بلاول نے عمران خان کو تارے دکھا دیے


\"usmanبلاول بھٹو کےجلسے سے پتہ چلا کہ دہڑکی شریف بھی پاکستان میں کوئی جگہ ہے ، ہم تو لاہور، کراچی ، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کو ہی پورا پاکستان سمجھتے تھے اور شریف ہمارے نزدیک صرف ہمارے وزیراعظم ہیں

چارشہروں کے ساڑھے تین کروڑ لوگ کیا ملکی فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں تو اس کا جواب بس اتنا ہی ہے کہ یہ بیچارے صرف سوشل میڈیا پراثرانداز ہوجائیں تو بڑی بات ہےاور اس اثرپذیری کے لیے بھی ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، دیہی نوجوان جلد سوشل میڈیا پر ان کی اس اجارہ داری کو ختم کردے گا

پاکستان 70فیصد دیہی آبادی رکھنےوالا ملک ہے، یہاں شہروں میں آباد لوگ بھی چونکہ دیہاتوں سے ہجرت کرکے آئے ہیں اور دیہی پس منظررکھتےہیں تو اغلب گمان ہے کہ دیہی علاقوں میں جو سوچا جائے گا، اسی بنیاد پر ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی

ایک سیاسی محفل میں فیصل آباد میں جلسے کے معاملات طے ہورہے تھے، ہم بھی وہیں موجودتھے، منتظمین کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ لاکھوں لوگ جلسے میں شریک ہوں گے جس پر مجھے حیرت تھی، میں نے سوال کیا کہ لاکھوں تو آپ کے اس شہر میں حامی نہیں ہیں توجلسے میں لاکھوں کی شرکت کا اتنا یقین کیوں ہے

اس دن مجھے سیاسی جلسوں کی سائنس پر ایک لیکچر سننے کو ملا، ایک سیاسی جماعت کے معروف رہنما مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ کے اطراف ہمہ وقت چہل پہل رہتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق دولاکھ راہگیر ہمیشہ اطراف میں ہوتے ہیں

جب ایک مشہورشخصیت جلسہ کرتی ہے تواس کو دیکھنے کی جستجو میں ان دولاکھ میں سے آدھے بھی آجائیں تو جلسہ کامیاب ہوجاتا ہے ، کسی بھی جلسے کی کامیابی کا دارومدار وقت اور جگہ ہے

میری حیران نگاہوں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ مذکورہ جلسہ کامیاب ہو چکا تھا

\"bilawal-bhutto\"دہڑکی شریف میں سچوسترام داس کی درگاہ کے ساتھ بلاول بھٹو نے تقریر کی، جلسہ گاہ تک پہنچنے کے لئے 80 فیصد شرکا نے میلوں کا سفر طے کیا ، یہ بڑے شہروں میں ہونے والا جلسہ نہیں جہاں شام گزارنے بیوی بچوں کے ساتھ صاحب چلے جاتے ہیں اس لیے یہاں بلاول بھٹو کو کامیاب جلسے پر مبارک باد دینا بنتا ہے

پاکستان کے سیاسی کلچر میں جلسوں کا وقت الیکشن سے پہلے آتا ہے، یہ حقیقی سیاسی جلسے ہوتے ہیں ، جن میں ٹکٹ ہولڈرسرمایہ کاری کرتا ہے اور اس سرمایہ کاری کی بڑی سادہ سی وجہ اس کی علاقے میں ڈھاک بیٹھنا اور اس دھاک کی بدولت الیکشن میں جیت ہوتی ہے

پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ الیکشن سےکافی پہلے ہونے والے جلسوں کی سرمایہ کاری غیرفطری ہوتی ہے کیونکہ ان کا مقصد الیکشن میں کامیابی نہیں ہوتا بلکہ حکومت گرانا یا عموماً کوئی سازش ہوتی ہے

پیپلزپارٹی کے دہڑکی جلسے کو میں 2018 کے الیکشن سے پہلے ہونے والا سیاسی کلچرکے تحت پہلا فطری جلسہ قرار دوں گا جس کی سرمایہ کاری ایک ٹکٹ ہولڈر نے کی اور اب یہ سلسلہ دراز ہوتا جائے گااور شہر شہر جلسے ہوں گےجن کا اولین مقصد اگلے عام انتخابات میں کامیابی ہو گا

جیسا کہا گیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے میں سرمایہ اہم کردار اداکرتا ہے مگر دہڑکی میں جیالوں کو مخدوم احمد محمود سے شکوہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے سرمایہ کاری میں کافی کنجوسی کی، جلسے کے اسٹیج پر لائٹ تک نہیں تھی، اندھیرا ہونے پر بلاول بھٹو کو شاید جلدی تقریر سمیٹنا پڑی جبکہ دو کنٹینر رکھ کر اگر اسٹیج بنایا گیاتھا تو جلسہ گاہ میں دوتین اسکرینیں لگواکر شرکا کو ان کے قائد کا دیدار بھی کروا دیا جاتا، ایک عام آدمی اسی لیے جلسے میں آتاہے کہ وہ اپنے لیڈر کو دیکھے، مقرر اور شرکا میں اتنا فاصلہ تھا کہ جلسہ گاہ کے آخر میں موجود لوگوں کو اسٹیج واضح طور پر دیکھنے کے لیےایک چھوٹی دوربین کی ضرورت تھی

ایک عرصہ ہوا، سیاسی تقریروں میں سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں، جب تک مہربان جملوں میں لپٹے کاٹ دار طنز نہ ہوں، بھلا تقریر کا کیا لطف ۔۔ بلاول بھٹو کی تقریر میں یہ کاٹ دارجملے نظرآئے

جیسے عمران خان کوچچا کہہ کر مخاطب کیا اورپھر کوئی الزام لگائے بغیر ان سے ان کے والد اکرام اللہ خان نیازی کے تعارف کی درخواست کر ڈالی، کسی کے باپ تک پہنچ جانا اور اتنے مہذب طریقے سے کہ پہلے اسےچچا کہہ کر اپنے باپ کا بھائی قراردینا کاٹ دار طنز کی ایک عمدہ مثال ہےاور یہ براہ راست الزام سے کہیں زیادہ اثرانگیز ہوتا ہے

عمران خان نے پیپلزپارٹی میں مائنس ون فارمولے کی بات کی تھی تو بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرسکتے ہیں تو میں بھی کروں گا، پھر انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کو پی ٹی آئی کا سربراہ بنادیا جائے، وہ عمران خان سے اچھا پرفارم کرلیں گے، یہ طنز شیخ رشید کی کمیٹی چوک راولپنڈی میں ڈرامائی آمد کی تعریف بھی تھا اور عمران خان پر تنقید بھی کہ ورکرز مار کھاتے رہے اور عمران خان بنی گالا میں بیٹھے رہے

بلاول بھٹو نے سیاسی کارکنان پر حکومتی تشدد پر بھی خوب صورت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیاسی کارکنان مار کھا رہے تھے اور وزیرداخلہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان کے ساتھ چائے پی رہے تھے اور پھر بعد ازاں انہیں پولیس کی مکمل سیکیورٹی کے ساتھ ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی۔

مجھے تعجب ہے کہ بلاول بھٹو نے تھر کو قحط زدہ قراردے کر وفاقی حکومت کے اغماض کا شکوہ کیوں کیا، سندھ کی حکمران جماعت کا سربراہ کیا اس بات سے لاعلم ہے کہ تھر میں خشک سالی کو قحط قراردے کر صحرا کےباسیوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا تھا۔

نوازشریف نے بھی پانامہ پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اور عمران خان نے وزیراعظم کے اس مطالبے کی تکمیل کو اپنی جیت قراردے کر تحریک احتساب ختم کردی، بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ عمران خان پیچھے ہٹ گئے مگروہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگر ان کے چار مطالبات منظور نہ کیے گئے تو مسلم لیگ نون کو لگ پتہ جائےگا

بلاول بھٹو کے چار مطالبات ان کے سیاسی کیرئیر کا رخ متعین کریں گے، اگر ان کو منظور کرلیا جاتا ہے تو یہ پیپلزپارٹی کے جواں سال لیڈر کی جیت ہے تاہم اگر منظور نہیں کیا جاتا تو احتجاج کی صورت میں بلاول بھٹو کو اپنی زندگی کی پہلی احتجاجی تحریک مل جائے گی جسے کامیاب بنانے کے لیے وہ کسی حد تک بھی جائیں گےکیونکہ یہی تحریک طے کرے گی کہ بلاول بھٹو کا مستقبل کیا ہوگا؟

Facebook Comments HS

One thought on “بلاول نے عمران خان کو تارے دکھا دیے

  • 05/11/2016 at 11:34 صبح
    Permalink

    آپ کو دیوان غالب کی شرح بھی لکھنی چاہئے۔ واللہ وہ نقاط اٹھائے ہیں آپ نے جن تک خود بلاول اگلے پانچ سال تک پہنچنے کے قابل نہیں۔

Comments are closed.