ریڈ انڈین تہذیب کا نفسیاتی زوال اور تقدیر کا عریاں جبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


امریکہ کے سرخ فام باشندے جنہیں عرف عام میں ریڈ انڈین کہا جا تا ہے، وہ آج کے زمانے میں شکست ذات کی تصویر ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب بحرالکاہل اور اوقیانوس کے درمیان چلتی ہوائیں، منہ زور آندھیاں، شہ زور بگولے اور افق تابہ افق پھیلی زمین ان کا گھر تھی۔ اس زمین میں جانوروں، درختوں اور چرند پرند کے ساتھ ان کی برابر کی شراکت تھی۔ ان کا زمین اور تمام مظاہر فطرت کے ساتھ تقدیس کا رشتہ تھا جس میں سب ایک ساتھ بندھے ہوئے تھے۔

براعظم امریکہ میں ریڈ انڈین قبائل کی تاریخ تقریباً پندرہ ہزار سال پرانی ہے۔ وسیع جغرافیے میں بکھرے ہوئے یہ لوگ مختلف قبیلوں اور قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ اور وسعت زمین نے ان کے رسم و رواج اور اساطیری حوالے کچھ حد تک ایک دوسرے سے جدا کر دیے، اس کے باوجود زندگی، ماحول اور فطرت کے ساتھ ان کا رویہ اور رشتہ صدیوں کے سفر میں کم و بیش ایک سا رہا ہے۔ جیسے فطرت کی جانب ان کی نگاہ شناسی ایک سی تھی، قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ تاریخ نے ان کے ساتھ ظلم و جبر بھی ایک جیسا روا رکھا۔

یہ پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے۔ ہمیں کینڈا کے شہر سیسکاٹون میں اور امریکہ کے وسطی علاقے کے شہر ”سوع فالز Sioux Falls“ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ امریکی ریاست ساوتھ ڈیکوتا وسیع و عریض چراگاہوں کی سر زمین ہے۔ اس زمین پر بھلے وقتوں میں امریکی بھینس جسے روزمرہ میں بفلو کہتے ہیں ان کی بہتات تھی اور سر سے اونچی گھاس کی بھی۔ پرانے زمانوں میں ساوتھ ڈیکوتا میں اونچا درخت کہیں نہیں تھا۔ اس علاقے کے میدانوں میں اونچے درخت بہت بعد میں یوروپی استعمار کے ساتھ متعارف ہوئے۔

مگرساوتھ ڈیکوٹا کے مغربی علاقے میں ”بلیک ہلز“ کی پہاڑیاں کیمبریعن زمانے سے پہلے کی ہیں۔ بلیک ہلز کے علاقے کے جنگلوں کی بات باقی ساوتھ ڈیکوٹا کے میدانوں سے مختلف ہے۔ میدانوں میں کئی زمیناوں کے اونچے درخت اگ آئے تھے۔ یہ پرانے زمانوں کی پیداوار تھی۔ جاننے کی بات یہ ہے کہ ساوتھ ڈیکوٹا میں پہاڑوں، جنگلوں اور وادیوں کا وہ علاقہ لیکوٹا قبیلے کا گھر تھا۔

یوں تو پورے امریکہ کے آبائی لوگ گھوڑ سوار رہے ہیں، مگر امریکہ کے وسطی علاقے کے ریڈ انڈین مشاق گھڑ سوار تھے۔ بفلو کے شکار کے لئے وہ اپنے گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر ہوا کی لہروں پر سواری کرتے تھے۔ اس علاقے میں ”سوع قوم Sioux Nation“ کے لوگ آباد تھے۔ سوع قوم میں بھی آگے کئی قبیلے تھے۔ کھلی ہواوں پر اور افق کے ساتھ ہم کنار ہوتی زمین کے یہ باسی آج کل ساوتھ ڈیکوٹا کے ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود کر دیے گئے ہیں جس کا نام پائن ریج ریزرویشن Pine Ridge Reservation ہے۔ اس جگہ یہ لوگ کہنے کو تو آزاد ہیں مگر یہ لوگ اپنی زندگی کے ایام یاد ماضی، شراب اور نشہ آور ادویات کے سہارے گزار رہے ہیں۔ ان کا یہ رویہ زندگی کی شکست کا ماتم ہے اور تاریخ کے جبر کی اندوہناک داستان بھی۔

1492 کا سال یورپ اور امریکہ بلکہ دنیا کی تاریخ میں نہایت اہم ہے۔ اس سال جب کولمبس انڈیا پہنچنے کی بجائے اتفاق سے براعظم امریکہ جا نکلتا ہے تو تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے جس نے امریکہ کے آبائی ریڈ انڈین باشندوں کے مستقبل پر تاریکی کی مہر لگا دی اور یہیں سے باقی دنیا میں یورپی تسلط کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ اس وقت یورپ میں تاریخ کو لکھ کر محفوظ کرنے کی روایت جڑ پکڑ چکی تھی۔ وہ کسی ایسے قبیلے یا قوم کو جہاں تاریخ کو باقاعدہ لکھا نہیں جاتا تھا، اسے غیر مہذب گردانتے تھے۔ اسی وجہ سے اس وضاحت کا خیال آیا کہ یورپ کے باسیوں نے جب دنیا کے دیگر علاقوں میں کالونیاں بنانی شروع کیں تو ان جگہوں کی تفصیل کو وہ تاریخ کہنے کی بجائے ”اتھنو گرافی Ethnography“ کہا کرتے تھے۔ یورپی اقوام کے دوسرے لوگوں کو غیر مہذب سمجھنے کی بات ہم کسی اور دن پہ اٹھا رکھتے ہیں۔

امریکہ میں ریڈ انڈین باشندوں کی صرف زمین ہی نہیں تھی جس پر یورپ کا قبضہ ہوا، وہ خود بھی زیر نگیں ہوئے، اپنی زندگی کے ساتھ، اپنے کلچر کے ساتھ اور اپنی تہذیب کے ساتھ۔ ہم موجودہ دور میں تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح بہت سنتے ہیں۔ ایمان داری کی بات یہ ہے کہ تہذیبوں کا اصلی تصادم ریڈ انڈین اور یورپی تہذیبوں کے درمیان ہوا جو امریکہ کے پہاڑوں، وادیوں اور میدانوں میں ہوا، زندگی کے فلسفے میں ہوا اور انداز فکر کے ہر پہلو میں ہوا۔

ریڈ انڈین تہذیب کے تاراج ہونے کی داستان کو سمجھنے کے لئے تہذیب کے بنیادی عناصر میں سے ایک دو باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ تہذیب صرف رہنے اور زندگی گرازنے کا میکانکی عمل نہیں، اس کے پیچھے صدیوں پر محیط ایک تجربہ اور اس کی کہانی بھی ہوتی ہے جس میں زندگی کی رسوم و قیود کے ساتھ ساتھ زندگی اور زندہ رہنے کی روح کی توجیہہ بھی موجود ہوتی ہے اور کہانی کا یہی وہ پلاٹ ہے جسے ہم اسطورہ کہتے ہیں۔ کلچر کا کام یہ ہے کہ وہ اس اسطورہ کا اسطوری رویوں کا محافظ بن جاتا ہے۔

یوں تو سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں مگر اسطورہ اور کلچر کے محدب عدسے کے نیچے انسان ظاہری طور پر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ یہ صرف ایک ظاہری فرق ہے۔ اس فرق کے باوجود ہرکلچر میں زندگی کی حقیقت اور اسطورہ کی سچائی عیاں رہتی ہے۔ فریڈرک ٹرنر کے الفاظ میں ”۔ زندگی کی عظیم حقیقت کے سامنے جس کی ساری پرتیں ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، زندگی کے حضور خوف یا عاجزی اور اطاعت کا جذبہ اسطورہ کی بنیاد ہے“۔ کارل یونگ نے اسطورہ کو زندگی میں معنی دریافت کرنے کے عمل سے تعبیر کیا ہے۔ میکانکی تہذیب اسطورہ کو غیر ضروری اور غیر اہم جان کر اس سے پہلو تہی کرتی ہے۔ یونگ کے نزدیک اسطورہ میں زندگی کی دانش کے در کھلتے ہیں اور یہ نوع انسانی کا خاصہ اور مشترکہ ورثہ ہے۔

ریڈ انڈین تہذیب میں زندگی کا حیاتیاتی شعور تو کسی طرح بھی دوسروں سے کم یا زیادہ نہیں، مگر میکانکی پہلووں میں یورپی قومیں ریڈ انڈین قوموں سے بہت مختلف طور پر بڑھی پھولی ہیں۔ شمالی امریکہ میں کیوٹی نام کا بھیڑیے نما جانور کئی قبیلوں میں ریڈ انڈین بچوں کے لئے استاد کی طرح ہے جس سے حکمت اور پرکشش چالبازی کی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے جو شکار کی تربیت کا اہم جزو ہے۔ کہانیوں میں کیوٹی جانور شکاری کو اس کی اہمیت بحیثت شکاری سمجھاتا ہے۔ ”شکار کا گوشت کھا کر تمہارا جسم اور تمہارے شکار کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ اب یہ تمہارے فرائض میں شامل ہے کہ تم اپنی زندگی میں سے کچھ اپنے شکار کی جانب واپس بھی لوٹاؤ۔ یہ فطرت کی جانب اظہار تشکر ہے کہ جس نے تمہارے زندہ رہنے کا سامان کیا ہے“۔

یورپ کی تعلیم نے اسطوریاتی ادراک کی جگہ میکانکی سوچ کو پروان چڑھایا اور اسے ظاہری تجسیم عطا کی۔ اس مطمع نظر نے انسان اور فطرت کا رشتہ ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ انسان نے خود کو فطرت کا حصہ ماننے کی بجائے اسے ایک ”کموڈیٹی“ کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ جب یورپی حملہ آوروں کی امریکہ میں آمد ہوئی تو ان کے نزدیک نئی زمین ایک کموڈیٹی تھی۔ اس کو فتح کر کے اپنی ذاتی ملکیت بنانے میں ان کی بہادری اور زندگی کا جوہر تھا۔ اس مقصد کے لئے انہوں کے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ ریڈ انڈین اقوام کے لئے زمینی اور مادی شکست کے ساتھ یہ لمحہ شکست ذات کا بھی تھا۔

ریڈ انڈین اقوام کے مقابلے میں یورپ کی جیت کا یہ مطلب نہیں کہ یورپ کی تہذیب مسائل سے مبرا ہے۔ نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کی کتاب ”تہذیب اور اس کا اضطراب“ میں تہذیبی مسائل سے متعلق چشم کشا بحث کی گئی ہے۔ فرائیڈ کے مطابق مغربی تہذیب میں اپنے اندرونی اضطراب سے نمٹنے کے واسطے تین طریقے ہیں۔ اول: اضطراب کا رخ موڑنا جس کی وجہ سے تکلیف کا احساس کم ہو جائے۔ دوم: زندگی کی حقیقی تسکین کے عوض کوئی اور معقول وجہ تسکیں بہم کرنا جس سے اضطراب میں کمی ہو جائے اور سوئم: نشہ آور ادویات کا استعمال۔

ہم دیکھتے ہیں انسان ان سب تراکیب کو مختلف حد تک استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے پہلی ترکیب کو دل بہلانے کا معمولی ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے جیسے قیدی جیل میں کیاریوں اور پھولوں کی دیکھ بھال میں وقت صرف کرتے ہیں۔ اس ترکیب سے ان کا وقت تو گزر جاتا ہے مگر اس سے ان کے شعورکے اندر تبدیلی کس حد تک آتی ہے، اسے سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ اس طریقے سے باطن ذات کی بہت زیادہ تبدیلی شاید ممکن بھی نہیں۔

نشے کی کیفیت حقیقت سے فرار تو ہے مگر اس میں انفرادی یا سماجی بہتری کا پہلو مکمل مفقود ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ادویات کو نشے کے طور پر اور آئیڈیالوجی اور مذہب کو حقیقت سے فرار کے لئے استعمال کرنا دراصل ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ ان دونوں باتوں کے مقابلے میں زندگی کے ساتھ لگاؤ اور یگانگت کا بھی ایک طریقہ ہے جو تحت الشعور کی بے چینی اور تشویش کو شعوری کاوش میں ڈھالنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ یہ زندگی کا تخلیقی عمل ہے، یہ آرٹ ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپی اقوام کی آمد کے ساتھ جب ریڈ انڈین کی تہذیب کا شیرازہ بکھر چکا ہے تو زندگی کا سامنا کرتے ہوئے یہ اقوام اور قبیلے آج کہاں کھڑے ہیں؟ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج کے سرخ فام ہاری ہوئی تہذیبی جنگ کے شکست خوردہ اور خستہ حال ہیں۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے گمان گزرتا ہے کہ ان کے یہاں حقیقت سے فرار کے طور اطوار نظر آنے چاہئیں۔ مجموعی طور پر آج کے ریڈ انڈین کی ظاہری کیفیت اور رہن سہن کو دیکھ کر فراریت کے خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔

جیسے ہم نے اوپر بات کی تھی، ہمیں ساوتھ ڈیکوٹا میں ریڈ انڈین قبیلے کے لوگوں کو ذرا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس کے ساتھ ہی ایرک ایرکسن کی کتاب ”چائلڈ ہوڈ اینڈ سوسائٹی“ کو اس وقت جب دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اس کتاب کی قدر ومنذلت میں مزید اضافہ ہوا۔ ریڈ انڈین اقوام کا حقیقی مسئلہ ایک بہت بڑا تہذیبی المیہ ہے جس کی ابھی بات ہوئی ہے۔ اس کی جڑوں میں اس بات کا بہت سا عمل دخل ہے کہ ان سے وہ وسیع و عریض چراگاہیں چھن گئی ہیں جن میں یہ لوگ گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر بفلو کے شکار کو نکلتے تھے اور شکار شروع کرنے سے پہلے اپنے ہونے والے شکار سے معافی مانگ لیا کرتے تھے کہ صرف ضرورت کی وجہ سے تجھے مار رہے ہیں۔ ہماری تمہاری ایک دوسرے سے کوئی دشمنی نہیں۔ ہم تم، درخت اور پرندے، ہوا اور بادل، اور زمین اور سورج کی کرنیں زندگی کے تانے بانے میں سب ایک ہیں۔ ہمیں معاف کرنا۔ اس دعا کے بعد ان کے گھوڑے ہوا کی لہروں پر دوڑتے تھے۔

یورپی قوموں نے ریڈ انڈین کو شکست دینے کے بعد ان کے ساتھ کیے گئے سارے معاہدوں میں ان کے طرز زندگی کو تبدیل کر کے انہیں چھوٹے چھوٹے علاقوں تک محدود کرنا شروع کر دیا۔ ان علاقوں کو ریزرویشن کہتے ہیں۔ یہ بات تاریخی حقیقت ہے کہ بہت سے ریزرویشن کے علاقوں میں معاہدے کے باوجود خوراک کی قلت نے بھوک کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں پیدا کیں۔ ماضی میں ریڈ آنڈین باشندوں کی بہت سی اموات بھوک اور اسی سے متعلقہ دیگر وجوہات کی بنا پر ہوئیں جسے انہوں نے جیسے تیسے برداشت کر لیا؛ مگر ان کے کلچر اور تہذیبی ورثے کی شکست نے ان کے اعصاب مضمحل کر دیے ہیں۔

کہتے ہیں ریزرویشن پر آج پیدا ہونے والے بچے زندگی گزارنے کے سبق سیکھنے کے لئے اپنے والدین کی طرف نہیں دیکھ سکتے کیونکہ جو سبق ان کے والدین کے پاس کہانیوں اور روایات کی شکل میں ہیں وہ آج کی میکانکی زندگی کے لئے کار آمد نہیں اور باہر کی میکانکی دنیا جس میں زندگی گزاری جا سکتی ہے، ان کے بچپن کی تربیت اس سے میل نہیں کھاتی۔ ان کا بچپن اور اس کی تربیت اس طرح سے ہے کہ باہر کی میکانکی دنیا ان کے لئے معنی آفریں نہیں ہے۔

اس صورت حال میں سگمنڈ فرائیڈ کے جن تین نفسیاتی رویوں کی بات پہلے ہوئی تھی پھر سے یاد آنے لگے ہیں۔ آج کے ریڈ انڈین کی شکست وہ تہذیبی بیماری ہے جو یورپ نے ان پر مسلط کی تھی۔ آج ریڈ انڈین اس شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے نشے کے سہارے زندگی سے فرار اختیار کر رہے ہیں۔ ریڈ انڈین نشے کے راستے زندگی سے فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اس فرار کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ اس میں تقدیر کا ہاتھ ہے، ایک تہذیب کا زوال ہے اور انسان کی موت ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ریڈ انڈین دعا کے الفاظ میں کہیں سے نوبت باجے کہ ہم تم، درخت اور پرندے، ہوا اور بادل، اور زمین اور سورج کی کرنیں زندگی کے تانے بانے میں سب ایک ہیں۔ آو، اس زمین پر سب مل جل کر زندگی کی شمع کو ہمیشہ روشن رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply