آخر اسد کی بھی برداشت جواب دے گئی۔ گھر کی خواتین کو تب اندازہ ہوا جب باہر سے ایک دم جھگڑے کی آوازیں آنے لگیں۔

”آخر آپ کرتے کیا ہیں سوائے بیٹھے بیٹھے حکم چلانے کے اور شور مچانے کے۔ مجھے بسمہ نا سمجھیں جسے آپ کچھ بھی کہہ لیتے ہیں اور وہ خاموشی سے سن لیتی ہے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے سوچ سمجھ کے بولا کریں میں بھی اسی گھر کا مرد ہوں“

”ہیں ہیں ہیں لڑکے بڑے بھائی سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔ باپ کی جگہ ہوتا ہے بڑا بھائی“ دادی اسد کی طرز تخاطب پہ حیران تھیں۔

”آپ کیا ٹوک رہی ہیں اسے، آپ لوگوں کی ہی دی ہوئی ڈھیل ہے جو یہ میرے منہ کو آرہا ہے۔ میں سارا دن گدھے کی طرح خوار ہوتا ہوں تو ان صاحب کے عیش پورے ہوتے ہیں اور اب یہ مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے۔ “ بھیا کی آواز اتنی بلند تھی کے اردگرد کے لوگ اپنی چھتوں پہ آگئے تھے کچھ لوگ گھر کے دروازے سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

”یعنی آپ جو بولتے رہیں میں چپ کر کے سنتا رہوں؟ صبح سے دس چکر لگائے ہیں کام کے لیے صرف اسی لیے کہ ان کے ساتھ کام بانٹ سکوں۔ مگر ہر بار ان کے طعنے ہی نہیں ختم ہوتے۔ کما کے لاتے ہیں تو احسان نہیں کرتے ہم پہ، ہم سے بھی چاکری کرواتے ہیں اپنی۔ ان کی چالیس ہزار کی تنخواہ میں سے گھر پہ آدھی بھی خرچ نہیں ہوتی۔ میری کوئی فیس کبھی انہوں نے نہیں بھروائی۔ کپڑے جوتے کچھ بھی اس میں سے کس پہ خرچہ کرتے ہیں جو اتنا جتاتے ہیں“

”بس کرو اسد گھر میں کام پڑا ہے اور تم بڑے بھائی سے بحث کرنے میں لگے ہو۔ چلو اندر بس ختم کرو“ امی کھینچ کر اسد کو اندر لے گئیں۔

اسد اور بھیا کی تھوڑی بہت بحث بازی چلتی ہی رہتی تھی۔ مگر آج کا جھگڑا بہت بڑھ گیا تھا۔ بھیا کا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا۔ بسمہ کو ڈر لگنے لگا کہ اگر امی اسد کو اندر نہ لے جاتیں تو وہ اسد کو ایک دو تھپڑ لگا ہی دیتے۔ خیر جب تک وہ کچھ چھوٹا تھا تو پٹتا ہی تھا مگر کچھ عرصے سے جس طرح وہ تن کے انہیں جواب دینے لگاتھا تو بھیا بھی اب صرف زبانی طنز پہ اکتفا کرتے تھے۔ گھر کا ماحول اور کشیدہ ہوگیا تھا۔
***۔ (جاری ہے ) ۔ ***

اس سیریز کے دیگر حصےگل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتالہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 74 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *