حیاتیاتی ہتھیار، کرونا اور تیسری جنگ عظیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی وہاں پہنچ چکی ہے جہاں پر انسان مریخ کو آباد کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ وہاں اچانک سے ایک وبا پھوٹ پڑتی ہے جو نوع انسانی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے جہاں ایک DNA سے انسانی کلون بنا لیے جاتے ہوں جہاں انسان چاند پہ قدم رکھ چکا ہو اس دنیا کو ایک چھوٹا ساوائرس ختم کر دے۔ تو یہ تو ہماری اوقات ہے اس رب کائنات کے سامنے۔

کرونا اپنے ساتھ بہت سے سوالات لے کر آیا ہے۔ یہ وائرس 2019 کے آخر میں نمودار ہوا جسے COVID۔ 19 کا نام دیا گیا۔ جس کے بارے میں قیاس یہ ہے کہ یہ چائنہ سے پھیلا ہے۔ مگر اس کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کیونکہ میں ابھی تک یہ معمہ حل نہیں کر سکی کہ ایک وائرس جو کہ چین سے پھیلا وہ چین کے قریبی ممالک میں بعد میں پھیلا جبکہ سات سمندر پار اس نے اپنے پنجے زیادہ تیزی سے گاڑ دیے۔ اور جو سب سے زیادہ حیران کن بات ہے وہ یہ کہ سب سے زیادہ متاثر چین اور امریکہ ہوئے ہیں۔ جن کے درمیان سپر پاور کی جنگ برسوں سے چل رہی ہے۔ اب یہ ایک قدرتی آفت ہے یا انسان کی بنائی ہوئی اس میں قابل ذکر امر یہ ہے کہ یہ ایک خاموش جنگ ہے جس کے بعد سپر پاور کا فیصلہ ہوگا۔

تو کیا یہاں کسی قسم کے حیاتیاتی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں؟ اور اگر ہوئے ہیں تو ان کے دنیا پہ اثرات کیا ہوں گے؟ مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کہیں دنیا دوبارہ سے ہیرو شیمانا اور ناگاساکی کی طرح کئی سال تابکاری کے اثرات نہ بھگتتی رہے۔ کیونکہ حیاتیاتی ہتھیاروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کوئی ان کے دیر پا اثرات سے واقف نہیں ہے۔ حیاتیاتی ہتھیار کیمیائی ہتھیاروں سے زیادہ تباہ کن اور بے آواز ہوتے ہیں۔ اور یہ ایک دفعہ چل جائیں تو یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس حد تک تباہی مچائیں گے۔ جس طرح کرونا ایک عالمی وباء بن چکا ہے اور اب تک کتنی ہی جانیں نگل چکا ہے۔ پتہ نہیں اور کتنے لوگ اس کی بھینٹ چڑھیں گے۔ اور کب تک چڑھتے رہیں گے۔

اب یہاں پہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک عالمی جنگ سے گزر رہے ہیں تو اگر حالات کے تناظر میں بات کی جائے تو ہم حالت جنگ میں ہیں۔ اور دنیا اتنی زیادہ ترقی یافتہ ہوچکی ہے کہ ابھی ہماری آدھی دنیا کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ ہم ایک جنگ سے گزر رہے ہیں۔ اور اس کرونا سے پہلے کی دنیا بعد میں کیسی ہوگی یہ کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ وہ پہلے جیسی تو بالکل نہیں ہوگی۔ نئی پالیسیاں بنائی جائیں گی جو پوری دنیا پر لاگو ہوں گی اور شاید کرونا گلوبل ولیج کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ اس کے بعد گلوبل ولیج کو دفنا دیا جائے گا۔

سو تیسری جنگ عظیم میں چین جیت چکا ہے اور امریکہ کو شکست فاش ہوئی ہے۔ اور ہم بیچارے نہ فاتح ہیں نہ مفتوح بس لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ اور اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر بھی ہم جیسے ترقی پذیر ممالک ہو رہے ہیں۔ جن کی معیشت کا جنازہ نکل جائے گا۔ ہم جیسے ممالک میں کرونا سے مرنے والوں کا مسئلہ نہیں ہے ہم تو بھوک اور افلاس سے مرنے والوں کا حساب لگا رہے ہیں۔ ہم تو اپنی معیشت کی لاش اٹھائے پھر رہے ہیں۔ کرونا سے لوگ مریں نہ مریں بھوک سے مر جائیں گے۔ اور اس کرونا کے بعد ہمارا ملک جو پہلے ہی قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا وہ مزید تباہ ہوجائے گا۔

ہمارا ہیلتھ سٹم جو پہلے ہی تباہ حال ہے جس کا لاشہ ہم کئی سالوں سے اپنے کندھوں پہ اٹھائے پھر رہے ہیں کرونا نے اس کا بھرم بھی توڑ دیا ہے۔ ابھی ہمارے ملک میں کرونا سے متاثرہ مریض بہت زیادہ نہیں ہیں اور ہمارا ہیلتھ سسٹم ابھی سے لڑکھڑانا شروع ہو گیا ہے۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ گورنمنٹ اپنے صف اول پہ لڑنے والے ڈاکٹرز کو حفاظتی لباس دینے سے قاصر ہے۔ اور اب جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی ہے اگر متاثرہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمارا ہیلتھ سسٹم جو کہ آخری سانسوں پہ ہے مکمل تباہ ہو جائے گا۔ شاید کرونا ہی ہمیں کچھ سکھا جائے اور ہمارے ہیلتھ سسٹم میں جو خرابیاں موجود ہیں ان کے لیے کوئی منظم پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ کرونا ایک آسمانی آفت ہے اور میں دعا گو ہوں کہ خدا ہمیں اس سے لڑنے کی توفیق دے اور جلد ازجلد اس سے نکلنے کی ہمت عطا فرمائے۔ گو کہ یہ پوری قوم کے لیے ایک مشکل وقت ہے مگر متحد ہو کہ ہم اس پہ قابو پا سکتے ہیں۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

(احمد ندیم قاسمی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply