ملک دشمن اینکر، بائیس کروڑ چور اور اعلٰی حضرت کا رقت آمیز دعائیہ شو

صادق و امین وزیراعظم نے اگر جیو چینل، انتظامیہ اور مالک کے حوالے سے دیے گئے اپنے سابقہ بیانات سے تائب ہو کر تاریخی یو ٹرن لینا ہی تھا تو تھوڑی سی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بیانات کی وضاحت یا از سر نو ضرورت کے مطابق کوئی انوکھی توجیہ ہی کر دیتے۔ غدار اچانک وفاداربن ہی گئے تھے تو وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ اپنے پرانے الزامات واپس لے لیتے۔ حامد میر جیسے ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ یک دم محب وطن اور ملت دوست بن ہی گئے تھے تو پہلے ان کے سر پر حب الوطنی کی دستار فضیلت ہی رکھ دی جاتی۔
بھارتی میڈیا اور بدنام زمانہ جاسوسی ایجنسی را کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اگر راتوں رات خالص پاکستانی بن ہی گئے تھے تو پہلے انہیں قومی وقار اور ملکی مفاد کے حقیقی دردمند ہونے کی سند تو عطا کر دی جاتی۔ دیش دروہی اگر چشم زدن میں دیش پریمی بن ہی گئے تھے تو پہلے ان کے گلے میں نظریہٕ پاکستان کے ساتھ سچی وابستگی کے ہار تو ڈال دیے جاتے۔ مگر پھر ہمیں یاد آیا کہ کپتان نے ہر سیاسی قلابازی کھا تے ہوئے کبھی راست بازی سے کام لینا ضروری نہیں سمجھا۔
سیانے کہتے ہیں کہ مروت، وضع داری اور لحاظ جیسی اعلٰی انسانی قدروں کا تقاضا ہے کہ عداوت اور مخاصمت میں کبھی اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ وقت آنے پر آپ اپنی زبان درازی اور اتہام بازی کی وجہ سے فریق مخالف سے آنکھیں چار نہ کر سکیں۔ اندھی نفرت ہو یا عقیدت، دونوں کے زیر اثر انسان کچھ ایسے انتہا پسندانہ اور خود پرستانہ قدم اٹھا لیتا ہے کہ پھر حریف کے دوبدو بیٹھنا باعث ندامت بن جاتا ہے۔ اختلاف جب مخالفت میں ڈھل کر باہمی دشمنی اور انا پسندی کی زہرناکی اور سفاکی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے تو زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جس کی وجہ سے دلوں میں وہ گرہیں پڑ جاتی ہیں جو دانتوں سے بھی نہیں کھولی جا سکتیں۔ آج جیو کی ٹیلی تھون نشریات کے دوران وزیر اعظم صاحب کے چہرے کے اتار چڑھاٶ، لمحات کا دباٶ اور اعصاب کا تناٶ رہ رہ کر چغلی کھا رہا تھا کہ وہ اپنے ماضی کے شدت پسندانہ بیانات اور انتہا پسندانہ رجحانات کی وجہ سے نادم ہیں۔
یار لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاٶس نے وزیراعظم کے مزاج اور ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے حوالے سے ایک بڑی ڈیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ پچپن کروڑ کی امداد سے شاید میر صاحب کو ڈھیل مل جائے اور ان کے رہا ہونے کی کوئی سبیل نکل آئے۔
جہاں تک ریاست و حکومت کے انتظام میں مذہب کے دھندے کے سوال کا تعلق ہے تو بدقسمتی سے یہ عارضہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کرتا رہا ہے۔ یہ کہانی قرارداد پاکستان اور نظریٕہٕ پاکستان سے شروع ہو کر ”اسلامی“ جمہوریہ پاکستان اور قرارداد مقاصد سے ہوتی ہوئی جب آگے بڑھتی ہے تو ذولفقار علی بھٹو جیسے لبرل لیڈر کو بھی اس بری طرح چت کرتی ہے کہ دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ پھر مرد مومن مرد حق ذرا نہیں بہت سی نم ہوئی زرخیز مٹی میں مذہبی تعصب اور فرقہ وارانہ تقسیم کی ایسی پنیری لگاتے ہیں کہ اگلے چند برسوں میں یہ فصل لہلہانے لگتی ہے۔
بیچ میں جنرل مشرف نے بھی حسب ضرورت ریاست کو مشرف بہ اسلام کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے مقتدرہ کے اشارے پر ریاست پر مذہب کی ملمع کاری کیے رکھی اور میاں نواز شریف نے تو مرد مومن مرد حق کے مشن کی تکمیل کا بیڑا اٹھا رکھا تھا، وہ اس دوڑ میں کسی سے پیچھے رہ کر راندہٕ درگاہ کیسے ہو سکتے تھے؟ سو تمام محبان وطن ریاست کو کلمہ پڑھاتے اور جمہور کو بندوق کے زور پر راہ راست پر لاتے رہے۔
مگر چندے کے بہانے مذہب کے دھندے کے استعمال کے جو مظاہر آج پی ایم ہاٶس میں دیکھے گئے اور جس طرح بائیس کروڑ بددیانتوں، دھوکے بازوں اور چور وں کے ہجوم سے امانت، صداقت اور دیانت کے ایک پتلے کو دریافت کر کے اسے نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اس کی مثال بھی شاید ہماری پوری تاریخ میں نہ ملے۔ اعلٰی حضرت جس طرح گریہ و زاری کر کے وزیراعظم کے حق میں دعا فرما رہے تھے ہمیں تو محسوس ہو رہا تھا کہ بس اب مہان و برگزیدہ ہستی کے لئے نعوذ باللہ! ولایت کے درجے کی کسر باقی رہ گئی ہے۔
بائیس کروڑ عوام کو چور ی اور بددیانتی کی سند عطا کرنے پر تو ہم کچھ نہیں کہتے البتہ ایک دیانتدار باغبان کو جو اجڑا ہوا چمن ملا تھا اس کا ایک اجمالی سا نقشہ کھینچ کر ہم رخصت چاہیں گے۔ حضور! اس اجڑے اور لٹے پٹے چمن میں شرح نمو 5.80 تھی جو آج کم ہو کر 1.5 رہ گئی ہے۔ شرح سود 5 فیصد تھی جو آج بمشکل 9 فیصد ہے۔ سٹاک مارکیٹ ترپن ہزار پر تھی جو آج تیس ہزار سے بھی کم ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرول باسٹھ ڈالرز فی بیرل کے باوجود یہاں باسٹھ روپے فی لٹر ملتا تھا جو آج عالمی منڈی میں بارہ ڈالرز فی بیرل ہے اور ہمیں ستانوے روپے فی لٹر دستیاب ہے۔
آٹا پینتیس روپے فی کلو تھا جو آج خیر سے ستر روپے میں بھی بمشکل مل رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد تھی جو آج امانت و صداقت کے پتلے کے دور میں تیرہ فیصد سے زائد ہے۔ بیسیوں چیزوں پر سبسڈی دی جارہی تھی مگر آج حج، ادویات اور اشیائے خور و نوش سمیت بھی سبسڈی سے آزاد ہیں۔ اجڑے چمن میں ایک ”چور“ اور ”بد د یانت“ تقریباً ساٹھ ارب ڈالرز کا گیم چینجر سی ہیک منصوبہ لایا تھا جو آج ریاست مدینہ میں بند ہو چکا ہے۔ اجڑے چمن میں جتنی لاگت میں تین تین میٹرو پروجیکٹ تیز رفتاری سے مکمل ہو جاتے تھے آج اس سے دو گنا قیمت میں بی آر ٹی کئی سال سے پڑی سسک رہی ہے۔
اجڑے چمن والوں نے آئی ایم ایف والوں کا جو کشکول توڑ کر قوم کو سر اٹھا کر جینے کا درس دیا تھا نئے پاکستان والوں نے وہی ٹوٹا کشکول محض چھ ارب ڈالرز کے لیے دوبارہ قوم کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ اعلٰی حضرت! ہم آپ کو کیا کیا یاد دلائیں۔

