کوے اور سیاسی کارکنان


پتہ نہیں کوے دیکھ کر ہمیں یہ ارفع خیال سوجھا یا سیاسی کارکنان کو دیکھ کر کوے یاد آ ئے کہ دونوں میں زندگی کی ساری اقدار اس قدر مشترک ہیں کہ جی چاہتا ہے دونوں کا نام ایک ہی رکھ دیں۔ کووں کو سیاستدان کہا تو شاید وہ برا مان جائیں مگر سیاستدان کو کوا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا کیونکہ سیاستدانوں کو پتہ نہیں اور کن کن جانوروں کے ناموں سے پکارا جا چکا ہے وہ کوا کہلانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔

کس کس قدر مشترک کا موازنہ کریں ان دونوں عجوبہ روزگار مخلوقات میں؟ پہلی قدر مشترک جو آپ نے بھی خوب مشاہدہ کی ہو گی کہ جب کبھی کسی کوے کو کوئی گزند پہنچتی ہے تو بہت سارے کوے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور وہ ہلڑ بازی کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ جس نے کچھ بھی نہ کیا ہو وہ بھی اپنی غلطی ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہاں سے دم دبا کے بھاگنے میں عافیت خیال کرتا ہے۔ جیسے سیاستدان اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر۔ کووں کی خاموش اکثریت ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ ہر جگہ اپنی پارٹی بنا کر کام بلا لیتے ہیں اور ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہماری ایسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کے ساتھ کرتی ہے اور سیاستدان عوام کے ساتھ!

کووں کو اگر کسی چیز سے چڑ ہے تو وہ ان کے گھونسلے کے قریب سے گزرنا ہے بالکل ایسے ہی جیسے سیاستدان اپنے بنگلے اور بنک اکاونٹ کے قریب نیب کو بھی نہیں آنے دیتے یہ الگ بات کہ انتظامیہ اپنے زور پر وہاں سیاسی مداخلت کرے۔ کوے اور سیاستدان کا کام اپنی آ مدنی کے ذرائع سب سے خفیہ رکھنا اور ہمیشہ ان میں اضافہ کرنا ہے۔ دونوں اصناف کو اپنا کنبہ اور ذاتی مفاد نہایت عزیز ہوتے ہیں۔ ہاں جہاں بڑے عہدے کی پیشکش ہو وہاں یہ سیاستدانوں سے اچھے نکلتے ہیں کہ اپنے بھائی کی قربانی نہیں دیتے جب کہ سیاستدان بڑے عہدے کی خاطر اپنے بیمار بھائی کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور انتظامیہ سے ساز باز کر لیتے ہیں، سرداری حاصل کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جسے اخلاقیات کی زبان میں غداری کہا جاتا ہے اور اگر پھر بھی نہ ملے تو سمجھوتہ کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے، جان جائے پر کرسی اور دمڑی نہ جائے۔ اس ایک لحاظ سے تو کوے سیاست دان سے بہت ہی اچھے ہیں کہ کرسی اور حکومت کے حصول کی خاطر بیرونی طاقتوں کے پاس نہ اپنے بچے گروی رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں۔

دوسروں کے درختوں پر اپنا حق جمانا اور جتانا کووں کا پرانا شیوہ ہے۔ کسی بھی خالی مکان دکان اور پلاٹ پر جس طرح سیاستدان قبضہ کرتے ہیں بعینہ کوے بھی خالی درختوں پر قابض ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کسی درندے یا پرندے سے نہیں ڈرتے صرف بندوق سے ڈرتے ہیں۔ اور وہ بھی اتنا کہ بس بندوق کی نالی ان کی طرف کر دیں تو یہ یہ جا اور وہ جا، پھر سے اڑ جاتے ہیں۔ ان کی یہ قدر بھی سیاستدان میں موجود ہے۔

کھانے میں بھی یہ دونوں بے مثال ہیں کیونکہ ان کا اپنا تو کچھ بھی نہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنا کھانا ہوتا ہے وہ اس مقولے پر عمل کرتے ہیں کہ کمائے گی دنیا اور کھائیں گے ہم۔ وہ سب کچھ ان کا ہی تو ہے جو دوسروں کا ہے۔ یہ اپنے پاپی پیٹ کے لئے معصوم بچوں سے بھی چھین کر کھانے سے گریز نہیں کرتے۔ معصوم عوام ہی دراصل ان کے لئے کھانے کا بندوبستی کرتی ہے۔ سیاستدان کی طرح یہ بھی صبح سویرے گھر سے نکل جاتے ہیں اور پھر سارا دن حلال حرام کی تمیز کیے بغیر کھابے اُڑاتے رہتے ہیں۔

کسے بچے سے روٹی چھین رہے ہیں تو کسی مزدور کے سر پر لدی ٹوکری سے کچھ چرا رہے ہیں۔ کبھی کسی بوڑھی ضعیف خاتون کا حق چھین رہے ہیں تو کبھی جوان کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرح سب کچھ خود کر رہے ہوتے ہیں اور شور مچا کر خود کو مظلوم بھی ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی پکڑے جائیں تو پھر ایک دم بیمار پڑنے بلکہ بے ہوش ہونے کا بہانہ بھی کر سکتے ہیں کہ پکڑنے والا رحم کھا کر انہیں چھوڑ ہی دیتا ہے اور یہ اڑ کر شاخ پہ بیٹھ کے اس کا منہ چڑانے لگتے ہیں۔

کوے اور ایسٹیبلشمنٹ بھی مماثل ہیں۔ دونوں کا جب داؤ لگتا ہے تو بڑے بڑوں کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دیتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ اسی کے ہاں دس بیس یا تیس سال سے رہ رہے تھے اور اس کا کھا بھی رہے تھے۔ ایک طرح سے توطایسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں سے بھی زیادہ کوے جیسے ہوتی ہے۔ یہ بہت ہی طوطا چشم ہوتی ہے۔ ۔ غور و فکر کرتے رہیں شاید کووں سے میل کھاتی کچھ اور اقدار بھی مل جائیں اگر ملیں تو شئر ضرور کیجئے گا۔