میری دعا ہے کہ۔۔۔

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصّوں کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ کسی علاقے پہ آفت آتی تھی، خشک سالی یا کسی وبا کا سامنا ہوتا تھا تو سیانی قومیں تو ان سے نمٹنے کے لیے عملی اور موثر قدم اٹھاتی تھیں، مگر احمق اور برباد ہو جانے والی قوموں کا سنا کہ لڑکیوں اور عورتوں کی بھینٹ چڑھایا کرتی تھیں۔ نتیجہ ظاہر ہے تیر یا تکے والا ہی ہوتا تھا۔

انسانی تہذیب ترقی کے مدارج طے کرتی ہوئی بہت آگے آ چکی ہے۔ آج جب پوری نوع انسانی ایک قوم بن چکی ہے اور اس پوری قوم یا ’گلوبل ویلیج‘ کو ایک خوفناک وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو انسان اپنی بساط بھر عقل و دانش سے اسے شکست دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

فی الحال بیماری کو محدود کرنے کے لیے لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کو کہا گیا ہے۔ بے زاری سی بے زاری ہے؟ لوگ کھانے پکا کر، فلمیں دیکھ کر، پرانی تصویریں لگا کر، کھڑکی پہ آ کے بیٹھنے والی چڑیا سے باتیں کر کر کے تھک چکے ہیں۔

انسانی فطرت ہے کہ رزق کی تلاش میں باہر نکلا جائے۔ مہذب معاشرے نے اس فطری خواہش کو ایک عالمگیر معاشی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ فی الحال اس نظام کے پہیئے روک دیے گئے ہیں۔

سویڈن میں پوری دنیا سے الگ ’ہرڈ ایمیونٹی‘ کا ماڈل اپنایا گیا ہے۔ وہاں معمولات زندگی چل رہے ہیں اور انسانی مدافعتی نظام کو اپنے فطری طریقے سے اس وائرس کے خلاف ’اینٹی باڈیز‘ بنانے دی جا رہی ہیں۔ اس طریقے میں جب زیادہ سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو جائیں گے تو ’ہرڈ یا کمیونٹی ایمیونٹی‘ پیدا ہو جائے گی اور بیماری عام کھانسی بخار کی طرح جان لیوا نہیں رہے گی۔

یہ بھی ایک تجربہ ہی ہے اور سویڈن کی حکومت اپنے سائنسدانوں اور عوام کے ساتھ مل کر اس ماڈل کو اپنائے ہوئے ہے۔

باقی دنیا، ہاتھ بار بار دھو کر اور سماجی فاصلہ اختیار کر کے، اس وائرس سے بچ رہی ہے تاکہ ویکسین تیار ہونے تک کی مہلت مل جائے۔ ویکسین بھی جسم کے مدافعتی نظام ہی کو اس مخصوص بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے کی صلاحیت ہی دیتی ہے۔

https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1253726979532218370

گو دونوں ماڈل کم و بیش ایک ہی بنیاد پہ کام کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کا مدافعتی نظام اس وائرس کے خلاف کام کرنے لگے۔

سویڈن کے ماڈل میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ دوسری صورت میں معاشی بربادی کا اندیشہ۔ انسان جسے، سفلہ، کمینہ ،خود غرض اور جانے کیا کیا کہا جاتا رہا ،آج خود کو انسان ثابت کر رہا ہے۔ بوڑھوں، بیماروں اور کمزوروں کی جان بچانے کو دنیا نے معاشی خود کشی کر لی۔

یہ تو ہوئے کورونا سے نمٹنے کے دو ماڈل۔

تیسرا ماڈل یا نمونہ وہ تھا جو ہم سب نے چند روز پہلے اپنی اپنی ٹیلی ویژن سکرینز پر دیکھا۔ چندے کی صندوقچی، وزیر اعظم، چند پشیمان سے اینکرز اور رو رو کے کورونا کی آفت کو لانے والی،اپنے خیالوں میں بسی، ننگی پونگی عورتوں کو کوستا شخص۔

مجھے یہ منظر دیکھ کے صدیوں پہلے کے بیان کیے گئے مناظر یاد آ گئے۔ جہاں آفات سے بچنے کے لیے کاہن، پہلے تو لوگوں کو لعن طعن کرتے تھے پھر کچھ مویشیوں، مال و زر، پھلوں پھولوں اور نوجوان لڑکیوں کی بھینٹ تجویز کرتے تھے۔

پوری دنیا اس وائرس کے جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے پہ غور کر رہی ہے اور یہاں اس کی وجہ، جھوٹا میڈیا اور عورتیں بیان کی جارہی ہیں۔

یہ وقت بھی گزر جائے گا، یہ وبا بھی ٹل جائے گی۔ کوئی نہ کوئی ماڈل تو کامیاب ہو گا ہی۔ مگر اتنا یاد رکھیے، خدا جو اس عورت کا بھی ہے جس نے مختصر لباس پہنا ہوا ہے اور رینٹھ نگل نگل کر عامیانہ خیالات اگلنے والے کا بھی ہے، وہی خدا انسان سے مایوس نہیں ہے۔ اگر خدا نے زمین پہ عذاب بھیجنا ہوتا تو اس کی بہترین تخلیق، عورت کی تذلیل کرنے والے سب سے پہلے اس عذاب کا شکار ہوتے۔ آپ کا زندہ سلامت ہونا اور تڑاق پڑاق بولنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی رسی دراز ہے اور یہ عذاب نہیں ایک صورت حال ہے جو انسان کو در پیش ہے۔

اس وقت کو تحمل سے گزاریے اور اپنے الفاظ اور لہجوں کا دوبارہ جائزہ لیجیے، ایسا نہ ہو کہ زمینی خداؤں کی خوشنودی حاصل کرتے کرتے ، واقعی خدا کے غضب کو دعوت دے بیٹھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •