میری بیوی پھر سے جہنمی کیسے ٹھہری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوا یہ کہ میں نے لز سے شادی کرلی۔ نام اس کا ایلزبتھ تھا مگر وہ لز کے نام سے جانی اور پکاری جاتی تھی، خوبصورت تو وہ تھی ہی مگر خوبصورتی سے زیادہ اس کا انداز تھا، رکھ رکھاؤ کا طریقہ، بات کرنے کا سلیقہ، اور دنیا کے بارے میں اس کا رویہ بھی میرے جیسا تھا۔ جس نے مجھے اس کا دیوانہ بنادیا تھا۔ اس سے ملاقات آفس میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں ہی کمپیوٹر ڈویژن میں کام کرتے تھے اورکام کے ہی سلسلے میں تقریباً روزانہ ہی رابطے میں رہتے تھے۔

سچی بات یہ ہے کہ پہلی ہی ملاقات سے مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور میں نے اسے بھی زندگی میں ملنے والی دوسری لڑکیوں کی طرح آسان سمجھا۔ میں نے سوچا اس نئے شہر میں بھی اوپر والے نے وقت گزارنے کے انتظامات کردیئے ہیں۔ اس کے ساتھ تو وقت گزارنا بڑا اچھا ہو گا۔ مجھے لڑکیوں کو تلاش کرنے میں کبھی بھی مشکل نہیں ہوئی۔ میں ذہین ہوں، پاکستانی گندمی رنگ کے ساتھ مجھ میں کشش بھی ہے۔ وجیہہ ہوں، اپنے کام میں اچھا ہوں لہٰذا روپوں پیسوں کی کمی بھی نہیں ہے۔ لڑکیاں خودبخود میری طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔ کچھ عرصہ ساتھ رہتا ہے پھر راستے الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں اس زندگی کے مزے کچھ اور ہیں اس وقت تک جب حقیقت میں کوئی ایسا مل جائے جس کے ساتھ ساری زندگی رہنے کا پروگرام بن جائے۔

مگر بظاہر آسان سی لز بہت مشکل ثابت ہوئی اور پہلے ہفتے ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ پہلے ملنے والی لڑکیوں سے کافی نہیں بلکہ بالکل مختلف ہے۔ یہ تو ایک طرح سے چیلنج کا سامنا تھا، یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ جو مجھے اچھی لگے اور مجھے ہی منع بھی کردے۔ ایسا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا تھا۔ لفظ ”نہیں“ میری لغت میں نہیں تھا۔ میں نے دوستی بڑھانے کا فیصلہ کرلیا کہ وقت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھی بدلے گی۔ جلد ہی پتا چل گیا کہ اس کا تعلق میتھوڈسٹ چرچ سے ہے۔ وہ عیسائی تھی اور کافی مذہبی بھی۔ اس کے کپڑے اس کا رہن سہن اور باتیں ان سب میں کہیں نہ کہیں مذہبی جھلک موجود تھی۔

پھر کچھ ایسا ہوا کہ وہ مجھے اچھی لگنے لگی۔ وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے لیے۔ اس دفعہ میں سنجیدہ ہوگیا اور سوچنے لگا تھا کہ لز سے شادی کرلی جائے۔ آخر تو ایک دن شادی کرنی ہی ہے اور کسی کے ساتھ زندگی گزارنی ہی ہے۔ لِز مجھے پسند آگئی تھی اور اب دل کے ہاتھوں میں مجبور سا ہوگیا تھا۔ لیکن سوچنا اور شادی کرلینا اتنا آسان نہیں تھا۔ پہلے تو اس کی رضامندی ضروری تھی پھر اپنے ماں باپ کو راضی کرنا بھی ایک مسئلہ تھا۔

میرے والدین کو امریکا آئے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے تھے مگر ان کا بدلا کچھ بھی نہیں تھا سوائے گھر کے پتے کے۔ وہ پہلے نارتھ کراچی میں رہتے تھے اور اب ساؤتھ کیرولینا میں تھے جیسے وہ نارتھ کراچی میں سوچتے تھے ویسے ہی وہ ساؤتھ کیرولیا میں بھی سوچتے تھے فرق یہ تھا کہ نارتھ کراچی میں رات کے کھانے پر کوک کی بوتل نہیں ہوتی تھی ساؤتھ کیرولینا میں کوک کی بوتل ضروری ہوگئی تھی۔ ایک اور فرق یہ تھا کہ میرے والد کی محنتوں سے ہمارے امریکی گھر میں خوشحالی آگئی تھی، امریکہ کی برکتوں سے ہم تینوں بھائیوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی تھی اورامریکہ کے ہی مختلف شہروں میں اچھی جگہوں پر کام کررہے تھے مگر اس کے علاوہ زندگی بسر کرنے کے طریقوں میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا سوائے اس کے والد صاحب کا مسجد میں آنا جانا کراچی سے زیادہ تھا۔

وہاں وہ جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھتے تھے اور مولوی سے ان کا واسطہ جمعہ کی وعظ تک ہی تھا مگر یہاں امریکا میں جمعہ کے علاوہ ہفتہ اتوار بھی مسجد کے کاموں اور مسلمانو کے اجتماع میں گزرتا تھا، ساتھ ہی ہماری زندگی کے بہت سارے فیصلوں میں مولویوں کا بہت زیادہ عمل دخل ہوگیا تھا۔ سماجی طور پر وہ مسجد کا ایک حصہ بن گئے تھے۔

میرے دونوں بڑے بھائیوں کی شادی کراچی میں تلاش کے بعد کراچی کی ہی لڑکیوں سے کی گئی تھی۔ میری بڑی بھابھی نے کراچی کے سندھ میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی سند حاصل کی تھی۔ شادی کے بعد انہوں نے امریکا میں کام کرنے کے لیے امریکی امتحان کی تیاری کی مگر جلد ہی ڈاکٹری کا ارادہ چھوڑ کر وہ گھرداری اور بچوں کی پیدائش کے بعد بچوں کی دیکھ بھال میں لگ گئی تھیں۔ دوسری بھابھی کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا انہوں نے این ای ڈی انجینئرنگ کالج سے کمپیوٹر سائنس میں سند حاصل کی اور امریکا آکر ہاؤس وائف بن گئی تھیں۔

میں کبھی کبھی سوچتا تھا کہ ان کے والدین نے ان کی تعلیم پر پیسے خرچ کیے ہوں گے، ذہین ہوں گی تب ہی تو داخلہ بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کالج میں ہوا ہوگا مگر یہاں آکر بالکل ہی بدل کر رہ گئی تھیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، سوچتا تھا کہ دونوں بھائی اسی میں خوش ہیں تو مجھے کیا ہے۔ لیکن میں نے اپنے لیے یقینی طور پر ایسا نہیں سوچا تھا۔

مجھے کسی پاکستانی لڑکی سے شادی کا کوئی شوق نہیں تھا۔ مجھے امریکی لڑکیاں اچھی لگی تھیں اور میں امریکی طور سے اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ لز کو اپنی طرف سنجیدگی سے مائل کرنے میں بہت دیر نہیں لگی۔ باہمی تعلقات جلد ہی محبت میں بدل گئے اور میں بھی اسے اچھا لگنے لگا تھا پھر ایک دن میں نے اسے شادی کی پیشکش کردی جسے اس نے منظور تو کرلیا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ دونوں خاندانوں کی باہمی منظوری بھی ہونا چاہیے اس نے مجھے بتایا کہ جب بھی وہ اپنے والدین کو بتائے گی انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں وہ آزاد تھی۔ شاید وہ تھوڑے حیران ہوں مگر زندگی کے اس فیصلے پر راضی ہوں گے۔

اعتراض تو میرے والد کو تھا جو کسی بھی صورت میں ایک گوری بدکردار، امریکی عیسائی لڑکی سے میری شادی کے لیے تیار نہیں تھے۔ والد صاحب نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگرمجھے شادی کرنی ہے تو ضرور کرلوں جس کے بعد ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ پہلی دفعہ امریکا میں مجھے ہنسی بھی آئی تھی اور رونا بھی۔ جہاں تک پاکستانی خاندانوں کے کردار اور زندگی کے اصولوں کاتعلق تھا تو سچی بات تو یہ تھی کہ بدکردار تو میں نہیں تھا میں نے کسی لڑکی کو دھوکہ نہیں دیا تھا مگرکئی لڑکیاں میری گرل فرینڈ رہی تھیں جس کا علم میرے گھر والوں کو نہیں تھا اور اگرتھا بھی توا یک مرد ہونے کے حوالے سے انہیں اس پر کوئی شدید اعتراض بھی نہیں تھا۔

امریکہ میں پاکستانی خاندان اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے بارے میں مختلف نظریہ رکھتے ہیں یہ ایک عجیب بات تھی جو مجھے بہت کھلتی تھی۔ لز ایک میتھوڈسٹ عیسائی تھی جو پابندی سے چرچ جاتی جس کے اخلاقی اصولوں میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنا جائز نہیں تھا۔ میں حالات کی ستم ظریفی پر ہنس دیا اور اپنی بے بسی پر مجھے رونا بھی آیا تھا۔ یہ ساری باتیں میں نے لز کو بھی بتادی تھیں اور ہم دونوں گھنٹوں اس مسئلے کو سلجھانے کے لیے باتیں کرتے رہتے تھے اس کی سنجیدہ باتوں اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے وہ مجھے اور بھی پیاری لگنے لگی تھی۔ میں نے اسے مذاقاً بھی نہیں کہا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائے یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے وہ مجھ سے کہتی کہ میں میتھوڈسٹ ہوجاؤں۔ ہمارے اپنے سہنے کے طریقے اور روزمرہ کے کام میں مذہب کا کوئی خاص دخل نہیں تھا مجھے پتہ تھا کہ وہ ایماندار ہے، رشتوں میں ایمانداری ہو تو رشتے تکلیف دہ نہیں ہوتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *