عورتوں میں بے حیائی کی ویکسین ڈھونڈیں
چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو پاکستان میں بہت لوگوں کو پہلے سے ہی خبر تھی کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ہم نے لوگوں کو بتا دیا کہ امریکہ سے چین کی ترقی برداشت نہیں ہونا تھی۔ اور پھر یہودی بھی امریکہ کے ساتھ ملے ہوئے تھے کیونکہ چین پاکستان کا اصلی ہمدرد ہے۔ ہماری چین کے ساتھ ٹیلوں سے اونچی اور تالاب سے گہری دوستی یہویوں سے کب برداشت ہونا تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک وائرس بنا کر چھوڑ دیا ہے چین میں۔ ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ یہودیوں کے پاس اس کی دوائی اور ویکسین بھی ہے لیکن وہ دیں گے نہیں۔ جب بہت سے چینی مر جائیں گے اور چین چیخ اٹھے گا تو پھر مہنگے داموں بیچ کر ایسے پیسے کمائیں گے جیسے چینی اور آٹا برآمد کرنے کے بہانے ذخیرہ کر کے ہمارے حکمران کماتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی چین پر الزام لگا دیا تاکہ اس کی کارستانی کی طرف کسی کی نظر ہی نہ جائے اور کہا کہ یہ چینی وائرس ہے اور کچھ خاص خطرناک بھی نہیں ہے۔ امریکی عوام کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
اسلام دشمنوں کی سازش اس وقت مزید بے نقاب ہو گئی جب کٹھ پتلی مسلمان حکمرانوں نے محض انسانی جانیں بچانے کے لیے مسجدیں بند کر دیں۔ اور پھر سعودی عرب نے تو حد ہی کر دی۔ اسلام دشمنوں نے اپنی سازش کا پردہ رکھنے کے لیے اپنے چرچ اور سیناگوگ بھی بند کر دیے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہیں تو پتا ہے کہ ان کے مذاہب جھوٹے ہیں۔ اس لیے ان کا اصل مقصد تو مساجد کو بند کروانا ہی تھا اور وہ انہوں نے پاکستان کے سوا باقی ملکوں میں کروا ہی دیں۔
ہم بہرحال ان کی سازشوں کو بھانپ چکے تھے اس لیے وہ اسلام کے قلعے میں ایک دفعہ پھر رسوا ہوئے۔ اب ان کا پیدا کردہ کورونا وائرس یورپ میں بھی تباہی مچا رہا تھا لیکن وہ دوائی یا ویکسین کو سامنے نہیں لا رہے تھے کیونکہ پاکستان میں علماء اور حکومت کے درمیان بات چیت جاری تھی۔ اسلام دشمنوں کی امید ابھی ٹوٹی نہیں تھی کہ کورونا امریکہ تک پہنچ گیا۔ امریکہ میں کچھ چرچ اس سازش میں شریک نہیں تھے اس لیے انہوں نے کھلے رکھے اور اس بات پر زور دیا کہ کورونا شیطان ہے اس لیے وہ اس جسم میں داخل نہیں وہ سکتا جس میں مسیحی خون دوڑتا ہو۔ لیکن کچھ ہی روز میں پتا چلا کہ کورونا نے مسیحی خون کو پہچاننے سے انکا ر کر دیا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کو امریکی اکانومی اور بزنس سے بھی بہت پیار تھا تو اس نے لاک ڈاؤن کو روکے رکھا۔ ہمیں پتا تھا کہ ابھی وہ دوائی جو ان کے پاس پہلے سے بنی پڑی ہے نکال کر لے آئیں گے اور کورونا ختم ہو جائے گا۔ لیکن دوائی ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
اب اس کی صرف دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوائی کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں اور انہیں مل نہیں رہی یا پھر دوائی اسرائیل میں پڑی ہے اور وہ انہیں دے نہیں رہا کہ پہلے پاکستان میں نماز باجماعت ختم کرائیں تو پھر دوائی ملے گی۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے علماء کا انہوں نے ابھی تک ایسا ہونے نہیں دیا۔
جب یہ ساری گیم چل رہی ہے اور کورونا سے متاثر ہو کر مرنے والوں کی تعداد کوئی دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے تو عین اس وقت کچھ اور لوگ بھی اس گیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں۔ وہ یہ دعوی کرتے ہین کہ انہوں نے کورونا دیکھا ہوا ہے اور وہ اس کی دوائی یا ویکسین بنانے کی کوشش میں ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ بھی جھوٹ ہے۔ بیماری کو ٹھیک کرنا کسی کے بس کی بات ہی نہیں۔ یہ سب پیسے کمانے کے چکر ہیں۔ اور خاص طور پر ویکسین تو بالکل ہی فراڈ ہے۔ پہلے بھی پولیو کے قطروں کے بہانے انہوں نے ہمارے لوگوں کو بانجھ کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ اب کافی عورتوں کے آٹھ سے بھی کم بچے ہیں۔ ابھی تو ہم نے ان کی سازش کو پوری طرح کامیاب نہیں ہونے دیا ورنہ ہم بھی گوروں کی طرح ایک یا دو بچوں کی فیملی لے کر پھر رہے ہوتے، کتنی شرمندگی کی بات تھی اگر مدرسے خالی ہو جاتے۔
پولیو کے دو قطرے ایک بچے کو معذوری سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ اس بات کی مزید وضاحت پچھلے دنوں پنجاب کے ایک وزیر صاحب نے کر دی تھی کہ گناہ گار لوگوں کے ہاں معذور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ بڑے نیک آدمی ہیں۔ انہیں مخالف پارٹی میں گناہ گار لوگ بالکل پسند نہں ہیں۔
خیر تو بات ہو رہی تھی کورونا سازش کی۔ لوگ اب کافی تنگ آ چکے تھے لیکن اس مسئلے کی جڑ کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ وہ تو بھلا ہو عمران خان کا جنہوں نے مولانا طارق جمیل صاحب کو ٹی وی پر ایک دکھی سین کرنے کی دعوت دی۔ مولانا جب ٹی وی پر بیٹھ کر رو رہے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ پورے ہوش میں نہیں ہیں لیکن اصل میں وہ پورے ہوش میں ہوتے ہیں اور سکرپٹ کے اہم حصوں کو کبھی نہیں بھولتے۔ ایک ایک کارآمد نام اور عہدہ انہیں یاد ہوتا ہے۔
اس دفعہ کے دکھی سین میں انہوں نے اس موذی کورونا کی بنیادی وجہ بتا دی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستانی عورت حیا دار نہیں رہی تو ہم پر کورونا کا عذاب نازل کیا گیا ہے۔ پاکستانی خواتین اپنی بے حیائی پر شرمندہ ہیں اور ان میں سے کئی ایک نے تو اس بات کا اعتراف فیس بک پر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اپنی ٹی شرٹ والی فوٹوز پوسٹ کرتی ہیں اور ایسا سیکسی لباس پہننے پر معافی طلب کرتی ہیں۔ اس بے حیائی یعنی چھوٹی شرٹ اور جین پہننے سے پہلے بھی زلزلہ اور سیلاب آ چکے ہیں اس لیے یہ بات پکی ہے کہ کورونا وبا کی اصل وجہ یہی ہے۔ اس لیے اگر کورونا کی وبا سے چھٹکارہ پانا ہے تو اب ہمیں چاہیے کہ کورونا وائرس کی بجائے عورتوں کے بے حیائی وائرس کی ویکسین ڈھونڈیں۔


