ڈالروں میں بکتا خوف
انسان کو آپ خوفزدہ کریں تو وہ ہر حد تک جائے گا۔ عقل سے عاری لوگ خوف کو دیو بنا کر ہی خود کو برباد کریں گے اور عقل مند ہر چیز دینے کو تیار رہتے ہیں۔ بڑی اقوام بھی خوف بیچ کر پیسے کماتی ہیں، خوف ہی سے قومی ہمدردی سمیٹتے ہیں۔ خوف ہمیں ہمارے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا کرتا ہے اور ہم سب کچھ فیصلے سازوں کی جھولی میں پھینک دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا سے پہلے حکومتیں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے اخبارات اور ٹی وی چینل کا سہارا لیتی تھی بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر رہی سہی کام ہی مخالف کا خوف پیدا کرنا ہے۔ لیکن یہ کام سوشل میڈیا میں بھی تیزی سے جاری ہے۔ جہاں اس سے زیادہ خوف پھیلایا جاتا ہے۔ وٹساپ میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جس میں حقیقت خرافات میں گم ہوجاتی ہے۔ مایوسی خودکشی کا روپ دھار لیتی ہے۔
شاید اس لیے گوئینڈلین بروکس نے کہا تھا کہ ”انسانوں کے مقابلے میں بلیوں کے خوش رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی اخبار نہیں ہوتا“
دانا و نادان سبھی موبائل ہاتھ میں تھامے غلط خبریں پھلاتے ہیں نتیجہ خوف، یہاں تک کے انفرادی سطع پر ویوز اور ویب رینکنگ کی خاطر بھی لوگ خوف بیچتے ہیں۔ جس سے عوام شدید قسم کی ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔
جب سے کرونا وائرس نے دنیا کو جکڑا ہے تو خوف کی گاڑی کو پر لگے ہیں ہر گھنٹے نیوز چینل مرنے والوں کی فہرست چیخ چیخ کے بیان کررہے ہیں۔ ٹی وی دیکھنے والے حضرات خوفزدہ ہیں جو جتنا زیادہ خوف پھیلا رہا لوگ اسے زیادہ دیکھ رہے ہیں۔
حالانکہ چوتھا مہینہ ہے اور مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے۔ اور ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب اموات امریکہ، انگلینڈ، اٹلی، ندرلینڈ، اسپین، بلجیم، فرانس، آسٹریا اور کینڈا میں ہوئی ہیں۔ جبکہ باقی دنیا میں کم و بیش بیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق ہر چار مہینے دنیا میں 5 لاکھ افراد ٹریفک سے مرجاتے ہیں۔ دمہ اور سانس کی بیماریاں ڈیڑھ لاکھ اور ذیابطیس 3 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو مار دیتی ہے۔ ہر سمت ہر وقت موت و حیات کی کشمکش جاری ہے لیکن چونکہ وہ کسی ٹی وی پر نہیں آتے تو ہم خود کو بڑے محفوظ سمجھتے ہیں لیکن کرونا کے ضمن میں کان پھاڑنے والی آوازیں اور دل دہلا دینے والے پوسٹ وہ کام کرتے ہیں جو سالہ سال ملکلموت نہ کرسکتا ہے مطلب خوف پھیلانا۔
میں احتیاط اور کرونا کے بھیانک چہرے سے منحرف نہیں ہوں لیکن جو دکھایا جاتا ہے اور جتنا بڑا کرکے دکھایا جاتا ہے وہ فقط خوف کی تجارت ہے۔ اور خوف آسان کمائی ہے اور اس کے گاہک میں اور آپ، لیکن ہمیں انفرادی سطع پر کم از کم اس اسکرین کے دیو کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ اور خوف کے میسج پھیلانے والوں کی بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ اللہ پہ توکل کے ساتھ ساتھ دست بہ دعا ہوکر اپنے حصے کی امید پھیلانی چاہیے۔


