کرونا، رمضان اور ہم


چین کے مشرقی حصے میں واقع ایک کیکڑے فروخت کرنے والی خاتون کو نزلہ زکام اور کھانسی کی شکایت ہوئی اس سے پہلے بھی وہ اکثر ان علامات سے دوچار ہوتی رہتی تھے مگر اس بار وہ شدت کے باعث گر پڑی یہ دَس دسمبر کی بات ہے بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئی تھی

اس خاتون کا بروقت علاج کیا گیا اور وہ صحت یاب ہوگئی البتہ اس وقت تک وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔

بعد ازاں ایک ایک کر کے اس بیماری نے عالمی وبا کی صورت اختیار کر لی۔ پاکستان میں پہلے کیسز 26 فروری کو ایران سے لوٹنے والے دو طالب علموں میں پائے گئے۔

سندھ حکومت اور پھر وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں نے بھی اس موذی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن یا تالا بندی کا نفاذ کیا مگر ایران سے آنے والے زائرین کی درست مینجمنٹ نہ ہونے سے ملک کے تمام حصے اس وبا کی لپیٹ میں آگئے۔

اب رمضان المبارک کا آغاز ہے اس ماہ مبارک میں عبادات کا اضافہ ہمارا مجموعی رویہ ہے۔
اس معاملے پر ہماری مذہبی قیادت اور حکومت بہت حد تقسیم دکھائی دیتی ہے عوام الناس بھی مختلف آراء رکھتے ہیں۔ اس نازک موقع پر دین حنیف کی تعلیمات کو بنظر تعمق دیکھنے کی ضرورت ہے۔

رسول اللہ ص نے فرمایا جو شخص لہسن اور پیاز کھائے وہ ہماری مسجد سے دور رہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی اور مسند احمد میں موجود ہے۔ یعنی کچا پیاز اور لہسن کی بدبو سے نماز باجماعت میں موجود دیگر افراد کو جو ناگواری ہوگی اس سے بھی بچنے کے لیے مسجد جانے سے ممانعت کر دی گئی۔

اسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ سخت سردی اور بارش میں اذان کے بعد الا صلو فی الرحال کہنے کا حکم دیا کرتے تھے (حدیث نمبر 666 صحیح بخاری) یعنی بارش اور جاڑے کے باعث لوگوں کو بیماری اور زحمت سے بچایا جائے ان احادیث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اگر محض کسی کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو مسجد کے بجائے گھر میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ اس عالمی وبا سے تو انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، خانہ خدا اور مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کی بہت محدود اجازت دے گئی ہے مگر ہمارے ہاں چند پرجوش افراد مساجد کو مکمل طور پر کھولنے پر بضد ہیں۔

Facebook Comments HS