نون لیگ، اسٹیبلشمنٹ اور چوہدری کہاں کھڑے ہیں؟


شہبازشریف اپنے چانس کی راہ کی واحد رکاوٹ، مریم نواز کے حوالے سے بالآخر کھل کر سامنے آگئے جو نون لیگ کے ووٹ بنک کے مالک نواز شریف کی متوقع جانشین ہیں۔ ایک بڑے اردو اخبار میں حال ہی میں شائع ہونے والے ایک کالم کے مطابق اپنے تازہ ترین انٹرویو میں شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اقتدار ملنے کی راہ کی واحد رکاوٹ (پارٹی قائد نواز شریف اور مریم نواز کا) بیانیہ بنا ورنہ تو 2018 کے الیکشن سے پہلے ہی پاور بروکرز نے انہیں وزیراعظم حتیٰ کہ ان کی کابینہ تک تشکیل دے ڈالی تھی۔ ۔

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے "شہبازشریف کہاں کھڑے ہیں؟” کے زیر عنوان شائع ہونے والے ایک حالیہ تجزیہ میں مقتدر حلقوں اور چوہدری برادران بارے بعض دھماکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں جو حقائق سے کوسوں دور ہی نہیں بتائے جاتے بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ پر ایک چارج شیٹ کے مترادف ہیں۔ آج ملک اور قوم اگر کرونا وائرس سے پیدا شدہ ایمرجنسی حالات سے نہ گزر رہے ہوتے اور قومی سیاست میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہوتیں تو پہلی فرصت میں شاید یہ سوالات پوچھے جاتے اور شاید ان انکشافات کی صورت میں لگائے جانے والے سنگین الزامات کا جواب بھی دو ٹوک انداز میں سامنے آ جاتا۔ ۔ ۔

اپنا تجزیہ کی عمارت کالم نگار معروف صحافی نے شہباز شریف کے ساتھ اپنی ایک حالیہ ملاقات میں ہونے والی دو بدو گفتگو کی بنیاد پر کھڑی کی ہے مگر ساتھ ہی شہبازشریف کا ڈسکلیمر بھی یہ کہتے ہوئے پیشگی شامل کردیا ہے کہ ان کی تحریر سے اگر کوئی ابہام یا غلطی ہو تو اس کی ذمہ داری کالم نگار لیتا ہے، سیاسی تجزیہ کار اور ملک کے سنجیدہ حلقے اس امر پر حیران ہیں کہ بظاہر ملک کے ایک قد آور صحافی نے اس بارے پیشگی صراحت کر کے نہ جانے کیوں اتنا فدویانہ انداز اختیار کیا اور نجانے کیوں خواہ مخواہ خود کو بونا بناتے ہوئے عدم خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔

اس تجزیہ میں یہ تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ 2018 کے انتخابات سے قبل مقتدر حلقے شہبازشریف کو اگلا وزیر اعظم منتخب کر چکے تھے اور اپنی مشاورت یا ڈکٹیشن کے ساتھ ان کی کابینہ بھی تشکیل دے چکے تھے شاید وہ (یہی معاملات طے کرنے کے لئے ) ساتھ ہی عمران خان سے بھی ملاقاتیں کر رہے تھے اس پر شہباز شریف کی زبانی یہ تڑکا لگایا گیا ہے کہ نواز شریف انہیں اگلا وزیر اعظم نامزد کر چکے تھے، البتہ ایسا ضرور ہوا ہوگا (کیونکہ یہ حقیقت عیاں تھی کہ نئی منتخب اسمبلی میں اپوزیشن کے امیدوار کے منتخب ہونے کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں) جبکہ اس وقت نواز شریف نے شہبازشریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو نامزد کر دیا جب شہبازشریف بآسانی اور یقینی طور پر نیا قائد ایوان منتخب ہو کر اگلا وزیر اعظم بن سکتے تھے۔

شہبازشریف کی زبانی دوسرا انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے لندن کے اپنے حالیہ قیام کے دوران جب ان کے جانشین اور مریم اور حمزہ کے سیاسی کردار بارے بات کی اور کہا کہ اس کا جلد فیصلہ کریں تو نواز شریف نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ وہ پاکستان واپس جا کر کریں گے حالانکہ۔۔۔ نواز شریف کم از کم 3 چار مواقع پر پہلے ہی اس بابت واضح اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا۔

نواز شریف جب بطور وزیراعظم اپنی ہارٹ سرجری کے لئے لندن گئے تو اس سے پہلے انہوں نے اپنے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو بلا کر تمام سیکرٹریز اور امور سلطنت چلانے والے دیگر لوگوں کے لئے خصوصی طور پر واضح پیغام دیا کہ ان کی عدم موجودگی میں تمام احکامات یا ہدایات مریم نواز دیں گی جو غیر رسمی طور پر تمام اہم سرکاری اجلاسوں کی صدارت بھی کرتی رہیں اور اہم پالیسی فیصلے بھی۔ نواز شریف کے ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم سے ملاقات تک صرف اسی شخص کی ہو پاتی تھی جس کی منظوری پرنسپل سیکرٹری کو مریم نواز سے ملتی تھی۔

پھر جب پچھلے دنوں نواز شریف کو نیب کی تحویل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تو ان کی فرمائش یا ضد پر مریم نواز کو بھی جیل سے سروسز ہسپتال داخل کر کے نواز شریف کے برابر والے کمرے میں رکھنا پڑا۔ پھر لندن پہنچ جانے کے بعد نواز شریف نے پچھلے دنوں یہ کہتے ہوئے اپنا آپریشن کروانے سے انکار کردیا کہ جب تک مریم ان کے پاس نہیں ہوں گی وہ سرجری نہیں کروائیں گے۔ ان تمام مناظر میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں۔ کیا اب بھی شہبازشریف کے اس مبینہ انکشاف پر کوئی یقین کرے گا کہ نواز شریف نے اپنے جانشین یا مریم اور حمزہ کے سیاسی کردار کا تعین ابھی کرنا ہے؟

قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے سیاسی سٹیک ہولڈرز اور پاور بروکرز سمیت ہر طرف سے مایوس ہوجانے کے بعد آخری امید میڈیا سے لگا لی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اپنی آخری امید کے طور پر جو قومی حکومت قائم کرنے کا منسلک بنائے بیٹھی تھی، اس پر ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادتیں یعنی نواز شریف اور آصف علی زرداری راضی نہیں ہوئے البتہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑوانے کے لئے اس پر بھی تیار ہیں۔

اب جبکہ شہبازشریف پاکستان واپس آ چکے ہیں اور وزیراعظم عمران خان غیر علانیہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دینے کا حکم دے چکے ہیں، شہبازشریف نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی کیفیت میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف نے ایک دستی پیغام میں چوہدریوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ بھاء جی من گئے نیں اور یہ کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے پلان اور پیشکش کے ساتھ ہے مگر۔۔۔

چوہدری برادران بہت جہاندیدہ ہیں جو ہواؤں کا رخ بھانپ لیتے ہیں اور تبدیلی کی ہوا محسوس نہ کریں تو پلہ نہیں پکڑاتے، شاید اسی لئے چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ خواجہ برادران کی حالیہ خصوصی ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین شریک ہی نہیں ہوئے جو پہلے ہی یہ رولنگ دے چکے ہیں کہ اصل کردار صرف نواز شریف ہیں، شہبازشریف زیرو ہیں

Facebook Comments HS