مسئلے کے حل کا مردانہ خول – بے حسی یا حفاظتی ڈھال؟
مشابہت کچھوے کے خول سی سخت، انجذاب سماعت جیسی خصوصیات سے مزین، ایک نہ نظر آنے والا خول، جو مرد خود پر ہر مشکل سے نبٹنے کے لیے بن لیتا ہے۔
یہ خول نظر نہ آنے کی وجہ سے کم ہی زیر بہث لایا جاتا ہے، اس خول کے محرکات کیا ہیں؟
اسکا دورانیہ کتنا ہے؟ کب اور کیسے ختم ہوتا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
نفسیاتی لحاظ سے مرد بہت ہی حساس مخلوق ہے لیکن رونے سے اجتناب کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک رونا دھونا کمزوری کی علامت ہے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ مرد بہت ہی حساس مخلوق ہے، مرد اپنی حساسیت کا اظہار غصہ سے کرتا ہے، یوں مرد رونے کے مقابلہ میں غصہ کو ترجیح دے کر اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے۔ مرد کے پاس دو ہی طریقے ہوتے ہیں، لڑ جانا یا بھاگ جانا، ( لڑ جاؤ یا بھاگ جاؤ کسی حملے یا انہونی سے نمٹنے کے لیے ایک خود کار نظام ہے ) ۔
اب بات کرتے ہیں اس خول کی جو ہر مہینے مرد کی زندگی میں آسیب کی طرح آتا ہے، کو ئی پریشانی، ازدواجی زندگی یا معاشی زندگی میں دباؤ سے نکلنے اور نبٹنے کے لیے مرد بسا اوقات بھاگ جاؤ کو لڑ جاؤ پر ترجیح دیتے ہیں، اس صورت میں انہیں خود پر ایک حفاظتی خول بنانا پڑتا ہے، یہ خول اتنے چپکے سے بنتا ہے بسا اوقات مرد خود بھی اس بننے والے خول سے انجان ہوتے ہیں، اس خول میں رہتے ہوئے مرد کو باہر کے حالات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے، جس مشکل سے نبٹنے کے لیے یہ خول بنتا ہے اس سے متعلق کو ئی بات یا چینخ اس خول کو عبور نہیں کر سکتی، مرد اس خول میں تب تلک رہتا ہے جب تلک اس مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈھ لیتا، اگر بیرونی دباؤ بڑھتا جائے تو خول کے اوپر تہ در تہ پرتیں چڑھتی جاتی ہیں۔
اس خول میں رہتے ہوئے مرد سب سے پہلے اپنا سٹریس (دباؤ) ختم کرتا ہے تاکہ مسئلہ کے حل تلک پہنچے، اس دباؤ کو زائل کرنے کے لیے وہ کسی من پسند ایکٹیویٹی میں خود کو مصروف ہو جاتا ہے، یوں مرد پر بے حسی کا الزام عائد لگ جاتا ہے، جیسے، جیسے مسئلہ کا حل نکلتا ہے خول کی دیواریں یا پرتیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔
مسئلہ کے حل پر وہ خول سے باہر نکل آتا ہے، چونکہ خول کے اندر رہتے ہوئے مرد باہر سے لاتعلق رہتا ہے لہذا وہ زندگی کو وہاں سے شروع کرتا ہے جہاں سے چھوڑتا ہے لہذا مرد پر یہاں خود غرض ہونے کا الزام عائد ہو جاتا ہے اور مرد کی حساسیت اس کی ظالمانہ روش بن کر، عیاں ہو جاتی ہے۔ ہر مرد میں اس خول سے نکلنے کا دورانیہ مختلف ہے، یہ دورانیہ ایک ہفتہ سے ایک مہینہ تک محیط ہے۔
یوں کہا جائے کہ خول مرد کے ذہنی دباؤ کے خلاف ڈھال ہے تو بجا ہو گا، یہ قدرتی ڈھال مرد کی تکلیف کا اثر کم سے کم تر کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ تحریر میرے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے، اس تحریر سے اختلاف آپ کا حق ہے۔


