یہ قیادت کا بحران ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بحران کے دنوں میں نظریں قیادت کی جانب اٹھتی ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ بیشتر ممالک اس کڑے وقت میں سنجیدہ قیادت سے محروم ہیں اور جن افراد کے ہاتھ میں مہار ہے وہ چرب زبانی سے اپنی کوتاہیاں دوسروں کے سر ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔ کورونا کی وبا بلا تخصیص تمام ممالک کو گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ امیر غریب کوئی ریاست اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ الا چند ممالک کے جو قیادت کی قوت فیصلہ اور بالغ نظری کی بدولت رفتہ رفتہ بحران سے نکل رہے ہیں۔

جہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں یا بہتر ہیں ان میں چین، جاپان، کوریا اور سنگاپور سر فہرست ہیں اور اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہاں کی قیادت نے بروقت درست فیصلے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف وبا سے محفوظ ہیں بلکہ وہاں کاروبار بھی رواں دواں ہے۔ درست ہے کہ مذکورہ ممالک بے پناہ وسائل کے حامل ہیں اور اس کامیابی کے پیچھے وسائل کی قوت بھی کار فرما رہی۔ محض وسائل لیکن کامیابی کے ضامن ہوتے تو مغرب میں اتنی تباہی کبھی نہ ہوتی۔

امریکا جو دنیا کی واحد سپر پاور ریاست ہے، جسے اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا اس سے زیادہ وسائل اور دولت کس ملک کے پاس ہوں گے؟ اس کے باوجود وہاں قیامت برپا ہے۔ نیویارک جیسا شہر جو امریکا کا معاشی حب تھا، کئی ہفتے قبل وہاں ہسپتالوں میں مریض رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی۔ اب حالت یہ ہے کہ لاشیں اٹھانے کا بندوبست بھی کم پڑنے لگا ہے۔

وسائل سے مالا مال سپر پاور کی لاچارگی کی وجہ قیادت کے فقدان کے سوا کچھ نہیں۔ جن دنوں چین میں کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری تھیں صدر ٹرمپ نے معاملے کی سنگینی کا احساس نہیں کیا بلکہ مذکورہ وائرس کو چینیوں سے مخصوص سمجھتے ہوئے اصرار کرتا رہا کہ امریکا محفوظ رہے گا۔ کورونا امریکا میں داخل ہونے کے بعد بھی اسے معمولی نزلہ زکام قرار دے کر شتر مرغ کی مانند ریت میں سر دیے بیٹھا رہا۔ الٹا جن صحافیوں نے حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی کئی بار ان سے ٹرمپ کی جھڑپ ہوئی۔

لاک ڈاؤن کی ضرورت اس وبا سے نمٹنے کے لیے مسلمہ ہے لیکن اس فیصلے کے معاشی اثرات کے ڈر سے اس نے بہت تاخیر کی۔ تاخیر سے بھی کام تو وہی کرنا پڑا، ماہرین کے مطابق یہی کام اگر وقت پر کیا جاتا ہلاکتیں کئی گنا کم ہو سکتی تھیں۔ امریکی معیشت بھی اب کئی ہفتوں سے مفلوج پڑی ہے۔ دو کروڑ کے قریب امریکی شہری روزانہ کی بنیاد پر حکومت سے امدادی رقوم کی فریاد کر چکے ہیں۔ مستند اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے کبھی خیراتی اداروں سے رجوع نہیں کیا۔ دنیا بھر کے لوگ جس دیس جانے کے خواب دیکھتے تھے وہاں کے بے تحاشا گھرانے ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی خیراتی اداروں سے بھیک مانگنے کو مجبور ہیں۔

ان حالات میں بھی ٹرمپ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین کو لتاڑنے کی کوشش میں ہے۔ اپنی حماقتوں پر نادم ہونے اور تلافی کی سوچ بچار کے بجائے کئی ریاستوں کے گورنروں پر الزام تراشی کر رہا ہے کہ ان کی نا اہلی سے عوام کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ جہالت کی انتہا تو یہ ہے کہ جن ریاستوں کے گورنر ٹرمپ کے سیاسی مخالف ہیں وہاں کے عوام کو وہ بغاوت پر اکسا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنے کام پر نکلیں۔

جواب آں غزل دوسری جانب سے بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں مرض روز بروز بگڑ رہا ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے اموات کا سیلاب کہاں جا کر تھمے گا۔ وطن عزیز میں بھی حالات تیزی سے خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ابتدا میں اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ چند بنیادی نوعیت کے اقدامات بروقت کئے ہوتے تو وبا کا پھیلاؤ روکنے میں بڑی کامیابی مل سکتی تھی۔ کورونا وائرس کو روکنے کے لیے جو کام ضروری تھے وفاق اور صوبوں کے عدم تعاون سے نہیں ہو سکے جس کے باعث کورونا ہماری سرحدوں میں داخل ہوا۔ سندھ کی حکومت کو بس یہی کریڈٹ دے سکتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا لیکن اس لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے والے دیگر لوازمات پورے کرنے کی زحمت بالکل نہیں کی۔

شروع میں ہمارے لوگ تعاون پر آمادہ تھے۔ ابتدائی چودہ دن دکانداروں نے لاک ڈاؤن کے ضوابط کی مکمل پاسداری کی۔ اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ سے متاثرہ لوگوں کی شناخت اور لاک ڈاؤن کے بتدریج خاتمے کی حکمت عملی تیار کرنا ضروری تھا۔ عوام پر لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات کی بات کی جائے تو ہر شخص دیہاڑی دار کی مشکلات کا ذکر کرتا ہے جو بلاشبہ ہونا بھی چاہیے لیکن چھوٹے دکاندار کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی۔ عام تاثر یہ ہے کہ جس دکاندار کی روزانہ آٹھ دس ہزار کی ”بکری“ ہو وہ خوشحال ہے۔

سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا کہ آٹھ دس ہزار کا جو سودا فروخت ہوا دکان کا اسٹاک جوں کا توں برقرار رکھنے کے لیے کم از کم چھ ساڑھے چھ ہزار کی چیزیں اسے دوبارہ لانی پڑیں گی۔ پندرہ سو دو ہزار کی رقم اس کا منافع ہو سکتا ہے اس میں سے بھی دکان کے کرائے، بجلی کے بل اور ملازم کی تنخواہ کے بعد کتنی رقم بچتی ہے؟ اور جو رقم بچے گی اس سے دکاندار اپنے گھر کا خرچ نکالنے کے بعد کتنا پس انداز کر سکتا ہے؟ یہی مجبوریاں ہیں جو خطرات کے باوجود دکاندار کو کاروبار کھولنے پر اکسا رہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کو کسی حد تک اس کا خیال ہے لیکن ان کی پالیسی واضح نہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ گومگو کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ اپیل کرتے ہیں کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، مئی کا مہینہ مشکل ہے دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن سے غریب کا زیادہ نقصان ہو گا، لوگ بھوک سے سڑکوں پر نکل آئے تو لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی اختراع متعارف کرا دی ہے۔ خبر نہیں سمارٹ لاک ڈاؤن کیسا ہوگا؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی علاقے کو مکمل بند، کسی کو جزوی بند اور باقی کو کھلا چھوڑ دیا جائے اس پر کیسے عملدرآمد ہو سکتا ہے؟ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ مختلف شعبہ جات ہفتے میں دو روز کھولے جائیں۔ سمجھ نہیں آتا اس کا کیا فائدہ ہے؟ اب اگر ایک دکان کے ہفتے میں ستر گاہک ہوں تو سات دن کھلنے سے یومیہ دس لوگ آئیں، لیکن صرف دو روز وہ دکان کھلے تو ایک دن میں پینتیس لوگ آئیں گے۔ لاک ڈاؤن کا مقصد سماجی فاصلے کا قیام ہے اس طرح تو یہ مقصد فوت ہو جائے گا۔

سندھ سرکار ابھی تک کرفیو سے ہٹنے کو تیار نہیں ہو رہی۔ وہاں دکاندار مجبوراً کاروبار کھولنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پولیس انہیں اٹھا لے جاتی ہے۔ کچھ کمانا تو درکنار الٹا جیب سے پولیس کو دے کر جان چھٹتی ہے۔ حتیٰ کہ ایسے کاروبار جنہیں پانچ بجے تک اجازت ہے انہیں بھی کبھی بارہ بجے اور کبھی دو بجے بند کرا دیا جاتا ہے۔ سیاسی قیادت خلوص نیت سے مل بیٹھے تو حفاظتی اقدامات اور کاروباری بندشوں میں نرمی لانے کے لیے ایس او پیز تیار ہو سکتے ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دونوں جانب سے الزام تراشی پر زور ہے۔ ایک طرف وبا کا ڈر ہے اور دوسری جانب بھوک کا خوف، قیادت کی غیر سنجیدگی کا یہی عالم رہا تو آنے والے دنوں کا سوچ کر خوف آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *