کیا آزادانہ سوچ ایک سراب ہے؟

صدیوں سے فلاسفرز اور اہل علم کو فری ول پر اتفاق رہا ہے، ان کے بقول ہمارے اخلاق اور درست و غلط چننے کا انتخاب فری ول پر منحصر ہے۔ عظیم فلسفی کانٹ کے مطابق اگر ہم اپنے انتخاب میں آزاد نہیں ہیں تو ہم یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہمیں سیدھا راستہ منتخب کرنا ہے۔ آج کے دور میں فری ول کا الحاق ہر سیاسی ادارے اور سزا و جزا دینے والے نظام میں لاگو ہوتا ہے اس یقین

Read more

انٹراپی : زندگی نہایت پیچیدہ کیوں ہے؟

مرفی کا قول ہے ”جو کچھ بھی غلط ہو سکتا ہے، وہ غلط ہو جائے گا“ ۔ یہ قول زندگی کی تلخ اور اضطرابی کیفیت سے آگاہ کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو مسائل کا جنم ازخود ہے اور مسائل کا حل ایک محنت طلب کام ہے جس کے لیے طاقت درکار ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ مرفی کی کہاوت زندگی کی ہر نہج پر دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ محض کہاوت نہیں بلکہ ہماری کائنات میں موجودہ قوتوں میں سے

Read more

مسئلے کے حل کا مردانہ خول – بے حسی یا حفاظتی ڈھال؟

مشابہت کچھوے کے خول سی سخت، انجذاب سماعت جیسی خصوصیات سے مزین، ایک نہ نظر آنے والا خول، جو مرد خود پر ہر مشکل سے نبٹنے کے لیے بن لیتا ہے۔ یہ خول نظر نہ آنے کی وجہ سے کم ہی زیر بہث لایا جاتا ہے، اس خول کے محرکات کیا ہیں؟ اسکا دورانیہ کتنا ہے؟ کب اور کیسے ختم ہوتا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ نفسیاتی لحاظ سے مرد بہت ہی حساس مخلوق ہے لیکن رونے سے

Read more

دہشت گردی کی اقسام

حقیقت یہ ہے کہ جو قومیں طاقتور ہیں وہ جو چاہیں انسانیت کہ ساتھ کریں، ملکوں پر بلا جواز حملے کریں، شہروں پر بمباری کریں، لوگوں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلائیں، جیلوں میں بند رکھیں۔ انہیں یہ آزادی اس لیے ہے کہ طاقت ان کے پاس ہے، جو لوگ یا قومیں کمزور ہیں، انہیں نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا بھی حق نہیں ہے۔ دہشتگردی کی تاریخ میں کوئی ایک قسم نہیں رہی ہے بلکہ یہ وقت، ضرورت اور

Read more

تعلیم اور ہمارا معاشرہ

وہ قومیں جو تعلیم کو حقیر جانتی ہیں برباد ہو جاتی ہیں، یہ مثال ہمارے معاشرے پر پوری طرح سے صادق آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مورخ بھی مغربی مورخوں کی زبان استعمال کرتے ہیں، چونکہ ہمارے ہاں تخلیق کی کمی ہے اور تقلید پر ذور ہے، اسی وجہ سے یورپی تاریخ نویسی کا ماڈل ہمارے ذہنوں میں اس قدر سرائیت کیے ہوئے ہے کہ ہم تاریخی عمل کو یورپی نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more